تازہ تر ین

امت کے حکمران کب جاگیں گے؟

محمد صغیر قمر….چنار کہانی
امت کے حکمرانوں کو کون سمجھائے کہ ریت میں سر چھپانے سے موت پیچھا نہیں چھوڑتی۔عربوں کی غیرت کوکون جگائے کہ مدت ہوئی کسی صلاح الدین ایوبی کا ادھر سے گزر نہیں ہوا۔ امت مرحومہ کے مصائب اور اس پر حکمرانوں کے گہرے سکوت اور کم ہمتی نے دلوں کو ملال سے بھر دیا ہے۔ ادھر عراق وشام کے گلی کوچے لہو سے رنگین ہیںتو افغانستان کا چپہ چپہ فریاد کناں ہے۔برما میں لہو کی برسات ہے تو کشمیر کے برف زاروں میںآگ کے الاﺅ۔ ہر زخم بڑا اور پاتال تک گہرا ہے۔ امت کے دردمندوں کا دکھ دیکھا نہیں جاتا۔ فلسطین ‘ اسرائیل کی دہشت گردی امریکا کی من مرضی اور مسلم دشمنی کا شکار ہے۔ اس کے باوجود فلسطینیوںکے دل ایمان کی روشنی سے جگمگا رہے ہیں۔ مایوس ہونا انہوں نے سیکھا ہی نہیں۔ ان کے ہاتھوں میں شیخ احمد یاسین کا پرچم ہے اور زبانوں پر اﷲ کی کبریائی۔ عرب وعجم کے بادشاہ اور عوام اپنی دنیا میں مگن ہیں۔آج شیخ شدت سے یاد آئے۔ جنہوںنے ایک زمانے تک اہل عرب کو پکارا تھا۔ فلسطین کا بظاہر معذور لیکن باہمت بوڑھا۔
” اے باشندگان عرب! کیا آپ نے دیکھا کہ میں کس ابتر حال سے دوچار ہوں میں بوڑھا عاجز جو اپنے ہاتھوں میں قلم اٹھانے کی سکت رکھتا ہوں نہ ہی ہتھیار۔ میں کوئی معروف مقرر نہیں ہوں کہ اپنی آواز سے دلوں کو ہلا ماروں۔ نہ ہی میں اپنی کسی ضرورت کو پوری کرنے کے لیے ہل سکتاہوںما سوائے مجھے کوئی اور سہارا دے۔ میں سفید ریش ضعیف اپنی عمر کی آخری منزلیں طے کر رہا ہوں۔ میں وہ ہوں جسے ہر طرح کی امراض اور زمانے کی آزمائشوں نے کچل ڈالا ہے۔میرا سرمایہ اور میراث میرا وہ عزم ہے کہ میں اپنی ذات میں اوروں کے لیے نمونہ چھوڑ جاﺅں ‘ ان کے لیے جو ظاہری قوت پر اعتماد رکھتے ہیں۔ افسوس ! ہٹے کٹے عرب اپنے آپ میں ضعف اور اضمحلال دیکھتے ہیں۔
اے عالم عرب کے باشندو ! تم حقیقتاً کیوں عاجز و صامت بت بنے کھڑے ہو ‘کیا موت کے ڈر سے مرے جاتے ہو ؟کیا فلسطینیوں کی المناک مصیبتیں دیکھ کر بھی تمہارے دل نہیں پھٹے‘ وہ مصائب جو اﷲ کے غضب میںگھری ہوئی اور امت کی عزت و ناموس کو اچھالنے والی ایک حقیر قوت کے ہاتھوں ہمیں جھیلنے پڑ رہے ہیں۔اﷲ کے دشمنوں نے ہمارے خلاف عالمی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ دنیا نے انہیں شریف قرار دے دیا ہے ‘ان قاتلوں‘ مجرموں اور دہشت گردوں سے دنیا ہماری تباہی اور موت میں مدد گار بننے کے لیے معاہدے کر رہی ہے۔ کیا اس سارے شرمناک ڈرامے سے امت کے حکمرانوں کا سر شرم سے جھکا نہیں….انہیں کوئی غیرت نہیں آئی ؟
کیا دنیا کے طول و عرض میں پھیلے امت مسلمہ کے ممالک یہودی دشمنوں اور ان کے عالمی حلیفوں کی چیرہ دستیوں سے یوں ہی آنکھیں بند کیے رکھیں گے؟ مظلوموں کی داد رسی اور ہمارے آنسو پونچھے بغیر ہی دشمنوں سے ہاتھ ملانے کے لیے بے تاب رہے گی ؟ کیا یہ عالمی ادارے اﷲ کے غضب سے بالکل ہی نڈر ہو گئے ہیں کہ ان صہیونی حرکتوں پر غضب ناک نہیں ہوتے اور پکار نہیں اٹھتے کہ اے اﷲ !ہمارے ٹوٹے ہوئے اعضا جوڑ دے۔ ہماری ضعیفی اور کمزوری پر رحم کھا اور اپنے مومن بندوں کی مدد فرما۔
کیا یہ حکمران اتنی بھی استطاعت نہیں رکھتے کہ ہماری خاطر دعا ہی کریں۔ قریب ہے کہ تم ہمارے درمیان گرم معرکوں کی خبر سنو۔ تم سنو کہ ہم ان معرکوں میں سینہ تانے کھڑے تھے۔ سینوں پر زخموں کے تمغے سجائے مر تو گئے ‘ لیکن پیٹھ پھیر کر بھاگے نہیں۔ ہمارے ساتھ بچے اور عورتیں بھی ماری گئیں اور بوڑھے اور جوان بھی کام آئے کہ ہم نے ان سب کو اس گونگی بہری امت کی خاطر قربانی کا ایندھن بنا یا۔ہم سے یہ توقع نہ رکھو اور اس انتظار میںکبھی نہ رہو کہ ہم ہتھیار ڈال دیںگے اور سر تسلیم خم کر دیں گے۔ ہم کبھی سفید جھنڈا نہیں لہرائیں گے کہ ہم نے ہمیشہ یہی سبق سیکھا ہے کہ مرنا تو ہر ایک نے ہی ہے تو کیوں نہ مجاہدکا شر ف لیے عزت سے مریں!
اے عرب والو! تم اگر چاہو ہمارے ساتھ رہو۔ ہماری موت کا مشاہدہ کرو لیکن کبھی ہمارے خلاف نہ چلو۔ اﷲ کی قسم ہمارے خلاف نہ بڑھنا۔ اے امت مسلمہ کبھی ہمارے خلاف نہ جانا۔امت والو! ہمارے حالات دیکھتے رہنا ‘ ہماری جدوجہد ایک روز کامیاب ہوگی۔
پھر شیخ احمد یاسین کے لبوں پر دعا آتی ہے۔اپنے نحیف ہاتھ اٹھا کر رب سے التجا کرتے تھے۔
”اے اﷲ! ہم تجھ ہی سے شکوہ کرتے ہیں۔صرف اور صرف تجھ ہی سے دعا کرتے ہیں۔ اے اﷲ !اپنی کمزوری کا حال تجھ ہی سے بیان کرتے ہیں۔ا پنی تدبیروں کی ناکامی کا گلہ تجھ ہی سے کرتے ہیں۔ اے اﷲ کہ تو کمزوروں کا رب ہے اور تو ہی ہمارا رب ہے جس پر ہمارا بھروسہ ہے۔اے اﷲ ! اپنے خون بہائے جانے پر ‘ عزتوں کی پامالی پر اور بچوں کے قتل کیے جانے اور عورتوں اور خواتین کی بیوگی پر‘ گھروں کی تباہی‘ کھیتوں کی تلفی پر‘ اے اﷲ ہم آپ ہی سے شکایت کرتے ہیں۔ ہماری عزت خاک میں مل گئی۔ امت انتشار کا شکار ہوگئی‘ ہمارے راستے جدا ہو گئے اور باہمی اختلاف ہمارے درمیان آ گئے۔ اے اﷲ! اپنی قوم کی کمزوری پر تجھ ہی سے شکایت کرتے ہیں‘ دشمنوں پر غلبہ کی تجھ ہی سے دعا مانگتے ہیں۔اے اﷲ! فلسطینی قوم کو کسی کا محتاج نہ کرنا‘ تو غیب سے ان کی مدد فرمانا‘ ان کے اندر جدوجہد کا جذبہ تیز رکھنا اور وسائل کا اہتمام کرنا۔“
شیخ احمد یاسین کو اللہ کے پاس گئے برس ہا برس بیت گئے۔فلسطین کے زخم ہمیشہ کی طرح تازہ رہے۔عرب و عجم کے حکمران جن کو مسلمان ہونے کا دعویٰ ہے ان کا امتحان آج بھی جاری ہے وہ قبلہ اول کو لٹتا مٹتا اور لہو میں ڈوبا دیکھ رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کے کے تخت محفوظ رہیں گے۔ وہ غیرت مندوںکا ساتھ دینے کی بجائے ظالموں کی بغل میں کھڑے رہتے ہیں۔ موت کے خوف نے امت کے حکمرانوں کو امریکی چاکری پر مجبور کر رکھا ہے۔وہ نہیں جانتے کہ ان میں سے کئی ایک کو موت نے عین اس وقت آلیا جب وہ امریکی حکمرانوں کے جوتے چاٹ رہے تھے۔57 اسلامی ممالک،دنیا کی دولت سے مالامال،چکا چوند سے منور زندگیاں،بس کسی چیز کی کمی ہے تو اس ہمت اور غیرت کی جو شائد ہم سے کھو گئی ہے۔ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے ہجوم میں مختصر سی اسرائیلی اقلیت،جس نے اہل ایمان کا سکون غارت کر رکھا ہے،کسی نے سچ کہا تھا کہ یہ سب مل کر تھوکیں تو اسرائیل بہہ جائے اور مل کر صرف پھونک ماریں تو اس کے ذرے بکھر جائیں۔
(امور کشمیر کے ماہر، مصنف اور شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved