تازہ تر ین

ہم سب کا پاکستان

ظہور احمد دھریجہ \سرائیکی وسیب
16 دسمبر کی یادیں بہت تلخ ہیں ۔16 دسمبر 2014 ءکو سانحہ آرمی پبلک سکول نے اہلِ وطن کے ساتھ ساتھ پوری انسانیت کو چونکا کر رکھ دیا ہے ۔ اسی موقع پر پوری دنیا کے ہر صاحبِ دل نے کہا کہ جنازوں پر پھول سب نے دیکھے تھے مگر پھولوں کے جنازے ہم نے پہلی مرتبہ دیکھے ۔ سقوط ڈھاکہ ہو یا سانحہ آرمی پبلک سکول یہ سانحات ایک لحاظ سے عبرت کا باعث بھی ہیں اور یہ سانحات ہمیں دعوت دیتے ہیں کہ ہم دیکھیں کہ کہاں غلطی ہوئی ہے ؟یہ ٹھیک ہے کہ سانحہ پشاور کے بعد ہماری پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت موثر کارروائی کی اور اب رد الفساد کے حوالے سے ہماری پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف بر سرِ پیکار ہے ۔ لیکن اب بھی ضرورت دہشت گردی کے اسباب کو ختم کرنے کی ہے ۔ جب تک اسباب کی بیخ کنی نہ ہوگی تو دہشت گردی کے سپولے سانپ بنتے رہےں گے ۔ آج کے دن کے حوالے سے جہاں سانحہ پشاور کے پھولوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے ‘ وہاں کچھ گزارشات چیف آف آرمی سٹاف کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں کہ میری گزارشات سقوط مشرقی پاکستان کے اسباب کے حوالے سے ہیں ۔ جہاں ہمیں سانحہ پشاور کے اسباب کو ختم کرنے کی ضرورت ہے ‘ وہاں مشرقی پاکستان کے اسباب پر غور کرنا بھی از بس ضروری ہے ۔
6 ستمبر یوم دفاع اور اس کے بعد چند ایک مواقع پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے اس بیان کہ ”علاقائی‘ لسانی و فرقہ ورانہ تفریق کی اجازت نہیں دیں گے“ سے تاثر پیدا ہوا ہے کہ ان کا بیان کسی بھی خطے کی تہذیبی و ثقافتی شناخت کے خلاف ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ملتان کے ایک نام نہاد مسلم لیگی نے بیان جڑ دیا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اب شناخت کی بنیاد پر صوبہ سرائیکستان مانگنے والوں کو بھی کچلیں گے حالانکہ قوموں اور قبیلوں کی شناخت کا ذکر قرآن مجید میں ”لتعارفو“ یعنی پہچان کے حوالے سے ہے اور پاک فوج میں سندھ رجمنٹ ، پنجاب رجمنٹ اور بلوچ رجمنٹ کی بھی پہچان کے حوالے سے ہے ، اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ رجمنٹس لسانی تعصب کی بنیاد پر قائم کی گئی ہیں ۔ پاکستان مختلف قوموں پر مشتمل صوبائی اکائیوں کا ایک وفاق ہے اور صوبائی اکائیوں کے نام پنجاب ‘ سندھ ‘ بلوچستان اور خیبرپختونخواہ شناخت کے حوالے سے ہیں ۔ عرب ملکوں پر مشتمل عرب لیگ سعودی یا دنیا کے دوسرے ملکوں کے نام شناخت کے حوالے سے ہیں ۔ سرائیکی وسیب کے لوگ اگر اپنے خطے کی شناخت کے مطابق صوبہ مانگتے ہیں تو یہ کس طرح غلط ہے یا وسیب کے لوگوں کو اپنی شناخت ‘ اپنے اختیار یا اپنے صوبے کا حق مانگنے سے کون روک سکتا ہے۔ لسانی تعصب یا جھگڑے حقوق غصب کرنے سے جنم لیتے ہیں ۔ اگر سب کو برابر حقوق مل جائیں تو جھگڑے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ بنگال کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ پاکستان بنانے والی مسلم لیگ کے بانی بنگالی تھے ۔ پاکستان کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں بنگالیوں نے دیں مگر پاکستان بنا تو مغربی پاکستان کے ساتھ ساتھ بنگالیوں پر بھی اردو مسلط کرنے کی کوشش ہوئی ۔ جس پر انہوں نے احتجاج کیا ۔ ان پر گولیاں چلائی گئیں، جس بناءپر ڈھاکے میں شہید مینار وجود میں آیا اور بنگالی نوجوانوں کی شہادت کے دن 21 فروری کو اقوام متحدہ کی طرف سے ”ماں بولی کے حق“ کا دن قرار دیا گیا توثابت ہوا کہ کسی بھی معاملے پر نا انصافی سے جھگڑا اور فساد پیدا ہوتا ہے اور سب کو برابر حق دیدیا جئے تو کوئی تنازعہ یا جھگڑا نہیں ہوتا۔
چند ماہ قبل جنرل قمر جاوید باجوہ بلوچستان جا کر بلوچی زبان ‘ ثقافت سے اظہاریکجہتی کیا ۔ بلوچی پگ باندھی اور کہا کہ میں بھی بلوچ ہوں۔ اس موقع پر بجا طور انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اندر رہتے ہوئے آپ جو بات کریں ، آپ کو حق حاصل ہے ، اگر پاکستان کی سا لمیت کے خلاف بات ہوگی تو قبول نہیں ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کے اس بیان کا ہر محب وطن پاکستانی نے خیر مقدم کیا ۔ خبرین کے چیف ایڈیٹر جناب ضیاشاہد نے سندھ میں پیدائش کی بناءپر خود کو سندھی کہا تو یہ احسن اور قابلِ تقلید عمل ہے ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کا بلوچی زبان و ثقافت سے اظہار یکجہتی کرنا قابلِ رشک اور قابلِ تقلید ہے ۔ جو کام محبت کے میٹھے بول سے ہو سکتا ہے وہ بندوق نہیں کر سکتی ۔ سرائیکی وسیب کے کروڑوں افراد اس طرح کے میٹھے بول سننے کو ترس گئے ہیں ۔ کوئی جو کہے کہ یہ پاکستان سرائیکیوں کا بھی ہے ، ان کو بھی عدلیہ ‘ انتظامیہ ‘ فوج اور فارن سروسز میں ملازمتوں کا برابر حق حاصل ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کی خدمت میں یہ بھی گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ جنرل ضیا الحق کے دور میں سندھ رجمنٹ قائم کی گئی، اگر سرائیکی وسیب کے لوگ ” وسیب رجمنٹ “ کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان کا مطالبہ کسی بھی لحاظ سے غلط نہیں کہ وہ ملکی سرحدوں کی محافظ پاک فوج کا حصہ بننا چاہتے ہیں ۔ یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ ریاست بہاولپور کی رجمنٹ موجود تھی جو پاک فوج میں ضم ہوئی ۔ سرائیکی وسیب خصوصاً ریاست بہاولپور کے قیام پاکستان کیلئے عظیم خدمات بھی ہیں تو کیا مناسب نہیں کہ پاک فوج وسیب کے لوگوں کو گلے لگائے ۔ ان کے لئے رجمنٹ اور فوج میں آنے کے بہتر مواقع فراہم کرے اور سرائیکی وسیب میں کیڈٹ ساز اداروں کا قیام ممکن بنایا جائے ۔ پاک فوج کو اس امر پر بھی غور کرنا چاہئے کہ بلوچستان کبھی صوبہ نہ تھا ۔ ان کےلئے نیا صوبہ بنایا گیا ۔ انگریزوں نے صوبہ پشاور کو شمال مغربی سرحدی صوبہ کی شکل میں بحال کیا ۔ علاقہ غیر گلگت بلتستان بھی صوبہ بنا ہے مگر سرائیکی صوبہ کی راہ میں لاہور برانڈ بیورو کریسی اور لاہور کے میاں برادران رکاوٹ کیوں ہیں ؟ حالانکہ سرائیکی صوبہ بننے سے وفاق متوازن ہوگا اور سینیٹ میں خطے کو نمائندگی ملے گی ۔ سب سے ا ہم یہ کہ ٹانک ‘ دیرہ اسماعیل خان سمیت سرائیکی صوبہ بننے سے درہ گومل سے آنے والے افغان دہشت گردوں کو کنٹرول کرنے میں آسانی ہوگی ۔ خصوصا ً ان حالات میں کہ سی آئی اے ، موساد اور را نے افغانستان میں چنبے گاڑ کر کرائے کے قاتلوں کے ذریعہ اپنی ریشہ دوانیاں تیز کر رکھی ہیں اور افغان دہشت گرد پختون سیاستدان اور پختون اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر مداخلت کار کی حیثیت سے براستہ ٹانک و بنوں مسائل پیدا کرتے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی کہ ٹانک ‘ دیرہ اسماعیل خان سمیت تہذیبی ‘ ثقافتی اور تاریخی تناظر میں سرائیکی صوبے کا قیام عمل میں لا کر پاکستان کو مضبوط و مستحکم بنایا جائے ۔ ایک بات یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ سرائیکی وسیب کے لوگ پاکستان سے اس لئے بھی محبت کرتے ہیں کہ ان کا پاکستان کے سوا کوئی ولی وارث نہیں ، جغرافیائی لحاظ سے سرائیکی خطہ پاکستان کے عین درمیان میں ہے ۔دوسرا یہ کہ اردو بولنے والے مہاجرین تو اب بھی خود کو ہندوستانی کہلاتے ہیں۔ صرف پاکستان میں بستے ہیں جبکہ بلوچستان ‘ ایران و عراق میں بھی ہیں ۔ اردو بولنے والے مہاجرین تو اب بھی خود کو ہندوستانی کہلاتے ہیں۔ پنجاب ہندوستان اور پاکستان کے دو واضح خطوں میں منقسم ہے ۔ اسی طرح سندھی بولنے والے اس قدر ہیں کہ سندھی ہندوستان کی قومی زبانوں میں شامل ہے ۔ جبکہ خیبر پختونخواہ اور افغانستان کے لوگ ایک دوسرے کے اس قدر قریب ہیں کہ وہ ڈیورڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتے جبکہ سرائیکی ایسے لوگ ہیں جن کی بیرون بارڈر کسی سے کوئی تعلق داری نہیں۔
(کالم نگار سرائیکی دانشور ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved