تازہ تر ین

سنو خرم! یوں بھرم نہیں توڑا کرتے

حیات عبداللہ……..انگارے
تمہیں تو ان کی ناز برداری میں کمال کر دینا چاہیے تھا، تمہیں ان کے ساتھ چاﺅ اور رکھ رکھاﺅ میں انتہاﺅں کو چھو لینا چاہیے تھا۔ یہ جھلملاتی سیرت سے مزّین نوجوان تو روشنیاں تقسیم کرتے ہیں، یہ چمکتے دمکتے انسان تو اجالے بانٹتے پھرتے ہیں، تابندہ کردار کے دھنی یہ لوگ تو اداس چہروں پر مسکان سجانے کیلئے دن رات کوشاں رہتے ہیں، مضموم و مسموم آنکھوں میں شگفتگی اور تازگی لے آنا تو ان کی حیات کا مقصد ٹھہر گیا ہے۔ افسردہ چہرے ہندوﺅں کے بھی ہوں تو یہ نوجوان مضمحل ہو جاتے ہیں، خزاں رسیدہ لب و رخسار سکھوں اور عیسائیوں کے بھی ہوں تو یہ ان کی مدد کیلئے لپک لپک جاتے ہیں۔
آدمی کا آدمی ہر حال میں ہمدرد ہو
اک توجہ چاہیے انساں کو انساں کی طرف
مگر یہ تم کیا کرنے لگے ہو؟ تم ہر حساس اور اہم موقع پر ان اجلے لوگوں کے خلاف تلخ اور ترش الفاظ کی پٹاری کھول کر کیوں بیٹھ جاتے ہو؟ تم اپنے قول اور فعل سے ان کی آنکھوں میں آنسو کیوں جھونکنے لگتے ہو جو دکھیاروں کے آنسو دیکھ کر مضطرب ہو جاتے ہیں؟ تم ان درخشاں جذبوں میں اندھیرے کیوں گھولنے لگتے ہو، جو مصیبت زدوں کے آلام کو اپنی جھولی میں بھر لینے کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر چکے ہیں۔ جماعة الدعوة کے خلاف کارروائی رد الفساد آپریشن کا حصہ قرار دینے سے قبل تمہاری زبانوں میں ذرا لکنت پیدا نہ ہوئی۔ تم نے یہ الفاظ کیسے ادا کر ڈالے کہ جماعة الدعوة کے خلاف کارروائی کا مقصد یہ ہے کہ آئندہ کوئی دہشت گرد سکول میں بچوں کو گولیاں نہ مار سکے؟ دل خون کے آنسو رو رہا ہے، اس طرح کی بہتان طرازی کرتے وقت تمہارے ہونٹ لرزے تک نہیں، جنہوں نے سات بڑے ہسپتال بنائے، جن کی 176 مفت ڈسپنسریاں کام کر رہی ہیں، جنہوں نے فرسٹ ایڈ سنٹرز اور فری میڈیکل و سرجیکل کیمپ لگائے، جنہوں نے وبائی امراض کی روک تھام کیلئے کام کیا، جنہوں نے فری ہیپاٹائٹس پاکستان مہم چلائی، جن کی 1278 ایمبولینسز مریضوں کی خدمت کیلئے دوڑتی پھرتی ہیں۔ وہ جنہوں نے انسداد منشیات مہم کا آغاز کیا، جنہوں نے نئے رنگ اور آہنگ کے ساتھ سکول اور مدرسے قائم کئے، تم ان کے متعلق اتہامات و الزامات کی یورشیں کر ڈالو گے، یہ تو کسی نے سوچا بھی نہ ہو گا۔
جاﺅ جا کر تھرپارکر کے افلاس زدہ لوگوں سے پوچھو کہ یہ لوگ مخلوق خدا سے کتنی محبت کرتے ہیں، تم ان پر بچوں کے قتل کے الزام دھرتے ہو، جاﺅ ذرا چولستان کے بھوک سے مرے بچوں کے والدین سے پوچھو کہ ان نوجوانوں نے کتنی ماﺅں کی گودیں اجڑنے سے بچائیں اور کتنے لوگوں کی مانگ میں کہکشائیں بھریں۔ پاکستان کے تمام دریاﺅں کا پانی روکنے والے بھارت کو خوش کرنے کیلئے تم ان لوگوں کی کردار کشی کرنے لگے ہو جنہوں نے صحراﺅں کے باسی لوگوں کیلئے کنویں کھدوائے بچوں کی جانیں لینے کے طومار باندھنے والو! اگر تمہیں فرصت ملے تو کبھی تھرپارکر کے ریگستانوں میں جا کر دیکھنا جہاں فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن بچوں کی تعلیم و تربیت کیلئے ہر گوٹھ میں ”جھونپڑا“ ایک ٹیچر سکول کا منصوبہ مکمل کر چکی ہے اور اپنے بلوچستان کے بھائیوں کیلئے روشن بلوچستان کے نام سے کئی پروگرام شروع کئے گئے جن کا اعتراف راجا ظفر الحق نے یہ کہہ کر کیا کہ میں سلام پیش کرتا ہوں فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن اور حافظ محمد سعید کو کہ جن کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں بلوچستان میں علیحدگی کی تحریکیں دم توڑ گئیں اور دشمن کی سازشیں ناکام ہوئیں۔ مودی کی خوشنودی کیلئے تم کیسی کیسی بے سروپا باتیں کر چکے ہو، کبھی کہا گیا کہ حافظ محمد سعید کون سے انڈے دیتے ہیں کہ ہم پوری دنیا کو جواب دیتے پھریں۔ پاکستان کے ہر فرد کے کاندھے پر امریکی اور آئی ایم ایف کے قرض کا بوجھ لادنے والے یہ کہتے ہوئے بھی ذرا نہیں ہچکچائے کہ ”حافظ محمد سعید پاکستان پر بوجھ ہیں“ کبھی یہ کہہ کر ڈرانے کی ناکام کوشش کی گئی کہ ”امریکہ کبھی حافظ محمد سعید کیخلاف اسامہ بن لادن جیسی کارروائی نہ کر ڈالے“۔ یہ تک کہا گیا کہ ”ہمیں حافظ محمد سعید سے جان چھڑانے کیلئے وقت چاہیے“۔ تم یہ بے اعتنائی اور احسان فراموشی کے اس نہج پر پہنچ جاﺅ گے یہ تو ہم نے سوچا تک نہ تھا۔ اپنے گلاب چہرے اور اپنی زندگی کے حسین لمحات اس ملک و ملت کے لئے وقف کر دینے والوں کے متعلق خرم دستگیر اتنے حقیر الفاظ استعمال کرے گا یہ تو ہمارے سان گمان میں بھی نہ تھا۔ عین ان لمحات میں جب امریکہ دھونس اور دھمکیوں پر اتر آیا ہے، جب بھارت سر تانے کھڑا ہے بھارتی محبت سے بغل گیر ہو کر ریشم و حریر کی سی سوچ اور فکر رکھنے والے نوجوانوں کے متعلق یہ اتنے دل گیر لفظوں کے تیر و نشتر چلاﺅ گے اس کا تو کسی کے خیال کدے میں گزر تک نہ ہوا تھا۔ تم جتنا مرضی آئے پاپڑ بیل لو، مودی تم سے خوش ہوا ہے نہ کبھی ہو سکتا ہے۔
لوگ زلزلوں میں سسک رہے ہوں یا سیلاب کے بلاخیز کرب و بلا میں مبتلا، فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر ان کی مدد کیلئے وہاں وہاں پہنچی جہاں جہاں تک مصائب و آلام کا انگلیٹ پھیلا ہوا تھا۔ مذہب اور مسلمان کے بجائے انسانیت کی محبت کو اپنا وتیرہ اور شعار سمجھنے والوں کے متعلق اتنے نازیبا الفاظ بعید از قیاس ہیں۔ آخر میں حسن ظن کہاں تک رکھوں کہ تمہارے الفاظ میرے حسن خیال کو چکنا چور کر ڈالتے ہیں۔ تمہارے یہ کھردرے جملے اور کڑوے کسیلے لب و لہجے بے خبری پر مشتمل نہیں ہو سکتے۔ نہیں نہیں تمہارے یہ الفاظ ناآشنائیوں پر مشتمل مغالطے ہرگز نہیں ہیں۔ تمہاری یہ باتیں بے خبری کا شاخسانہ بھی نہیں ہو سکتیں، یقینا یہ لفظ بھارت کی دلبری کے لئے ہیں میں ایسی باتوں کو بھارت کی دلداری سے تعبیر کرتا ہوں۔ میں خرم دستگیر کو فقط اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ تمارے ثقیل لفظوں سے ہمارے دل و دماغ شدید بوجھل ہیں…. سنو خرم! یوں مان توڑا نہیں کرتے…. اسی طرح بھرم کچلنے کی کوئی بھی دھرم اجازت نہیں دیتا۔
(قومی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved