تازہ تر ین

قصوراوربے قصورمعصوم بچی!

سارہ شمشاد …. تذکرہ
قصور میں 7سالہ زینب کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کی خبر نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا کہ ہمارا معاشرہ کس طرف جارہا ہے کہ یہاں پر ہمارے بچے‘ بچیاں کوئی محفوظ نہیں مگر ہمارے ارباب اختیار خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں۔ اگر آج سے چند برس قبل قصور میں دو سو سے زائد بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے ملزمان کو سرعام چوکوں پر پھانسی دی جاتی تو اس قسم کے افسوسناک واقعات سے بچا جاسکتا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ معاشرے میں پھیلنے والی بے راہ روی حکومت اور والدین کیلئے لمحہ فکریہ ہونی چاہیے کہ ایک دور تھا کہ ہماری شاندار اور اعلیٰ روایات قابل فخر اثاثہ تصور کی جاتی تھیں مگر نجانے ایسا کیا ہوا کہ ہماری اقدار ختم ہوکر رہ گئیں اور اب کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب اخبارات میں بچوں اور خواتین سے زیادتی کی خبریں شائع نہ ہوتی ہوں۔ ایسا محسوس ہوتاہے کہ من حیث القوم ہم اخلاقی پستی کی اس سطح تک پہنچ گئے ہیں کہ صحیح غلط اور حلال حرام کی تمیز ہی یکسر بھلابیٹھے ہیں۔
بچے ہمارا مستقبل ہیں اور انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے لیکن افسوس کہ ہم ایسا نہیں کرپاتے اور ہم اپنے بچوں سے شرمندہ ہیں کہ وہ محفوظ ماحول جو ہمیں ہمارے والدین نے دیا تھا ہم نئی نسل کو دینے میں ناکام رہے ہیں۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جس میں اسلامی اقدار کو فروغ دیا جانا چاہیے تھا لیکن کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود ایسا نہیں ہوسکا اور معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر رہ گیا۔ قصور میں معصوم زینب کے ساتھ ہونے والے ظلم پر اہل علاقہ اور اہل محلہ سراپا احتجاج ہوئے تو پولیس نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن دوبارہ دہرادیا اور 2افراد کو سیدھی گولیاں مار کر قتل کردیا جس سے عوام کے غم و غصے میں کئی گنا اضافہ ہوگیا۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کی جانب سے مذمتی بیان جاری کرنے سے اس کی ذمہ داریاں پوری ہوجاتی ہیں تو اس کا جواب نفی میں ہے کیونکہ جب تک معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کرنے والے درندے کو سرعام پھانسی نہیں دی جائے گی اس وقت تک اس قسم کے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن نہیں۔ تاہم یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ قصور میں ہی بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات بڑی تعداد میں کیونکر ہوتے ہیں تو اس پر 2015ءفوری طور پر ذہن میں آجاتا ہے کہ جب دو سو سے زائد بچوں کے ساتھ بدفعلی اور ان کی ویڈیوز بنانے والوں کے پیچھے سیاستدانوں کی سرپرستی ہونے کی خبریں رپورٹ ہوئیں۔ اہل علاقہ چونکہ اپنے نمائندوں کے شرمناک کارناموں سے بخوبی آگاہ ہیں اسی لئے تو انہوں نے اپنے علاقے کے ایم پی ایز اور ایم این ایز کے گھروں کا گھیراﺅ کیا۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ننھی زینب کے ساتھ درندگی کا واقعہ بھی چند روز میڈیا میں رہنے کے بعد فائلوں کے نیچے دب کر رہ جائے گا اور پھر آئندہ ایسا دلخراش واقعہ ہونے کا دوبارہ سے انتظار کیا جائے گا یہی ہمارا شروع سے وتیرہ رہا ہے کہ ہمارے ہاں معاملات کو پہلے اس قدر خراب کیا جاتا ہے پھر واپسی کا کوئی راستہ ہی باقی نہیں رہتا۔ اگرچہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ننھی زینب کے ساتھ ہونے والے واقعہ کا نوٹس لیا ہے اور سیاستدانوں اور کھلاڑیوں کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آرہا ہے لیکن آج من حیث القوم ہمیں یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ ہمیں اپنے بچوں اور بچیوں کی حفاظت خود کرنے کیلئے آگے آنا ہوگا اور اس کے لئے ہمیں اپنے گھروں میں موجود مردوں کی ایسی تربیت کرنا ہوگی اور انہیں سمجھانا ہوگا کہ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ دراصل یہ اسلام سے دوری کا ہی نتیجہ ہے کہ ہم گمراہی اور گناہ کے راستے پر چل رہے ہیں۔ اس حوالے سے علماءکرام کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرنا چاہیے مگر ماضی میں چند ایسے واقعات مدارس میں بھی رپورٹ ہوچکے ہیں کہ والدین اپنے بچوں کو وہاں بھیجنے سے بھی خوفزدہ ہیں۔
ننھی زینب کے دلخراش واقعہ پر پوری قوم سوگوار ہے اس لئے حکمرانوں کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور محض کاغذی کارروائی کرنے پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت کو محسوس کیا جائے۔ زینب کے والدین نے عمرے کی ادائیگی کے بعد اسلام آباد ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنا نوحہ ایک لائن میں اس طرح بیان کیا ”سکیورٹی جاتی امراءپر ہے‘ ہم کیڑے مکوڑے ہیں“۔ دراصل یہ ہر پاکستانی کی آواز ہے کیونکہ ہمارے ملک میں قانون صرف غریبوں کیلئے ہے‘ امراءنے تو اسے موم کی ناک سمجھ لیا ہے جس طرف چاہے موڑ لیتے ہیں‘ اسی لئے وہ شاہ زیب قتل کیس کے مرکزی ملزمان کو بھی رہا کروالیتے ہیں۔
ننھی زنیب کے والدین نے بچی کی گمشدگی میں پولیس کی عدم دلچسپی کا شکوہ کیا جو بالکل درست ہے کیونکہ پولیس کی ناک کے نیچے اتنا سب کچھ ہوگیا اور اسے خبر بھی نہیں ہوئی۔ ظاہر ہے کہ جب پولیس اعلیٰ افسران کی سکیورٹی پر مامور کردی جائے گی تو پھر عوام کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے آئی جی پنجاب کی سرزنش کرتے ہوئے رپورٹ 24گھنٹے میں طلب کی ہے لیکن کیا زینب واپس آجائے گی۔ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات پیش نہیں آئیں گے۔
بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات ہمارے معاشرے کیلئے کسی کلنک سے کم نہیں کہ ابھی تو ڈی آئی خان میں خاتون کو برہنہ کرکے گھمانے اور اس کی ویڈیو بنانے کے شرمناک اور ذلت آمیز واقعہ کے نقوش ذہن میں تازہ تھے کہ یہ شرمناک واقعہ پیش آگیا۔ من حیث القوم اور من حیث المعاشرہ آج ہمیں ایک بڑا فیصلہ کرنے پڑے گا کیونکہ حکومت‘ پولیس اور دیگر سکیورٹی ادارے ہمارے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں لیکن قومی خزانے کو شیرِ مادر سمجھ کر ہڑپ کرنے والے ماﺅں کی گود اجڑنے کا غم کیا جانیں‘ انہیں تو صرف اپنے بچوں کی پروا ہے اسی لئے تو وہ اپنے بچوں کو ہر طرح کا پروٹوکول فراہم کرتے ہیں اور غریب غرباءنامی عوام تو وہ کیڑے مکوڑے ہیں جن کی ان کی نظر میں کوئی وقعت نہیں۔ اس نازک موقع پر میڈیا کو اپنے معاشرے کے تانے بانے کو ٹھیک کرنے کا بیڑا اٹھانا چاہیے اور اپنی اعلیٰ اقدار کو فروغ دینے کی سبیل کرنی چاہیے۔ وہ اعلیٰ روایات جن کے اہم امین ہیں ان کو آگے بڑھانے کیلئے ہمیں انفرادی سطح پر اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہیے اور اس حقیقت کو جان لینا چاہیے کہ مغربی معاشرے اور مشرقی معاشرے میں فرق ہماری یہ اعلیٰ اخلاقی اورسماجی روایات ہی ہیں جنہیں ہم پیسہ کمانے کے چکر میں یکسر بھلابیٹھے ہیں۔ آیئے! فیصلہ کریں کہ زینب کے جانے کے بعد کسی اور کو زینب نہیں بننے دیں گے اوراپنے بچوں اور خواتین کی عزت و احترام کو ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے۔ اس سلسلہ میں محلہ داروں کو ایک کمیٹی تشکیل دینی چاہیے اور یونین کونسلرز کو بھی سیاست کے علاوہ محلے اور علاقے کے لوگوں کے اصل ایشوز کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔
(قومی اوربین الاقوامی امور پر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved