تازہ تر ین

خود کو مجیب کے ساتھ نہ ملائیں

توصیف احمد خان
خیال تھا کہ بلوچستان کے بارے میں کچھ لکھا جائے جہاں رونما ہونے والی تازہ ترین صورتحال پر پاکستان اور حکومت پاکستان کو تو تشویش اور پریشانی ہوگی ہی مگر جو ملک پاکستان سے بھی زیادہ پریشان ہوگا وہ چین ہے کہ پاکستان میں حالیہ سرمایہ کاری کے حوالے سے اس کا بہت کچھ داو¿ پر لگا ہوا ہے اور داو¿ پر لگے ہوئے اس سب کچھ کا تعلق بلوچستان سے ہے ، لہٰذا وہاں کوئی بھی معاملہ پیش آئے ، چین کی اس میں دلچسپی فطری بات ہے …ابھی ارادہ باندھا ہی تھا کہ منگل کو میاں نوازشریف نے جن خیالات عالیہ کا اظہار کیا وہ سامنے آگئے، یہ خیالات چونکہ عجیب و غریب تھے جن کا تعلق پاکستان کی تاریخ بلکہ پاکستان ٹوٹنے کی تاریخ سے ہے اس لئے سوچا کہ بلوچستان پر پھر سہی، پہلے نوازشریف کے معاملہ کو دیکھ لیا جائے۔
میاں صاحب فرماتے ہیں مجیب الرحمن پاکستان کا حامی تھا مگر اسے باغی بنایاگیا ، انہوں نے خود کو درپیش معاملات کا ناطہ مجیب کے معاملات سے جوڑنے کی کوشش بھی کی ہے ، یہ بڑ اعجیب و غریب بیان ہے ، جو تاریخ خصوصاً پاکستان کی تاریخ میں میاں صاحب کی عدم دلچسپی کا ثبوت ہے …میاں صاحب پر بھارت نوازی کا الزام لگتا ہے اور انہوں نے کبھی اس کی تردید یا وضاحت کی ضرورت نہیں سمجھی، اس کا مطلب ہے ان کی جو بھی سوچ ہے وہ خود کو اس میں حق بجانب سمجھتے ہیں، ہمیں براہ راست ان تک رسائی اور انکے خیالات جاننے کا کافی عرصہ سے موقع میسر نہیں آیا، لہٰذا ہم نہیں کہہ سکتے وہ کیا سوچتے اور کیا سمجھتے ہیں، ہمیں تو ان کے افعال اور گفتار سے ہی اندازہ ہوسکتا ہے اور اندازہ یہ ہے کہ بھارت کے حوالے سے وہ کافی نرم گوشہ رکھتے ہیں، آگے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ۔
انکے اردگرد ایسے عناصر کافی تعداد میں ہیں جن کو بھارت نواز قرار دیا جاتا ہے ، اور جو اٹھتے بیٹھتے بھارت کی وکالت کرتے نظر آتے ہیں، ویسے ان کی اطلاع کیلئے بتادیں کہ مجیب کے جن چھ نکات کا ذکر کیا جاتاہے وہ دراصل مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے نکات تھے جو اگرچہ باقاعدہ طور پر 1969میں پیش کئے گئے مگر مجیب اور اسکی جماعت 1953سے ہی ان کی وکالت کرتے رہے ہیں اور یہ امر تاریخ کا ایک حصہ ہے ، مجیب کو جس وقت 1969میں نوابزادہ نصر اللہ کے مطالبہ پر رہا کرکے سیاستدانوں کی گول میز کانفرنس میں لایا گیا تو اس وقت بھی وہ اگر تلا سازش کیس میں جیل میں تھے ، یہ کیس بھارت کی مدد سے حکومت کا تختہ الٹنے کے بارے میں تھا اور متعلقہ لوگ بتاتے ہیں کہ سو فیصد سچ تھا، معلوم نہیں نوابزادہ نصر اللہ نے مجیب کی رہائی پر کیوں اصرار کیا، بہر حال ایسے کئی ”کارنامے “ انکے کھاتے میں ہیں معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت انکے دل میں عوامی لیگ کی پرانی محبت جاگ اٹھی تھی ۔
مجیب نے یہ نکات پیش کئے تو ایوب خان سے اس کا مکالمہ بھی ہوا ، ایوب خان نے کہا تھا یہ عظیم تر خود مختار بنگال کے قیام کا خواب ہے ، مجیب نے چھ نکات ہی پیش نہیں کئے ، ڈھاکہ کو ملک کا دارالحکومت بنانے، تینوں افواج کے ہیڈ کوارٹر وہاں منتقل کرنے ،دفاعی بجٹ کیلئے بارہ رکنی کمیٹی کے قیام (جس میں مشرقی پاکستان سے سات اور مغربی پاکستان سے پانچ ارکان ہوں ) مشرقی پاکستان کا نام پوربودیش رکھنے اور مرکز و صوبوں میں تنازعات کو عدالتوں میں نہ لے جانے کا بھی مطالبہ کیا۔
مجیب کے چھ نکات کا ذکر اکثر سننے میں آتا ہے مگر بہت کم لوگوں کو ان سے آگاہی ہوگی ، لہٰذا مناسب ہوگا کہ یہاں ان نکات کا بھی ذکر کردیا جائے جو یہ ہیں:۔
1۔بالغ رائے دہی کی بنیاد پر وفاقی پارلیمانی نظام قائم ہوگا…
2۔وفاقی حکومت کے پاس صرف امورخارجہ ، دفاع اور کرنسی ہونگے ، حتیٰ کہ خارجہ امور میں اقتصادی معاملات
صوبوں کی ذمہ داری ہوگی …
3۔مشرقی اور مغربی پاکستان کی علیحدہ علیحدہ کرنسی یا ایک کرنسی کے ساتھ دونوں کا الگ الگ فیڈرل ریزرو سسٹم ہوگا…
4۔ٹیکس نافذ اور جمع کرنا صوبوں کا کام ہوگا، تاہم خارجہ اور دفاعی امور کیلئے وفاقی حکومت کو مناسب حصہ دیا جائیگا…
5۔ملک کے دونوں حصوں میں زرِ مبادلہ کی آمدنی کا الگ الگ اکاو¿نٹ ہوگا…
6۔مشرقی پاکستان کو ملیشیا یاپیرا ملٹری فورس رکھنے کی اجازت ہوگی، جو صرف صوبائی حکومت کا حکم مانے گی…
اب آپ خود اندازہ لگالیں کہ جو شخص اس قسم کے مطالبات پیش کرتا ہے وہ ایک پاکستان کا حامی کہلاسکتا ہے ، 1970 کے انتخابات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کی تاریخ کے شفاف ترین انتخابات تھے …یہ امر بھی قابل بحث ہے ، مغربی پاکستان کی حد تک تو ہم انہیں شفاف انتخابات قرار دے سکتے ہیں مگر مشرقی پاکستان میں ایسا نہیں تھا، انتخابات کی تاریخ تک مکتی باہنی کی آڑ میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجی مشرقی پاکستان میں داخل ہوچکے تھے، ان بھارتیوں نے نہ صرف انتخابات میں خود ووٹ ڈالے بلکہ عوامی لیگ کے کارکنوں کے ساتھ مل کر ایسا ماحول پیدا کیا کہ مخالف امیدواروں کے پولنگ ایجنٹ وغیرہ تو ایک طرف ووٹروں تک کو پولنگ سٹیشنوں تک نہیں آنے دیا گیا، ایسی صورتحال میں اپنی من مرضی کے ساتھ ووٹوں کی پرچیاں کاٹ کر انہیں بیلٹ بکسوں میں ڈالا گیا، اس طرح سے اگر کچھ مخالف امیدواروں کو کامیابی مل سکتی تھی تو انہیں بزور اس سے محروم کردیاگیا، اور یہ عالمی میڈیا کی رپورٹس تھیں۔
مجیب اور اسکی جماعت کے بھارت کےساتھ گٹھ جوڑ کی داستان کوئی خفیہ امر نہیں ہے ، ماضی میں بھارت قدرے خاموش تھا ، مگر اب تو وہ برملا اس کا اظہار کرتا ہے کہ اس نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں کلیدی کردار ادا کیا…مجیب جس حد تک چلا گیا تھا وہ قابل واپسی ہرگز نہیں تھا، وہ ذہنی طور پر بھارت کا تسلط ہی قبول نہیں کرچکا تھا ، مشرقی پاکستان کو علیحدہ ملک بنانا اس کا خواب بن گیا تھا، نوازشریف صاحب کے بقول وہ محب وطن تھا…معلوم نہیں موصوف نے کون سی تاریخ سے مدد لیکر مجیب کو حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ دیدیا ہے ۔
اس سارے معاملے میں یحییٰ خان کا کردار اپنی جگہ …بھٹو کا کردار اپنی جگہ …دائیں اور بائیں بازو کا کردار اپنی جگہ …یہ معاملہ تو 1970کے انتخابات سے پہلے ہی سامنے آچکا تھا کہ مجیب اور اسکی عوامی لیگ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کیلئے کام کررہے ہیں ، اسی مقصد کیلئے عوامی لیگ کے بیشمار کارکن بھارت جاچکے تھے، بعد میں اس کا سیکرٹری جنرل تاج الدین ، اسکے علاوہ نذرالاسلام اور بہت سے دوسرے لیڈر بھی سرحد پار کرگئے اوروہاں علیحدگی کیلئے کام کرنے لگے ، جب مجیب اور کے ایم کمال وغیرہ کو گرفتار کرکے مغربی پاکستان منتقل کیا گیا تو یہ لوگ بھارت میں بیٹھے … بھارتی حکومت اور فوج کیساتھ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے منصوبئے بنارہے تھے اور آخر کار انہوں نے بھارتی فوج کے ساتھ ہی مشرقی پاکستان میں قدم رکھا۔
نوازشریف جیسی سوچ رکھنے والے کچھ لوگوں کا استدلال ہے کہ اقتدار مجیب کو دیدیا جاتا تو پاکستان بچ سکتا تھا، یہ سوچ انہی کو مبارک ہو…ہمارے خیال میں اقتدار مل جاتا تو وہ مغربی پاکستان سے بھی سب کچھ سمیٹ کر لے جاتا اور مشرقی پاکستان کی آزادی کا اعلان کردیاجاتا۔
معلوم نہیں نوازشریف اور انکی صاحبزادی کن راستوں کے راہی ہیں…اللہ ہی بہتر جانتا ہے …ہماری درخواست ہے کہ خدارا مجیب کے ساتھ اپنا موازنہ نہ کریں۔٭
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved