تازہ تر ین

کمسن زینب کا وحشیانہ قتل ۔۔۔قصور میں قیامت کا منظر ۔۔۔ رینجرز طلب

قصور (بیورو رپورٹ، ڈسٹرکٹ رپورٹر) کمشن بچی زینب سے انسانیت سوز سلوک اور اس کے قتل کے بعد شہر اور گردونواح میں قیامت کا سماں رہا، لوگ احتجاج کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے اور انہوں نے ڈپٹی کمشنر آفس پر بھی دھاوا بول دیا۔ مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں سے کچھ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ حالات کو کنٹرول کرنے کیلئے انتظامیہ نے شہر میں رینجرز کو طلب کر لیا ہے۔ اس سانحہ کے خلاف سارا شہر مکمل طور پر بند رہا جن میں دکانیں، کاروباری اور تجارتی مراکز بھی شامل ہیں۔ عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹرطاہرالقادری نے بچی کی نمازجنازہ پڑھائی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے واقعہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی۔ تفصیلات کے مطابق سات سالہ بچی زینب کے اغواءہونے کے بعد مبینہ زیادتی کے بعد قتل کے خلاف مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔ مظاہرین ہاتھوں میں ڈنڈے اور پتھر اٹھا کر پولیس کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے ۔ اس دوران مشتعل مظاہرین نے کئی مقامات پر ٹائروں کو آگ جلا کر ٹریفک کے لئے معطل رکھا ۔دوپہر تک مظاہرین کی تعداد میں کئی گنا ضافہ ہوگیا اور مشتعل مظاہرین ڈپٹی کمشنر آفس کا دروازہ توڑ کر اندھا داخل ہوگئے اور ڈنڈوں اور پتھرما رکر احاطے میں کھڑی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی گاڑی سمیت سرکاری اور نجی گاڑیاں توڑ ڈالیں جبکہ مظاہرین کی جانب سے عمارت پر بھی پتھراﺅ کیا گیا ۔پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور ہوائی فائرنگ کی گئی ۔مظاہرین منتشر ہونے کے بعد دوبارہ جتھوں کی صورت میں ڈپٹی کمشنر آفس پر دھاوا بولتے ہوئے پتھراﺅ کرتے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مبینہ طور پر پولیس کی ہوائی فائرنگ سے دو مظاہرین جاں بحق ہوئے۔واقعے کے خلاف شہر میں مکمل ہڑتال کی گئی اور کاروبار زندگی مکمل معطل رہا ۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے بدھ کو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔مبینہ زیادتی کے بعد قتل ہونے والی زینب کی نماز جنازہ کالج گراﺅنڈ میں ادا کی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔ نماز جنازہ عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے پڑھائی ۔ نماز جنازہ میں پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکرٹری چوہدری منظور، ڈاکٹر طاہر القادری کے صاحبزادے حسین محی الدین ، عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور سمیت سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی ۔ اس موقع پر ڈاکٹر طاہر القادری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قصور والوں کے ساتھ یہ بارویںبار ہوا ہے، اللہ ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچائے اور اس دھرتی پر امن قائم فرمائے۔انہوں نے کہا کہ جس دور حکومت میں بچیوں کو تحفظ فراہم نہ ہوں ایسی حکومت کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں، زینب کا قتل انسانیت کی تذلیل ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کہاں ہو آﺅ یتیموںاورمظلوموں کے ساتھ کھڑے ہو، شہباز شریف آﺅ مظلوموںکو مل کر سہارا دو ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی فائرنگ سے دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ، یہ چھوٹا ماڈل ٹاﺅن کا سانحہ ہے ،آج سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی تاریخ دہرائی گئی ہے۔ ریجنل پولیس افسر نے میڈیا کو بتایا کہ بچی کی موت گلا دبانے سے ہوئی ۔انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ ہوسکتا ہے اس بچی کے قتل میں 2 افراد ملوث ہوں تاہم بہت جلد ملزمان قانون کی گرفت میں ہوں گے۔ انہوںنے بتایا کہ ڈاکٹروں کی جانب سے رپورٹ میں موت کی وجہ نہیں لکھی گئی ۔ مختلف نمونے فرانزک رپورٹ کے لئے بھجوا دئیے گئے ہیں اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ اس کی رپورٹ ترجیحی بنیادوں پر فراہم کی جائے۔حکومت پنجاب نے ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں جے آئی ٹی بھی بنا دی ہے جو چوبیس گھنٹے میں رپورٹ دے گی۔ بیورو رپورٹ کے مطابق گزشتہ نو ماہ کے دوران بارہ سے زیادہ معصوم بچیوں کو یکے بعد دیگرے اغواءکرنے اور زیادتی کانشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے کے واقعات نے بالآخر قصور کے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا جسے پولیس کی ناقص پالیسی نے مزید آگ دکھائی جس کا اندازہ اس امر سے لگایاجاسکتا ہے کہ پان روز قبل روڈ کوٹ قصور سے محمد امین انصاری کی صاحبزادی سات سالہ زینب کو جب اغواءکے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور اسے قتل کرکے اگلے ہی رو زاس کی نعش شہباز روڈ پر کچرے کے ڈھیر پر پھینک دی گئی مگر پولیس تین روز تک بچی کی نعش کچرہ گھر میں موجود ہونے کے باوجود تلاش نہ کر سکی جس پر شہریوںکا غم وغصہ اور بڑھ گیا جیسے ہی زینب کی نعش ملی تو شہر میں احتجاج کا عمل شروع ہوگیا جو دوسرے روز بھی جاری رہا قصور کی تاریخ میں ہونیوالا یہ سب سے منظم اور بڑا احتجاج ہے جس کا اندازہ اس امر سے لگایاجاسکتا ہے کہ ڈسٹرکٹ بار قصور کے وکلاءتاجر تنظیمیں سیاسی سماجی پارٹیاں حتیٰ کے شہر کا ہر فرد اور بچہ اس احتجاج میں شریک ہوگیا گزشتہ رو ز جب شہر میں مکمل ہڑتال تھی تو معززین وکلاءاور دیگر شہری پولیس کےخلاف نعرے بازی کرتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے ڈپٹی کمشنر آفس کے باہر پہنچے تو ضلعی انتظامیہ کی طرف سے مرکزی دروازوںکو بند کر دیا گیا جس پر لوگ مشتعل ہوگئے اور لوگوں کی بڑی تعداد دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئی تو پولیس کی بھاری نفری نے ا ن پر لاٹھی چارج کرنے کی بجائے سیدھی گولیاںچلانا شروع کر دیں جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے زخمیوںکو ڈی ایچ کیو قصور پہنچایا جارہا تھا کہ کوٹ میر باز خاںکا بائیس سالہ نوجوان محمد علی اور محمد وارث زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے یہ صورتحال دیکھ کر مظاہرے میں شامل شہریوںنے توڑ پھوڑ کی کئی گاڑیوںکے شیشے اور ڈپٹی کمشنر آفس کا دروازہ بھی توڑ دیا جب دو نوجوانوں کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کی خبر شہر میں پہنچی تو پہلے سے احتجاج کرتے ہوئے شہریوںکا غصہ اور شدت اختیار کر گیا۔نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد قصور شہر میں ہر ایک چوک میں جاری مظاہرے کم ہوگئے اور شہری مرکزی شاہراہوں کی طرف روانہ ہوگئے اس دوران پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونیوالے دونوںنوجوانوں کی میتوں کو چوک اسٹیل باغ میں رکھ کر لوگوںنے پھر سے احتجاج شروع کر دیا مرنیوالوں کے ورثاءاور نمائندہ شہریوںنے اعلان کیا کہ وہ اعلیٰ افسران کےخلاف دونوںنوجوانوں کے مقدمہ کے اندراج تک پوسٹمارٹم نہیں کرائیںگے اور یہ احتجاج کا سلسلہ آنیوالے دنوںمیں بھی جاری رہے گا اس دوران ڈسٹرکٹ ہسپتال قصور میں موجود چند پولیس اہلکاروں کا مظاہرین کے ساتھ آمنا سامنا ہوا تو مظاہرین کی بڑی تعداد نے ان پر حملہ کرنا چاہا جس پر پولیس ملازمین نے بھاگ کر اپنی جانیں بچائیں رات گئے تک احتجاج کا یہ عمل جاری تھا اور لاہور قصور قصور رائیونڈ قصور پتوکی اور دوسری بڑی شاہراہیں بند تھیں 72 گھنٹے سے زائد وقت گزر جانے کے باوجودمظاہرین نے اپنے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا جبکہ میڈیکل سٹور سے لیکر کھانے پینے کی اشیاءکی دکانیں بند ہونے کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے دریں اثناءقصور پولیس کی طرف سے زینب امین کو اغواءکرنیوالے ملزم کا خاکہ جاری کیا گیا ہے یہ خاکہ میڈیا کے علاوہ پولیس کے مختلف سٹیشنوںکو فراہم کر دیا گیا ہے تشویشناک امر یہ ہے کہ قصو ر میں پولیس اور حکومت کے خلاف جاری احتجاج کم یا ختم ہونے کی بجائے شدت اختیار کر گیا ہے جس کا اندازہ اس امر سے لگایاجاسکتا ہے کہ مصطفی آباد ،پتوکی،الہ آبا د کے علاوہ پاکپتن ،اوکاڑہ اور لاہور میں بھی بڑی تعداداور غیر سیاسی حلقوںنے زینب امین کے قتل کے خلاف احتجاج کیا جبکہ سوشل میڈیا پر مسلسل جسٹس فار زینب امین کا ٹیگ سرفہرست آرہا ہے علاوہ ازیں چیف جسٹس پنجاب نے قصور میں بچیوں کے اغواءاور قتل کے معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج قصور اور پولیس حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ ڈی پی او قصور ذوالفقار احمد کو انکے عہدہ سے ہٹا دیا گیا ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاںشہبازشریف کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ سارے واقعات کو لمحہ بہ لمحہ دیکھ رہے ہیں اور اس سلسلہ میں ہونیوالے تحقیقات کو وہ خود مانیٹر کریںگے۔

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved