تازہ تر ین

ٹرمپ !قوم متحد ہورہی ہے

علی سخن ور….فل سٹاپ کے بعد
ٹرمپ نے پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگانے کے ساتھ ساتھ فوجی اور غیر فوجی امداد کی بندش کی دھمکی کو عملی صورت دے کر شاید پاکستان کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ امریکا پاکستان کا ان داتا ہے، خدانخواستہ رازق اور پالن ہار ہے۔ وہ شاید اس غلط فہمی کا شکار بھی ہیں کہ جو رقم وہ ماضی میں پاکستان پر نچھاور کرتے رہے ہیں اس سے پاکستانیوں کے چولہے گرم تھے اور یہ کہ اس نام نہاد امداد کی بندش کے بعد پاکستان میں ہر طرف بھوک راج کرے گی، فاقہ زدہ عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے اور حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ امریکا جو کہہ رہا ہے اسے مان لیا جائے۔لازم نہیں کہ امریکا کی ہر بات کو اس خوف میں من و عن تسلیم کرلیا جائے کہ امریکا ہماری امداد بند کر دے گا۔ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کے ساتھ جو رویہ اپنا رکھا ہے وہ نہ تو غیر متوقع ہے نہ ہی کسی فوری واقعے کا رد عمل، یہ محض ایک فرد کا ذاتی مزاج اور اس کی سوچ کا ذاتی زاویہ ہے اور اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ اگر مسٹر ٹرمپ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ ان کی طرف سے لگائی جانے والی اقتصادی پابندیوں کے بعد یہ ملک ختم ہوجائے کا تو اسے ان کی کم فہمی سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ تاہم ان کی اس ایپروچ کو عام زبان میں بلیک میلنگ کہا جاتا ہے۔ یاد رکھیے بلیک میلر کبھی بھی طاقت ور نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی بلیک میلنگ زیادہ عرصے جاری رہتی ہے۔ویسے بھی بلیک میلنگ کبھی بھی بڑے لوگوں کا شیوہ نہیں ہوتی، پچھلے دس سال کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں، بلیک میلرز کی بہت سی خبریں ملیں گی لیکن کوئی بھی بلیک میلر آپ کو کبھی بھی معاشرے کے کسی عزت دار طبقے کا نمائندہ نہیں دکھائی دے گا۔یہاں ایک بات اور بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ مسٹر ٹرمپ اگرچہ الیکشن کے ذریعے امریکہ کے صدر منتخب ہوئے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب بالکل بھی نہیں کہ ان کے منہ میں جو اول فول آئے وہ بکتے چلے جائیں اور ہم ان کے منہ سے جھڑنے والے ہر ’ پھول‘ کو ساری امریکی قوم کی آواز سمجھتے رہیں۔امریکی کوئی بے زبان سی قوم نہیں ، وہاں کے لوگ ہر ایکشن پر سوال بھی کرتے ہیں اور جواب بھی مانگتے ہیں۔ مسٹر ٹرمپ نے اپنے پیشرو تمام امریکی صدور اور ان کی کابینہ میں شامل معزز اراکین کو بے وقوف اور احمق تو قرار دے دیا لیکن یہ بات بھول گئے کہ امریکی قوم ان کی جانب سے کی جانے والی اس تذلیل کو ذاتی توہین کا درجہ دے گی۔اگر امریکا کی طرف سے پچھلے پندرہ برسوں میں پاکستان کو 33ارب ڈالر دیے گئے تو یہ رقم دینے والوں سے حساب لیا جانا چاہیے نہ کہ لینے والوں سے۔ پاکستان کو جو نام نہاد رقم دی گئی وہ امریکی عوام کے ٹیکسوں سے جمع ہونے والے سرمائے سے دی گئی تھی۔ جنہوں نے اس عوامی خزانے سے رقم نکال کر پاکستان کو دی یقینا ان کے پاس کوئی جواز بھی ہوگا اور وجہ بھی۔ اور یقینا امریکا میں ایسا کوئی بھی نظام نہیں جس کے تحت کوئی فرد واحد من مانی کرے اور جس کو چاہے نواز دے،وہاں ہر امداد اور ہر ادائیگی کا نہایت مضبوط چیکنگ سسٹم ہوتا ہے ، اگر ہم صدر ٹرمپ کا دل رکھنے کو مان بھی لیں کہ پندرہ سال پہلے کبھی ایک دفعہ پاکستان کو بلاجواز ادائیگی کر دی گئی تھی، اگلی بار اسی غلطی کو پھر کیوں دہرایا گیا، پندرہ برسوں میں اسی غلطی کو بار بار دہرایا گیا تو کیوں؟بلا شبہ خرابی کا عنصر مسٹر ٹرمپ کے تجزیے میں ہے۔انہیں چاہیے کہ پاکستان کو اتنا ایزی نہ لیں، پاکستان عراق اور شام نہیں۔پاکستانیوں کی قوت کا اندازہ لگانے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ مسٹر ٹرمپ کی جانب سے کیے جانے والے ایک ٹویٹ نے ساری پاکستانی قوم کو ایسا متحد کردیا کہ اب خود امریکا کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔
امریکا کی طرف سے پاکستان کی امداد روکے جانے کی دھمکیوں پر بظاہر پاکستان کے نظام پر کوئی بھی امکانی اثر دکھائی نہیں دیتا ، نہ ہی کہیں خوف کی کوئی فضاءہے نہ ہی کہیں مایوسی کا کوئی رنگ۔تاہم حکومت پاکستان ، ہمارے عسکری اداروں اور عوام کی طرف سے مسٹر ٹرمپ کے نازیبا انداز دشنام طرازی پر ضرور مذمت کی جارہی ہے۔وزیر اعظم پاکستان جناب خاقان عباسی نے دو ایک روز قبل برطانوی اخبار گارڈین کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے بڑی دلچسپ بات کہی کہ گذشتہ پانچ برسوں میں ہر برس ایک کروڑ ڈالر سے بھی کم امداد دی گئی جو یقینا نہایت ہی معمولی شمار ہوتی ہے۔لہذا جب وہ 20کروڑ، پچاس کروڑ اور نوے کروڑ کٹوتی کی باتیں سنتے ہیں تو انہیں بہت حیرت ہوتی ہے کہ یہ کون سی رقم کی بات ہورہی ہے۔میجر جنرل آصف غفور پاکستان آرمی کے ترجمان ہیں ۔ انہوں نے وائس آف امریکا سے بات کرتے ہوئے نہایت دبنگ الفاظ میں کہا کہ ’ پاکستان پیسوں کی خاطر نہیں بلکہ امن کے لیے لڑ رہا ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی امداد کی بندش سے باہمی تعاون اور علاقائی امن کو نقصان پہنچنے کا امکان ضرور ہے تاہم اس بندش سے پاکستان کے انسداد دہشت گردی عزم پر کوئی بھی فرق نہیں پڑے گا۔بلاشبہ صدر ٹرمپ کی گیدڑ بھبھکیاں حکومت پاکستان، افواج پاکستان اور پاکستانی قوم کے عزائم کو کسی صورت بھی متزلزل نہیں کر سکتیں تاہم صدر ٹرمپ کے اس طرز عمل سے امریکا کے پاکستان میں مفادات کو شدید ٹھیس پہنچنے کا امکان ضرور ہے۔ لوگوں میں امریکا کے خلاف شدید لاوا پک رہا ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق شاید راولپنڈی کے کسی شہری نے ہائیکورٹ میں رٹ بھی دائر کردی ہے کہ پاکستان میں یو ایس ایڈ پروگرام کے ساتھ ساتھ ایسی تمام این جی اوز پر بھی پابندی لگادی جائے جو امریکی بینر تلے کام کر رہی ہیں۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاکستان نے لاکھوں کی تعداد میں پاکستان پر بوجھ بنے ہوئے ان افغان مہاجرین کو بھی والس اپنے وطن جانے کی ڈیڈ لائین دے دی ہے جوایک عرصے سے بغیر رجسٹریشن آزادانہ پاکستان آنے جانے میں مصروف ہیں۔اگر پاکستان یہاں آباد تمام افغان مہاجرین کو ہی وطن واپس جانے کا الٹی میٹم دے دے تو امریکا کے لیے افغانستان میں اتنے مسائل پیدا ہوجائیں گے جنہیں حل کرنا کسی صورت بھی ممکن نہیں ہوگا۔جہاں تک پاکستان پر افغان طالبان اور حقانی گروپ کی سرپرستی کا الزام ہے تو اس طرح کے بے بنیاد الزامات لگانے سے کوئی بھی کسی کو نہیں روک سکتا۔ اگر صدر ٹرمپ واقعی دنیا میں پھیلتی دہشت گردی ختم کرنے میں سنجیدہ ہوتے تو ان کی جانب سے سب سے پہلے بھارت پر پابندیاں عائد کی جاتیں کہ جو مقبوضہ کشمیر کے بے بس اور محکوم لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھ کر یہ سمجھ رہا ہے کہ بندوق کے زور پرجذبہ آزادی کو غلام بنایا جاسکتا ہے۔وہی بھارت جہاں مسلمانوں کا خون بہانا، گائے کا خون بہانے سے آسان ہے۔سچ پوچھیں تو ہم پاکستانی تو صدر ٹرمپ کے شکرگزار ہیں کہ ان کی دھمکیوں نے ہماری قوم کو پہلے سے بھی زیادہ متحد کردیا۔ ا گرصدر ٹرمپ کی طرف سے اس طرح کی دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا توہماری قوم کی مضبوطی دیوار چین کو بھی پیچھے چھوڑ دے گی۔
(کالم نگار قومی اور بین الاقوامی امور
پر انگریزی و اردو میں لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved