تازہ تر ین

طلب اورپیٹ کادوزخ

محمد صغیر قمر….چنار کہانی
چند روز ادھر ہمیں ایک سیاست کار عالم دین کا خطبہ جمعہ سننے کا شرف حاصل ہوا۔ وہ دین و دنیا کی کشمکش کی بات کر رہے تھے۔اس کا تذکرہ کرتے ان کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔حاضرین کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔ یہ گلہائے سر سبد کا تذکرہ تھا۔خباب ؓ ‘ ،آل یاسر، ؓ صہیب رومی ؓ!!جنہوں نے متاع کل اپنے آقا کے قدموں پر نچھاور کر دی۔مال ودولت ، شہرت،خاندانی جاوہ وجلال،نسلی تخافر،سب وار کراس عارضی دنیا کی نسبت ابدی زندگی پا لی۔ ہماری متاع دنیا اور دل و جان ان پر فدا ہوں ۔الا ماشا اللہ اان جیسے ”بڑے بڑے “ سیاست دان علمائے کرام چاہتے ہیں کہ یہ دنیا ان کے ہاتھ میں رہے اور دین بھی۔ یہ خطیب اسے نعمت کہتے ہیں، ڈاکٹر اسرار کہتے تھے کہ کوئی نعمت ہدایت کے بغیر نعمت نہیں ہوتی۔ منبر و محراب ان صحابہ کبار ؓکے تذکرے سے ہر روز گونجتے رہتے ہیں۔ دنیا کی رغبت اور سلاطین کی پر ستاری کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ۔ ہر حکومت کا حصہ بننا مراعات لینا اور پھر اسی پلیٹ کو گندہ کر کے کہیں اور نکل جانا کیا شیوہ ہے؟ کیاپیشہ ہے؟ ۔یہ خطیب صاحب اسلوب دانشور شمس نوید عثمانی کی ایک کتاب کا ذکر کر رہے تھے۔ جن کی زندگی ” کیا ہم مسلمان ہیں ؟“ کے سوال پر گھل کر رہ گئی ۔ خباب ؓ کا ذکر تھا ۔ جب وہ بے تحاشاہ رو رہے تھے اور احباب نے تڑپ کر پوچھا کیا ہوا خباب ؓ؟“ بولے” میں اس لیے روتا ہوں کہ ہم پر خدا نے دنیا کے خزانوں کا منہ کھول دیا ، ہمارے سروں پر عزت و حشمت کے پرچم لہرائے،تو میں ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا تو نہیں ہوا کہ ہمارے حقیر کاموں کا حساب اسی دنیا میں چکا دیاگیا ہو اور آخرت کے بازار میں ہم خالی ہاتھ کھڑے نہ رہ جائیں ۔“ یہ وہ شخص تھا جو دنیا کی خوش حالی کو دیکھ کر آخرت کے حیران کن تصور سے رو رہا تھا جس نے زندگی کی صرف سینتیس بہاریں دیکھی تھیں ۔ایک جوان رعناجن کے نفس کی ہر مادی امنگ کو دارالبقا کے خطروں نے بوڑھا کر دیا تھا …. جنہوںنے رازکی بات پا لی تھی کہ یہ دنیا کتنی ہی حسین کیوں نہ ہو مگر بہر حال فانی ہے ۔ دنیا میں رہ کر انہوں نے دنیا کو اس حد تک چھوڑ دیا تھا کہ بستر مرگ سے وصیت کرتے ہوئے سنا گیا۔
” مجھے آبادیوں میں مت دفنادینا ! کوفہ کے ویرانوں میں میری پہلی قبر بنائی جائے ‘ دیکھو جنگل میری طرف بازو پھیلارہے ہیں۔“
ان کے انتقال کے بعد ایک بار حضرت علی رضی اﷲ عنہ ان کی قبر پر سے گزرے تو بے اختیار رقت طاری ہو گئی۔دعا کی ” اﷲ خباب ؓ پر رحمت کی بارش کرے’ جو خوشی سے مسلمان ہوا، خوشی سے ہجرت کی ‘ جہاد میں اپنی عمر کاٹی اور مصائب پر مصائب برداشت کیے ۔ مبارک ہے وہ شخص جو زلزلہ محشر کو یاد رکھے ، میزان عمل کے پاس کھڑا ہو کر زندگی کاوزن کرانے کی تیاریاں کرے ۔ مال پر قناعت کرے اور اپنے مولائے حقیقی کو راضی کر کے جائے ۔“ جس وقت آل یاسر ؓ پر ظلم و ستم کی قیامت ٹوٹی تھی ۔ جب حضرت یاسر ؓ کا بڑھاپا آتشیں زنجیروں میں جکڑڈالا گیا تھا ۔ جب ان کی بوڑھی شریک حیات حضرت سمیعہ رضی اﷲ عنہا ٹھوکروں اور کچوکوں ‘ شعلوں اور زنجیروں کے درمیان سے گزرتی ہوئیں جان والے پر جان دینے کی ریت ڈالنے کے لیے اسلام کی پہلی شہادت کا افتتاح کرنے جا رہی تھیں ‘ جب ان بوڑھے ماں باپ کا جواں سال عمار ؓ ظلم و استبداد کے آخری شکنجوں میں کساجا رہا تھا ۔ اس وقت وہ عاشقان پاک طینت لہو کے فواروں اور آنسوﺅں کی موسلادھار برسات میں یکا یک فرط مسرت سے مسکرا اٹھے۔ صرف اس لیے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ و سلم ان سوختہ سامانوں کے پاس سے یہ کہتے ہوئے گزر گئے تھے۔” صبر کرو اے آل یاسر ! وعدہ ہے کہ تم سے ملاقات جنت میں ہوگی ۔ “ جواں سال عمار ؓ اس لیے زندہ رہے تا کہ ہجرت و جہاد کے حوصلے نکالنے کے بعد شہید ہوں ۔ انہوں نے مکہ میں اپنا گھر چھوڑا اور ہجرت مدینہ کی راہ پر چل کھڑے ہوئے ۔ مدینے کے قریب دامن قبا میں انہوں نے پر شوق مزدور کی طرح اﷲ کا گھر تعمیر کیا ۔ مسجد قبا کے لیے پہلا پتھر جس شخص نے اٹھایا وہ خاندان یاسر ؓ کا یہی چشم و چراغ ہی تھا ۔ پھر شمشیر و سناں کی زد میں کھڑے ہو کر انہوںنے شہادت کی چاپ سنی تو روح رقص کرنے لگی اور ہونٹوں پر یہ نعرہ مستانہ گونج اٹھا۔” اب جا کر دوستوں سے ملیں گے ہم …. ! محمد صلی اﷲعلیہ و سلم سے ملیں گے۔ ان کی جماعت سے ملاقات ہو گی ۔ “ یہ نعرہ شوق بلند کرتے ہوئے ہونٹ خشک ہونے لگے او رکسی سے پانی مانگا تو دودھ سامنے کیاگیا ‘ اس کو پیا اور پی کرکہا ۔” حضور نے فرمایا تھا کہ دنیا کی سب سے آخری چیز دودھ پیے گا ۔ “ یہ کہہ کر خوشی سے بے قابو ہو گئے ۔ شہادت نے بڑھ کر ان کو سچ مچ سینے سے لگا لیا ۔ وہ جس دنیائے فانی میں چورانوے سال تک مقیم رہے تھے۔ اس دنیا سے بچھڑنے کا انہیں کچھ غم نہ تھا۔ وہ خوش تھے کہ جس خدا کے وہ ہیں اسی کی طرف پلٹ کر جا رہے ہیں اور کامیاب و سر خرو جار ہے ہیں ۔
تذکرہ حضرت صہیب رومی ؒ کا تھا۔جو خدا اور اس کے رسول کی طرف بھاگے جا رہے تھے اور دنیا ان کو پکارتی ہوئی پیچھے پیچھے چلی آ رہی تھی۔
” ہم تمہیں مد ینہ ہر گزنہیںجانے دیں گے۔“ مکہ کے کفار تعاقب کرتے ہوئے چیخ رہے تھے ۔ ” ہمارے نیزے تمہارے خون کے پیاسے ہیں ۔ ہماری فولادیں ٹھوکریں تمہارے وجود سے کھیلنا چاہتی ہیں ۔ ہم تمہیںیوں آسانی سے نہیں جانے دیں گے۔ “ انہوں ؓ نے مردانہ وار پلٹ کر تعاقب کرنے والوں کی طرف دیکھا ۔ اور کہادنیا کی سب چیزیں تمہارے پاس چھوڑآ یا ہوں اور صرف ایمان بچا کر ساتھ لیے جا رہا ہوں ۔ میری دولت ‘ میرا مال ‘ میرا گھر بار ‘ میری خوب صورت باندیاں سب کچھ تم لے لو اور مجھے جانے دو، اگراس پر بھی تم آڑے آتے ہو تو میں اپنی جان پر کھیل جاﺅں گا مگر خد اکی طرف پیٹھ پھیر کر مکے کی طرف ہر گز رخ نہ کروں گا۔ آﺅ ! تم میری لاش لے جا ﺅ ،یاد رکھو! یہ لاش بھی اس وقت جا سکے گی جب میرے ترکش کا آخری تیر ختم ہوگا ۔“
انہوں نے جب دیکھا کہ وہ اپنی ساری دنیا پیچھے چھوڑ کر جا رہا ہے تو فاتحانہ خوشی کے ساتھ اس دیوانے کو چھوڑ کر گھر چلے گئے۔ مگر یہ حق کا پروانہ جب مدینہ کے قریب پہنچا تو قرآن کی یہ آیتیں اس کے استقبال کے لیے عرش کی بلندیوں سے فرش زمین پر اتر رہی تھیں ،
” اور ایسے بھی لوگ ہیں جو رضائے الٰہی کے لیے اپنی جان کو خرید لیتے ہیں اور اﷲ اپنے بندوں پر مہربان ہے ۔“
کیسے تھے وہ لوگ ؟کیسی تھیں وہ محفلیں ؟جہاں ایمان کی شمع روشن تھی ‘ جہاں وہ لوگ رونق افروز تھے جو خدا کے طلب گار تھے اور خدا ان سے راضی تھا ،نعمت ہدایت سے مالامال۔ جو متاع دنیا کو پاتے تھے تو آخرت کے افلاس کا ہلکے سے ہلکا اندیشہ صبر و ضبط کا پیمانہ چھلکا دیتا تھا مگر جو دنیا کو لٹا کر اس طرح خوش ہوتے تھے جیسے کوئی بہت بڑا بوجھ سر سے اتر گیا ہو ۔ آج ایک عرصے سے ہمارے سینوں میں کیسی تاریکی امنڈی ہے ۔ کیسی بے کنار تاریکی اور ویرانی ۔ کیا خدا نخواستہ اندر ہی اندر ہمارے ایمان کی شمع گل ہو چکی ہے ؟ خدارا کوئی تو بتاﺅ ۔ قبریں ہماری طرف منہ کھولے بڑھ رہی ہیں مگر ہم بیٹھے مڑ مڑ کر للچائی ہوئی نظروں سے اسی دنیاکو تک رہے ہیں جس کے ذرے ذرے میں ہمارا دل اٹکا ہوا ہے ۔ زمین ہمارے پاﺅں تلے سے کھسک رہی ہے مگر گرتے گرتے ہم چاہتے ہیں کہ خدا کے آستانے کے بجائے ہمارا سر فانی دنیاکے قدموں پرپڑا رہے ! ہم بھی کسی طرح ان حکومتوں اور حکمرانوں کی محفلوںکاحصہ رہ جائیں ‘ ہم بھی غیر مشروط وزیر ‘ مشیر اور کشمیرکمیٹیوںکے چیئرمین بنا دیے جائیں ۔رند کے رند رہیں اور ہاتھ سے جنت بھی نہ جائے۔ اف میرے خدایا یہ پستی بھی کیسی پستی ہے۔ یہ طلب بھی کیا طلب ہے،ہی پیٹ بھی بھی کیا پیٹ ہے،جسے دوزخ کی آگ ہی بھر سکتی ہے۔یہ طمع اور لالچ جو ختم ہی نہیں ہو رہی !!نعمت تو بس نعمت ہدایت ہی ہے۔
(کالم نگارامور کشمیر کے ماہر، مصنف
اور شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved