تازہ تر ین

پاکستان میں زہریلے پانی کی تازہ صورتحال

راﺅغلام مصطفی….اظہارخیال
پاکستان میں محض آلودہ پانی پینے سے ہرسال تیس لاکھ افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہے جن میں سے بیشتر بروقت علاج نہ ہونے پر موت کے منہ میں چلے جاتے ہے گذشتہ سے پیوستہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کراچی رجسٹری میں پانچ رکنی لارجر بینچ کی سربراہی کرتے ہوے سمندری آلودگی کی سنگین صورت حال پر صاف پانی کی فراہمی کی درخواست پر سماعت کے دوران کہا کہ واٹر کمیشن نے مسائل کی نشاندہی بھی کی اور اسباب بھی بتائے وزیر اعلی سندھ کو اس لیے بلایا کہ اس مسئلہ کے حل کےلئے ٹائم فریم دے چیف جسٹس نے صاف پانی کی فراہمی کے مسئلہ پر اپنے سخت ریمارکس میں عندیہ دیا کہ پنجاب اور سندھ میں الیکشن سے قبل یہ مسئلہ حل کر کے رہیں گے۔ چیف جسٹس آ ف پاکستان ثاقب نثار دادو تحسین کے حقدار ہیں جنہوںنے اختیارات کی چتھرچھاو¿ں تلے انسانی بنیادی مسلہ کی آڑ میں پلنے والے مافیا کی نقا ب کشائی کرنے اور اس مسئلہ کوحل کرنے کا بیڑا اٹھایا عدلیہ کے اس اقدام سے دودھ اور شہد کی نہریں روا ںکرنے والی حکومتی گڈگورننس پر نفی کی مہر ثبت ہوگئی ملک کی مجموعی صورتحال کا اس انسانی بنیادی مسئلہ کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہے کہ اس وقت اسی فی صد پاکستانی شہریوں کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں پاکستا ن سمیت دنیا بھر میں 22مارچ کو ہر سال عالمی یوم آب منایا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اس دن کے ڈھلتے ہی اسے اس کے اغرا ض ومقاصد سمیت دفن کر دیاجاتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں انسانی بنیادی حقوق کی پامالی کوئی نئی بات نہیں اگر آپ اقوام متحدہ کے چارٹرڈ آئین پاکستان کے آرٹیکل 38کو اٹھاکر دیکھ لیں۔ یہ آرٹیکل ہر شہری کو روٹی، کپڑا ، مکان ، تعلیم اور صحت جیسی سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ داری ریاست کو سونپتاہے آج سات دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ آرٹیکل معطل پڑا ہے۔ پانی جیسی نعمت عطیہ خدا وندی ہے جس طرح انسانی جسم کو ہوا اور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح پانی کے بغیر انسان اپنی سانسیں بحال نہیں رکھ سکتا اسی طرح آبی حیات، فصلوں، جنگلات اور چرند پرند کےلئے بھی پانی زندگی کی علامت ہے۔ جنوبی ایشیاءمیں واقع دنیاکے آلودہ ترین دس بڑے شہروں میںپاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی
درجہ بندی میں پانچویں نمبر پر ہے۔ آج قمقموں کے شہر کا جھومر آلودگی سے اٹا ہوا ہے اس کے بیشتر علاقے دھوئیںاور دھند میںگھرے رہتے ہیں نکاسی آب کا غیر مستعد نظام، کوڑے کرکٹ کے ڈھیر، فیکٹریوں اور ٹرانسپورٹ کا دھواں ایسے مسائل ہیں جو شہر قائد کی گرہ سے بندھ چکے ہیں۔ عدالتی کمیشن نے صوبہ سندھ کے تمام علاقوں کو چھان پھٹک کر دیکھ لیا کہیں بھی صاف پانی دستیا ب نہیں کراچی سے کشمور تک دودھ اور شہد کی نہریں آلودہ پانی میں تبدیل ہو گئیں۔ صوبائی حکومت کے گڑھ لاڑکانہ میں 88فیصد لوگ مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں اگر اسی طرح پورے ملک کا جائزہ لے لیں تو پتہ چلتا ہے کہ مجموعی طور پر آلودہ پانی پینے کی وجہ سے 80لاکھ شہری ہیپاٹائٹس جیسے مرض کا شکار ہیں جسٹس اقبال کلہوڑوکی سربراہی میں بننے والا عدالتی کمیشن جس نے پینے کے صاف پانی، صحت صفائی کی صورتحال اور صحت مندماحول کے حوالہ سے انتظامیہ کی ناکامی پر کئے گئے خدشات کی تحقیقات کرنا تھی۔ اس عدالتی کمیشن نے جو مارچ 2017کو سپریم کورٹ میں اپنی رپورٹ جمع کروائی اس میں کہا گیا کہ صوبہ سندھ کے شہریوں کو فراہم کیا جانیوالے پانی میں ہیپا ٹائٹس B، جگر کے سرطان، خون کی کمی اور بچوںکی نشوونمامیں رکاوٹ ڈالنے والے وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے اور کراچی کے تیرہ اضلاع میں زمین کی سطح اور زیرزمین موجود پانی کے بیشتر نمونوں کو انسانی استعمال کےلئے غیر محفوظ قرار دیا پاکستان میں آلودہ پانی کی صورتحال کا اندازہ ایسے لگایا جاسکتا ہے کہ شہروں سے خارج ہونیوالے آلودہ پانی کی 8فیصد اور صنعتوں سے خارج ہونے والے آلودہ پانی کی صرف ایک فیصد مقدار کو ہی ٹریٹمنٹ عمل سے گذارا جاتا ہے جس کی وجہ سے مضر صحت پانی کے استعمال سے ہونے والے امراض میں تیزی کیساتھ اضافہ ہورہا ہے پاکستان میں اس وقت شہری آبادی کے پھیلاو¿ میں جس رفتار سے اضافہ ہورہاہے اندازہ ہے 2020ءتک شہری آبادی کا رقبہ 42.8فیصد تک اور 2050ءتک63.7فیصد بڑھ جائیگا۔ اس طرح انسانی حیات کی صاف پانی تک رسائی مزید مشکل ہوجائیگی۔ ماہرین کے مطابق آنے والے وقت میں پانی پاکستان کا بنیادی مسئلہ ہوگا۔ پاکستان کے تقریباً سات کروڑ انسان ناخواندہ ہیں آبادی میں اضافہ پینے کے صاف پانی کی دستیابی کی را ہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ پانی کے مسئلہ پر ہم منصوبہ بندی اور شعور و آگاہی سے ہی قابو پا سکتے ہیں۔ آبادی میں پھیلاو¿ کی ساتھ ساتھ گھر یلو، صنعت اور زراعت کے لئے پانی کی فراہمی شدیدمتاثر ہوگی آنیوالے عشرے صاف پانی کی فراہمی میں نمایاں کمی کا عندیہ دے رہے ہیں ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 62فیصد شہری آبادی اور84فیصد دیہاتوں میں بسنے والے لوگ پانی کو صاف نہیں کرتے جس سے ڈائریا جیسے مرض کے سالانہ دس کروڑ کیسزسامنے آرہے ہیں اور پاکستان کے ہسپتالوں میں چالیس فیصد اموات بھی آلودہ پانی پینے سے واقع ہورہی ہیں 2013ءمیں پی سی آر ڈبلیو آر کی سروے رپورٹ کا اگر جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں صرف پندرہ فیصد شہری اور اٹھارہ فیصد دیہی علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی سہولیات میسر ہیں۔ اور اس تمام صورتحال پر 2016ءمیں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے سینٹ کو یہ بتا کر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ ملک بھر کے 24اضلاع اور2807دیہات سے اکھٹے کئے گئے62 سے82 فیصد پانی کے نمونوں سے معلوم ہوا کہ پینے کا پانی انسانی صحت کے لئے نقصان دے ہے اس تمام صورتحال کے تناظر میں یہ سوال سر ابھارتا ہے کہ سالوں گزر جانے کے باوجود اس بنیادی مسئلہ سے نمٹنے کےلئے پلاننگ کیوںنہیں کی گئی اور اس مسلہ کو حل کرنے کی آڑ میں ملک وملت کا پیسہ اور وسائل کہاں صرف ہوتے رہے کیا یقین دہانیوں اورپوائنٹ اسکورنگ اس مسلہ کا حل ہے قطعاً نہیں جب حکومتی کل پرزے صرف اپنے ہی مفادات کے گرد دائرہ کھینچ کر اسکی حفاظت میں مگن رہینگے اور انسانی بنیادی حقوق سر بازار پامال ہونگے پھر سوال تو اٹھیں گے ہم اس وقت تک آلود ہ پانی کے مسئلہ سے چھٹکارا حاصل نہیںکر سکتے جب تک ہم اپنے شہروں اوردیہاتوں کو فضائی آلودگی، کوڑے کرکٹ کے
ڈھیروں، دھوئیں، مضر صحت گیسوں اور قدرتی آفات کے بعد پیدا ہونیوالی آلودگی سے پاک کرنے کا پیمانہ طے نہیں کرلیتے عدلیہ کے پاس کوئی جادوئی چھڑی یا الہ دین کا چراغ نہیں جس کے ہلانے یا رگڑنے سے یہ ۔مسئلہ چھو منتر ہوجائیگا۔ ہمیں ترقی و خوشحالی کے ڈونگرے بجانے کی بجائے انسانی بنیادی حقوق کی بحالی کےلئے جنگی بنےادوں پر اقدامات اٹھاتے ہوئے عمل کرنا ہو گا کیونکہ خوشحال عوام ہی کسی ملک اور قوم کی ترقی کی ضامن ہوتی ہے ترقی ےافتہ ممالک کی صف میںہم اسی طرح جگہ بنا سکتے ہے جب ہم عوام کو انسانی بنیادی حقوق سے آراستہ کریں گے اگر بھوک ، قرض اور،مرض کی چادر اوڑھ کر یہ عوام منوںمٹی تلے دفن ہوتی رہی تو پھر یاد رکھیں وقت کے حاکموںکی تاریخ مہاتیر محمد، نیلسن منڈیلا جیسی شخصیات سے تعبیر نہیںہوگی بلکہ وقت کے حاکموں کو آنے والی نسل ہلاکوں خان کے نام سے یاد رکھے گی۔
(کالم نگارقومی مسائل لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved