تازہ تر ین

بلوچستان کابحران اوراسلام آباد

خضر کلاسرا….ادھوری ملاقات
اس سا ل پاکستان میں تین حکومتیں ہونگی ۔ ایک موجودہ حکومت ہے جس کی سربراہی ایک ایسے شخص کے پاس ہے جوکہ اپنے آپ کو وزیراعظم ہی نہیں مانتااور تکرار کرتاہے کہ وزیراعظم نوازشریف ہی ہے مطلب شاہد خاقان عباسی جوکہ وزیراعظم ہاوس کو انجوائے کررہے ہیں اور پورے نظام حکومت پر اختیار رکھتے ہیں لیکن اس بات پر تکرار ہی نہیں کرتے بلکہ بچوں کی طرح ضد بھی کرتے ہیں کہ وہ وزیراعظم نہیں ہیں، وزیراعظم نوازشریف ہیں ۔ ہمارے خیال میں ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ عباسی اس دھندے میں ہی نہ پڑتے جوکہ انہیں وزیراعظم ہاوس میں نوازشریف کو نکال کر زبردستی لے آیاہے۔ خیر موجودہ لیگی حکومت جونہی اپنی مدت پوری کرے گی اور اپنے آپ کو وزیراعظم تسلیم نہ کرنے والے عباسی صاحب گھر سدھار جائینگے بلکہ رائیونڈ حاضری کیلئے پورے احترام کیساتھ جائینگے تو قوم نگران حکومت کے دور میں زندگی کے دن پورے کرنے کیلئے قوم تیار ہوگی ۔تیسری حکومت الیکشن کے نتیجہ میں وجود میں آئیگی ۔یوں قوم تیسری حکومت میں چلی جائے گی ۔ اس سال تین حکومتوں کے آنے کے بعد عوام کی حالت کیاہوگی ؟ اس بارے میں ماھر معاشیات کی رائے میں تو کوئی خوش فہمی والی نوید نہیں مل رہی ہے۔ان کا کہناہے کہ حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود مہنگائی بڑھ جائیگی اور ادائیگیوں کا توازن بدسے بدتر ہوجائیگا ،نتیجتاً مالی بحران بڑھے گا اور حکومت ادائیگیاں نہیں کرسکے گی ۔دوسری طرف معاشی امور پر اتھارٹی ہونے کے باوجود بعض ماھر معاشیات ملک کی معاشی صورتحال کے بارے میں کوئی پیشنگوئی کرنے سے یوں گھبرارہے ہیں کہ ان کا کہنا ہے کہ مختلف النواع تناظر میں ملکی معیشت کیارخ اختیار کرسکتی ہے ؟ اس بارے میں کوئی رائے یوں نہیں دی جاسکتی ہے کہ ہمارے ملک کی صورتحال دھندلی ہے ۔ اس بات کے باوجود کہ یہ انتخابات کا سال ہے لیکن کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتاہے کہ انتخابات وقت پر ہونگے ؟ اگر انتخابات ہونگے تو صاف ستھرے ہونگے اور اس کے نتیجہ میں آنیوالی پارلیمان معلق نہیں ہوگی ۔ اسی طرح اس بات کے بارے میں بھی کوئی گارنٹی نہیں دے سکتاہے کہ سیاسی ومذہبی جماعتوں کے دھرنوں کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں معطل نہیں ہونگی جیساکہ ماضی میں ہوتارہا ہے ؟ اسی طرح اس بارے میں بھی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ انتخابات نتائج کو کون تسلیم کرے گا ؟ یوں جب تک ان سوالوں کاجواب نہیں ملیگا ، اس وقت تک معاشی صورتحال کے بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دی جاسکتی ہے ۔ان سوالات میں وزن ہونے کے باجود جب ان سے پوچھا جاتاہے کہ پھر بھی کوئی روشنی تو ڈالیں تاکہ عوام کوآنیوالے حالات کا اندازہ ہوسکے کہ حکمرانوں کی جاری پالیسوں کی وجہ سے انہیں مستقبل قریب میں کن مشکلات کا سامناکرناپڑسکتاہے تو تو ان کا محتاط اندازمیں کہناہے کہ بیرونی اور محصولی کھاتے دباﺅ کاشکار رہینگے ۔مستحکم سازی کے اقدامات اندرونی افزائش ونمو کا گلہ گھونٹ دیں گے جبکہ بیرونی قرضوں پر انحصار کرنے کے طورطریقے موجودہ خساروں کو کم کرنے کیلئے چار سے پانچ فیصد قرضوں کے استحکام پر اثرانداز ہونگے ۔شرح تبادلہ میں تخفیف کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ درآمدات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوجائیگا اور مہنگائی بڑھے گی ۔افراط زر کو کم کرنے کیلئے شرح سود میں اضافہ کرنا ہوگا جسکی وجہ سے انویسٹمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائیگا ۔پی ایس ڈی پی کو قرضہ ادائیگی کیلئے نئی قسم کے سانچے بنانے ہونگے۔اس طرح معیاری شرح پیدوار کو بری طرح متاثر کرے گی ۔اسی طرح ملازمتوں کی تخلیق اور زرمبادلہ کے درمیان ترجیجات کا تعین کرنا ہوگا۔
اس بدتر صورتحال کے باوجود بھی وفاقی دارالحکومت اسلام آبادکے سیانے لیگی حکومت سے توقع کررہے تھے کہ وہ حکومت بیرونی قرضوں پر انحصار بڑھانے کی بجائے کوئی ایسی پالیسی مرتب کرے گی جو کہ ملک کو اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے میں مددگار ثابت ہوگی لیکن نہ ایسا ہوناتھا اور نہ ہوا ہے ۔ جمہوری نظام میں اپوزیشن کے بارے میں تو سناتھاکہ وہ حکومت کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے ۔عوام کو سڑکوں پر لے آتی ہے۔ملک میں بے چینی کی سی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن اس وقت پاکستان میں یہ صورتحال دنیا کے تجربات سے یوں مختلف چل رہی ہے کہ حکومت میں موجود لیگی قیادت وزیراعظم ہاوس کیساتھ سٹرکوں پر بھی خود موجود ہے۔مطلب سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل ہونے والے نوازشریف اب عدلیہ کو طعنے دے رہے ہیں اور ایسی زبان استعمال کررہے ہیں جوکہ قابل گرفت ہے۔ اسی طرح دیگر حساس اداروں کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں ۔مطلب وہ چاہ رہے ہیں کہ حکومت بھی پوری کرلی جائے ،اورجمہوریت کو کمزور کرنے کیلئے اداروں کو بھی گھیسٹ کر میدان میں لاکھڑا کیاجائے جوکہ ان کا ماضی کا وطیرہ رہاہے ۔ ادھر جو حکومت طرز کی اپوزیشن ہے ،وہ ڈاکٹر طاھرالقادری کے گرد انہونی کے انتظار میں ہے ۔یوں ہمارے خیال میں جوہونا تھا ،وہ نہیں ہورہاہے اور جو نہیں ہوناتھا ،وہ ہورہاہے ۔یوں بلوچستان کا سیاسی لاوہ اسلام آباد کی طرف بڑھ سکتاہے۔اور پھر آپ سمجھ تو گئے ہونگے۔
(کالم نگارسیاسی وسماجی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved