تازہ تر ین

مجرمِ شہر

توصیف احمد خان
قصور میں جو کچھ ہوا اور پھر پولیس نے جو کچھ کیا وہ ہم سب کے سامنے ہے۔
شیخوپورہ کے علاقہ فاروق آباد میں جو کچھ ہوا مگر پولیس ٹس سے مس نہیں ہوئی، وہ بھی ہمارے سامنے ہے۔
دونوں مقامات پر سات سالہ بچیاں تھیں جن کے ساتھ درندگی کی گئی بلکہ نہیں ہم اپنے مکروہ افعال میں درندوں کو دوش نہیں دے سکتے ، درندوں اور حیوانوں کے بھی کچھ اصول ہیں جن پر وہ سختی سے کاربند رہتے ہیں، کسی بھی جنگل میں کبھی کسی حیوان یا درندے نے کسی معصوم اور کمسن حیوان کو کچھ نہیں کہا، لہٰذا یہاں لفظ درندگی یا حیوانیت کا استعمال خود درندوں یا حیوانوں کی توہین ہے کہ وہ یہ کچھ نہیں کرتے ، مگر ہم انسان توحد سے گذر جاتے ہیں، ہمیں اشرف المخلوقات کہا گیا ہے لیکن کیا ہم اشرف المخلوقات کہلانے کے مستحق ہیں…؟
مذکورہ دونوں خبریں ایک ہی دن شائع ہوئی ہیں، سات سالہ بچیوں کیساتھ جو انسانیت سوز سلوک کیا گیا اسے پڑھ اور سن کر تو انسانیت بھی یقینا شرما گئی ہوگی، خود ہمارے سر ہیں کہ شرم سے جھکے جارہے ہیں، اسی روز فیصل آباد کے ایک لڑکے کے ساتھ وحشیانہ سلوک ہوا اور اسے بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، مولا کریم !ہم کدھر جارہے ہیں… ہم نے کون سی راہ اختیار کرلی ہے …ہم نے کون سا چلن اپنا لیا ہے …؟ ذمہ داری کے فقدان کا یہ عالم ہے کہ چند دن تک اسے یاد رکھا جائیگا اور پھر بھلا دیا جائیگا ، یاد رہ جائیگا تو انہیں جن کے یہ پیارے تھے، جوان کی قبروں پر ڈھے گئے ، وہ اب کریں بھی کیا ، انکے لئے تو یہ زندگی بھر کا دکھ ہے ۔
مظاہرہ کرنےوالوں پر پولیس کو اس قدر غصہ آیا کہ اس نے سیدھی گولیاں چلادیں، ابھی سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کا شور ہی ختم نہیں ہوا کہ پولیس نے ایک اور” کارنامہ “ سرانجام دیدیا، کیا کبھی کسی پولیس والے کو سزا ہوئی ہے، زیادہ سے زیادہ معطلی ، تبدیلی یا کاغذوں کی حد تک چند دن کی حوالات …!کہاجاتا ہے کہ پولیس کےخلاف کارروائی سے پولیس کا مورال ڈاو¿ن ہوجاتا ہے ، تف ہے ایسی سوچ پر …جو پولیس عوام کی حفاظت کیلئے ہے وہ اپنا اصل کام کرنے کی بجائے لوگوں کو گولیاں مارنے کا کام سنبھال لے گی تو پھر ہم اس پر تف ہی بھیجیں گے۔
جس صوبے میں آئی جی سڑکوں پر بھی پروٹوکول لیتا پھرتا ہے وہاں کی پولیس کا اسی قسم کا حال ہوگا…جی ہاں ! یہ تجربے کی بات ہے ، چند روز قبل یوٹرن پر ساری ٹریفک روک لی گئی ، پوچھا گیا کہ بھائی کیا مسئلہ ہے ، ٹریفک کیوں روکی گئی ہے …تو جواب ملا … آئی جی صاحب گذرنے والے ہیں، خادم اعلیٰ صاحب ! یہ ہے آپ کی پولیس …لوگوں کے بچے اغواءہو رہے ہیں ، انکے ساتھ زیادتی ہورہی ہے، انہیں قتل کرکے کوڑے کے ڈھیر پر پھینکا جارہاہے اور آپ کے آئی جی کو پروٹوکول سے فرصت نہیں ، ایسا آئی جی اور ایسی پولیس لوگوں کی حفاظت نہیں کرسکتی ، انہیں مار ہی سکتی ہے ۔
خادم اعلیٰ صاحب ! آپ کو 1981ءکا وہ واقعہ یقینا بھولا نہیں ہوگا جب تھانہ باغبانپورہ میں ایک کمسن بچے پپو کو اسی طرح قتل کردیاگیاتھا، ضیاءالحق کا مارشل لاءتھا، فوجی عدالت میں کیس چلا، محض پھانسی نہیں سرعام پھانسی کی سزا دی گئی ، چوراہے میں پھانسی لگی اور ہزاروں شہریوں نے پھانسی کا وہ منظر دیکھا کہ مجرموں کی لاشیں ان کے سامنے رسوں سے جھولتی رہیں، اس کے بعد ایک طویل عرصے تک کوئی بچہ اغواءہوا اور نہ قتل ، مگر ان مکروہ جرائم نے پھر سر اٹھالیا اور اب تو انکا کوئی حد و حساب ہی نہیں ، کہا جاتا ہے کہ اب اس قسم کے مجرموں کو بااختیار اور صاحب اختیار لوگوں کی چھتریوں کا سایہ حاصل ہے …کہا اور بتایا یہی جارہاہے کہ اس قسم کے مجرموں کو سیاستدانوں کی پناہ حاصل ہے ، یہ قریں قیاس بھی ہے کہ صرف قصور میں اب تک کیا کچھ نہیں ہوا، گذشتہ چند برس کے دوران کتنے بچے اور بچیاں اس ضلع میں اغواءاور زیادتی کے بعد قتل ہوچکے ہیں، بچوں کے اغواءاور انکے ساتھ زیادتی کا سکینڈل اسی ضلع کا ہے ، صرف دو سال میں بارہ بچیوں کو اغواءکیا گیا، ان کے ساتھ زیادتی کی گئی اور پھر انہیں قتل کردیاگیا…یہ ضلع تو حکومت وقت کی مونچھ کے نیچے ہے ، لاہور سے قصور کا فاصلہ تو ایک گھنٹے کا بھی نہیں ، جب اس ضلع میں یہ حال ہے تو ذرا سوچئے کہ دوردارز کے اضلاع کی صورتحال کیا ہوگی…؟
اس سلسلہ میں ایک اور افسوسناک امر یہ ہے کہ یہاں کی پولیس معاملات کو منظر عام پر لانے والوں کو دھمکیاں دیتی ہے اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں، اوپر سے معلوم نہیں خادم اعلیٰ نے کن وجوہات اور کن مصلحتوں کی بنا پر قصور کو زنانیوں کے حوالے کررکھا ہے ، ہمیں خواتین کو انتظامی عہدوں پر لگانے کے سلسلے میں کوئی اعتراض نہیں لیکن ہر عہدے کے اپنے تقاضے ہوتے ہیںاور قصور جیسے ”مجرم ضلع“ میں کوئی عورت کس طرح مجرموں کی بیخ کنی کریگی ، یہاں تو دیانتدار مگر دبنگ انتظامی افسروں اور اہلکاروں کی ضرورت ہے جو دردِ دل بھی رکھتے ہوں۔
شاید اس کی ایک وجہ یہ تو نہیں کہ مجرموں اور جرائم پیشہ افراد کی اکثریت والے اس ضلع میں ایسے لوگوں کو تحفظ دلانا مقصود ہو اور حکمرانوں سے اسی طرح کے فیصلے کرائے جارہے ہوں، کیونکہ سامنے یہ آرہاہے کہ مجرموں کی ”پناہ گاہیں “کچھ ایسے افراد ہیں جن کو عرفِ عام میں سیاستدان یا علاقے کے بااثر لوگ کہا جاتا ہے …ورنہ کیا وجہ ہے کہ اتنا کچھ ہو چکا ہے مگر کوئی اس پر توجہ دینے کیلئے تیار نہیں، کسی کا ابھی تک دل نہیں کانپا۔
یہ دل تو اس وقت کانپتا ہے جب اس پر براہ راست چوٹ پڑے ، اور چوٹ کسی اپنے کے جانے سے ہی پڑتی ہے مگر اللہ نہ کرے کسی کے ساتھ بھی ایسا ہو…خواہ وہ اپنا ہے یا پرایا…مولا کریم سب کو اولاد بلکہ ہر عزیز رشتہ دار کے غم سے محفوظ رکھے ، لیکن حکمرانوں کو سوچنا ہوگا کہ آخر وہ کون ہے جو قصور میں یہ سب کچھ کرارہاہے…کیا وہ اتنا ہی طاقتور ہے کہ حکمرانوں کے ہاتھ بھی اس کی طرف بڑھنے سے پہلے کانپ جاتے ہیں۔
ایسے واقعات اور ایسے سانحات تو عذاب الٰہی کو دعوت دینے کے مترادف ہیں، اب بھی حکمرانوں نے اس طرف توجہ نہ دی تو جان لیں کہ پھر دستِ قدرت حرکت میں آئیگا اور اس حرکت کا کیا مطلب ہوگا۔ ؟
اس سب کچھ کا پورا معاشرہ تو ذمہ دار ہے ہی مگر سب سے زیادہ ذمہ داری …جی ہاں ! سب سے زیادہ ذمہ داری محترم وزیراعلیٰ پر عائد ہوتی ہے ۔
اور جناب نوازشریف ! آپ بھی اس سے ہرگز بری الذمہ نہیں۔
یہ آپ دونوں بھائیوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے ورنہ مجرموں کا یہ ایک شہر ہی نہیں رہیگا ، آہستہ آہستہ ہر شہر مجرم بنتا جائیگا…اللہ نہ کرے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved