تازہ تر ین

زینب کا قتل اور پولیس مقابلے

عبد الودود قریشی
بلھے شاہ کی بستی قصور میں ایک سال میں بارہ بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کردیاگیا اور پولیس نے مقدمات عدم دستیابی ملزمان پر داخل دفتر کردیئے، 9جنوری کو زینب نامی پھول کو بھی زیادتی کے بعد قتل کردیاگیا، اس سے قبل ثناء، عائشہ ، عمران ، تہمینہ کو بھی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا، مگر پولیس نے مظلوموں کے رشتہ داروں کو تھانوں میں بلا بلا کر خاموش کردیا، بچیاں اور بچے کم سنی میں جان سے گئے مگر پولیس نے اس موقع کوغنیمت جان کر مرحوم بچوں کے رشتے داروں اور گلی محلے کے لوگوں کو بلا بلا کر تھانے میں پیسے بٹورنا اور رقم نہ دینے والوں کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا، اور یوں رشتہ داروں اور اہل علاقہ سے مرحومین کی دشمنیاں بھی بننا شروع ہوگئیں، لہٰذا درخواست گذاروں نے پولیس کو ہاتھ جوڑ جوڑ کر معاملے کو دفن کرنے کی دھائی دی ، تازہ ترین واقعہ آٹھ سالہ زینب کا ہے جسے جنسی تشدد کے بعد قتل کردیاگیا ، جس پر سارا قصور احتجاج کیلئے سڑکوں پر آگیا، بچی کے والدین عمرہ کیلئے سعودیہ گئے ہوئے تھے، عوام نے جب احتجاج شروع کیا تو پولیس نے سیدھی فائرنگ کرکے محمد علی اور شعیب کو شہید کردیا، یہ شہداءزینب کے رشتہ دار یا ہمسائے نہیں تھے، وہ ظلم کے خلاف احتجاج کررہے تھے ، پنجاب پولیس کو ظلم کی یہ تربیت انگریز دور سے دی گئی ، پولیس ایکٹ میں بے تحاشہ اختیاررات لوگوں کو محکوم بنانے کیلئے دیئے گئے ، جن کو قیام پاکستان کے بعد آنیوالے حکمرانوں نے اپنی ذات کیلئے اسی طرح رکھنا بہتر سمجھا تاکہ وہ عوام پر ریاستی جبر و تشدد سے حکمرانی کرتے رہیں مگر اس ظلم اور زیادتی کی وجہ سے لوگ بپھر چکے ہیں اور وہ ہر وقت احتجاج کیلئے تیار رہتے ہیں، وہ کبھی بجلی نہ ملنے پر ، کبھی گیس کی بندش پر احتجاج کرتے ہیں اور قصور میں بھی احتجاج کی وجہ یہی ہے، پنجاب اور سندھ کے حکمرانوں نے بیگناہوں کو پولیس مقابلے میں قتل کرنے کی نئی روایت قائم کررکھی ہے ، تھانوں اور جیل سے لوگوں کو نکال کر انکے ہاتھ پشت پر باندھ کر گولیاں ماردی جاتی ہیں اور ہتھ کڑیوں سمیت تصاویر بھی جاری کی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ملزمان کے حامیوں نے چھڑانے کیلئے فائرنگ کی اور ملزم مارے گئے ، مگر پولیس والوں کو خراش تک نہیں آتی، ملک اسحاق کو بچوں سمیت جیل سے لاکر مادیاگیا نہ انکوائری ہوئی نہ مقدمہ ، ملک اسحاق پر الزامات جو بھی تھے اسے عدالتی عمل سے گذارکر قانون کے مطابق سزا دی جاتی ، اس طرح بچوں سے زیادتی کے ملزموں کو چند دن بعد گولی ماردی جاتی ہے ، وجہ یہ ہوتی ہے کہ پولیس اصل مجرم کو پکڑ نہیں سکتی، لہٰذا کوئی غریب نشئی اسکے ہاتھ لگ جاتا ہے اور وہ معاملے کو دبانے کیلئے اسے مار دیتے ہیں اور مدعی کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم نے اصل ملزم کو مارکر اسکے ساتھ انصاف کردیا ، جبکہ بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ جسے پولیس نے مارا وہ بیگناہ تھا ، اسکا جرم غربت، بے آسرا ہونااور رشوت نہ دینا تھا، اگر ان لوگوں کیخلاف مقدمات چلتے تو سچ سامنے آسکتا تھا کہ وہ واقعی مجرم ہیں کہ نہیں، اسی طرح ایک شخص پر دوسو بچوں سے زیادتی اور قتل کا الزام سامنے آیا اور چند دنوں میں اسے پولیس مقابلے میں ماردیاگیا، زینب کے معاملے میں بھی ایک شخص کو پکڑ کر ماردیاجائیگا اور کہا جائیگا کہ ملزم انجام کو پہنچ گیا، یہ کام صرف پنجاب اور سندھ میں نہیں اسلام آباد میں بھی ہوتا ہے ، ہمارے دوست راجہ اکرم کے قتل میں ملوث دو بھائیوں کو دامن کوہ لیجاکر ماردیاگیا جبکہ اس قتل میں فائرنگ کرنےوالا ایک شخص تھا جسے جنازے میں لوگوں نے دیکھا مگر پولیس مقابلے میں دو ماردیئے گئے ، پولیس سے حکمران اپنے مقاصد کیلئے بھی قتل کرواتے ہیں، اسلام آباد سے ایک شخص کو کراچی جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرکے بھجوایاگیا ، اگر ملک باری کے بھائی سرعت نہ دکھاتے اور چیف جسٹس افتخار چوہدری مداخلت نہ کرتے تو ملک باری طبعی موت سے پہلے شہید کردیاجاتا، ملک میں ایک بھی حقیقی مجرم کو قانون کے مطابق سزا مل جائے تو جرائم رک سکتے ہیں، مگر اصل مجرم بچ جاتے ہیں ، بےگناہوں کو ملزم بناکر عدالت ، آئین و قانون سے ماورا قتل کرکے معاملے پر مٹی ڈال دی جاتی ہے جس سے جرائم میں اضافہ ہوتا ہے ، زینب کے قتل پر احتجاج کرنےوالوں کو کیوں سیدھی گولیاں ماری گئیں، فیض آباد دھرنے والوں کو کیوں گولیاں ماری گئیں، سانحہ ماڈل ٹاو¿ن میں حاملہ خواتین سمیت 14افراد کو کیوں گولیاں ماردی گئیں کا جواب ایک ہی ہے کہ حکمران پولیس اور ریاست کی طاقت ذاتی مقاصد کیلئے طویل مدت تک روزانہ کی بنیاد پر استعمال کرتے ہیں، اور لوگوں کو قتل کرنےوالے مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی استطاعت نہیں رکھتے ، لہٰذا حکمرانوں کی خدمت کیلئے وقت بچانے کیلئے بیگناہوں کو پکڑ کر ماردیاجاتا ہے ، تاکہ معاملہ دب جائے اور لوگ خاموش رہیں اور ان پر خوف بھی طاری ہو جائے۔
زینب کے معاملے کی طرح جب بھی کوئی پولیس کے پاس بروقت مدد کیلئے جائے پولیس گاڑی پٹرول اور کھانا طلب کرتی ہے ، گاڑی پٹرول اور کھانا مدعی سے کھاکر بھی ذاتی کاموں پر دراز ہوجاتی ہے ، یہ بات کوئی راز نہیں کہ سب تھانے بکتے ہیں اور وہاں سے ماہانہ بھتہ اوپر تک جاتا ہے ۔
اسطرح کا ظلم امریکہ، برطانیہ ، یورپ ، سعودی عرب ، دوبئی میں کیوں نہیں ہوتا ، اس لئے کہ وہاں حکمران اور پولیس کے انچارج تھانے نہیں بیچتے ، ہمارے یہاں تو آئی جی اور ڈی آئی جی کی سطح کے اکثر افسران میں اثاثے بنانے کا مقابلہ رہتا ہے اور جو ایماندار ہیں انکو کھڈے لائن لگادیا جاتا ہے ، جرم انسانی خصلت میں شامل ہے ، جسے قانون اور موثر پالیسی سے روکا جاسکتا ہے ، مگر پولیس کو حکمران ذات کیلئے استعمال کرتے ہیں اور ریاست انکا دفاع قانون کے مطابق کرتی ہے ، قصور میں دو نوجوانوں کو قتل کرنے والے پولیس ملازمین چند ماہ میں نہ صرف باعزت رہا ہوجائیں گے بلکہ انکو ترقیاں بھی ملیں گی ، مرتضیٰ بھٹو کے معاملے میں سب نے ترقیاں بھی پائیں اور اعزازات بھی مگر اس ظلم سے عوام اسقدر تنگ آچکے ہیں کہ کبھی نہ کبھی یہ بڑے احتجاج کا پیش خیمہ ہوگا جو کسی انقلاب پر ہی رکے گا۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved