تازہ تر ین

ہنگا مے,مظاہرے جاری حا لا ت کشیدہ

قصور(بیورورپورٹ‘ ڈسٹرکٹ رپورٹر) گزشتہ روز بھی قصور میں معصوم زینب اور اس سے قبل زیادتی کے بعد ہلاک کر دیے جانیوالی ایک درجن سے زائد بچیوں کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے جاری احتجاج کا سلسلہ جاری رہا حکومت اور پولیس کی تبدیل شدہ حکمت عملی کے باوجود دو روز سے جاری مظاہروں اور گلی گلی پھیلے احتجاج کے شعلوںکو سرد نہ کیاجاسکا پولیس کی بھاری نفری پہلے کی طرح گزشتہ رو ز بھی احتجاج کرنیوالے شہریوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کرتی نظر آئی مگر مظاہروں کے سلسلے کو روکنے میں پولیس کو تاحال کوئی کامیاب نہیں مل سکی ہے گزشتہ صبح جب پولیس کی گولیوںسے ہلاک ہونیوالے دونوں افراد کی نعشیں دینے میں ڈسٹرکٹ ہسپتال اور پولیس نے تاخیر کا مظاہرہ کیا تو ہسپتال کے باہر موجود ہزاروں افراد ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں داخل ہوگئے اور انہوںنے ہسپتال کے ملازمین کو تشددکانشانہ بنانے کے علاوہ توڑ پھوڑ کی مظاہرین نے لاہور قصور روڈ کے علاوہ قصور کو دیگر شہروں اور علاقوںسے ملانے والی سڑکوں پر اپنے قبضوںکو برقرار رکھا بعد نماز ظہر جب کالج گراﺅنڈ میں پولیس کے ہاتھوںمارے جانیوالے دونوںافراد کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے لیے علامہ خادم حسین رضوی کالج گراﺅنڈ پہنچے تو نمازجنازہ میں شرکت کے لیے ہزاروںافراد موجود تھے اس موقع پر جنازہ میں شرکت کے لیے آنیوالے شہریوںکی بڑی تعداد نے حکومت اور پولیس کےخلاف زبردست نعرے بازی کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد یہ افراد مختلف ٹولیوںمیں تقسیم ہوگئے اور انہوںنے شہر کے متعدد علاقوںمیںجاکر احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا ایک ہزار کے قریب نوجوانوں اور طالب علموں کے علاوہ دیگر شہریوںنے شہباز روڈ کا رخ کیا اور شہباز روڈ پر واقعہ مسلم لیگ ن کے ایم پی اے حاجی نعیم صفدر انصاری کے ڈیرہ پر کھڑی دو گاڑیوںاور دوسرے سامان کو نظر آتش کرنے کے علاوہ ان کے دفاتر کو مکمل طور پر توڑ پھوڑ دیا مظاہرین نے بعد ازاں ایم این اے وسیم اختر شیخ کے ڈیرہ پر بھی جاکر فرنیچر اور دوسرا سامان توڑ دیا مظاہرے میں شامل افراد اس موقع پر نعرے بازی کرتے رہے اسی دوران پولیس کی بھاری نفری موقع پر آئی اور انہوںنے لاٹھی چارج کرنے کے علاوہ شیلنگ کی تو مظاہرین نے ان پر پتھراﺅ شرو ع کر دیا جس کے بعد پولیس نے پسپا ہونا شروع کر دیا تاہم تھوڑی دیر بعد ہی قصور میں نئے تعینات ہونے والے ڈی پی اوزاہد خاںمروت کی سرکردگی میں پولیس کی کئی ایک ٹولیاںکشمیر چوک پہنچ گئی دیگر اضلاع سے منگوائی جانیوالی پولیس بھی اس فورس کے ساتھ شامل ہوگئی تو اس پولیس فورس نے تبدیل شدہ حکمت عملی کے تحت مظاہرین پر حملے شروع کر دیے جس پر مظاہرین وقفے وقفے سے مختلف گلیوںمیں بھاگ جاتے اور بعد ازاں واپس آکر پولیس پر پتھراﺅوغیرہ شروع کر دیتے پولیس نے اس موقع پر ایک سو کے قریب افراد کو حراست میں لے لیا۔ سات سالہ بچی سے زیادتی کے بعد قتل کے لرزہ خیز واقعہ پر ملک کی فضا سوگوار ہے جبکہ قصور میں حالات بدستورکشیدہ اور نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج ہے،تعلیمی ادارے اور تجارتی مراکز مکمل بند رہے ،مشتعل مظاہرین نے شہر کے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے جس سے قصور شہر کا دوسرے شہروں سے زمینی راستہ بھی منقطع ہوگیا، پولیس فائرنگ سے جاںبحق ہونے والے دو افراد کی لاشیں پوسٹمارٹم کے بعد ورثاءکے حوالے کردی گئیں جس کے بعدپینتالیس سال محمد علی کے ورثاءاور اہل علاقہ نے لاش ڈی ایچ کیو ہسپتال کے سامنے سڑک پر رکھ احتجاجی مظاہرہ کیا ،مشتعل مظاہرین زبردستی ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں داخل ہو گئے جس کے بعد ڈاکٹراورعملہ کام چھور کر چلا گیا جس سے ایمر جنسی سمیت دیگر وارڈزمیں سروسز معطل ہو گئیں ، واقعہ کے خلاف پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی مظاہرے کئے گئے جبکہ وکلاءتنظیموں نے بھی ہڑتال کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ تفصیلات کے مطابق معصوم بچی سے زیادتی کے بعد قتل اور واقعہ کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر پولیس فائرنگ سے دو افراد کی ہلاکت کے خلاف قصور میں دوسرے رو ز بھی حالات کشیدہ رہے جس کی وجہ سے خوف و ہراس پھیلا رہا ۔ حکام کی جانب سے عوام میں پولیس کے خلاف پائی جانے والی شدید غصے کی لہر کے باعث پولیس کو پیچھے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ صرف اہم سرکاری عمارتوں کی حفاظت کے لئے اہلکاروں کو اندرتعینات کیا گیا ہے اور انہیں کسی بھی طرح کا رد عمل سے روک دیاگیاہے ۔ گزشتہ روز صبح کے وقت ہی مختلف مقامات پر مظاہرین جمع ہونا شروع ہو گئے جنہوںنے بچی کے قتل اور پولیس فائرنگ سے ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے ۔ مشتعل مظاہرین نے ٹائر وںکو آگ لگا کر دوسری شہروں کو جانے والے راستے بند رکھے جس سے مسافروں کوشدید مشکلات درپیش رہیں ۔ مظاہرین نے کالی پل چوک پر دھرنا دیدیا جس سے ٹریفک کا نظام معطل ہوگیا،ڈنڈا بردار مظاہرین نے سٹیل باغ چوک کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا ۔مشتعل مظاہرین نے ڈسٹرکٹ ہسپتال کے سامنے ٹائر نذرآتش کر کے شدید احتجاج کیا اور توڑ پھوڑ کے دوران ہسپتال کا مرکزی دروازہ بھی توڑ دیا۔انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے بچنے کے لئے پولیس کی تعیناتی نہیں کی گئی ۔مظاہرین کی جانب سے ہسپتال میں داخل ہونے کے بعد ڈاکٹرز ، پیر امیڈیکل سٹا ف کام چھوڑ کرچلے گئے جس کے بعد ہسپتال میں ایمر جنسی اور دوسرے وارڈز میںسروسز معطل ہو گئیں ۔ جس کے بعد لواحقین ایمبولینسز کے ذریعے مریضوںکو گھروں یا دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کرتے ہوئے دکھائی دئیے۔واقعہ کے خلاف شہر کے تمام تجارتی مراکز اور تعلیمی ادارے بند رہے ۔ قصور واقعہ کے خلاف پنجاب کے دیگر اضلاع میںبھی احتجاج کیا گیا ۔مظفر گڑھ میں مظاہرین نے سنانواں میں مظاہرہ کیا اور ملزم کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔ وہاڑی میں طلبہ نے لرزہ خیز واقعہ کے ریلی نکالی اور بعد ازاں مظاہرہ کیا ۔ گوجرانوالہ میں مظاہرین نے جی ٹی روڈ کو گوندالوالہ چوک میں میں بند کر دیا جس سے ٹریفک کا نظام معطل ہو گیا۔ وکلاءتنظیموں کی جانب سے بھی واقعہ کے خلاف ہڑتال کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ وکلاءعدالتوں میں پیش نہ ہوئے جس کے باعث سائلین کو اگلی تاریخیں دیدی گئیں۔ اسلام آد ہائیکورٹ بار کی جانب بھی واقعہ کے خلاف ہڑتال کی گئی۔ پنجاب بار کونسل کا کہنا ہے کہ مقتولہ زینب کے والدین کو مفت قانونی معاونت فراہم کی جائے گی۔ معصوم زےنب قاتلوں کو کےفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کرنے والا بےس سالہ شعےب اسلام بھی پولےس کی درندگی کا نشانہ بن گےا، نو جوان بےٹے کی لاش گھر پہنچنے پر کہرام مچ گےا ہر آنکھ اشکبار ، بوڑھی ماں غم سے نڈھال،نوجوان آہوں اور سسکےوں مےں سپرد خاک ۔تفصےلات کے مطابق معصوم زےنب لاش ملتے ہی اہل علاقہ مےں غم و غصے کی لہر ڈور گئی جس پر عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی پولےس انتظامےہ اور حکومت کے خلاف شدےد نعرے بازی کرنے لگی ۔انھےں مظاہرےن مےں کوٹ فتح دےن خان کا رہائشی شعےب اسلام بھی شامل تھا جو اپنی معصوم بہن جےسی زےنب کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہا تھا ۔ شعےب اےک جنرل سٹور پر مزدوری کرتاتھا اور اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتا تھا شعےب کا والد وفات پاچکا اور اس کی ماں دوسروں کے گھروں مےں کام کر کے گھر کا نظام چلاتی ہے۔ مظاہرےن جب احتجاج کرتے ہوئے ڈی سی آفس کے سامنے پہنچے تو پولےس والوں کی درندگی کی انتہا کرتے ہوئے سےدھی گولےاں برسا دےں جن مےں سے اےک شعےب کو لگی اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گےا۔ جس کے بعد اس لاش کو ہسپتال منتقل کر دےا گےا۔ پوسٹمارٹم کے بعد جب نوجوان کی لاش گھرپہنچی تو علاقے مےں کہرام مچ گےا بوڑھی ماں دہائےاں دے دے کر روتی رہی اور اپنے نو جوان بےٹے کو پکارتی رہی جس پر ہر آنکھ اشکبار تھی شعےب کو سےکٹروں سوگواروں کی موجودگی مےں سپرد خاک کر دےا۔

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved