تازہ تر ین

معاشرے میں جنسی جرائم کی وجوہات

حلیم عادل شیخ …. گردش دہر
دنیا میں بہت سے ظلم وزیادتی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں ان واقعات میں سے کچھ کا مداوا ہوجاتاہے لیکن کچھ کا ممکن ہی نہیں ہوپاتا۔لیکن جو واقعہ قصور میں معصوم بچی زینب کے ساتھ ہوا ہے اس نے ظلم کی تاریخ کو بہت پیچھے کی جانب دھکیل دیاہے ، ویسے دیکھا جائے تومعصوم بچی زینب کے ساتھ ہونے والا سلوک اس ملک میں کوئی نئی بات بھی نہیں ہے ،میں نے اپنی ان آنکھوں سے بہت سے ایسے سانحات کو دیکھا ہے جن کا مداواتو دور کی بات وقت گزرنے پر ان کے والدین کو کوئی پوچھتا تک نہیں ہے۔بات صرف یہ ہے کہ معاشرے میں ایسے گھناﺅنے واقعات ہوتے کیوں ہیں ؟ایک نفسیاتی پہلو یہ ہے کہ جب آدمی میں یہ احساس پیدا ہوجائے کہ اس کی زندگی بے معنی ہے اور یہ کہ باعزت روگار نہ ہونے سے اس کی زندگی میں کوئی عزت بھی نہیں ہے ایسے میں بندہ کبھی کبھار اپنا شعور کھو بیٹھتا ہے یعنی وہ پھر کمزورپر اپنی طاقت کا رعب جھاڑتاہے کمزور پر ظلم کرتاہے اور خود کو سمجھتا ہے کہ وہ بہت طاقتور ہو چکاہے، ایسے افراد معاشرے میں سہی مقام نہ ملنے کی صورت میں کوئی نہ کوئی ایکٹی ویٹی تلاش کرتے ہیں ہے ،مگر ان تمام باتوں کے باوجودحکمرانوں کی زیر نگرانی پلنے والا معاشرہ اس قدر بے راہ روی کا شکار ہوچکاہے کہ جس کی کوئی حد نہیں ہے ،جب آپ کو معلوم ہوجائے کہ جو جرم یا گھناﺅنا کردار آپ کرنے جارہے ہیں اس کے جرم میں آپ بچ جائینگے اور اس ملک کا قانون آپ کو سخت سے سخت جرم کی پاداش میں بھی باعزت بری کردیگا تو پھر کیونکر آپ اس گناہ کوکرنے سے گھبرائینگے ؟۔ ماں باپ گھریلومجبوریوں اور مسلسل تنگدستی کے باعث روٹی کے حصول کے لیے دربدر پھریں یا پھر اپنے بچوں کو نفسانی بھیڑیوں سے بچاتے پھریں ؟۔ مسلسل بے روزگاری اور غربت نے اس ملک کے بڑے بوڑھوں کے اندر مقصدیت کو ختم کردیا ہے آج انسانوں کے اندر جینے اور کچھ کردکھانے کا جذبہ دم توڑ چکاہے جو آدمی سمجھتا ہے کہ اس کی اس زندگی میں کوئی عزت نہیں ہے اور یہ کہ ظالم سماج میں روٹی کے حصول کے لیے جب تک آپ درندے نہیں بن جاتے نہ تو آپ کو معاشرہ عزت دیگا اور نہ ہی روٹی دیگا۔معاشرہ دیکھ رہاہے کہ کچھ مٹھی بھر لوگ بھتہ نہ دینے پر ایک فیکٹری میں اڈھائی سو سے زیادہ لوگوں کو بند کرکے آگ لگادیتے ہیں، معاشرہ دیکھ رہاہے کہ ان دہشت گرد عناصر کی شناخت بھی ہوچکی ہے پھر معاشرہ یہ بھی دیکھ رہاہے کہ اس ملک کا قانون ان عناصر کو گرفتار کرنے کی بجائے ان کو تحفظ فراہم کررہاہے ان کی پریس کانفرنسوں اور ان کے بیرون ملک واپسی پر ائیر پورٹ سے لیکر ان کے عیاش خانوں تک ان کو سیکورٹی کی بھاری نفری فراہم کی جاتی ہے۔ ایسے میں معاشرے میں یہ ہی میسیج جاتاہے کہ اس ملک میں جتنے بڑے جرائم آپ کرینگے اتنی ہی آپ کی عزت بڑھے گی ۔معاشرہ ان تمام چیزوں سے اپنے ذہنوں کو سخت کربیٹھا ہے لوگ چھوٹے بڑے جرائم کرنے سے نہیں گھبراتے ،یہاں بات تو کچھ معاشرے کے دھتکارے ہوئے لوگوں کی ہے مگر آپ میرے ساتھ اندرون سندھ کے دورے پر چلیں جہاں اربوں پتی وڈیرے اس طرح کے گھناﺅنے معاملات کرگزرتے ہیں جنھیں کوئی روکنے اور پوچھنے والا اس لیے نہیں ہوتا کہ مقامی پولیس کا ایس ایس پی اور ایس ایچ او اسی وڈیرے کا سفارشی ہوتا ہے اور اسمبلی میں بیٹھے لوگ سب جانتے ہوئے ایسے عناصر کو اس لیے نہیں پکڑتے کیونکہ یہ ہی وڈیرے ان کی انتخابی جیت کے علمبردار ہوتے ہیں۔ ایک طرف تو ہم اصولوں کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں دوسری جانب اس قسم کے واقعات پر وقتی آنسوﺅں کا سہارا لیکر وقت ہی ٹال دیا جاتاہے مگراس کا سدباب پھر بھی نہیں کرپاتے۔ کل تک لوگ کہتے تھے کہ سانحہ اے پی ایس ہی اس ملک کا سب سے بڑا سانحہ تھا جس میں معصوم بچوں کو بے دردی سے قتل کردیا گیا آج آپ کہتے ہیں کہ قصور کی زینب کے ساتھ زیادتی کا واقعہ ہی اس ملک کا سب سے بڑ سانحہ ہے ،کل تک آپ کہتے تھے سانحہ بلدیہ ٹاﺅن نے ملکی تاریخ کو ہی شرمندہ کردیا، آج آپ کہتے ہیں کہ معصوم زینب کے ساتھ ہونے والے واقعہ آپ نے کبھی نہیں دیکھا،کل تک آپ کہتے تھے کہ گزشتہ برس ملیر میں ایک معصوم بچی سویراجس کو زیادتی کا نشانہ بناکر اس کا گلہ کاٹا گیا یہ واقعہ اس ملک کی تاریخ کا بدنما داغ ہے مگر آج آپ کہتے ہیں کہ قصور کی زینب نے ہر آنکھ اشکبار کردی ہے،میرے پاس ایسے سانحات کی ایک طویل فہرست موجود ہے جن کے مجرمان پکڑے بھی گئے مگر انہیں سزائیں نہ ہوسکیں یا جن کے مجرمان کا معلوم تو ہے مگر وہ اس قدر مظبوط ہیں کہ اس ملک کا قانون ان پر ہاتھ ہی نہیں ڈالتا۔ خدا کی قسم اندرون سندھ اور پنجاب کے دہی علاقوں میں روزانہ درجنوں ایسے واقعات ہوجاتے جن کا ہمیں معلوم ہی نہیں ہوپاتایا جن تک میڈیا پہنچ ہی نہیں پاتی ۔ جن کو کرگزرنے کے بعدظالم سماج ان معصوموں کو یا تو کھیتوں میں پھینک دیتے ہیں یاپھر بھوکے کتوں کے آگے ڈال دیتے ہیں ۔ ابھی اس تحریر کو رقم کرنے سے کچھ دیر قبل ہی میں کراچی کے علاقے ملیر ابراہیم حیدری کے ایک اسکول سے ایک ایسے درندہ صفت شخص کو پولیس کے حوالے کرکے آرہاہوں، اس واقعے میں اسکول کے ایک عملے نے ایک چوکیدار کو چارسالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی کوشش پررنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا ایک سماجی رہنما کی حیثیت سے میں خود موقع پر وہاں پہنچااور اس ملزم کو پکڑ کر تھانے تک چھوڑ کر آیا،جبکہ یہاں اس ہی علاقے میں تقریباً پندرہ روز میں ایک درجن واقعات سامنے آچکے ہیں۔مگر بات پھر وہیں پر آکر رک گئی ہے کہ اس معاشرے میں پلنے والے یہ ناسور یہ سمجھ کر اس طرح کے واقعات کرگزرتے ہیں کہ ان کے دلوں میں سزاﺅں کا خوف نہیں اور اس کے ساتھ ان کی زندگیوں میں سے مقصدیت کا خاتمہ انہیں وحشی درندے بنا تا جارہاہے جس میں انہیں نہ تو اپنی عزت کا خیال رہاہے اور نہ ہی کسی اور کی عزت کا پاس رہاہے ۔ ان تمام باتوں میں ریاست کس قدر ملوث ہوتی ہے اس کے لیے چند ایک باتیں درج کرتا چلوں قصور کا علاقہ مسلم لیگ نواز کا گڑھ ہے یعنی مقامی حکومت ہی ان لوگوں پر مشتمل ہے لیکن ان میں سے کوئی شک اس سانحے کے عین موقع پر نہ پہنچ سکا، جب یہاں کے منتخب نمائندوں نے دیکھا کہ میڈیا نے بہت زیادہ اس واقعہ کو کوریج دینا شروع کردی ہے اور عوامی رد عمل بھی سامنے آرہا ہے تو سبھی منتخب نمائندے مگر مچھ کے آنسو بہانے اور جھوٹی تسلیاں دینے جاپہنچے ۔پھر میڈیا کو ٹھنڈا اور عوام کو وقتی تسلیاں دینے کا عمل شروع کردیا جاتاہے ۔یعنی ۔ کسی افسر کو ٹرانسفر کردو !۔ وزیراعلیٰ نے نوٹس لیے لیا، “نیوز چینلوں کی بریکنگ ” یاپھر وزیراعلیٰ سندھ نے فلاں فلاںپر مشتمل لوگوں پر کمیٹی بنادی جس کی نگرانی بھی موصوف وزیراعلیٰ خود کرینگے یہ وہ آخری مصرعہ ہے جو زیادتی کے شکار لوگوں پر کسی احسان عظیم سے کم نہیں ہوتا میں یقین سے کہتا ہوں کہ اس طرح کے واقعات ان ظالم حکمرانوں کے اپنے بچوں کے ساتھ رونما ہو تونہ تو نوٹس لیا جائے نہ ہی کمیٹی قائم ہو اور نہ نگرانی کا عمل ہو بلکہ پانچ منٹ کے اندراندر مجرم سامنے کھڑا ملے گا۔ کیونکہ ان نوٹسز لینے والے ڈرامے کا کبھی کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا ہے یہ سب مٹی پاﺅ کی سیاست ہے ،کیونکہ مسئلہ اپنی جگہ قائم ہی رہتا ہے اور پھر کیا ہوتا ہے ایسا ہی کوئی نیا سانحہ یا گھناﺅنا جرم پھر سے رونماہوجاتاہے جس پر یہ تمام حکومتی ادارے نئی ذمہ داریاں سرانجام دینے کے لیے کمر کس لیتے ہیں کیونکہ پھر سے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ضرورت جو پیش آجاتی ہے ۔ ا س سارے واقعات میں سارا قصور حکمرانوں کا بھی نہیں ہوتاکچھ کام ہمارے کرنے کے بھی ہوتے ہیں ایسے سانحات میں سارا ملبہ حکمرانوں اور پولیس پر ڈالنا بھی درست نہیں ہے کیونکہ جس قدر ایسے المناک سانحات میں حکومتیں ذمہ دار ہوتی ہیں اس میں کچھ نہ کچھ قصور معاشرے کی بے حسی کا ضرور کارفرما ہوتاہے ۔یقینا علما ءکرام اور اساتذہ کرام کا ایسے سانحات کی روک تھا م میں بہت اہم کردار ہوتاہے ، اس ملک کے ایک بہت مقبول مفتی صاحب جن کا نام لکھنا میں ضروری نہیں سمجھتاان کے ایک حالیہ آرٹیکل پر نظر پڑی جن کی چند سطروں کا ذکر کرتا چلوں جس میں موصوف مفتی صاحب نے فرمایا کہ لوگوں کے دلوں میں آخرت کا خوف پیدا کیا جائے ۔ معذرت کے ساتھ مفتی صاحب اس میں کوئی شک نہیں ہے دلوں میں اللہ اورآخرت کا خوف ہونا چاہیے مگر یہ بھی مکمل مسئلے کا حل نہیں ہے کہ بے روزگار اور افلاس کے مارے انسانوں کو صرف اور صرف اللہ اور جہنم سے ڈراﺅ کچھ اللہ اور آخرت کا خوف ان حکمرانوں کو بھی ہونا چاہیے جن کو عوام سے زیادہ اقتدار اور اس ملک کے وسائل پر قبضے کی فکر ہے۔مفتی صاحب اس معاشرے کا بندہ یہ کہتا ہے کہ جب اللہ ڈرائے گا تب دیکھا جائے گا پہلے روٹی تو گھر میں آجائے ©” یعنی زندگی میں مقصدیت ختم ہونے سے اچھے برے کاموں کی تمیز ہی ختم ہوجاتی ہے ،اللہ کا خوف تو کسے نہیں ہے مگر اس کے ساتھ انسانوں کے معاشرتی رویوں کو درست کرنے اور معاشرے میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا بھی تو کسی کا فرض بنتا ہے یقینا ان انسانوں پر مسلط حکمرانوں کایہ فرض ہوتاہے۔
( کالم نگارسابق صوبائی وزیر ریلیف وکھیل سندھ ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved