تازہ تر ین

متحرک طاہرالقادری!

عبدالقدوس منہاس \قلم قتلے
ثناءاللہ زہری کی قربانی دے کر ن لیگ نے بلوچستان حکومت وقتی طور پر بچا لی لیکن حالات میں جس تیزی سے تبدیلی وقوع پذیر ہو رہی ہے اسے دیکھ کر نہیں لگتا کہ آئندہ الیکشن کے بعد ن لیگ بلوچستان میں حکومت بنا پائے گی؟ بلوچستان حکومت تو کسی نہ کسی طور بچ گئی لیکن مرکز اور پنجاب میں اٹھنے والے طوفان کو روک پانے میں کامیاب ہو پائے گی؟ اگرچہ اس بارے میں فی الحال کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا مگر پنجاب میں بھی 62ارکان علم بغاوت بلند کرنے والے ہیں۔ ایک خبر کے مطابق اب ان ارکان کی تعداد 55رہ گئی ہے‘ لیکن دوسری طرف پیر حمیدالدین سیالوی کی زیرقیادت جو طوفان اٹھ رہا ہے اس کی لہریں اگرچہ ابھی دبی ہوئی ہیں لیکن الیکشن کے نزدیک جا کر یہ لہریں قابو سے باہر ہوجائیں گی جس کا ایک ثبوت چکوال کے ضمنی الیکشن میں تحریک لبیک کے امیدوار کا 17ہزار سے زائد ووٹ حاصل کرنا ہے۔
راقم نے چند ماہ قبل اپنے ہی ایک کالم میں نشاندہی کی تھی کہ بریلوی مکتبہ فکر کی قیادت علماءکے ہاتھ سے نکل کر مشائخ کے ہاتھ میں جاتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک تو بریلوی مکتبہ فکر میں کوئی ایسی بلند پایہ شخصیت سیاست میں دکھائی نہیں دیتی جس پر تمام گروپ اتفاق کر سکیں۔ علامہ شاہ احمد نورانی‘ مولانا عبدالستار خان نیازی جیسی شخصیات سے بریلوی مسلک کا سیاسی ونگ خالی ہے‘ لہٰذا اولیاءکے وارث اور گدی نشینوں کو اب قیادت کے خلاءکو پر کرنے کیلئے آگے آنا پڑے گا اور پیر حمیدالدین سیالوی اس مقصد کیلئے کامیابی سے قدم بقدم آگے بڑھ رہے ہیں‘ جس کے بعد پنجاب میں ون پارٹی شو ختم ہو جائے گا اور اگر پیر حمیدالدین سیالوی‘ علامہ خادم حسین رضوی اور پیر اشرف جلالی میں اتحاد ہو جاتا ہے اور بریلوی مسلک سے وابستہ چھوٹے بڑے سیاسی گروپوں کی بھی اس اتحاد کو حمایت مل جاتی ہے تو پنجاب کی سیاست میں بڑی تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر ڈاکٹر طاہرالقادری کی عوامی تحریک‘ جمعیت العلماءپاکستان کے تمام دھڑوں اور جماعت اہلسنت اگر اس پلیٹ فارم سے وابستہ ہو جاتی ہیں تو پھر پنجاب کا نقشہ ہی مختلف ہو گا۔ اس ساری صورتحال میں طاہرالقادری کومرکزی حیثیت حاصل ہے کیونکہ اپوزیشن کی تمام بڑی جماعتوں نے ان کے ساتھ بیٹھنے کااعلان کررکھاہے اگر طاہر القادری کوئی بڑا سیاسی کارنامہ سرانجام دے پاتے ہیں تو سیاسی طورپر انہیں بہت فائدہ ہوگالیکن فی الحال کوئی واضح صورت حال سامنے نہیں آپارہی اگرچہ طاہرالقادری لاہورمیں متحرک ہیں وہ پریس کانفرنس پرپریس کانفرنس کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن اس کاابھی کوئی بڑا سیاسی اثر نہیں بن پارہا۔
ادھر مرکز میں بھی اندرون خانہ بغاوت جنم لے رہی ہے۔ مگر یہ باغیانہ لہروں میں تلاطم نہیں آیا تاہم واقفان حال کا دعویٰ ہے کہ پنجاب سے پہلے مرکز میں ایک مضبوط گروپ بغاوت کی روش اختیار کرے گا۔ اس حوالے سے ہوم ورک تقریباً مکمل ہے۔ اس گروہ کو احتساب عدالتوں سے شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز اور اعلیٰ عدلیہ میں زیر سماعت مقدمات کے فیصلوں کا انتظار ہے۔ اگر فیصلے مخالفت میں آئے تو یہ گروپ فوری اپنے راستے شریف برادران سے الگ کرلے گا اور ناراض لیگی رہنماﺅں سے مل کر آئندہ الیکشن میں حصہ لے گا۔
نواز شریف کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی دانیال عزیز، طلال چودھری، آصف کرمانی، مشاہد اللہ خان والی روش اپناتے ہوئے عدالتی فیصلوں کو ہدف تنقید بنانا شروع کر دیا ہے۔ اس ساری پریکٹس سے محسوس ہوتا ہے کہ لیگی قیادت چاہتی ہے اعلیٰ عدلیہ توہین عدالت کے تحت ایکشن لے اور ان کو سیاسی شہید بننے کا موقع ملے۔ ورنہ آئندہ الیکشن میں (ن) لیگ کا دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ممکن نہیں اور اس وقت نواز شریف کی سب سے بڑی خواہش دوتہائی اکثریت والی حکومت بنانا ہے تاکہ توہین عدالت بارے آئینی شقوں اور 62/63 کی آئینی دفعات میں ترمیم کرکے اپنی حکومت میں واپسی کی راہ ہموار کرسکیں۔
قصور میں ننھی معصوم کلی کے مسلے جانے کے واقعہ نے قوم کے ہر صاحب اولاد اور درد دل رکھنے والے فرد کو رنجیدہ و ملول کردیا ہے۔ معصوم کلی جسے ابھی پھول بننا تھا ایک درندے کی درندگی کاشکار ہوگئی یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ تواتر سے ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں مگر اپنی روایتی نااہلی کے باعث پولیس کسی واقعہ کے مجرموں کو گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں نہ لاپائی جس کی وجہ سے ایسے واقعات میں اضافہ ہوا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے حسی تو اپنی جگہ ہے مگر اس معاشرتی پستی اور اخلاقی گراوٹ کی ایک وجہ ہم بحیثیت قوم بھی ہیں۔ آج ہر پاکستانی اپنے بچوں کو اعلیٰ دنیاوی تعلیم دلانے پر اپنے وسائل سے بڑھ کر خرچ کرتا ہے مگر اولاد کی اخلاقی تربیت پر کسی کی توجہ نہیں، والدین کی کوتاہی تو اپنی جگہ اساتذہ بھی اپنے شاگردوں کی اخلاقیات بہتر بنانے کی کوشش نہیں کرتے۔ اساتذہ کی غفلت تسلیم مگر وہ علماءجو علم نبوت کے وارث ہونے کے دعویدار ہیں وہ بھی بچوں کو قرآن و حدیث کی تعلیم دینے اور اپنے ملک کے مطابق لوگوں کے ذہن تیار کرنے تک خود کو محدود کرچکے ہیں مگر اپنے متوسلین کی اخلاقی تربیت پر رتی برابر توجہ نہیں دیتے۔ ایسے میں بھارتی، انگلش فلموں کی یلغار اور انٹرنیٹ پر پھیلائی جانے والی فحاشی، جرائم کے طریقہ کار سے نوجوان نسل کا اخلاق و کردار مسخ ہو چکا ہے اور بدقسمتی سے ایسا کوئی ادارہ موجود نہیں جو نوجوانوں کی اخلاقی تربیت کر سکے۔ حکومت کو فوری طور پر اس حوالے سے تعلیمی اداروں اور دینی مدارس کے نصاب میں خصوصی مضامین شامل کرنے ہونگے، ورنہ اس معاشرے کا اللہ ہی حافظ ہے۔
(کالم نگارسیاسی وسماجی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved