تازہ تر ین

بروقت عدل اورمتوازن معاشرہ

مرزا اسلم بیگ….خصوصی مضمون
عدل رحمت بھی ہے اور زحمت بھی‘ بروقت عدل کی فراہمی معاشرتی نظام کو متوازن رکھنے میں مدد دیتی ہے جبکہ انصاف کی فراہمی میں غفلت اور رکاوٹیں نظام کوتباہ و برباد کر دیتی ہیں جس سے انتظامی و سلامتی کے معاملات کوخطرات لاحق ہو جاتے ہیں اور آج کچھ ایسے ہی خطرات کا پاکستان کو سامناہے۔سپریم کورٹ میں اس وقت اڑتیس ہزار (38000)سے زائد مقدمات زیر التو اہیں جبکہ نچلی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد لاکھوں میں ہے جو کئی سالوں سے زیر التوا ہیں جس سے عوام کو انصاف کی فراہمی میں رکاوٹوں کا سامنا ہے اور انہیں اس صورت حال سے نکلنے کا کوئی حل بھی نظر نہیں آتا۔ اسی وجہ سے جہاں کئی خطرناک مسائل نے جنم لیا ہے ’ وہاں سب سے اہم مسئلہ دہشت گردی کا ہے جس نے عوام کا امن و سکون چھین لیا ہے اورآئے دن قوم دہشت گردی کے عذاب کی ایک نئی اذیت سے گذرتی ہے۔عدل و انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ کی وجہ سے دہشت گردی ہماری روزمرہ زندگی کا جزو بن چکی ہے۔ انتظامی و نظام عدل کی خامیاں’ دہشت گردی کا سب سے اہم سبب ہیں۔اس امر کی تاریخی اعتبار سے تشریح اس طرح ہے کہ1969ءمیں سوات اور دیر کی ریاستوں کے قوانین کو پاکستانی قوانین سے بدل دیا گیا تھا۔وہاں کے عوام نے دو دہائیوں تک عدل و انصاف کی فراہمی میں رکاوٹوں سے تنگ آکر ہمارے قانون کو مسترد کر تے ہوئے ریاست کے پہلے قوانین کی بحالی کا مطالبہ کر دیا۔ان کے مطالبات مظاہروں میں تبدیل ہوگئے اور 1990ء میں پر تشدد راہ اختیار کر لی۔ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے1994 میں ان کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے دونوں ریاستوں کیلئے شرعی قوانین پر مبنی عدالتوں کے قیام کی منظوری دے دی۔یہ عمل سست روی سے چلتا رہا اور بالآخر مشرف نے اسے مکمل طور پر بند کردیا اور اس تحریک کو عسکری قوت سے کچلنے کا فیصلہ کیا۔صوفی محمد اور ان کے داماد فضل اللہ کی زیرقیادت اس تحریک کا دائرہ باجوڑ اور خیبر ایجنسیوں کے ملحقہ علاقوں تک پھیل گیا۔فوج نے بھرپورکارروائی شروع کی جس سے باغی عناصر کو افغانستان میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا جہاں فضل اللہ نے اپنی سربراہی میں باغیوں پر مشتمل اپنا ایک گروپ بنا لیا جہاں سے وہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
مشرف نے جلتی پر تیل ڈالتے ہوئے2005ء میں وزیرستان پر فوج کشی کی اور2007ء میں جامعہ حفصہ کی احتجاجی بچیوں کو کمانڈو آپریشن کے ذریعے کچل دیا جس سے باغی عناصر دور دراز کے علاقوں میں پھیل گئے۔یہ امر تحریک طالبان پاکستان کے قیام کا سبب بنا جنہوں نے افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحدوں اور پاکستان کے اندرسے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کاروائیوں کا آغاز کر دیااور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔اسی دوران دہشت گردوں نے فاٹا کے علاقوں میں اپنی پناہ گاہیں قائم کرلیں جنہیں فوج نے دہشت گردوں سے پاک تو کردیا ہے لیکن دہشت گردی کا جن ابھی تک قابو میں نہیں آرہا ہے۔ حکومت کی انتظامی خامیاں عدل و انصاف کے جبر کی ایک اور شکل میں ابھری ہیں کیونکہ حکومت نے فوجی قوت کے نشے میں مختلف تنظیموں کو گفت و شنیدسے قومی دھارے میں واپس لانے کی بجائے ان پر پابندیاں لگا کر انہیں کالعدم قرار دے دیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج دو درجن سے زائد کالعدم تنظیمیں ملک کے طول و عرض میں ہماری سکیورٹی قوت کی زد میں ہیں۔
کیا یہی کافی نہ تھا کہ اب حکومت فاٹا میں دہشت گردی کاایک اور مرکز بنانے میں لگی ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ فاٹا کو صوبہ پختون خواہ میں شامل کر کے پاکستانی آئین کے تابع کر دیا جائے۔اس فیصلے کی مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی سیاسی طور پر مخالفت کر رہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ کامیاب نہیں ہوں گے اور فاٹا کو پختون خواہ میں ضم کر دیا جائے گا۔مجھے یقین ہے کہ سوات اور دیر کی طرح فاٹا کے عوام بھی اس فیصلے کو مسترد کر دیں گے۔ ان کی ثقافت ” علاقہ غیر“ کی ثقافت ہے جو پاکستانی ثقافت سے یکسر مختلف ہے۔انہیں اپنی ثقافت کو پروان چڑھانے کیلئے الگ صوبے کی صورت میں آزاد ماحول چاہیے اور پاکستان کو چاہیے کہ اس سلسلے میں انہیں تمام سہولیات فراہم کرے کیونکہ مستحکم جمہوری نظام کی خاطرپاکستان کو سیاسی توازن قائم رکھنے کیلئے ملک میں نئے صوبے قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
حکومت پاکستان اور اعلی عدلیہ کو شدت سے احساس ہے کہ عدل و انصاف کی جلد فراہمی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے پرانے نظام میں اصلاحات لائی جائیں۔آئینی ماہرین کیلئے یہ کڑی آزمائش ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو پالیسی مرتب کرنے کیلئے مدد فراہم کریں۔حکومت وقت کیلئے لازم ہے کہ 2018ءمیں منعقد ہونے والے انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے انتہائی محتاط طریقے سے عدالتی اصلاحات کا عمل مکمل کرے تاکہ عدل و انصاف کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
عدل و انصاف کی فراہمی کے سلسلے میں عوام کو جو مشکلات درپیش ہیں ان کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔کمزور عوام جو ریاستی کمزوریوں کے پیچھے چھپنے کے فن سے ناآشنا ہیں ان کا دم گھٹ رہا ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ بقول شاہین صہبائی “غم و غصے سے بھری ہوئی قوم ہر وقت پھٹنے کو تیار ہے۔عوام کا مزاج اب ناراضگی سے بڑھ کر باغیانہ ہوتا جا رہا ہے۔” قصور میں زینب کے واقعہ پر عوام کا غم و غصہ؛ ریاستی قانون کے سائے میں پھیلتی ہوئی کرپشن کے خلاف چار سال سے جاری عوامی احتجاج اور دہشت گردی کی وجہ سے ہماری سرزمین سے امن و امان کے اٹھتے ہوئے جنازے کسی بڑھتے ہوئے طوفان کی خبر دے رہے ہیں۔اللہ ہم پر رحم کرے۔
(کالم نگارسابق چیف آف آرمی سٹاف ہیں )
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved