تازہ تر ین

شیخ مجیب کو محب وطن کہنے پر نواز شریف کے استاد ، دانشور ڈاکٹر صفدر محمود کا مضمون جراتمند انہ تحریر

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ضیا شاہد کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ زینب بچی کے والد صاحب! میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کراچی سے لے کر طورخم تک تمام والدین یہ سمجھتے ہیںکہ وہ آپ کی نہیں بلکہ ان کی بیٹی تھی اور اللہ پاک ہمارے حکمرانوں اور پولیس کے لوگوں کو توفیق عطا فرمائے۔ جو ملزم کو فوری طور پر گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچائیں۔ آپ نے جے آئی ٹی کو اس لئے مسترد کر دیا کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والا کوئی پولیس افسر جے آئی ٹی میں شامل نہیں ہونا چاہتے؟اب نام تبدیل کیا گیا ہے کیا آپ کو اس پر اعتماد ہے؟ قصور سانحہ پر میری کچھ بیورو کریٹس اور بیورو چیفس سے بات ہوئی ہے اس کے علاوہ شہریوں سے بھی بات ہوئی ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ نوازشریف نے بھی امین انصاری صاحب سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ زینب کے والد نے کہا ہے کہ نوازشریف ہمارے سابق وزیراعظم ہیں ضرور آئیں لیکن بہتر یہ ہے کہ اپنی طور طاقت اور کوشش قاتلوں کو گرفتار کرنے پر لگا دیں۔ وزارت اطلاعات پنجاب کے وزیر مجتبیٰ شجاع الرحمن ہیں۔ ان کے مشیر ملک احمد خان صاحب وکیل بھی ہیں۔ ان کا تعلق بھی قصور سے ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس کی ہے اس میں دعویٰ کیا ہے کہ قاتلوں کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ممکن ہے کل تک اسے پکڑ لیا جائے گا مظاہرین ڈی سی کے دفر کے اردگرد آئے تھے۔ مظاہرین پر گولی چلانے کا کس نے حکم دیا۔ آدھا قصور جانتا ہے کہ گولی چلانے والا کون تھا۔ میں نے ڈی سی او قصور محترمہ سائرہ خاتون نے یا تو گولی چلانے کا حکم دیا یا ان پولیس افسران نے جو موقع پر موجود تھے۔ پولیس ملازم میں محمد راشد سربراہی کر رہے تھے۔ اس میں محمد شفیق، انتظار علی اور عابد شامل تھے۔ ان چاروں کے نام اگر شہری جانتے ہیں تو کیا قصور کی پولیس اندھی، کانی، لولی لنگڑی ہے جسے سنائی نہیں دیتا۔ سب جانتے ہیں ڈی سی او کی سکیورٹی کیلئے یہ چار لوگ وہاں موجود تھے۔ جنہوں نے گولیاں چلائیں، بقول ان کے مجمع ان کی طرف بڑھ رہا تھا۔ وزیراعلیٰ صاحب سے ہم نے کل بھی درخواست کی تھی کہ مظاہرین کے مجمع کو کنٹرول کرنے کے لئے پہلے آنسو گیس پھینکی جاتی ہے ہے۔ اس کے بعد واٹر گن استعمال کی جاتتی ہے۔ تیسری چیز ربڑ کی گولیاں ہوتی ہیں۔ جس سے مظاہرین کو منتشر کیا جاتا ہے چوتھی چیز یہ ہے کہ اگر خوانخواستہ گولی مارنے کی ضرورت پیش آ جائے تو پیروں میں گولیاں ماری جاتی ہیں۔ جس سے انسان زخمی تو ہوتا ہے مرتا نہیں۔ لیکن ماڈل ٹاﺅن اور قصور سانحہ میں سیدھی گولیاں سینوں پر فائر کی گئیں۔ آئی جی صاحب اس کا جواب تو دیں کہ سکیورٹی والوں کے فوراً ہی گولیا چلا دیں اور ایک دوسرے کو کہہ رہا ہے کہ اوپر چلاﺅ۔ ان کی آواز بھی پہچانی جا سکتی ہے ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف کاٹی گئی۔ کوئی تو ہو گا جس نے انہیں گولی چلانے کا آرڈر دیا ہو گا۔ یا تو ڈی سی او محترمہ نے آرڈر دیا ہو گا جو فوراً دفتر چھوڑ کر اپنی رہائش گاہ میں چلی گئی تتھیں۔ ڈی سی او صاحب جنہیں تبدیل کیا گیا ان کا بیان ہے کہ میں نے فائر کھولنے کا آرڈر نہیں دیا تھا۔ جب سارے حقائق سامنے ہیں تو انتظامیہ والے اصلی شخص کا نام کیوں نہیں بتاتے جس نے یہ آرڈر دیا تھا۔ شہباز شریف صاحب صبح سویرے ان کے گھر گئے ھے۔ اور اچھے منتظم گنے جاتے ہیں۔ برائے کرم اے پی سی، کرائم سے پہلے ذمہ داران کا پتا تو کریں۔ بچی اور اس کے قاتلوں کا معاملہ الگ ہے۔ میں سمجھتا ہو ںکہ صوبے کا وزیر قانون کوئی ہے ہی نہیں۔ چار دنوں تک بچی غائب رہی۔ پولیس اس وقت اس شخص کو تلاش کر لیتی۔ آج کے اخبار کے رنگین صفحے پر ایس ایچ او کا بیان چھپا ہوا ہے۔ جو بچی کے رشتہ داروں کو کہہ رہا ہے کہ اس پولیس والے کو دس ہزار انعام دو۔ اس نے لاش برآمد کر لی ہے۔ ایس ایچ او صاحب خدا کا خوف کرو۔ خدا کرے کہ آپ کے بچوں کو گولیوں سے بھون دیا جائے۔ پھر تم بچے کی لاش لانے والے کو دس ہزار انعام دینا۔ آئی جی صاحب آپ تقریریں تو بہت کرتے ہیں۔ جو آپ کے پولیس والوں کی ایسی تربیت کی ہے۔ کوئی خدا کا خوف کریں۔ میرا نمائندہ بتاتا ہے کہ واقعہ کے بعد ڈی سی او سائرہ صاحبہ غائب رہیں۔ آج وہ پہلے دن دفتر آئی ہیں۔ انہوں نے میڈیا سے بات تک کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ کس قسم کے افسران ہیں۔ جو پبلک سرونٹ ہیں۔ لیکن پبلک کو جواب نہیں دیتیں۔ خادم اعلیٰ صاحب ان افسران کو بھی خادم اعلیٰ بنائیں۔ پاکستان کے آرمی چیف نے جس انداز میں امریکی جبرئیل سے بات کی ہے۔ پھر سینئر سے بات کی ہے۔ اس سے پاکستانی قوم میں حوصلہ پیدا ہوا ہے۔ وزیراعظم اور وزیرخارجہ نے تو کوئی ری ایکشن نہیں دکھایا۔ آرمی چیف صاحب کردار دینی چاہئے جو کہتے ہیں کہ ہم کوئی غیر جمہوری کام نہیں کریں گے اور خارجی معاملات پر بھی ڈٹ کر جواب دے رہی ہیں۔ یہ خوش آئند ہے کہ سب سے فورس فل جوابات آرمی چیف کی جانب سے آ رہے ہیں انہوں نے بڑی ہمت سے امریکی جرنیلوں کا جواب دیا ہے۔ ٹرمپ ایک پاگل شخص ہے اس کا دور بھی گزر جائے گا۔ امریکہ میں اصل حکومت تھینک ٹین کی ہوتی ہے۔ وہاں کی یونیورسٹیاں بہت مضبوط ہیں۔ ان کی پالیسی بہت مضبوط پالیسی ہووتی ہے۔ لیکن وہ اس طرح کی دھمکیاں نہیں دیتیں۔ آج امریکی جرنیل نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے اندر کسی قسم کی مداخلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ امریکی جرنیل اورسنیٹر کے متوازن جوابات ہیں۔ یہ صورتحال کو بہتری کی طرف لے جانے والے بیانات ہیں۔ ٹرمپ کے بارے چھپا کہ اس کا معائنہ ہونے جا رہا ہے لیکن فوری اس کے ترجمان کا بیان آیا کہ اس معائنے میں دماغی معائنہ شامل نہیں ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ افغانستان میں جہاں طالبان کی اب بھی 30 فیصد حکومت قائم ہے۔ اس نے بھی اتنی قربانیاں نہیں دیں۔ پاکستان کے 70 ہزار افراد کی جانور کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ امریکی پاگل صدر کے سامنے ہم سر کو نہیں جھکا سکے۔ ملکوں کے درمیان ایک خاص قسم کا ”ڈکیورم“ ہوتا ہے حکومتیں جیسی بھی ہوں ان کے رہنماﺅں کی زبان مہذب ہوا کرتی ہے۔ مجھے کل سے بہت فون اور ای میل آئے ہیں کہ میاں نوازشریف کو مجیب الرحمن کے بارے ایسا بیان نہیں دینا چاہئے تھا۔ ڈاکٹر صفدر محمود کا کالم جنگ اخبار میں لکھا ہے۔ انہوں نے ”مائی ڈیر نواز شریف“ کے عنوان سے کالم میں لکھا ہے کہ جناب اس سے زیادہ زیادتی اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ مسلم لیگ کا صدر ہو اور وہ مجیب الرحمن کو محب وطن قرار دے۔ جس کی بیٹی نے جماعت اسلامی کے7 رہنمائں کو پھانسی دے چکی ہے اور مزید انتظار میں ہے۔ ڈاکٹر صفدر نے نواز شریف کے بارے لکھا ہے کہ آپ شاید انڈین لابی میں گھر گئے ہیں جس سے لگتا ہے کہ دو قومی نطریئے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کے ایک موجودہ رکن، جس کا تعلق بھی مسلم لیگ (ن) سے ہی ہے۔ اس کا نام عاشق گوپانگ ہے جس کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔ والد زینب، امین انصاری نے کہا ہے کہ ابھی کچھ دیر قبل آر پی او ملتان مجھ سے ملاقات کر کے گئے ہیں، انہوں نے مجھے اعتماد میں لیا ہے اور ہمارے لڑکوں سے بھی بات چیت کی ہے۔ انہوں نے مجھے یقین دلایا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اور زینب آپ کی نہیں ہماری بھی بیٹی ہے۔ آپ توقع رکھیں ہم پورے اخلاص کے ساتھ تفتیش کر رہے ہیں اور جلد اس کا رزلٹ دیں گے۔ دفاعی تجزیہ کار جنرل (ر) راحت لطیف نے کہا ہے کہ نوازشریف صاحب کا اصل روپ اب سامنے آیا ہے۔ میں مجیب الرحمن کو خود بھی ملا ہوا ہوں۔ اس دن جب انہیں پیرول پر والدہ سے ملنے کیلئے لایا گیا۔ نوازشریف کو اپنا دماغی معائنہ کروانا چاہئے۔ میں اس وقت آرمی میں تھا جب مجیب الرحمن سے ملا۔ انہوں نے اپنے چھ نکات دیئے تھے۔ شاید نواز شریف بھی ان کی طرح کہتے ہیں کہ میرے سینے میں بہت سارے راز دفن ہیں۔ مجھے مجبور نہ کیا جائے کہ انہیں بیان کر دوں نواز شریف تین مرتبہ اقتدار میں آئے۔ لیکن اقتدار چھیننے کے بعد شاید وہ صدمے میں ہیں۔ نوازشریف کے بیان پر جوڈیشری کو ”سوموٹو“ ایکشن لینا چاہئے۔ ضرور نوازشریف سے پوچھنا چاہئے کہ انہوں نے ایسی بات کیوں کی۔ جس بندے کا دماغ درست نہ ہو۔ وہ بہکی بہکی باتیں کیا کرتا ہے میں نے ایک مسلم لیگی سے بات کی اس نے جواب دیا کہ میاں صاحب کا کچھ اور مطلب تھا۔ حکومت نے ابھی بھی انہیں سرکاری پروٹوکول دے رکھا ہے۔ انہیں دوبارہ پارٹی کا صدر چن لیا ہے۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved