تازہ تر ین

پاکستان کے اندر کاروائی کا سوچ نہیں سکتے

راولپنڈی (آئی این پی) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان کئی دہائیوں سے امریکہ کے ساتھ تعاون کررہا ہے، تعاون کے باوجود حالیہ امریکی بیانات پر پاکستانی قوم بدلی ہوئی ہے، متفقہ قومی ردعمل میں انہی جذبات کا اظہار کیا گیا، پاکستان انسداد دہشت گردی کےلئے مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا، امریکہ سے تعاون قومی مفاد میں مالی تعاون کے بغیر بھی جاری رہے گا، دہشت گردی کے منطقی انجام تک دیگر فریقوں سے مل کر کام کرنے کےلئے پرعزم ہیں، خطے میں طاقت کےلئے مقابلہ بازی سے پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا، پاکستان میں افغان باشندوں کی سرگرمیوں پر امریکی تشویش سے آگاہ ہیں، آپریشن ردالفساد کے تحت پہلے بھی متعدد اقدامات کر رہے ہیں، ردالفساد کے تحت دہشت گردوں کے خلاف رنگ و نسل سے بالاتر کارروائی کر رہے ہیں، بلاامتیاز کارروائی کےلئے افغان مہاجرین کی واپسی ناگزیر ہے، پاکستان یکطرفہ طور پر سرحدی نظم و نسق مستحکم بنارہا ہے، دوطرفہ سرحدی نظام کا استحقام کا بل کی بھی ترجیح ہونی چاہیے۔ جمعہ کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے کمانڈر امریکی سینٹرل کمانڈ نے ٹیلیفونک رابطہ کیا، ایک امریکی سینیٹر نے بھی آرمی چیف کو ٹیلیفون کیا، آرمی چیف سے کمانڈر امریکی سینٹ کام اور سینیٹر نے رابطہ کیا۔ آرمی چیف کو سیکیورٹی امداد سے متعلق امریکی فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔ جنرل جوزف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کدار کو سراہتے ہیں، جنرل جوزی نے کولیشن سپورٹ فنڈ سے متعلق امریکی فیصلے سے بھی آگاہ کیا، سینٹ کام کے کمانڈر نے سیکیورٹی امداد سے متعلق امریکی فیصلے سے آگاہ کیا،جنرل جوزف نے کہا کہ موجودہ صورتحال عارضی مرحلہ ہے، افغانستان کے خلاف پاکستان سرزمین استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کےلئے تعاون چاہتے ہیں، امریکہ پاکستان میں یکطرفہ کارروائی کرنے پر غور نہیں کررہا۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے امریکہ کے ساتھ تعاون کررہا ہے، تعاون کے باوجود حالیہ امریکی بیانات پر پاکستانی قوم بدلی ہوئی ہے، متفقہ قومی ردعمل میں انہی جذبات کا اظہار کیا گیا، پاکستان انسداد دہشت گردی کےلئے مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا، امریکہ سے تعاون قومی مفاد میں مالی تعاون کے بغیر بھی جاری رہے گا، دہشت گردی کے منطقی انجام تک دیگر فریقوں سے مل کر کام کرنے کےلئے پرعزم ہیں، خطے میں طاقت کےلئے مقابلہ بازی سے پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا، پاکستان میں افغان باشندوں کی سرگرمیوں پر امریکی تشویش سے آگاہ ہیں، آپریشن ردالفساد کے تحت پہلے بھی متعدد اقدامات کر رہے ہیں، ردالفساد کے تحت دہشت گردوں کے خلاف رنگ و نسل سے بالاتر کارروائی کر رہے ہیں، بلاامتیاز کارروائی کےلئے افغان مہاجرین کی واپسی ناگزیر ہے، پاکستان یکطرفہ طور پر سرحدی نظم و نسق مستحکم بنارہا ہے، دوطرفہ سرحدی نظام کا استحقام کا بل کی بھی ترجیح ہونی چاہیے، امداد کی بحال نہیں بلکہ قربانیوں اور مثبت کردار کا اعتراف چاہتے ہیں، انسداد دہشت گردی، امن و استحکام کےلئے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے، قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے، افغان امن کےلئے اقدامات کی حمایت جاری رکھیں گے، خطے میں امن و استحکام کےلئے افغانستان میں امن ناگزیر ہے۔

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved