تازہ تر ین

ہم مقننہ نہیں، قانون سازی نہیں کرسکتے: چیف جسٹس پاکستان

کراچی(ویب ڈیسک )چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے ہم مقننہ نہیں اور قانون نہیں کرسکتے۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ بخوبی اندازہ ہے جتنے بھی زیر التوا کیس ہیں اتنے وسائل نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک کوشش کی جاسکتی کہ اسی قانونی دائرے اور ان ہی ججز کی تعداد کی ساتھ ہر جگہ قانون کے مطابق جلد کام کریں۔جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ انصاف میں تاخیر ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، لوگوں کو ملک میں سستا انصاف ملنا چاہیے، لوگوں کو شکایت ہےکہ جلد انصاف نہیں ملتا جب کہ دنیا بھر میں شکایات رہتی ہیں کہ مقدمات میں تاخیر ہوتی ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ مجھے سب سے اچھا کام پنجاب میں نظر آیا ہے، وہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی کوبروئے کارلایا گیا ہے، پنجاب میں ماڈل کورٹس بنائی گئی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم مقننہ نہیں، ہم قانون سازی نہیں کرسکتے، قانون سازی اور اصلاحات قانون سازوں کا کام ہے۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ عدالت میں جانے کے ڈر سے بہت سے لوگ مسئلہ خود حل کرتے ہیں لیکن یہاں معاملہ عدالت لے جانے پر لوگ خوش ہوتے ہیں کہ عدالت میں دیکھ لوں گا۔معزز چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیس جب سپریم کورٹ میں آتا ہے توپتا چلتا ہے وہ بے گناہ ہیں، جیل میں ایک سال گزارنا بھی مشکل ہے، جنہوں نے کئی سال جیلوں میں گزارے ان کا کیا کریں۔انہوں نے کہا کہ اجلاس کا مقصد عدالتی اصلاحات کی مہم کو تیز کرنا ہے، مقدمات تیزی سے نمٹانے کا براہ راست فائدہ سائلین کو ہوگا۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved