تازہ تر ین

وائٹ ہاﺅس کی اندرونی کہانی اورہم

رانامحبوب ا ختر …. دستِ نمو
”طیش و تپش: وائٹ ہاﺅس کی اندرونی کہانی“ امریکی صحافی مائیکل ولف کی تازہ ترین اور مقبول ترین کتاب ہے۔ ولف کا خیال ہے کہ جب سے صدر ٹرمپ وائٹ ہاﺅس میں آئے ہیں امریکہ طوفان کی آنکھ میں ہے۔ قصرِابیض میں سب اچھا نہیں ہے۔ صدر کے قریبی عزیزوں‘ ساتھیوں‘ اعلیٰ حکمت کاروں اور پالیسی سازوں میں اکثر ٹھنی رہتی ہے جس سے وائٹ ہاﺅس میں سخت خلفشار ہے۔ صدر کے قریبی ساتھی کا احترام تو کجا ایک دوسرے کا مضحکہ اڑاتے ہیں۔ سٹیوبینن‘ وائٹ ہاﺅس کے پہلے حکمت کار تھے۔ وہ پیشے کے لحاظ سے صحافی‘ عقیدے کے لحاظ سے بنیاد پرست عیسائی اور گورے نسل پرست تھے۔ وہ صدر کی بیٹی ایوانکا اور ان کے یہودی داماد جیرڈ کشنر کو ناپسند کرتے تھے اور انہیں ”Javanka“ کا نام دے کر ان کا ٹھٹھہ اڑاتے تھے۔ بینن کے خیال میں کشنر اور صدر کے بیٹے ٹرمپ جونیئر کی روسیوں سے ملاقاتیں غداری کے زمرے میں آتی ہیں۔ ایک نکتہ سنج نے اسے قصرابیض میں عیسائی اور یہودی لڑائی کا نام دیا۔ صدر کی بیٹی ایوانکا اپنے والد کے بالوں کا مذاق اڑاتی ہیں۔ صدر ٹرمپ بال رنگنے کے لئے Just for Men استعمال کرتے ہیں۔ یہ رنگ جتنی دیر لگارہے اتنا ہی گہرا ہوتا ہے۔ بے صبری کی وجہ سے وہ یہ رنگ جلد اتاردیتے ہیں اسی وجہ سے ان کے بال ”سنگتری سفید“ لگتے ہیں۔ ایک اور حیران کن انکشاف یہ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے دوستوں کی بیویوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنا پسند کرتے ہیں اوراس کے لئے وہ کوئی حد عبور کرنے میں شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔ اپنی بیوی کے ساتھ ٹرمپ کا تعلق کوئی زیادہ خوشگوار نہیں ہے اور حلف برداری کی صدارتی تقریب کے دن ان میں تلخی ہوئی تھی۔ میڈیا مغل‘ رابرٹ مرڈک‘ صدرِ امریکہ کا دوست ہے۔ اس نے ٹیک کمپنیوں کو H-1B ویزا کی نئی پالیسی پر کہا: ” What a f…..ing idiot!“۔ صدر ٹرمپ کو میکڈونلڈ کے برگر پسند ہیں اور میکڈونلڈ پسند کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ انہیں خوف رہتا ہے کہ انہیں زہر نہ دے دیا جائے۔ ایک اور چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ سال کے اختتام سے پہلے صدر ٹرمپ نے مارالاگو‘ فلوریڈا میں اپنے پرانے دوستوں کیلئے ایک پارٹی کی لیکن وہ اپنے کئی پرانے دوستوں کو نہ پہچان سکے۔ مصنف نے اس طرح کے واقعات سے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ صدر ٹرمپ ذہنی طور پر مستعد نہیں رہے۔ وہ سنجیدہ غوروفکر کی صلاحیت سے محروم ہیں اوران کے قریبی ساتھی سمجھتے ہیں کہ وہ بچگانہ ذہنیت کے حامل شخص ہیں اس لئے وہ امریکہ جیسے ملک کے صدر رہنے کے اہل نہیں ہیں۔
صدر ٹرمپ جب سے امریکہ کے صدر ہوئے ہیں”Fire and Fury“ جیسی باتیں عام ہیں۔ یوں اس کتاب میں کچھ بھی نیا نہیں بلکہ اس طرح ہونے والی منتشر گپ شپ کو اکٹھا کردیا گیا ہے۔ کالے اور گورے کی امریکی جدلیات‘ نیٹو‘ صنفی مساوات‘ ماحولیات‘ ہیلتھ کیئر‘ ٹیکسز‘ اسرائیلی پالیسی‘ کوریا اور پاکستان کے بارے میں صدر ٹرمپ کے خیالات اور عام امریکیوں کے تصور میں کہیں کم اور کہیں زیادہ تضاد پایا جاتا ہے۔ ان کے ڈرامائی ٹویٹس پر بھی امریکی میڈیا میں شدید تنقید ہوتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ صدر ٹرمپ امریکی عیسائی رجعت پسندوں کے نمائندہ ہیں اور یہ گورے عیسائی رجعت پسند زیادہ تر بڑے شہری مراکز سے دور مضافات میں رہتے ہیں۔ یہی صدر ٹرمپ کا حلقہ ¿ انتخاب ہے اور اسے خوش رکھنے کے لئے وہ اس طرح کے بیانات دیتے ہیں۔ سب سے پہلے امریکہ کا نعرہ بھی ان کے حلقہ ¿ انتخاب کو خوش کرتاہے لیکن امریکی معیشت میں مثبت افزائش ہورہی ہے اور لاکھوں ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں۔ البامہ کے انتخاب میں اگرچہ جج رائے مورسکینڈلز کی زد میں رہے لیکن جیتنے والے ڈیموکریٹک سنیٹر کی جیت کا مارجن ایک فیصد کے لگ بھگ تھا۔ صدر ٹرمپ روس سے خفیہ تعلقات کی تفتیش سے بچ نکلے تو اپنی ساری مضحکہ خیزی‘ بچگانہ حرکتوں اور جذباتیت کے باوجود اگلی ٹرم کے لئے مضبوط امیدوار ہوں گے کہ معاشی اعشاریے اور رجعت پسند لابی مل کر ان کی مدد گار ہونگے لیکن بین الاقوامی طورپر امریکہ کی گرتی ساکھ کا کوئی علاج نہیں اور دنیا بتدریج ایک کثیرالمرکزی نئے بین الاقوامی انتظام کی طرف بڑھ رہی ہے جس میں چین کے کردار میں اضافہ ہوگا اور روس اور یوروپ بھی اپنا نیا کردار طے کرنے کے مراحل سے گزریں گے۔
سنجیدہ سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ‘ رومی‘ عرب‘ منگول‘ عثمانی اور برطانوی سلطنتوں کی طرح برباد ہوجائے گا؟ روم کی سلطنت کے عروج و زوال کی داستان ایڈورڈ گبن لکھ گئے۔ انہوں نے سلطنتِ روم کے زوال کی پانچ وجوہات بتائی ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ زوال آمادہ کلچر میں لوگوں نے دولت کی نمود کے بجائے دولت کی نمائش کو اپنا شعار بنالیا تھا۔ دوسرا جنس اور جنسی رویوں میں حد سے بڑھتی ہوئی دلچسپی کے ساتھ مریضانہ جنسی عادتوں سے رومیوں کی قوتِ تخلیق متاثر ہوئی۔ تیسرا ان کے فنون میں سوقیانہ پن اور Freakish یعنی بدوضع موضوعات در آئے تھے اوران کے اکھاڑوں میں انسانوں کو درندوں کے سامنے پھینکنا اور خون بہانہ ایک کھیل بن گیا تھا۔ چوتھا امراءنے ریاستی اخراجات سے اپنی ذاتی زندگیاں سنوارنے کی روش اپنالی تھی۔ یعنی بدعنوانی اور رشوت ستانی عام تھی۔ پانچویں خوفناک بات یہ تھی کہ غریب اور امیر میں فرق خطرناک حد تک بڑھ گیا تھا اور لوگ آئے دن کی سازشوں سے تنگ آگئے تھے۔ گبن نے یہ نتیجہ نکالا:
“All that is human must retrograde if it does not advance”
”اگر کوئی بھی انسانی مظہر وقت کے ساتھ آگے نہیں بڑھتا تو وہ یقیناً روبہ زوال ہوجاتا ہے“
رومیوں کے زوال میں مذہبی اقدار کا زوال بھی شامل ہے۔ آسوالڈ سپنگلر نے کہا کہ ہر تہذیب بالآخر مذہب اور سائنس کے تضادات کا شکار ہوتی ہے۔ مذہبی انقلاب بالعموم ترقی اور تہذیب کے عروج سے گزر کر سائنسی فکر سے ٹکراتے ہیں لیکن تہذیبوں کے عروج و زوال کی کہانی جس طرح ول ڈیورانٹ نے بیان کی ہے ایسی کوئی مثال انسان کی تہذیبی تاریخ میں عنقا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ”کوئی عظیم تہذیب باہر سے فتح نہیں ہوسکتی جب تک وہ خود اپنے آپ کو اندر سے برباد نہ کردے“۔
ہمارا خیال ہے کہ غریبوں اور امیروں میں حد سے بڑھا ہوا فرق تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ مذہبی اختلافات‘ اداروں کی بربادی‘ بدامنی‘ بدعنوانی‘ ہمسایوں سے ناچاقی‘ عدم برداشت‘ سوقیانہ پن اور تشدد سب کے سب غریبانہ سوچ اور غربت کے مختلف مظاہر ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو امریکہ اس وقت بھی دنیا کا امیر ترین ملک ہے۔ طاقتور میڈیا اور جمہوری ادارے‘ ہمہ وقت ٹرمپ کی خطرناک ٹویٹس اور پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں اور انہیں قابل برداشت بنانے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ امریکہ اندر سے نسلی تناﺅ اور مذہبی عدم برداشت کی اس حد کو عبور نہیں کرپایا جو سول وار کی صورت اختیار کرلے۔ بڑے شہروں اور مضافات کی سوچ کا فرق بھی انتخابی عمل کے تابع ہے مگر جو چیز امریکہ کے زوال کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے وہ علم کی سلطنت میں امریکی اہلِ دانش کے کارنامے ہیں اور سائنس اور ایجادمیں‘ سائنسدانوں کی نت نئی تخلیقات ہیں۔ اس کے علاوہ سیاسی قیادت کی خامیوں کے باوجود امریکہ کی کارپوریٹ لیڈر شپ کا حیران کن کردار ہے جس نے امریکہ کو امریکہ بنایا ہے۔ سٹیو جابز‘ مارک زکربرگ‘ بل گیٹس اور ایلان مسک نے وہ انقلاب برپا کئے ہیں جن کو روکنا ناممکن ہے۔ امریکہ کی جنگی طاقت کو بھی ابھی کوئی بڑا چیلنج درپیش نہیں ہے لیکن لگتا یوں ہے کہ امریکہ کا مستقبل اب جنگی طاقت سے کہیں زیادہ اس کی امن انڈسٹری‘ Cutting edge technology اور دوسرے سیاروں پر بستیاں بسانے سے وابستہ رہے گا اور ان پر صدر ٹرمپ کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
ول ڈیورانٹ کا کہنا ہے کہ ایشیائ‘ ماضی کے پس منظر اور ذہانت کے خمار کا شکار ہے اور یوروپ ایشیائی تہذیب کا عامیانہ اظہار ہے۔ ہم کو معلوم ہے کہ امریکہ بحرِاوقیانوس کے مغربی کنارے یورپی تہذیب کی توسیع اور معراج ہے۔ کیا کالیگولا‘ المستعصم باللہ ابواحمدالمستنصر‘ بہادر شاہ ظفر‘ سلطان مجید اور ہٹلر یا مسولینی کی طرح صدر ٹرمپ بھی امریکہ کے زوال کا استعارہ بن جائیں گے؟ میرے خیال میں رومن‘ عباسی‘ مغل اور عثمانی بادشاہتوں کے آخری حکمران محض بادشاہ تھے جن کی سلطنتوں میں غربت‘ بدانتظامی اور اخلاقی زوال نے ان کے سماج کو اندر سے کھوکھلا کردیا تھا۔ ہٹلر اور مسولینی ایسے آمرتھے جو قومی احساسِ برتری اور نفرت جیسے منفی جذبوں سے کوئی تہذیب کھڑی کرنے سے ابتدا سے ہی قاصر تھے۔ صدر ٹرمپ کے راستے کی رکاوٹ امریکی ادارے‘ کانگریس‘ میڈیا‘ جامعات اور کارپوریٹ قیادت ہے۔ قانون کی حکمرانی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں اوراگر صدر ٹرمپ نے جنگ کرنے کی غلطی نہ کی تو امریکہ ان کی صدارت کی وحشت کا علاج ڈھونڈ نکالے گا۔ اس کے برعکس پاکستانی سماج زیادہ بڑے چیلنجز کا سامنا کررہا ہے۔ غریب اور امیر میں فرق خطرے کی سرحد عبور کرچکا ہے۔ معاشرے میں اقدار کے زگوال کے ساتھ مذہبی فکر میں عدم برداشت اور کج بختی نے لے لی ہے۔ ریاست نے کئی عشروں کی جدوجہد کے بعد راست فکری اور روشن خیالی کو Demonize کردیا ہے۔ پرتشدد رجحانات سے ہمارا مکالمہ Weaponize ہوگیا ہے۔ ہم گالی اور گولی کے حصار میں ہیں۔ مختاراں مائی‘ ایبٹ آباد کی عنبرین ریاست‘ کچا کھوہ کی مریم اور اب قصور کی معصوم زینب سے روا سلوک نے ہماری جنسی خواہشوں کو تہذیب کے بجائے تشدد سے آشنا کردیا ہے۔ بی بی زینبؓ نے کوفہ کے نام نہاد مسلمانوں کو بے نقاب کیا توزینب کے قصور نے بلھے شاہ سے مختلف شہر آشوب لکھ دیا ہے۔ پاکستانی سماج اور ریاست کو ٹرمپ سے نہیں‘ اندر سے خطرہ ہے۔
ہماری تمام Fire and Fury کا رخ غربت‘ جہالت اور تشدد کے خلاف ہونا چاہیے۔ پاکستان کو ماضی کی افیم اور ذہانت کے خمار سے نجات کی ضرورت ہے۔
دھوپ نے گزارش کی
ایک بُوند بارش کی
(کالم نگارقومی وبین الاقوامی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved