تازہ تر ین

مسٹرپپو اورشیخ مجیب!

جاوید کاہلوں….اندازِفکر
کچھ مہینوں پہلے کی بات ہے کہ صحافیوں کے نام سے بنی ایک بھارت نواز تنظیم سیفما نے مقامی ہوٹل میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ بڑے مہمان کے طور پر وہاں ”پپو“ بھی مدعو تھے۔ موصوف پاکستان میں اپنی ایک خودساختہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سربراہی پر براجمان تھے اور آج بھی ہیں۔ تب تک یہ وطن عزیز کے دو بار وزیراعظم بھی رہ چکے تھے۔ عرف عام میں مسلم لیگ کو پاکستان کی خالق جماعت ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور اسی بناءپر عوام پاکستان کی اکثریت اس نام سے محبت بھی کرتی ہے۔ اس جماعت نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی سربراہی میں برصغیر میں ”دو قومی نظریئے“ کی اساس پر مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں ایک باقاعدہ قرارداد بھی شہر لاہور کے 1940ءکے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں قائداعظم کی زیرصدارت ہی منظور ہوئی تھی۔ اس قرارداد کو اگلے ہی روز قرارداد لاہور کی بجائے اکثریتی ہندو پریس نے قرارداد پاکستان کہہ کر چھاپا اور مشہور کیا‘ حالانکہ 1940ءتک برصغیر میں لفظ پاکستان‘ مسلمانان ہند میں سینہ بہ سینہ تو چلتا تھا مگر تب تک اس کی ابھی کوئی جماعتی حیثیت لکھی نہ گئی تھی۔ بہرحال سات برس کے ہی ایک قلیل عرصے میں برصغیر کے مسلمانوں کے سینوں میں چلتی خواب‘ پاکستان کی تعبیر بن کر 1947ءکے اگست میں کرئہ ارض پر حقیقت بھی بن چکی تھی۔ مملکت پاکستان کا وجود اسی دو قومی نظریئے کے مرہون منت تھا جس کو کہ آل انڈیا مسلم لیگ نے قائداعظم کی صدارت تلے سینچا تھا۔ ظاہر ہے کہ ایک خالق جماعت ہونے کے ناطے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل اور وزیراعظم کا تعلق بھی مسلم لیگ سے ہی تھا۔ محمد علی جناحؒ گورنر جنرل بنے توخان لیاقت علی خان پہلے وزیراعظم بنے۔ قارئین کی یادداشت کیلئے عرض کرتا چلوں کہ جب بی بی سی کے ایک نمائندے نے قائداعظم سے دو قومی نظریئے سے متعلق استفسار کیا تو اس کی تشریح انہوں نے یہ کہہ کر کی تھی کہ ”برصغیر میں اسی دن سے دو قومیں وجود میں آ گئی تھیں جب یہاں کا پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا۔“ انہوں نے وضاحت کیلئے مزید کہا کہ ہم ہر لحاظ سے ہندوﺅں سے ایک علیحدہ قوم ہیں کیونکہ ہمارے مذاہب‘ ہمارے سماج‘ ہمارے رواج اور ہماری معاشرت مکمل طور پر نہ صرف جدا ہیں بلکہ مخالفت میں ہیں۔ وہ گائے کو پوجتے ہیں جبکہ ہم اسے ذبح کر کے کھاتے ہیں۔ وہ بت پرست ہیں جبکہ ہم توحید پر یقین رکھتے ہیں اور یہ تفریق اتنی گہری ہے کہ ہمارے تاریخ کے ہیروز کو ہندو ولن کے روپ میں دیکھتے ہیں‘ لہٰذا ہم ہر لحاظ سے ان سے جداگانہ ایک قوم ہیں اور اپنے لئے ہندوستان میں ایک آزاد اور علیحدہ وطن کا مطالبہ ہمارا عین حق ہے۔
قدرت کی ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ کچھ دہائیوں کے بعد اسی مسلم لیگ کا والی ہونے کا دعویدار‘ جو کہ اپنے تئیں خود کو قائداعظمؒ کا وارث سمجھتا ہے اس نے سیفما اجلاس کے خطاب میں اپنے صدارتی خطبے میں ایسی باتیں کہہ دیں کہ قائداعظم کیا‘ اقبال و سرسید کی روحیں بھی آسمانوں پر تڑپ کر رہ گئی ہوں گی۔ پپو نے اور باتوں کے علاوہ لاکھوں مسلمان مہاجروں کے خون اور بہنوں‘ بیٹیوں کی عصمت دری سے کھینچی گئی پاک بھارت سرحد کو ایک اتفاقیہ سی لکیر قرار دے دیا۔ دونوں طرف بستے لوگوں کو ہر لحاظ سے ”ایک“ گردانا۔ ثبوت میں دلی شہر کی لاہور سویٹس اور لاہور شہر کے بمبئے کلاتھ ہاﺅس کی مثالیں دیں۔ بھگوان اور اللہ تعالیٰ کو فقط مختلف نام سمجھا۔ حتیٰ کہ نادانی میں یہ تک کہہ گئے کہ ہم بھی آلو گوشت کھاتے ہیں اور ہندو بھی آلو گوشت کھاتے ہیں۔ پپو کی جانے بلا کہ ہندو تو ”ماس“ کھانے کو گناہ سمجھتے ہیں۔ المختصر یہ کہ پپو کا سارا خطاب اور اس کا محور قائداعظم کی مسلم لیگ کے برعکس‘ گاندھی کی کانگرس کے نقطہ نظر سے مکمل مطابقت میں تھا۔ اس دن یقینا بھارت نواز سیفما‘ مسلم لیگ ن کے ”نواز“ کو اچک لے گئی تھی۔ کون نہیں جانتا کہ سیفما کے کارپردازوں کیلئے یہ کوئی مشکل کام بھی نہیں تھا۔ ایسی لغو باتوں سے تو وہی پاکستانی پرہیز کرتا جس کو کہ نظریہ پاکستان کی کچھ خبر ہوتی‘ جس نے اس کے متعلق کچھ پڑھا ہوتا‘ جس کو تاریخ سے کچھ واقفیت ہوتی۔ جس نے کہ کچھ علم حاصل کرکے اپنے طالب علمی کے امتحانات پاس کئے ہوتے۔ پپو نے تو اپنے سارے امتحانات اور ساری ڈگریاں ”مائع“ خرچ کرکے حاصل کی تھیں، لہٰذا اس کی بلا جانے کے پاک بھارت سرحد کیا ہے اور مسلم لیگ کا دو قومی نظریہ کس ہاتھی کانام تھا۔ اس نے تعلیمی سیڑھیاں بھی پیسے کے زور پر پھلانگیں تھیں اورایوان اقتدار پر بھی وہ جنرل جیلانی کی کوٹھی میں لگے سریے اور سیمنٹ کی بنا پر پہنچا تھا۔ جہاں تک اس کے بزرگوں کا تعلق ہے تو انہوں نے تو فلمسٹار رنگیلے کو اپنا ”پپو پتر“ یہ کہہ کر حوالے کیا تھا کہ لوہاروں کے گھر میں اگر ایک پپو نما پیدا ہو ہی گیا ہے تو اسے فلموں میں ”ہیرو‘ کاسٹ کروا دو۔ اور یہی ان کی ایک ”انتہائے گزارش“ تھی۔
چشم فلک نے دیکھا کہ آنے والے دنوں میں سیفما اجلاس کے چند سالوں کے بعد بھی پپو، آئینی ترمیم ختم کروا کر، تیسری دفعہ وزیراعظم بن گیا۔ یہ اسی قدرت کے فیصلے تھے جس میں کہ وہ بھگوان اور خدا کو ایک ہی چیز مانتا تھا۔ فرمان عظیم ہے کہ کچھ کو ”دے کر“ آزمایا جاتا ہے جبکہ کچھ سے ”لے کر“ آزمایا جاتا ہے۔ لہٰذا کرسی پر بیٹھتے ہی پپو نے اور باتوں کے علاوہ نریندر مودی اور جندال وغیرہ سے کاروباری باتیں بڑھانا شروع کردیں۔ جب معاملات کاروبار اور تجارت سے آگے بڑھ کر ملکی دفاع کو متاثر کرنے لگے تو پاکستان کے سلامتی کے اداروں کے کان کھٹکنا شروع ہوگئے۔ اس پر پپو فوراً سیخ پا ہوگیا اور کچھ درباریوں کو اپنے ہی اداروں کی کردارکشی پر لگایا دیا۔”ڈان لیکس“ جیسے حربے استعمال کرکے اپنے ہی اداروں کے متعلق وہ باتیں چھپوا ڈالیں جو کہ مودی اور دوسرے دشمن کہتے نہیں تھکتے تھے۔ وہ ایسا کیوں نہ کرتا۔ اس کا تو کاروبار بڑھنا چاہیے تھا جس میں کہ ایک لایعنی (پپو کے خیال میں) سی پاک بھارت سرحد حائل تھی۔ وہ بھول جاتا ہے کہ یہ اسی سرحد کی بدول ہے کہ پپو ایک گروپ آف انڈسٹریز کو چلاتا ہے۔ اگر یہ نہ ہوتی تو وہ بھی اپنے بزرگوں کی طرح دو ایک لوہے کی بھٹیوں تک ہی محدود رہتا۔ بھارت میں آج بھی پاکستان سے زیادہ مسلمان بستے ہیں مگر ان میں کوئی بھی ٹاٹا، برلا یا جندال نہیں بن سکا۔
آگے آئیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ پپو کی تیسری حکومت بھی پہلی دو کی طرح عدالت عظمیٰ کے حکم پر بددیانتی اور کرپشن کی وجہ سے معزول ہو چکی ہے۔ لگتا ہے کہ وہ ایک بار پھر اپنی نااہلی کے صدمے کی وجہ سے ہزیان میں مبتلا ہو چکا ہے۔ ابھی تک پاکستانی قوم پپو کی سیفما اجلاس میں بولی ”یا وہ گویاں“ ہی نہیں بھولی تھی کہ اگلے دن اس نے مجیب الرحمن جیسے غدار وطن کو محب الوطن قرار دے دیا ہے۔ ہاں وہی مجیب الرحمن جس نے کہ اگرتلہ میں سازش تیار کی، چھ نقاط کا بنگالیوں میں زہر گھولا، مکتی باہنی تیار کی، اس مکتی باہنی کو بھارتی حاضر سروس جرنیل شابیگ سنگھ سے دہشت گردی کی تربیت دلوائی، پھر یہی مکتی باہنی بھارتی باقاعدہ افواج کے ساتھ پاکستانیوں کا قتل عام کرتی رہی اور سقوط ڈھاکہ میں شامل رہی، جو کہ اپنی ایسی ہی حرکات کی بنا پر بنگالی فوجیوں کے ہاتھوں قتل ہوا، جو کہ اندرا گاندھی کا ایسے ہی یار تھا جیسے کہ آج پپو، نریندر مودی سے دوستی کا دم بھرتا ہے اور نصف صدی بیتنے کے باوجود اس مجیب الرحمن کی بیٹی، حال وزیراعظم بنگلہ دیش ابھی تک بچے کھچے بوڑھے بنگالیوں کو دن رات پھانسی دیکر پاکستان سے ان کی محبت کا انتقام لے رہی ہے۔ جی ہاں مسٹر پپو، تم مجیب الرحمن، اس کی بیٹی، نریندر مودی اور اندرا گاندھی ایسے محبان پاکستان ہونگے تو وطن عزیز نہ جانے اپنے غدار کہاں سے ڈھونڈے گا۔ جمہوریتوں میں حکومتیں بنتی بھی ہیں اور بگڑتی بھی ہیں۔ ابھی پاکستان ہی میں پچھلی پیپلزپارٹی کا وزیراعظم بھی عدالت عظمیٰ نے برخواست کیا تھا۔ مگر پپو کیا بددیانت اور نااہل ہی ہے کہ اس کا نااہلی کی بعد سے ”سیاپا“ ہی ختم نہیں ہو رہا۔ کھلے عام کیمروں کے سامنے ہزیان بکتا ہے۔ کیا ہماری عدالتیں گہری نیند سو چکی ہیں؟ اور نہیں تو مسلم لیگ ہی اپنا دامن جھاڑے اور جماعت اپنا نام مسلم لیگ کی بجائے ”عوامی لیگ ن“ رکھ کر جو چاہے سو بولے۔
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved