تازہ تر ین

یادیں باقی رہ جاتی ہیں

اعتبار ساجد….مستقل کالم
ہر دور میں ادب کا یہ مسئلہ رہا ہے کہ نان جینوئن لوگ قطاریں پھلانگ کر آگے آجاتے ہیں اور جینوئن لوگ منہ تکتے رہ جاتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ پبلشرز رائٹر کو رائلٹی دیاکرتے تھے۔ اب رائٹرز پبلشروں پر شاعر یا ادیب بننے اور مشہور ہونے کا بھوت سوار ہے۔ لہٰذا ”پچاس“ سے ایک لاکھ تک کی جمع پونجی پبلشر کے حوالے کرکے وہ صاحب کتاب بن جاتا ہے۔ تشہیر بھی کروالیتا ہے تقریب بھی کروالیتا اور دھڑا دھڑ مفت کتابیں بھی بانٹ دیتا ہے۔ کچھ دیر تک یہ پتنگ ہواﺅں میں رقص کرتی رہتی ہے پھر ہوا تیز چلتی ہے تو شہرت کی ڈور کٹ جاتی ہے اور ”پتنگ “ غائب ہوجاتی ہے ایسا ہم پچھلے پندرہ بیس برسوں سے دیکھ رہے ہیں اور یقین کامل ہے کہ جب تک زندہ رہیں گے یہی سب کچھ دیکھتے رہیں گے۔ پہلے زمانے میں شاگرد اپنے اساتذہ سے غزلوں پر اصلاح لیتے تھے اساتذہ بھی ایسے ہوتے تھے کہ بلا معاوضہ خدمت فن سمجھ کر فروغ سخن کے لیے ایک آدھ مصرعے، ایک آدھ لفظ میں ردو بدل کرکے شعر یا غزل کو اس لائق بنا کر دیتے تھے کہ وہ سنی یا پڑھی جاسکے اور شاگرد کی مناسب حوصلہ افزائی کرسکے۔ اب چونکہ استاد پیدائشی ہوتے ہیں۔ لہٰذا کوئی شاگرد نظر نہیں آتا یا شاگرد کہلوانے میں جھجک محسوس کرتا ہے، چنانچہ جو کچھ اس اس کے دماغ میں آتا ہے لکھ ڈالتا ہے۔ جب داد نہیں ملتی تو تعلقات بڑھاتا ہے اپنے جیسے دوست تلاش کرتا ہے۔ اچھل اچھل کر ان کے بے تکے اور سہل اشعار پر داد دیتا ہے اور جوابی رسید کے طور پر ان سے داد وصول کرتا ہے۔ ایک محفل میں اگر بیس افراد ہیں تو بیس کے بیس شاعر ہوں گے۔ سنا ہے کہ کسی زمانے میں سامعین بھی ہوا کرتے تھے۔ اب تو چائے پلانے، اسٹیج سجانے اور بینرز لگانے والے بھی شاعر بن جاتے ہیں۔ایزی کم، ایزی گو کا زمانہ ہے۔ نہ کسی کو مطالعہ کی فرصت ہے نہ ریاضت کا وقت ہے اور نہ اس کی ضرورت ہے، یہی وجہ ہے کہ ادبی منظرنامہ گدلی جھیل بن کر رہ گیا ہے، جتنی قیمتی اور سنہری مچھلیاں ہیں وہ اس جھیل کی تہہ میں چھپ گئی ہیں اور بقایا ”حشرات الآب“ سطح آب پر ابھر آئے ہیں۔ پھر بھی ایسے قیمتی گوہر ابھی تک موجود ہیں جن کی چمک دمک ہر چند کہ وقت کے گردو غبار میں ماند پڑگئی ہے مگر ان کی قدر و قیمت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ جب منظر صاف ہوگا تو یہی لوگ چمکتے دکھائی دیں گے۔ لیکن منظر کب صاف ہوگا اس کیلئے کوئی تاریخ نہیں دی جاسکتی جب اللہ چاہے گا تو ایسا ہوگا لیکن اللہ کب چاہے گا یہ ہم نہیں کہہ سکتے۔ ایک رواج یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کل جو چوزے چوں چوں کرکے دانہ جگتے تھے اب وہ اصیل مرغ کی طرح بانگیں دینے لگے ہیں مگر چونکہ اصیل مرغ نہیں ہیں۔ پولٹری فارم کی پیداوار ہیں اس لئے بہت جلد ان کی آواز بیٹھ جاتی ہے اور یہ اصیل مرغ برائلر کے داموں پر بھی نہیں بک پاتے۔ کیا زمانہ تھا جب ناشرین ادیبوں سے کہا کرتے تھے، مسودہ رکھ جائیے پڑھ کر فیصلہ کیا جائیگا کہ یہ قابل اشاعت ہے یا نہیں۔ اب زمانہ یہ آگیا ہے کہ ہر ناقابل اشاعت ”چیز“ قابل اشاعت ہے اور یہی اس دور کا المیہ ہے کہ ناقابل اشاعت کا تصور ہی ختم ہوگیا ہے۔ پھر بھی یہ غنیمت ہے کہ کچھ ایسے لوگ ابھی زندہ ہیں جو کھرے کھوٹے کی پہچان رکھتے ہیں اور ہر اوٹ پٹانگ تحریر کو فوراً قابل اشاعت نہیں سمجھتے۔ وہ جانتے ہیں کہ کیا چیز قابل اشاعت ہے اور کیا چیز قابل اشاعت نہیں ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ ساری دنیا اندھی نہیں ہے ابھی کچھ دیدہ ور موجود ہیں۔ جن کے بارے میں ہی اقبالؒ نے فرمایا تھا،
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
افسوس ان لوگوں پر ہے جنہوں نے غیرموزوں طبع افراد کے جم غفیر کو شاعر بنانا شروع کردیا ہے۔ غزلیں لکھ لکھ کر دیتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔ حالانکہ ماتم کرنا چاہئے۔ اگر ان کی خوشی اسی میں ہے تو ہم یا آپ کیا کرسکتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ جناب غزل تو لکھ دی ہے شاگرد کو ادائیگی کا طریقہ بھی سمجھا دیں تاکہ اس کی بھری محفل میں قلعی نہ کھل جائے کہ جہاں زیر پڑھنی تھی اس نے زبر پڑھ دیا‘ جہاں مصرعہ وزن میں تھا وہاں اس نے اپنی ادائیگی سے بے وزن کردیا۔ چونکہ سننے والے سبھی شاعر ہوتے ہیں لہٰذا وہ فوراً سمجھ جاتے ہیں۔
یہ کلام ہے کسی اور کا‘ اسے پڑھ رہا کوئی اور ہے
بات صرف شاعری تک محدود نہیں‘ اب تو ایسی ایسی کتابیں‘ مضامین اور مقالے سامنے آچکے ہیں جنہیں لکھا کسی اور نے ہے‘ نام کسی اور کا ہے۔ ہمارے بچپن میں ایک صاحب ہوا کرتے تھے۔ ڈاک خانے کے باہر بیٹھے ہوئے منشی‘ سائلین کی درخواستیں اور جہلا کے خطوط لکھا کرتے تھے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ صرف اسی کام سے ان کی روٹی نہیں چلتی تھی وہ بعض لوگوں کو کتابیں‘ ناول اور افسانے بھی لکھ کر دیتے تھے اور معمولی معاوضہ لے کر‘ جو آج کے حساب سے معمولی ہے مگر اس زمانے کے لحاظ سے معقول بلکہ بہت معقول ہوا کرتا تھا۔ اب وہ ڈاکخانے تو نہیں رہے‘ البتہ کچھ لوگوں نے گھروں میں اس قسم کی منشی گیری کے ڈاکخانے کھول لئے ہیں۔ ہم اگلے کسی کالم میں بتائیں گے کہ پچھلے زمانے کا ادب منظر کیا تھا اور اب کا ادب منظر کیا ہے۔ پہلے کیا تھا اور اب کیا ہے اور کیوں ہے اور اس کی وجوہات کیا ہیں؟ نقطہ و نظر قطعاً اصلاحی ہوگا۔ لہٰذا کسی کو تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔
(کالم نگارمعروف شاعر ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved