تازہ تر ین

داتا صاحب اور شہر لاہور

ازھر منیر….فرینکلی سپیکنگ
بعض حضرات کی طرف سے داتا گنج بخشؒ کے حوالے سے لاہور کے بارے میں ایک عجیب و غریب دعویٰ کیاجاتا ہے۔ یہ کہ داتا صاحبؒ نے تحریر فرمایا ہے کہ لاہور ملتان کے مضافات (مضافاتی علاقوں) میں سے ایک ہے۔ اپنے اس مضحکہ خیز دعوے کے ثبوت میں وہ داتا صاحبؒ کا ایک قول پیش کرتے ہیں جو ان کے مطابق یوں ہے:
”لاہور یکے ازمضافات ملتان است۔“
آئیے دیکھیںکہ حقیقت کیا ہے۔
داتا صاحبؒ نے یہ قول اپنی شہرہ¿ آفاق کتاب ”کشف المحجوب“ میں تحریر فرمایا ہے۔ ” باب فی ذکر آئمتھم من تبع التابعین الیٰ یومنا“ میں آپ ایک بزرگ ابوحلیم جیب بن سلیم الراعی کے بارے میں بیان فرمارہے ہیں۔ کچھ باتیں بیان کرنے کے بعد آپؒ تحریر فرماتے ہیں کہ میرے شیخ رضی اللہ عنہ آپ سے روایت کرتے تھے لیکن میں اس وقت تنگی کی حالت میں ہوں۔ میرے لیے اس سے زیادہ بیان کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے میری کتابیں غزنی میں رہ گئی ہیں اور:
”من در دیار ہند، بلدہ لہانور کہ از مضافات ملتان است۔“
(کشف المحجوب، باب فی ذکر آئمتھم من تبع التابعین الیٰ یومنا)
آپ نے اصل فارسی عبارت ملاحظ فرمائی؟ اس سلسلے میں دو باتیں قابل ذکر ہیں:
پہلی بات یہ کہ اس میں یکے کا لفظ موجود نہیں ہے۔ یہ لفظ دانستہ طور پر اور بددیانتی سے کام لیتے ہوئے اس عبارت میں داخل کیاجاتا ہے اور ”بلدہ لہانور کہ از مضافات ملتان است“ کو ” لاہور یکے از مضافات ملتان است “ کردیاجاتا ہے۔ یہ سیدھی سیدھی جعل سازی ہے۔ دوسرے یہ کہ یہاں مضافات کا مطلب وہ نہیں جو اس کا پنجابی اور اردو میں بن گیا ہے۔ پنجابی اور اردو میں اس کا مطلب ہے: شہر کے ساتھ ملا ہوا دیہاتی یا قصباتی علاقہ یعنی Suburb۔ لیکن یہ اس کا وہ مطلب ہے جو پنجابی اور اردو میں لیا جاتاہے یا بن گیا ہے۔ عربی میں مضاف کا مطلب ہے: پاس ،قریب اور مضافات کا یہی مفہوم اس فارسی عبارت میں بھی ہے۔ اور اسی ایک لفظ سے خاص نہیں، کتنے ہی اور ایسے لفظ ہیں جن کا عربی، فارسی میں مفہوم کچھ اور ہے مگر پنجابی اور اردو میں آکر کچھ اور ہوگیا ہے۔ مثلاً عربی میں غریب کا مطلب ہے: اجنبی، مسافر لیکن پنجابی اور اردو میں اس کا مطلب ہے: مفلس، جاءت من الغریب وانت الجیب (مجھے اجنبی سے، غیر سے ملا حالانکہ میرے حبیب تم ہو) میں اگر غریب کے پنجابی، اردو معنی (مفلس) شامل کردئیے جائیں تو اس کا مفہوم بہت مضحکہ خیز بن جاتا ہے۔ یعنی مجھے جو ملا مفلس سے ملا حالانکہ میرے حبیب تم ہو۔ یہی احوال مضاف اور مضافات کے معانی کا ہے۔
توداتا صاحبؒ کے اس فقرے کا مطلب کیا ہوا؟ یہ کہ:
من در دیار ہند:میں ملک ہندوستان میں
در بلدہ لہانور:شہر لہانور میں
کہ ازمضافات ملتان است: جو کہ ملتان کے پاس/قریب ملاحظہ کیجئے:
”میں ہندوستان میں‘ شہر لہانور میں‘ جو کہ ملتان کے پاس/ قریب واقع ہے۔“
مولوی فیروزالدین نے ”کشف المحجوب“ کا جو اردو ترجمہ کیا ہے اس میں مضافات کا مطلب نواحی بیان کیا ہے اور حاشیے میں نواحی کا مفہوم اطراف لکھا ہے جسے اس تحریر میں نواحی کے ساتھ بریکٹ میں لکھا جارہا ہے۔ خیر۔ تو مولوی فیروزالدین نے اس فقرے کا یہ ترجمہ کیا ہے:
”میں خود ہندوستان میں‘ شہر لہانور (لاہور) میں جو نواحی (اطراف) ملتان میں سے ہے۔“(مولوی فیروزالدین۔ ”بان المطلوب“ ترجمہ ”کشف المحجوب“ ص 105)
یہ ہے اس فقرے کا مطلب اور لاہور کے بارے میں داتا صاحب کا اصل قول اور اس کی کل کہانی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ لاہور ملتان کا مضافاتی علاقہ بن گیا بلکہ جعل سازی کے ذریعے اس میں ”یکے“ کا لفظ لگا دینے کے بعد تو گویا اس کا محض مضافاتی علاقہ بھی نہیں رہا بلکہ اس کے مضافاتی علاقوں میں سے ایک ہوگیا۔ یعنی لاہور اگر ملتان کے مضافاتی علاقوں میں سے ایک تھا تو باقی مضافاتی علاقے غالباً دہلی‘ آگرہ اور کلکتہ ہوں گے۔ مضافاتی علاقہ (Suburb) کسی شہر کے ساتھ ملا ہوا‘ اس کی حدود سے زیادہ سے زیادہ دس‘ پندرہ کلو میٹر کے فاصلے تک کا علاقہ ہوتا ہے۔ جیسے شاہدرہ‘ لاہور کا مضافاتی علاقہ ہے۔ لاہور اور ملتان میں تقریباً ساڑھے تین سو کلو میٹرکا فاصلہ ہے۔ ایک شہر سے ساڑھے تین سو کلو میٹر دور کسی علاقے کو اس کا مضافاتی علاقہ قرار دینے والے کو کوئی صاحب عقل نہیں کہے گا اور خاکم بدہن داتا صاحبؒ کیا ایسے ناسمجھ تھے کہ ملتان سے ساڑھے تین سو کلو میٹر دور واقع ایک عظیم الشان شہر کو اس کا مضافاتی علاقہ قرار دیتے؟لیکن کچھ لوگوں کا طریقہ واردات ہی یہی ہے۔ وہ اصل عبارت میں ایک آدھ لفظ بدلتے ہیں یا کسی اور طرح کی تبدیلی کرتے ہیں اور اس کے معانی بدل دیتے ہیں۔ جس طرح داتا صاحب ؒ کے اس فقرے میں جعل سازی کے ذریعے یکے کا لفظ گھسیڑ کر اور فقرے کو بدل کر اس کے معانی کیا سے کیا کردیئے گئے ہیں۔شاید یہ خیال کیا جائے کہ داتا صاحب ؒ کے قول میں بس ایک آدھ لفظ ہی تو بدلا گیا ہے لیکن بعض اوقات پورا لفظ کیا‘ محض ایک آدھ حرف بدلنے یا اضافہ کرنے سے کسی عبارت کا پورے کا پورا مفہوم تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً اگر کسی فقرے میں ممکن کا لفظ ہو تو اس میں دو حرف (نا) لگا کر نہ صرف اس کا مفہوم بدلا جاسکتا ہے بلکہ اصل مفہوم کے الٹ کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً :
”یہ بات ممکن ہے۔“میں ”نا“ لگا کر فقرے کا مفہوم ہی الٹ کیا جاسکتا ہے۔ یعنی ۔”یہ بات ناممکن ہے۔“
یا ٹوٹ کو الف لگا کر اٹوٹ بنادیا جائے اور اس کے معانی الٹ کر دیئے جائیں جبکہ یہاں تو نہ صرف جعل سازی کے ذریعے پورے کا پورا لفظ ہی بدل دیا گیا ہے بلکہ فقرے میں سے بلدہ کا لفظ حذف کرکے اس کی ترتیب اور نتیجے میں مفہوم ہی تبدیل کردیا گیا ہے۔ اس بات کو ایک مثال کے ذریعے سمجھئے۔
غزنی قندھار کے‘ راولپنڈی سرائے عالمگیر کے اور ملتان شجاع آباد کے قریب واقع ہیں۔ تو کہا جائے گا:
بلدہ غزنی کہ از مضافات قندھار است
(شہر غزنی جو قندھار کے قریب/اطراف میں واقع ہے)
بلدہ راولپنڈی کہ از مضافات سرائے عالمگیر است
(شہر راولپنڈی جو سرائے عالمگیر کے پاس واقع ہے)
بلدہ ملتان کہ از مضافات شجاع آباد است
(شہر ملتان جو شجاع آباد کے قریب ہے)
اس کا مطلب یہ نہیں کہ غزنی قندھار کا‘ راولپنڈی سرائے عالمگیر کا یا ملتان شجاع آباد مضافاتی علاقہ ہے۔ لیکن اگر بددیانتی سے کام لیتے ہوئے اس میں سے بلدہ کا لفظ نکال دیا جائے اور یکے کا لفظ شامل کر دیا جائے اور بھر مضافات کے اصل کے بجائے پنجابی اور اردو معانی لئے جائیں چاہے جان بوجھ کر، چاہے لاعلمی میں تو پھر ان فقروں کا یہ مطلب بیان کیا جائے گا۔”غزنی قند ہار کی مضافاتی بستیوں میں سے ایک ہے، راولپنڈی سرائے عالم گیر کی مضافاتی بستیوں میں سے ایک ہے اور ملتان شجاع آباد کی مافاتی بستیوں میں سے ایک ہے۔“جس طرح لاہور کے حوالے سے داتا صاحب کے قول میں جعل سازی کے ذریعے بلدہ کا لفظ نکال کر اور ”یکے“ کا لفظ گھیسڑ کر اس کا مطلب کیا کر دیا گیا ہے۔ ہزاروں برس سے آباد ایک عظیم الشان شہر جس کی شہرت چار دانگ عالم رہی ہے اور اب بھی ہے اسے ملتان کا مضافاتی علاقہ بنادیا گیا ہے۔ نہیں بلکہ مضافاتی علاقوں میں سے ایک۔ سبحان اﷲ۔داتا صاحب جب لاہور تشریف لائے تو ا س وقت اور اس سے کئی صدیاں پہلے کے لاہور کی جو عظمت اور شان تھی اس کا احوال ایک غیر پنجابی مﺅرخ سید محمد لطیف ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔
”ساتویں اور دسویں صدی میں جب مسلمانوں نے ہندوستان پر حملے کئے تو لاہور ایک بھاری ریاست کا جس کے ماتحت اور بہت سی ریاستیں تھیں، دارالحکومت تھا۔ ہندوستان کی تاریخ مسلمانوں کے عہد سے یا ان کی یورشوں کے وقت سے جن کا ذکر ان کی تاریخ میں لکھا ہے، زیادہ تر معتبر ہو گئی ہے۔ اور چونکہ ان کے ابتدائی حملوں میں لاہور کا ذکر ایک بڑے شہر کے طور پر ہے اس لئے اہل اسلام کی رو سے بھی لاہور کا ایک قدیم ہندو شہر ہونا ثابت ہوا۔“
(سید محمد لطیف۔ تاریخ پنجاب مع حالات شہر لاہور)
یہ ہے داتا صاحبؒ کی لاہور آمد کے وقت اور اس سے کئی صدیاں پہلے کے لاہور کا احوال۔ اور کچھ لوگ اس عظیم الشان ریاست جس کے ماتحت کتنی ہی ریاستیں تھیں، کے دارالحکومت لاہور کو ملتان کا مضافاتی علاقہ قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ اور وہ بھی داتا صاحبؒ کے قوم میں جعل سازی کر کے ۔ کمال ہے۔ اور صرف داتا صاحبؒ کی لاہور آمد کے وقت یا اس سے کئی صدیاں پہلے تک ہی نہیں، لاہور اس سے بھی ہزاروں برس پہلے ایک عظیم شہر اور دارالحکومت تھا۔ سید محمد لطیف کے مطابق:
”لاہور اپنی بنیاد قائم ہونے کے بعد بہت جلد ایک بڑا شہر ہو گیا اور راجپوتوں کی اور نوآبادیوں کا سردار بن گیا۔ رفتہ رفتہ اسے یہ منصب حاصل ہوا کہ وہ ایک بڑے صوبہ کا دارالحکومت بن گیا اور صوبہ نے بھی اسی کے نام سے شہرت پائی۔“
(سید محمد لطیف۔ تاریخ پنجاب مع حالات شہر لاہور)
مختصراً داتا صاحبؒ کی آمد کے وقت کا لاہور ہو، اس سے ہزاروں برس پہلے کا یا کئی صدیاں بعد سے لے کر آج تک کا، لاہور ہمیشہ ایک عظیم اور رفیع الشان شہر رہا ہے جس کی گواہ تاریخی کتابیں ہیں۔ وہ بھی پنجابیوں کی نہیں، غیر پنجابیوں کی لکھی ہوئی۔ اگرچہ کچھ لوگوں کا داتا صاحبؒ کے قول میں جعل سازی کرنے کے بعد یہ دعویٰ ہے کہ یہ عظیم الشان شہر ساڑھے تین سو کلو میٹر دور واقع ملتان کا مضافاتی علاقہ تھا۔ سبحان اﷲ۔ایک اور بات۔ یہ فقرہ ”کشف المحجوب“ کی اصل (Main) عبارت میں موجود نہیں بلکہ حاشیے (Foot Note) میں لکھا گیا ہے۔ مختصراً داتا صاحبؒ کے قول کے اصل اور ٹھیک ٹھیک (Exact) الفاظ یہ ہیں۔
”بلدہ لہا نور کہ از مضافات ملتان است۔“
(شہر لہانور جو ملتان کے قریب واقع ہے۔)
اگر کوئی اس میں سے بلدہ کا لفظ نکالتا ہے، ”یکے“ کے لفظ کا اضافہ کرتا ہے یا کسی اور طرح کی جعل سازی کے ذریعے اسے تبدیل کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ داتا صاحبؒ کے الفاظ کو بدل کر دھوکہ دہی اور تحریف کے جرم کا مرتکب ہو رہا ہے اور یہ ثابت کرنے کی مذموم کوشش کر رہا ہے کہ خاکم بد ہن داتا صاحبؒ ایسے ناسمجھ تھے کہ انہوں نے ملتان سے ساڑھے تین سو کلومیٹر دور واقع ایک عظیم الشان شہر کو اس کا مضافاتی علاقہ قرار دینے کی کوشش کی۔
(کالم نگار سینئر صحافی‘ شاعر اور ادیب ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved