تازہ تر ین

”میں زینب ہوں“

سجادوریا….اظہار خیال
”میرا نام زینب ہے ‘ میں ایک لڑکی ہوں‘میں کلاس اول میں پڑھتی ہوں‘ میں قصور کی رہنے والی ہوں ‘ میرے ابو کا نام امین انصاری ہے ‘ مجھے آم بہت پسند ہیں“۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو معصوم سے پھول زینب انصاری نے اپنی ہوم ورک بک میں لکھے تھے۔ یہ الفاظ پڑھتے ہوئے آنسو اُمڈ آئے ہیں کلیجہ منہ کو آ گیا‘ بنجر خیالات بے سدھ پڑے ہیں‘دماغ ماو¿ف اور الفاظ ساکت ہو گئے‘ میرا قلم گونگا بن گیا کہ کچھ بھی بولنے کو تیار نہ تھا کہ میں چند الفاظ ہی اظہار ندامت کے لکھ سکوں‘ ایسا المناک منظر ہے کہ ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے‘ایسی بے حسی کہ لگتا ہے یہ معاشرہ کسی بڑے حادثے کا منتظر رہتا ہے اور پھر میڈیا کے شور مچانے کا انتظار کیا جاتا ہے پھر کہیں جا کر سرکار اور سرکاری مشینری حرکت میں آتی ہے۔ الامان و الحفیظ ‘ اس نظام سے اب کسی خیر کی امید رکھنا خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہوگا۔یہ نظام مفلوج ہو چکا ہے بد بو دار ہو چکا ہے‘ جناب شہباز شریف بھی جان گئے ہیں ان کی کارکردگی بس سڑکیں اور پل بنانے میں ہی نظر آتی ہے‘ حکومت چل رہی ہے نظام کام نہیں کر رہا‘ خادم اعلی صاحب کو یقین ہو چکا ہے کہ عوام ان کے اعلانات اور اقدامات کو سنجیدہ نہیں لیتے بلکہ ڈرامہ بازی سے تعبیر کرتے ہیں‘اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے ایسے واقعات پر میڈیا کو لے کر جاتے اور پولیس افسران کو سامنے نیچے بٹھا کر انگلی ہلا کر احکامات جاری کئے جاتے اور معطلی کے اعلانات کئے جاتے اور میڈیا میں خوب چرچا کی جاتی۔ اخبارات اور نیوز چینلزکی ہیڈ لائنز بنتیں اور خادم خادم اعلیٰ کی تصاویر چھپتیں اور سرکاری نمک خواروں کو نمک حلال کرنے کا موقع مل جاتا اور وہ خوب خوشامدی کالم لکھتے اور مراعات پاتے۔ اس بار خادم اعلیٰ دن کی بجائے رات کے اندھیرے میں میڈیا سے چھپ کے زینب انصاری کے گھر پہنچے اور گھسے پٹے اعلان کئے‘ عوام کے ردعمل نے ان کو چھپنے پر مجبور کر دیا اور پوری قوم سراپا احتجاج بن گئی ہے۔ ڈی پی او آفس سمیت سرکاری املاک پر دھااوا بول دیا اور ڈی پی او جو سوشل میڈیا پر اپنی مشہوری میں مصروف رہتے ہیں یا پھر مقامی سیاستدانوں کے اشارے کے منتظر رہتے ہیں۔ خدا کا خوف کرو اور کوئی شرم کرو حیا کرو کہ آپ کو اللہ نے صاحب اختیار بنایا ہے اور آپ سے ہی پوچھ گچھ ہوگی روز محشر کیا جواب دو گے ؟ ڈرو اس وقت سے جب زینب انصاری روز محشر جب رسول کریم صلی آللہ علیہ و سلم سے شکایت کرے گی‘ جب روز محشر اٹھ کر رسول اکرم سے مخاطب ہوگی اور بولے گی” یا رسول اللہ میرا نام زینب انصاری ہے‘میں ایک لڑکی ہوں ‘ میں قصور کی رہنے والی ہوں‘میرے ابو کا نام امین انصاری ہے‘مجھے آم بہت پسند ہیں . یا رسول اللہ مجھ پر ظلم ہوا‘میرے والدین تب بھی آپ کے دربار میں حاضری دینے کی خاطر مدینہ منورہ میں موجود تھے‘مجھے اغوا کیا گیا ریپ کیا گیا پھر قتل کر دیا گیا‘ یا رسول اکرم میرے ماں باپ آپ کے در پر روتے رہے فریادیں کرتے رہے میری سلامتی کی دعائیں کرتے رہے لیکن میں تو قتل کر دی گئی تھی اور اللہ کے حضور پیش ہو چکی تھی۔ یارسول اللہ میرے حکمران میری لاش پر سیاست کرتے رہے‘ پولیس افسران شرمندہ ہونے کی بجائے ڈھٹائی سے انعامات مانگتے رہے‘میرے معاشرے کے علماءکرام ظلم کے خلاف جنگ کرنے کی بجائے امریکہ کی توپوں میں کیڑے پڑنے کی دعا مانگتے رہے۔ ختم نبوت کے مسئلے پر تجارت کرنے میں مشغول تھے‘ یارسول اللہ میں آپ سے شکایت کرتی ہوں کہ مجھ پر ظلم آپ کی امت نے کیا ہے‘ آپ کی امت بے حسی اور خود غرضی میں ڈوب چکی ہے اس نے سیاست کو تجارت بنا لیا ہے اس نے عہدوں کو کاروبار بنا لیا ہے ‘ اس نے حرام و حلال برابر کر دئیے ہیں۔یا رسول اکرم نواز شریف کو اپنی پڑی تھی کہ مجھے کیوں نکالا اور عمران خان تیسری شادی کی پیشکش کے جواب میں بیٹھا تھا اور زرداری کی تو بات ہی الگ ہے وہ ایک بار پھر سیاست میں ان ہونے کے لئے ہاتھ پاو¿ں مار رہے تھے۔
یارسول اللہ یہ وطن اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا لیکن اس کے حکمرانوں نے اس کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر نوچ ڈالا۔ شہباز شریف کے پڑوس میں میرا ضلع قصور واقع ہے‘ اس کے عوام نے ن لیگ کو ہمیشہ کامیاب کروایا لیکن انہوں نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا۔ پولیس ناکام اور ناکارہ بن گئی عدلیہ مجبور و بے کس ہے سیاست کا نام غنڈا گردی ہے ۔معاشرہ تباہ ہے جنگل کا قانون نافذ ہے اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی عملی تصویر بنا ہوا ہے۔
یارسول اللہ ایک شاعر افتخار عارف نے کہاتھا کہ ” امت شاہ لولاک سے ڈر لگتا ہے“ اس کی مجھے سمجھ نہیں آتی تھی لیکن اب میں پوری طرح جان گئی ہوں۔
اے حکمرانو اے منصفو اور اے کمانڈرو ڈرو اس وقت سے جب زینب انصاری کی شکایات پر احکامات جاری ہو جائیں جب روزمحشر تم سب کی پکڑ ہو جائے۔ہماری اس بیٹی کو انصاف دو اس کے قاتلوں کو گرفتار کرو اس کے ماں باپ کی دل جوئی کرو اس معاشرے کی ہر زینب کے سر پر ہاتھ رکھو کہ تم لوگ بھی روز محشر کوئی جواز پیش کر سکو کوئی درخواست سنا سکو۔ یارسول اللہ ہم غافل تھے ہم گمراہ تھے اور یہ ظلم ہو گیا لیکن جب معلوم ہوا ہم نے دن رات ایک کر دیا اور ظالموں کو پکڑا اور کیفرکردار تک پہنچا دیا۔
(کالم نگارسماجی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved