تازہ تر ین

بددعا پر قومی فساد

عبدلودود قریشی

عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے بجا طور پر عربی لغت کے لفظ ”لعنت “ کی عربی لغت سے تشریح کی ہے کہ اسکا مطلب ہے ”اللہ تمہیں رحمت سے محروم کرے“اور اللہ کی رحمت سے دوری ہے ، اس لفظ کا ذکر قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں آیا ہے ، اللہ نے ظلم کرنے والوں ، خیانت کرنے والوں پر لعنت بھیجی ہے ، عربی دنیا کی واحد زبان ہے جسکا کوئی کلیہ اور قاعدہ ہے اور انگریزی دنیا کی واحد زبان ہے جس کا کوئی متعینہ کلیہ اور قاعدہ نہیں، زبان دراصل بولنے والوں کی ہوتی ہے جو سمجھنے والوں کیلئے بولی جاتی ہے ، لفظوں میں حقیقی تصویر کو پیش کرنا ہوتا ہے جوسننے والا بخوبی نہ صرف سمجھ جائے بلکہ اسکا پورا ادراک بھی حاصل کرے، اشاروں سے سمجھائی گئی حرکت کو اشاروں کی زبان کہا جاتا ہے ، حالانکہ اس فعل میں زبان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا ، ادائیگی زبان فہم کیلئے ہوتی ہے ، دنیا کی ساری زبانوں میں کچھ نہ کچھ کمی ہے اور عربی سمیت ساری زبانوں میں کئی حرف موجود ہی نہیں جو دوسری زبانوں میں ہیں۔عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے بجا طور پر عربی لغت کے لفظ ”لعنت “ کی عربی لغت سے تشریح کی ہے کہ اسکا مطلب ہے ”اللہ تمہیں رحمت سے محروم کرے“اور اللہ کی رحمت سے دوری ہے ، اس لفظ کا ذکر قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں آیا ہے ، اللہ نے ظلم کرنے والوں ، خیانت کرنے والوں پر لعنت بھیجی ہے ، عربی دنیا کی واحد زبان ہے جسکا کوئی کلیہ اور قاعدہ ہے اور انگریزی دنیا کی واحد زبان ہے جس کا کوئی متعینہ کلیہ اور قاعدہ نہیں، زبان دراصل بولنے والوں کی ہوتی ہے جو سمجھنے والوں کیلئے بولی جاتی ہے ، لفظوں میں حقیقی تصویر کو پیش کرنا ہوتا ہے جوسننے والا بخوبی نہ صرف سمجھ جائے بلکہ اسکا پورا ادراک بھی حاصل کرے، اشاروں سے سمجھائی گئی حرکت کو اشاروں کی زبان کہا جاتا ہے ، حالانکہ اس فعل میں زبان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا ، ادائیگی زبان فہم کیلئے ہوتی ہے ، دنیا کی ساری زبانوں میں کچھ نہ کچھ کمی ہے اور عربی سمیت ساری زبانوں میں کئی حرف موجود ہی نہیں جو دوسری زبانوں میں ہیں۔ انگریزی میں ایک جیسے لکھے گئے حروف کو ادائیگی کے ذریعے بدل دیا جاتا ہے جس سے اسکا مطلب بدل جاتا ہے ، لفظ ” لعنت “ ہمارے یہاں گالی کے طور پر استعمال ہوچکا ہے اور اب عرب بھی اسے مہذب گالی کے زمرے میں لیتے ہیں ۔اللہ نے جن لوگوں پر لعنت کی ہے انہیں درحقیقت اعلان کرکے اپنی رحمت سے محروم کردیاہے اور انسان ایک دوسرے کیلئے زمانہ قدیم میں بددعا کے طور پر استعمال کرتے تھے اور یہ لفظ ہزل کے معنوں میں بھی آتا تھا ، مگر اب اس حد سے تجاوز کرگیا، اس دور میں اسے استعمال کرنے والا اس کے جددی معنی میں لیتا ہے اور محسوس کرتا ہے کہ یہ ایک گالی ہے مگر کس نوعیت کی گالی ہے سے بے خبر ہے اور اس کے مفہوم تک رسائی نہیں رکھتا۔عدالتوں میں بھی جب گواہ سے حلف لیاجاتاتھا تو یہ الفاظ استعمال کئے جاتے تھے ،” اگر میں جھوٹ بولوں اور سچ کے علاوہ کوئی بات کروں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو “اور بعد میں لعنت اور غضب ہوکے الفاظ درج کرائے گئے تھے ، پھر رفتہ رفتہ یہ الفاظ بھی حذف کردیئے گئے مگر کئی عدالتوں میں لعنت کے الفاظ ہی کہلوائے جاتے ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ جس ملک میں رشوت ، بدعنوانی ، حرام کاری، جواءاور فحاشی عام ہے ، جھوٹ بول کر اقتدار اور اپوزیشن کی منفعت بخش کرسیاں حاصل کی جاتی ہیں ، جھوٹ بول کر لوگوں سے ووٹ لئے جاتے ہیں ، معصوم بچیوں کو جنسی تشدد کے بعد قتل کرایا جاتا ہے ، بے گناہ نوجوانوں کو عادی مجرم اور دہشتگرد بناکر ریاست کی طاقت سے قتل کیا جارہاہے ، مگر پھر بھی اللہ سے دوری کی بدعا گوارا نہیں ، جبکہ اس دوری میں کوئی شبہ نہیں اور جو شخص یہ بددعا ”لعنت“ بھیج رہاہے خود بھی اسکا مستحق ہے ، قدم قدم پر جھوٹ ، قرآن کی قسمیں کھانے والا دوسروں پر لعنت کررہاہے ، جبکہ خدا نے خود جہاں جھوٹے پر لعنت کی ہے وہاں اس سے بھی دو قدم آگے منافق کی صفت قرار دیا ہے ۔شیخ رشید کا بار بار اعلان ہے کہ وہ جھوٹ بولتا تھا مگر اب چھوڑ دیا ہے ، اس کو لعنت کا کام کرنے والوں کے زمرے سے کیسے نکالیں گے ، پارلیمنٹ کسی عمارت کا نام نہیں بلکہ پارلیمان کے یکجا ہونے کی اس عمارت کو کہا جاتا ہے جو پاکستان میں تین بار بدل چکی ہے ، کراچی ، ڈھاکہ اور اسلام آباد کی پرانی بلڈنگ جہاں اب نادرہ کا آفس ہے اور چوتھی عمارت جہاں اب قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس منعقد ہوتے ہیں ، جس عمارت میں جوا ہوتا ہے اور جس عمارت میں پارلیمان کا اجلاس ، جس عمارت میں عبادت ہوتی ہے اور جس میں جسم فروشی کا فرق اس عمارت میں انجام دیئے جانے والے کاموں سے معتبر اور قابل ملامت ٹھہرتا ہے ، اس میں بنیادی عنصر انسانی کام سے ہے ، یقینا ختم نبوت پر کامل یقین رکھنے والے جس عمارت میں ختم نبوت کے قوانین کو ختم کرنے کا بل پاس ہوا قابل ملامت سمجھتے ہیں اور قادیانی اسے ایک اچھا کام قرار دیتے ہیں ، لہٰذا پارلیمان کی اس عمارت کے بارے میں مسلمانوں اورغیر مسلموں کا خیال مختلف ہے ، پارلیمنٹ کی پرانی بلڈنگ جہاں قادیانیوں کے متعلقہ قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر قرارداد کے بعد آئین میں ترمیم ہوئی مسلمان اچھا خیال کرتے ہیں اور مدت سے اس حال کو قومی ورثہ قرار دینے کی تحریک ہے ، مگر نئی پارلیمانی بلڈنگ میں مسلمانوں کیلئے ایک ناپسندیدہ کام ہوا، جسے واپس کردیاگیا، مگر اس میں آٹھ نوجوانوں نے جان دی اور شہادت کا مرتبہ پایا، مگر بحث اب سیاسی مقاصد کیلئے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے کی ہے ۔اگر کسی فرد پر نام لیکر لعنت بھیجی جاتی تو وہ فرد ہتک عزت کا دعویٰ کردیتا ، لہٰذا الفاظ کے ہیر پھیر سے کہا گیا ” میں پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتا ہوں “، پارلیمنٹ کسی عمارت کا نام نہیں افراد کے مجموعہ کا نام ہے ، جو منتخب ہوکر آتے اور آئین کی طے شدہ تعریف پر پورے اترتے ہیں، جنکا کسٹوڈین سپیکر اور چیئرمین سینیٹ ہوتے ہیں ،مگر آئین کے مطابق مجلس شوریٰ پارلیمنٹ کا کسٹوڈین سپیکر ہی ہوتا ہے ، ارکان پارلیمنٹ کو سپیکر کی اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کیا جاسکتا، انکی مراعات کا بھی ذمہ دار سپیکر ماں کی طرح ہوتا ہے ، ارکان کی جانب سے کی جانے والی اچھی قانون سازی اور کاموں کا کریڈٹ سپیکر ہی خود لیکر ارکان پر تقسیم کرتے ہیں اور اگر کوئی غلط کام بھی ہو سپیکر اسکی شدت کو کم کرنے کیلئے یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ یہ قانون سازی کسی کلرک کی غلطی سے ہوئی ۔ اسی طرح جب گالی دیگا تو بھی سپیکر کو اسے وصول کرکے ارکان پر تقسیم کرتے ہوئے خود قانونی کارروائی کا بیڑا اٹھانا چاہئے ، مگر کیا ہم ہمارے ارکان پارلیمنٹ اور معاشرہ اس سطح کے تقویٰ و پرہیزگاری اور انصاف کی سطح پر آگیا ہے کہ ایک بددعا (لعنت) پر سب لگ جائیں اور اسے عزت اور بے عزتی کا معاملہ بناکر استحقاق کمیٹی میں لے جائیں ، جبکہ یہ بدعا دینے والے بھی اس میں برابر کے شریک اور حصہ دار ہوں، ہم دعا و بدعا پر لڑنے کے قابل تو ہو جائیں مگر ہمیں قتل و غارت گری ، استحصال ، لوٹ مار اور جھوٹ بولنے سے فرصت تو ملے، دعا اور بددعا کو قبول کرنے اور مسترد کرنے کا حق تو اللہ کی ذات کو ہے جس پر ہم کوئی معاملہ چھوڑنے کو تیار ہی نہیں۔٭٭٭

 

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved