تازہ تر ین

بھٹو قبر سے حکومت کرتے رہے ، اہم رہنماءبھی مان گئے

اوکاڑہ (آئی این پی ) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماءوفاقی زیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ جو ہم سے استعفیٰلےنے آیا وہ اپنا زبانی استعفیٰ دے کر دوبئی چلا گیا یہ ابھی استعفیٰ نہیں دے گا، 31 جنوری کے بعد دے گا شیخ رشید میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ ابھی اپنا استعفیٰ دے، یہ بزدل ہے اس کو معلوم ہے کہ اگر 31 جنوری سے پہلے استعفیٰ دیتا ہے تو اسکی سیٹ پر ضمنی الیکشن ہوگا اگر 31 جنوری کے بعد دے گا تو الیکشن نہیں ہوگا۔ ان خیالات کا اِظہار انہوں نے پیر کو اوکاڑہ میں اوکاڑہ ریلوے اسٹیشن اسٹیٹ آف آرٹ کا افتتاح کرتے ہوئے کیا اس موقع پر جلسے سے پارلیمانی سیکرٹری عاشق کرمانی، ایم این اے چوہدری ریاض الحق جج، میاں محمد منیر، راو¿ اجمل، چوہدری ندیم عباس ربیرہ نے بھی خطاب کیا۔ پی پی پی کے قائد ذوالفقار علی بھٹو کو جب پھانسی لگی تو وہ غلط فیصلہ تھا وہ قبر سے بھی حکومت کرتا رہا بھلا ہو زرداری کا جس نے پی پی پی کو ختم کر دیا ہم نے خان صاحب کے استعفوں کو گلے سے لگایا جب انہوں نے دھرنے کے دوران استعفیٰ دیے اور ہم نے منظور نہیں کیے کیونکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ یہ در بدر رہوں ہم کسی کو لعنتی نہیں کہتے یہ لوگ ووٹ بھی لیتے ہیں اور لعنتی بھی بنتے ہیں ہم نے خدا کو جان دینی ہے ہم کوئی فرشتے نہیں کہ ہم سے غلطی نہ ہو ہم نے جو وعدے کیے وہ الحمد اللہ پورے کر دیے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ قادر آباد کا پاور پلانٹ بنا نہیں بلکہ اُگاہ ہے ہم نے لوڈشیڈنگ کو ختم کیا سی این جی فلنگ اسٹیشنوں کی لمبی لمبی قطاروں کو ختم کیا اُنہوں نے ایک بار پھر اپنے کارکنوں کو تاکید کی کہ کسی مخالف کو لعنتی نہیں کہنا اپنے اخلاق اور اپنے کردار سے جواب دینا ہے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چار ماہ الیکشن میں رہ گئے ہیں وہ خیبرپختونخواہ پر توجہ دیں ورنہ یہ صوبہ بھی آپکے ہاتھ سے نکل جائےگا۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved