تازہ تر ین

انتخاب بشرط ذہنی صحت

صوفیہ بیدار……..امروز
ابتدائی ادراک میںدو احساس جو سب سے پہلے ذہن کی سلیٹ پر رقم ہوتے ہیں وہ محبت اور نفرت کے ہیں ، دیگر حواس کی بحالی کے بعد ان سب سے پھوٹنے والی بے تحاشہ کہانیاں مختلف زمینی حقائق کے ساتھ اس سلیٹ پر رقم ہو جاتی ہیں پورا بندہ تعمیر ہونے تلک اس کا ایک اپنا نکتہ نظر دیکھنے کی صلاحیت اور احساس کی دنیا قائم ہو چکی ہوتی ہے یہی اشخاص اپنے اجتماعی اور ذاتی ذہن کے ساتھ حکومت عدلیہ، پولیس انتظامیہ اور دیگر اہم اداروں پر متمکن ہوجاتے ہیں اور پھر انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ذہن کے تعصبات اور بچپن کی تربیت بھی فیصلہ سازی کا حصہ بن جاتی ہے۔ سوال اس تمہید سے یہ اٹھتا ہے کہ کیا کوئی ایسی مشترکہ تربیت، ٹریننگ، معتدل مزاجی اور عمومی مسائل کو دیکھنے والی نگاہ کو کوئی مرکزی متفقہ مکتبہ فکر ہے جو ایسا نصاب رکھتا ہو جو ان عہدیداروں پر منطبق کیا جا سکے۔
ینگ ڈاکٹرز نے جیسے حلف نامے کی دھجیاں اڑا کر اس حلف کا مذاق بنا دیا، اسی طرح دیگر محکمہ جات اور اداروں میں محض جو تذلیل جواب تذلیل کا تسلسل ہے۔ اس سے ہٹ کر کوئی ایسی ”کڑکی“ ہے جس میں سب ازخود پھنسیں اور جوابدہ ہوں اس سے بھی قبل تربیت کا طویل دورانیہ ہو اور اہم جگہوں پر بیٹھے لوگ اپنے گھر ذات اور متعصبانہ ذہن کو ترک کرکے ایک متفقہ تربیت کے ماتحت فیصلوں کی طاقت رکھتے ہوں جیسے اگر ایک لیفٹسٹ بندے کا مقدمہ اگر کسی رائٹسٹ جج کی عدالت میں آ گیا تو وہ تو مارا گیا نہ اسی طرح دیوبندی ، بریلوی، شیعہ سنی دیگر فرقوں، مکاتب فکر اور کوئی خاص نکتہ نظر رکھنے والوں کو کسی ”سیٹ“ پر تعینات کرنے سے قبل ایسی ”ٹریننگ“ ہدایات یا حکمنامے موجود ہیں جو سیٹ کو بھی شیعہ سنی، سیاسی وابستگی اور دیگر متعصبانہ احساس کے دائرے سے نکال کر ایک محض خالص انسان کی صورت بمطابق سیٹ کام کرنے پر مامور کرتے ہوں….
جیسے گزشتہ سٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان نے گزشتہ تمام فنڈز جو فنکاروں کے معاوضوں اور بہبود کیلئے ریلیز کیے جاتے تھے یہ کہہ کر لیپس( قومی خزانے میں واپس) کر دیئے کہ موسیقی حرام ہے ، سینکڑوں گھروں کا چولہا بجھانے والے مریض فنکاروں کو دوائی دارو سے محروم کرنے والے اس افسر کیلئے بہترین راستے موجود تھے۔ اپنا تبادلہ اوقاف میں کروا کراس کارواں میں شامل ہو جاتا جس کا بظاہر نام تو اوقاف ہے مگر مزاروں کی دولتیں اکٹھی کرکے کہاں خرچ ہوتی ہیں سے جواب تہی ہو کر سکون کرتا استعفے دیتا تو ثواب ہوتا اسے لگانے والے بھی موسیقی کے بارے میں اس کے خیالات جان کر موسیقی کے ادارے پر مامور نہ کرتے…. یہ تو ایک مثال ہے ایسی سینکڑوں مثالیں ہیں پولیس مقابلے چور ڈاکو اور قانونی طریقے سے بندے مارنے والوں کے اذہان کو کس نے پڑھا ہے؟ کوئی شخص وردی پہنے بغیر انسان کو مار سکتا ہے تو کوئی جعلی پولیس مقابلہ کرکے سوال یہ ہے کہ وردی کے اندر پھر کون ہے؟
کیا کوئی نفسیات دان یہ پڑھتا ہے جیسے CSS کے امتحان میں نفسیات دان ہوتے ہیں کچھ ٹیسٹ بھی ہوتے ہیں مگر دیگر تعیناتیوں میں تو اس کا اہتمام تک نہیں کیا جاتا‘ حتیٰ کہ صدر وزیراعظم کی سیٹ پر کیا ”کرائٹیریا“ ہے؟ اسے ذہنی‘ اخلاقی‘ جذباتی اور علمی سطح پر کیسا ہونا چاہئے؟ اس کا مزاج کیسا ہونا چاہئے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اس کے سربراہ کا ذہن کس قدر اہم ہے۔ امریکہ کے سربراہ ٹرمپ نے پوری دنیا کو ”وخت“ میں ڈالا ہوا ہے تو اس کا سبب بھی انہی عوامل سے وابستہ ہے۔ امریکہ نے تو عین اپنے ذہن کے مطابق انتخاب کیا ہے اور اپنے اصل چہرے ”ٹرمپ“ کو سربراہ چن لیا جو خطرہ پوری دنیا امریکہ سے ہمیشہ محسوس کرتی رہی ہے وہ مجسم ہوکر بھی روبرو ہوگیا ہے۔ ماسک کا اترنا اور اصل چہرے کا عیاں ہونا کسی حد تک بہتر بھی ہے اور حفظ ماتقدم کا چانس بھی دیتا ہے۔
پاکستان کی سیاست کی سکرین پر ابھرنے والا چہرہ اگریسو ہے۔ معتدل ہے‘ خود غرض‘ بے حس‘ متکبر ہے یا پھر کوئی معتدل متناسب المزاج ہے۔ یہ سب دیکھنا کتنا ضروری ہے اور ہمارے ہاں کتنا غیرضروری سمجھا جاتا ہے۔ ووٹ گنے اور بس…. جہاں جمہوری عمل میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے وہیں سربراہان کے پورے ذہنی‘ جذباتی اور اخلاقی وجود کو بھی پرکھنے کی ضرورت ہے۔ محض ایک ”جھوٹ“ بول دینا کافی Definition نہیں۔ صادق‘ امین کے علاوہ کہ یہ القاب بہت بڑے ہیں۔ پوری زندگی کا جائزہ لینا چاہئے اور خوشامدی ٹولے کو چینلز پر بیٹھ کر خوشامد پراجیکٹ کرنے سے روکنے کے قوانین بھی قبل از انتخاب ہونے چاہئیں۔ کسی بھی انتخاب کی شرائط کڑی سے کڑی کرتے چلے جانا چاہئے صرف ڈھول ڈھمکے سے نکلنے میں ہمیں برسوں لگیں گے اور سنجیدگی منزل ابھی بہت دور ہے مگر خواب دیکھنے میں کیا حرج ہے؟
(سینئر کالم نگار ، معروف شاعرہ ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved