تازہ تر ین

عاصمہ جہانگیر، آواز حریت خاموش ہوگئی

عبدالودود قریشی

سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر اچانک مختصر علالت کے بعد اس جہان فانی سے کوچ کرگئیں۔ وہ حریت کی آواز تھیں اور جرا¾ت بہادری کے ساتھ باپ سے ملنے والے ورثے کو آگے بڑھایا۔ عاصمہ جہانگیر کے نظریات اور فکر سے اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر اس راہ پر چلنے والوں کوجو دکھ جھیلنے پڑتے ہیں اس کا اندازہ کرنا عام آدمی تو کجا پڑھے لکھے لوگوں اور بڑے بڑے صحافیوں کے بس کی بات بھی نہیں۔ یہ معاملہ وہی محسوس کرسکتا ہے جو اس خدمت خلق اور انسانیت کے معاملے سے کسی بھی مکتبہ فکر اور نظریات سے اس میں کودا ہو۔ عاصمہ جہانگیر کی کوئی تو ادا اللہ کو پسند تھی کہ اسے نام اور عزت دی بعض مذہبی حلقے اس کے خلاف تھے مگر ثبوت اور دلیل کے ساتھ اس کے خلاف کچھ نہیں نکال سکتے تھے۔ وہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے اقتدار میں ہوتے جس بات کو غلط سمجھتی تھیں برملا اظہار کرتی تھیں اپنی مرضی کا پل گزارنے کا یہ رویہ حریت کی بڑی دلیل ہے کچھ بھی تھا عاصمہ جہانگیر منافق نہیں تھیں۔ چند دن قبل سپریم کورٹ میں تین غریب بچیاں ماں باپ کے ساتھ کمرہ عدالت نمبر1میں میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے سامنے کھڑی تھیں میاں بیوی آٹھ سال قبل ہندوﺅں کے مظالم سے تنگ آکر پاکستان آئے ان کے بچے ہوگئے شناختی کارڈ بھی بن گئے مگر راولپنڈی کے تھانہ صادق آباد کی مثالی پنجاب پولیس نے ماں باپ اور بچوں کو بھارتی قرار دے کر جیل بھجوا دیا۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس نے بلوالیا عدالت میں چیف جسٹس نے پوچھا آپ کا کوئی وکیل؟ عورت کی آنکھوں سے آنسو جھلک گئے ثاقب نثار نے بھرائی ہوئی آواز میں پوچھا کوئی وکیل ان کی مدد کرسکتا ہے بڑے بڑے نام اس طرح چپ سادھے سروں کو جھکا کر بیٹھ گئے۔ جیسے سب بہرے ہوں اور روشنی سے ان کی آنکھیں چندھیا گئی ہوں اس لئے نظریں نیچے گاڑ لیں کچھ توقف کے بعد ایک انگلی کھڑی ہوئی ”می لارڈ میں ان کی وکیل ہوں“ عدالت نے لکھا تاریخ ڈال دی۔ اب ان کی وکالت کون کرے گا؟ میں چونکہ ختم نبوت کے حوالے سے سپریم کورٹ میں الیکشن اصلاحات بل 2017ءکےخلاف فریق مقدمہ ہوں اور مسلسل عدالت پیروی کیلئے جاتا ہوں اس لئے پہلے ایک پیشی پر سکارف پہنے ایک بوڑھی عورت ہاتھ اٹھا اٹھا کر عاصمہ کو دعائیں دے رہی تھی کہ اس نے میرا مقدمہ لڑا اور مجھے ظلم سے نجات دلوائی مجھ سے ایک روپیہ نہیں لیا جبکہ اب تو مفت وکلالت کا نام لیکر منشیانہ، اور ٹائپنگ کے حوالے سے وکلاءفیس سے زیادہ رقم بٹور لیتے ہیں حسین حقانی جب میموکیس میں پھنسے تو عاصمہ نے حسین حقانی کا مقدمہ مفت میں لڑا۔ ہم حسین حقانی کے کام سے اختلاف کرسکتے ہیں مگر جس پر پہاڑ گر رہا ہو اور سب ساتھ چھوڑ جائیں گے ساتھ کھڑے ہونا آ بیل مجھے مار کی بات ہے۔ عاصمہ جہانگیر پاکستان بار کونسل کی صدر ہیں جو پاکستان کا سب سے بڑا قانون کے حوالے سے علم کا مستند ادارہ ہے کی صدر رہیں اور ان کے نام پر یہ گروپ کئی سال الیکشن میں کامیابی حاصل کرتا رہا مجھ سمیت لوگوں کو بھارت‘ بنگلہ دیش اور ایک اقلیت کے حوالے سے اختلاف اپنی جگہ ہے مگر ان کا اخلاص اور بے لاگ حریت کا جذبہ قابل قدر ہے۔ یہ خلا پورا نہیں کیا جاسکے گا۔ ان کے والد وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر اپنے استعفوں سے رحم کی اپیل بھی کی تھی۔ سپریم کورٹ میں وہ جس عزت، احترام اور اپنائیت سے ملتی تھیں دل میں گھر کر جاتی تھیں۔ طبیعت اور مزاج میں سادگی عام نارمل لباس میں ان کی شخصیت ان کی وجاہت اور بڑے پن کا پتہ دیتی تھی۔ سپریم کورٹ میں الیکشن ایکٹ کے حوالے سے ترمیم پر میری درخواست ہے بات ہوئی تو میں نے بتایا کہ میرا مو¿قف ختم نبوت کی شقوں سے متعلق زیادہ ہے کہنے لگیں جب آئین میں متفقہ انہیں اقلیت قرار دے کر قانون سازی کردی گئی تو اسے چھیڑنے کی ضرورت کیا تھی البتہ ان کو آزادی سے زندہ رہنے کا حق ہے جیسے دوسرے پاکستانی رہتے ہیں مگر یہ لمبی منصوبہ بندی سے اس طرح کی ترامیم کی جاتی ہیں یا کروائی جاتی ہیں ایسے ہاتھ بے نقاب ہونے چاہئیں مگر یہاں سے اس حوالے سے کچھ نہیں ہوگا۔ پارٹی صدر کی ایک شق ختم کرائی جائے گی۔ وہ قانون اور آئین کے حوالے سے گہری نظر رکھتی تھیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ بعض سیاسی اور آئینی معاملات میں رویہ کیا ہے اور فیصلہ کیا آئے گا کے باوجود جدوجہد پر یقین رکھتی تھیں۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بعض اوقات کچھ زیادہ آگے نکل جاتی تھیں جس کی وجہ سے ان پر جانب داری کا شبہ کیا جاتا تھا۔ جو لوگ حریت فکر رکھتے ہیں اور معاشرے میں ناہمواری‘ ظلم اور زیادتی کےخلاف کھڑے ہوتے ہیں ان کا ایک رویہ بھی بن جاتا ہے کیونکہ ان پر بے جا تنقید کے علاوہ بھی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے لوگوں کی قدر کی جائے۔ ان کی نیت پر شبہ نہ کیا جائے جو جبر اور ظلم کےخلاف کھڑا ہے اور وہ بھی بے لوث تو اس کی نیت بھی صاف ہوگی ورنہ وہ جبر اور ظلم والوں کےساتھ کھڑا ہوجائے گا جبکہ اس معاملے میں ان کی ذات ملوث نہ ہو حق مغفرت کرے تو ایک حریت پسند اور اپنے مو¿قف پر ڈٹی رہنے والی شخصیت سے محروم ہوگئے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved