تازہ تر ین

سرائیکی لیڈروں سے چند گزارشات (1)

ضیا شاہد ……..خصوصی مضمون
گزشتہ دنوں ملتان میں روزنامہ” خبریں“ کے فورم ہال میں سرائیکی لیڈروں کو دعوت دی اور اس کا اشتہار چھپا تو متعدد قارئین نے فون کرکے گلہ کیا کہ جنوبی پنجاب میں صرف سرائیکی نہیں رہتے‘ یہاں اردو بولنے والے مہاجر بھی ہیں۔ پنجابیوں کی بڑی تعداد بھی موجود ہے۔ ملتان اور دیگر شہروں اور قصبوں میں روہتکی حضرات بھی آباد ہیں‘ پھر آپ نے صرف سرائیکی لیڈروں کو کیوں مدعو کیا؟ ان گزارشات کے حوالے سے میں اپنی بعض سوچوں میں پڑھنے والوں کو شامل کرنا چاہتا ہوں۔
برسوں پہلے جب ملتان سے روزنامہ ”خبریں“ کا آغاز ہوا اور میں نے سرائیکی بولنے والے مردو خواتین کے بارے میں اس لئے بطور خاص خبریں چھاپنا شروع کیں کہ جنوبی پنجاب کے ان شہروں میں جہاں اخبار پہنچتا ہے‘ سرائیکیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ میں ”سن آف سائل“ کی تھیوری سے متفق نہیں اور میرے خیال میں پاکستان بننے کے بعد مشرقی پنجاب کے علاوہ ہندوستان کے دیگر حصوں سے جو لوگ نقل مکانی کرکے پاکستان کے مختلف شہروں اور قصبوں میں آباد ہوئے ان کا بھی اس زمین پر اتنا ہی حق ہے جتنا مقامی لوگوں کا بلکہ سچ پوچھیں تو 1947ءمیں جب میرا خاندان مشرقی پنجاب سے تین ماہ کے عرصے میں پیدل چلتا ہوا پاکستان پہنچا اور جب لاہور سے ہم ٹرین کے ذریعے براستہ سمہ سٹہ بہاولنگر تک سفر کے بعد منزل مقصود پر پہنچے جہاں شہر سے دو اڑھائی میل کے فاصلے پر میرے نانا میاں نظام الدین کی زرعی زمین جو تقسیم سے بہت عرصہ قبل یہاں منتقل ہوچکے تھے اور محکمہ انہار کی سرکاری ملازمت کے بعد ریٹائرمنٹ کی زندگی بسر کررہے تھے اور جہاں 30‘ 32 میل کے فاصلے پر ہارون آباد میں میرے والد کی زرعی زمین تھی جو انہوں نے بہاولپور میں نہریں بننے کے بعد قسطوں پر خریدی تھی تو سارے شہر سے مقامی لوگوں نے ہمارا ایسا استقبال کیا تھا جیسے انصار مدینہ نے رسالت مآب کے ساتھ آنے والے مہاجروں کو خوش آمدید کہا تھا۔ یہ داستان صرف ایک بہاولنگر میں آنے والے مہاجروں کی نہیں بلکہ پشاور سے کراچی تک مقامی باشندوں نے اسی طرح ان کی آﺅبھگت کی تھی‘ کئی روز تک ہمارے اڑوس پڑوس کے لوگ سالن اور روٹیاں ہمارے گھروں میں پہنچاتے رہے تھے تاکہ وہ جن کا قصور صرف ایک تھا کہ وہ کلمہ گو تھے۔ لہٰذا انہیں متعصب ہندوﺅں نے گھروں سے‘ زمینوں سے‘ مکانوں سے باہر نکال دیا تھا اور انہی سکھوں نے جو آج بھارتی ہندو کی بالادستی سے پریشان ہیں،اس زمانے میں دہشت و بربریت کا طوفان بپا کردیا تھا۔ وہ گولی نہیں چلاتے تھے بلکہ تلواروں اور کرپانوں سے مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے تھے۔
میں مانتا ہوں کہ الاٹمنٹ کے قوانین میں رشوت کی بڑی گنجائش تھی مگر سبھی ایک جیسے نہیں ہوتے۔ میں کئی بار لکھ چکا ہوں کہ بہاولنگر میں نانا کے ایک چھوٹے سے عارضی گھر میں جہاں وہ گاﺅں سے آکر وقتی طور پر ٹھہرتے تھے ہمیں جائے پناہ ملی لیکن ایک دو منزلہ مکان جو سجا سجایا اور سامان سے بھرا ہوا تھا جسے کوئی مالدار ہندو خاندان اچانک چھوڑ کر ہندوستان چلا گیا تھا‘ ہمیں دکھایا گیا۔ تو میری والدہ نے گھر میں داخل ہوتے ہی یہ کہہ کر اول تو ہمیں ہندوﺅں کا چھوڑا ہوا گھر نہیں لینا کیونکہ اس علاقے میں زرعی زمین ہے اور رہائش کے لئے کوئی گھر نہیں تو بھی ہم بچوں کے نانا کے چند مرلے میں بنے ہوئے گھر کے اندر رہ سکتے ہیں۔ اگر ہمیں کوئی گھر لینا ہوا تو بھی یہ دو منزلہ مکان جس کی ہر منزل میں پانچ پانچ کمرے ہیں ہم اس کے اہل نہیں ہوسکتے کیونکہ اگرچہ بچوں کے والد تحصیلدار تھے اور گاﺅں میں پختہ گھر تھا مگر اس کے کمرے صرف تین تھے۔ ہم جھوٹ بول کر اتنی بڑی پراپرٹی الاٹ نہیں کروا سکتے۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بہت سے لوگوں نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ جھوٹ بول کر فریب سے بڑی بڑی زمین اور جائیدادیں الاٹ کروائیں اور رشوت کا یہ نظام دراصل پورے پاکستان میں جائز اور ناجائز کی تفریق کو ختم کرگیا لیکن آج کئی برس گزرنے کے بعد میں اس نکتہ نظر کے بھی خلاف ہوں کہ جس بھی علاقے میں مہاجروں کو جو زمین یا جائیداد صحیح یا غلط الاٹ کروائی ہو وہ اس سے چھین لی جائے۔ میرے چھوٹے سے خاندان نے کوئی زمین الاٹ نہیں کروائی کوئی گھر یا پراپرٹی کےلئے کلیم نہ کیا لیکن جن لوگوں نے کیا تھا اگر ان میں سے بعض کو جائز حصے سے کہیں زیادہ مل گیا ہے تو نصف صدی سے بھی زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد اس پنڈو رہ باکس کو نہیںکھولنا چاہتا۔
میں سمجھتا ہوں کے آج پاکستان میں 1947ءسے احتساب شروع کیا جائے تو بہت سی نا انصافیاں ملیں گی لیکن کیا یہ ممکن ہو گا؟ کیا کئی نسلیں گزارنے کے بعد ہم گلی ،گلی محلے، محلے اور شہر شہر پر لڑائی شروع کر سکتے ہیں؟ شاید جو جہاں ہے وہ وہی رہے کی بنیاد پر پوری عوام کو ایک سمجھوتا کرنا ہو گا ۔ور نہ ہم انارکی اور خانہ جگی کے لئے فضا ہموار کریں گے۔
میں بہاول نگر میں قیام کے دوران سکول میں داخل ہوا‘ پانچویں جماعت تک وہاں پڑھا‘ آج کل بہاولنگر، بہاولپور اور رحیم یار خان یعنی سابق ریاست بہاولپور کو بھی بعض سرائیکی دانشور سرائیکی علاقہ شمار کرتے ہیں حالانکہ ہم نے اپنے بچپن میں گاﺅں اور شہر کی سطح پر کبھی سرائیکی لفظ نہیں سنا تھا وہ لوگ جو پنجابی اور اردو بولنے والے مہاجر نہیں تھے اور مقامی شمار ہوتے تھے ان کی زبان تھوڑی مختلف ضرور تھی مگر وہ سرائیکی نہیں تھی جو ملتان اور مظفر گڑھ میں بولی جاتی ہے وہ خود اپنی زبان کو ریاستی کہتے تھے‘بچپن میں جب میں ملتان رہتا تھا تب بھی ملتان میں سرائیکی نہیں ملتانی بولی جاتی تھی، جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے لفظ سرائیکی شاید 1971ءکے لگ بھگ سامنے آیا جب بقول نخبہ لنگاہ کے پنجاب کے زیریں علاقوں میں ریاستی ڈیروی ، ملتانی‘ جھنگوچی اور ہندکو وغیرہ کی جگہ لفظ سرائیکی منتخب کیا گیا اور بیرون ملک تاج لنگاہ کی اسی تعلیم یافتہ بیٹی نے اپنے لیکچر میں یہ تسلیم کیا ہے کہ سرائیکی کا لفظ 1971ء کے بعد کی پیداوار ہے ۔ مجھے نہ سرائیکی لفظ پہ کوئی اعتراض ہے اور نہ مجھے سرائیکی تنظیموں اور جماعتوں سے کوئی اختلاف ہے۔ جنوبی پنجاب کی اصطلاح پر آکر سرائیکی لیڈر شکایت کرتے ہیں اور بعض انتہا پسند تو اسے گالی قرار دےتے ہیں مجھے ان کی اس سوچ کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہنا‘ میں نے بہرحال اپنے اخبار کی ابتداءہی سے جنوبی پنجاب کی اصطلاح آسانی کی خاطر استعمال کی کہ عوام کے مسائل سے مجھے گہری دلچسپی رہی ہے۔ میں نے پانچ سال یعنی چھٹی جماعت سے 10 ویں تک ملتان میں تعلیم پائی اور اس عمر کی دوستیاں ساری عمر چلتی ہیں۔ ملتان شہر سے میری وابستگی اسی حوالے سے ہے۔ میںملتان کو خوشحال، سُکھی اور مسائل سے پاک دیکھنا چاہتا ہوں اسی سوچ میں سیاست کا ذرہ برابر بھی حصہ نہیں‘ میں عمرکے جس حصے میں ہوں انسان یوں بھی دنیا داری سے زیادہ اپنی عاقبت کے بارے میں سوچتا ہے لیکن جب میںنے اس علاقے کے عوام بشمول سرائیکی لوگوں کے مسائل کے بارے میں لکھنا شروع کیا کہ یہاں تعلیم کی سہولت نہ علاج کی ،صنعت نہ ہونے کی وجہ سے پرائیویٹ ملازمتیں بھی نہیں۔ پنجاب میں لاہور اور گردونواح پر جو خرچ ہوتا ہے اس کا عشر عشیر بھی جنوبی پنجاب بشمول سابق ریاست بہاولپور کے شہروں پر خرچ نہیں ہوتا ۔ ”خبریں “کا آغاز ہوا تو کئی برس تک جاگیردارانہ سوچ کے خلاف جہاد کرنا پڑا، دھمکیاں‘ مقدمات، مخالفت، سبھی کچھ۔ یوں لگتا تھا بھڑوں کے چھتے کو چھیڑ دیا ہے اس علاقے میں زور والے مظلوم پرجی بھر کر ظلم ڈھاتے تھے اور شاید آج بھی اسی ظلم کے اثرات موجود ہیں۔ سرشام ملتان شہر کی سڑکوں پر قناعتیں لگا کر انہیں بند کرنا ٹریفک کو روک دینا اور سرعام مجرے کرانا میں نے پہلی بار ملتان ہی میںدیکھا ۔جنوبی پنجاب ہی میں غربت کے باعث لوگوں کو چند روپوں کے لالچ میںپیسے کے ہاتھوں بکتے دیکھا‘ یہاں کے ظالم زمینداروں کوناراضگی کے عالم میں ”بے ادب“ مزارعوں پر کتے چھوڑتے دیکھا ۔لگتا تھا قانون یہاں تک پہنچے پہنچتے کچھ کمزور پڑ گیا ہے ،صوبائی اسمبلی کارکن ہو یا قومی اسمبلی کا،سینیٹر ہو یاکسی حکمران جماعت کا عہدیدار بیورو کریسی کا وہ زر خرید غلام ہوتا ہے ،کسی ایم این اے یا ایم پی اے کو تنگ کرنا ہو تو اس کے علاقے میں ایسا ایس پی بھیج دو جو اس کی بات نہ مانے، ڈیرہ غازی خان جاتے وقت برسوں پہلے میں نے جابجا سڑک کنارے پرائیویٹ اکیڈمیاں دیکھیں ، جن میں طالب علموں سے نقد فیس لے کر انہیں میٹرک ، ایف اے یا بی اے کروایا جاتاہے۔ اس لیے کہ سرکاری تعلیمی ادارے کم ہیں اور وہاں پڑھائی بھی نہیں ہوتی میں نے دیکھا کہ ایک کمرے کے سکول میں پانچ جماعتیں اور دو کمرے کے سکول میں آٹھ جماعتیں پڑھائی جاتی تھیں، خواتین کے سکولوں کی حالت قابل رحم تھی، ٹیچر کیونکہ دور سے آتی تھی لہٰذا ہفتے میں دو ایک دن سے زیادہ حاضر نہیںہوتی تھی۔ ایک زمانے میںگھوسٹ سکولوں کی بھرمار ہوتی تھی یعنی موقعپر کچھ نہیں مگر کاغذوں میںسکولوں کا خرچ اورتنخواہیں علاقے کا کوئی بااثر شخص وصول کرتا تھا۔ غریب کی زندگی اجیرن تھی اور شاید آج بھی ہے۔ میں نے اپنے اخبار کے ذریعے جن لوگوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی ، ”انعام “کے طور پر انہوں نے مجھے بلیک میلر کا خطاب دیا۔مگر میں نے ہمت نہ ہاری اور اپنی پالیسی پر ڈٹارہا۔
برسوں پہلے ایک قومی اخبار کے ایک سینئر ایڈیٹر نے جس کے پاس میں نے زندگی کے 9،10 برس بطور ماتحت گزارے تھے مجھے بلایااور کہا یہ تم کیا کررہے ہو ،یہ سرائیکی لوگوں کو ”خبریں“ میں چھاپ کر اٹھارہے ہو، تم نہیں جانتے یہ سانپ ہیں جو ایک دن تمہیںبھی ڈس لیں گے۔میںنے کہا میں سرائیکی،پنجابی ،روہتکی کے جھگڑے میں نہیں پڑتا میں تو سارے جنوبی پنجاب کے پسے مظلوموں کے لیے کوشش کررہا ہوں۔
اس طویل مگر ضروری تمہیدکے بعد میں اپنی زبان سے اپنے اخبار کی تعریف میں کچھ نہیں کہنا چاہتا ۔ جنوبی پنجاب کے لوگوں نے خود محسوس کیا اور اس کی وجہ ہے کہ میں نے لاہور میں جہاں سے اخبار شروع کیا تھاسرکولیشن کے حساب سے پہلے تین اخبار وں میں شامل نہیں لیکن جنوبی پنجاب میں ” خبریں“ بلامبالغہ پہلے نمبر پر شمار کیا جاتاہے۔ شاید میری ناچیز کاوشوں کو لوگوں نے سراہا ہے، میں نے پنجابی میں اخبار نکالا، آج ”خبریں“ میں پنجابی کا ہفتہ وار صفحہ بھی چھپتاہے لیکن ملتان ایڈیشن میں سرائیکی کا صفحہ بھی مدت سے چھپ رہا ہے۔ میں تو سندھی اخبار”خبرون“ بھی چھاپتاہوں۔
میرے بیٹے عدنان شاہد نے انگزیزی اخبار”دی پوسٹ“بھی نکالا تھا شاید پشاور میں خبرونہ کا ڈیکلریشن کسی اور کے پاس نہ ہوتا تو وہاں سے بھی پشتو اخبار شروع کرتا، مجھے پرویز مشروف کے دور میں سب سے زیادہ زبانوں میں روزانہ اخبار چھاپنے پر صدراتی ایوارڈ تمغہ امتیاز بھی ملا۔
اب میں سرائیکی لیڈروں سے کچھ کہنا چاہتاہوں جنہیں میں نے بڑی عزت و احترام سے سرائیکی مشاورت کے لیے دفتر ”خبریں“ میں بلایا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ میں پاکستان میں صوبوں کی ازسرنوتقسیم کا شروع سے حامی رہا ہوں اور ہر دور کے حکمرانوں سے میں نے اس موضوع پر بات ضرور کی۔ البتہ میں اس بحث سے الگ رہتا ہوں کہ سابق ریاست بہاولپور اور ملتان مظفرگڑھ کو ملاکر ایک صوبہ بنایا جائے یا جنوبی پنجاب میں سابق ریاست بہاولپور کو بقول ہمارے دوست محمد علی درانی کے بحال کرد یا جائے۔ کیونکہ ان کا موقف تھا کہ ون یونٹ سے پہلے یہ صوبائی شکل یا حیثیت رکھتا تھا میرا موقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ اگر سابق ریاست بہاولپور کے لوگ الگ صوبہ چاہتے جیسا کہ 2013 ءکے الیکشن کے بعد پنجاب اسمبلی سے بھی قراردادمنظورکی گئی تھی تو کوئی حرج نہیں اور اپنے سرائیکی کالم نگار ظہور دھریجہ کے خیال میں اگرسابق ریاست بہاولپور اور ملتان ، مظفر گڑھ، ڈی جی خان کو ملا کر ایک بڑا صوبہ بنایا جائے تو بھی مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں البتہ میں اس نکتہ نظر کا حامی نہیں ہوں کہ سرائیکی جہاں جہاں رہتے ہوں یعنی ڈی آئی خان سے سرگودھا تک سرائیکی صوبہ بنادیا جائے۔ میں سرائیکی لیڈروں سے بھی مشاورت کرنا چاہتا تھا کہ آپ اپنے علاقے میں الگ صوبہ چاہتے ہیں تو آئین پاکستان میں تبدیلی کرنا ہوگی چونکہ اس کے آرٹیکل ون کا پہلا حصہ یہ ہے کہ پاکستان چار صوبوں پر مشتمل ہے، یعنی پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان، آئینی ترمیم کیلئے پہلے صوبائی اور آخر میں قومی اسمبلی اور پھر سینیٹ کی دو تہائی اکثریت جب تک متفق نہ ہو، نہ آئینی ترمیم ہو سکتی ہے اور نہ ہی صوبہ بن سکتا ہے۔ لہٰذا چھوٹی چھوٹی سرائیکی پارٹیاں خواہ مجھ سے کتنی خفا کیوں نہ ہوں، حقیقت یہ ہے کہ وہ کبھی آبادی کی تعداد کے حساب سے نہ تو پنجاب اسمبلی میں اکثریت میں آسکتی ہیں اور نہ ہی قومی اسمبلی میں فی الحال وہ صرف شوربپا کرسکتی ہیں کیونکہ ماضی میں یہ ثابت ہوا کہ وہ صوبائی اسمبلی کی ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکیں، پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر وہ صوبہ بنانے میں مخلص ہیں تو پہلے اپنے درمیان اتحاد کیوں نہیں پیدا کرتے؟ اور ہر قابل ذکر شخص نے اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کیوں بنا رکھی ہے؟ پھر یہ بھی بات ہے کہ اگر تمام چھوٹی بڑی سرائیکی سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں ایک انتخابی الائنس کی شکل اختیار کرلیں تو بھی ممکن ہے ایک آدھ صوبائی اسمبلی کی سیٹ نکالنے میں کامیاب ہو جائیں، لیکن قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ان کی اکثریت کیسے ہوسکتی ہے؟ پھر سب سے بڑا مسئلے جس کی طرف میں نے نیک نیتی سے سرائیکی لیڈروں کی طرف توجہ دلوائی کہ وہ جونہی سب ملکر بھی سرائیکی کاز کے مسئلہ پر الیکشن لڑیں گی تو ہر قصبے ، شہر اور علاقے میں نان سرائیکی ووٹ نہ صرف انہیں نہیں ملے گا بلکہ ان کے امیدوار کے مقابلے میں دوسرے لوگ راستہ روکنے کیلئے دل و جان سے مخالف امیدوار کی مدد کریں گے۔
دوسراطریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ پہلے سرائیکی الائنس بناکر یہ لوگ اپنا پریشرگروپ بنائیں اور پھر اسی گروپ کی بنیاد پرمسلم لیگ (ن) ،پیپلزپارٹی، یاتحریک انصاف سے سرائیکی ووٹ کی بنیاد پر اپنے لیے کچھ مراعات چاہیں اوران سے کوٹے کی شکل میںکچھ سیٹوںکا تقاضاکریں اور مجموعی طور پر ان سے تحریری اور عوامی سطح پر معاہدہ کریںکہ وہ جنوبی پنجاب میں الگ صوبے کی شکل میں اپنی بھرپورتوجہ صرف کریں گے۔ یہاں یہ امر بھی ضروری ہے کہ موجود شکل میں کم و بیش 30 سیاسی جماعتیں یا تنظیمیں نہ کسی سے کوئی سودا بازی کرسکتی ہیں نہ خود کوئی سیٹ جیت سکتی ہیں۔ اور نہ اس منتشر ہجوم کو کوئی سیٹ پیش کرسکتا ہے۔ اس کے برعکس بڑی سیاسی جماعتیں اس لیے بھی صوبے کے سرائیکی نام سے شاید بدکتی ہیں کہ انہیں نان سرائیکی ووٹ بھی حاصل کرنا ہے۔ میرے دوست جاوید ہاشمی نے اس سلسلے میں تفصیل سے مجھے سمجھایا تھا کہ ہمیں دیہات میں پھیلے ہوئے پنجابی اور روہتکی ووٹ کی ازحد ضرورت ہوتی ہے اور میں سرائیکی ہونے کے باوجود انہیں نظرانداز نہیں کرسکتا اور ان کا بہت خیال رکھتا ہوں۔(جاری ہے)
٭….٭….٭

 

دوسری طرف اس میں کوئی شہر نہیں کہ جنوبی پنجاب میں رہنے والے پنجابی اردو سپیکنگ مہاجر، روہتکی، بلوچ، پٹھان وغیرہ اپنے علاقے صوبے کے قیام کے حامی ہیں تاکہ انہیں قومی وسائل میں سے آبادی کے مطابق فنڈ مل سکیں اور انہیں لاہور نہ جانا پڑے اس سلسلے میں رحیم یار خان ہو یا ڈیرہ غازی خان اور جام پور ان علاقوں کے لوگوں کو خصوصی کاموں کیلئے بھی لاہور کا سفر کرکے کیا جو دس گیارہ گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے۔ وہ بھی اس شرط پر کہ کوئی براہ راست گاڑی یا بس مل جائے۔ سرائیکی لیڈر اگر سرائیکستان کا شور کا نہ مچاتے جس اصطلاح کے بعض نان سرائیکل لوگ خوفزدہ ہوتے ہیں تو ملتان، مظفرگڑھ، ڈی جی خان میں ملتان، وسیب، پنجند وغیرہ کا نام استعمال کیا جاتا تو علاقے کے کئی زبانیں بولنے والے اس مہم میں شامل ہوسکتے تھے۔ لیکن سرائیکی لیڈروں کے شور شرابے سے نان سرائیکی خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ سرائیکیوں کا صوبہ بنا کر نان سرائیکی بھی شہری نہ بن جائیں۔ سرائیکی تنظیموں اور لیڈروں میں مجھے کوئی ایک بڑا نام ایسا نظر نہیں آتا جس کے پیچھے سب لگ سکیں، اکثر جماعتیں اور تنظیمیں لیٹر پیڈ کی حد تک محدود ہیں جس پر بیان لکھ کر چھپوائے جاتے ہیں۔ یہی بات چند سال پہلے میں نے کالم نگار ظہور دھریچے کو سمجھانے کی کوشش کی تو اتحاد کے نام پر اپنی نئی سیاسی جماعت کھڑی کر دی اور خود سربراہ بن بیٹھے۔
ہمارے دوست دھریجہ صاحب کی ایک ہی دن میں پانچ مختلف شہروں سے خبریں آئیں تو میں نے ملتان آفس میں نیوز ایڈیٹر کو مذاق میں کہا، فون کیا اور پوچھا کہ کیا ان کے پاس ہیلی کاپٹر ہے؟ وہ خانپور سے ملتان آ رہے تھے وہ جس جس شہر میں گزرتے وہاں سے لیٹر پیڈ پر ان کے ارشادات عالیہ خبریں دفتر پہنچنے لگتے۔ یہی نہیں بلکہ بعض سیاسی پارٹیوں یا تنظیموں کے لیٹر پیڈ روزنامہ خبریں ملتان کے بعض سابقہ کارکنوں کے پاس بھی تھے جب وہ خبریں سے منسلک تھے۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved