تازہ تر ین

ویلنٹائین ڈے اور فحاشی کا استعارہ

پروفیسر فاروق عزمی….اظہار خیال
دین اسلام دین فطرت ہے اور فطرت نے انسان کو اس طرح تخلیق کیا ہے کہ اس کے بدن اور روح کے تسکین کے ذرائع اور اسباب بھی پیدا فرما دیئے ہیں۔ لیکن بدن اور روح کی سچی خوشیاں اور حقیقی تسکین اور اطمینان صرف اور صرف انہی راستوں اور طریقوں پر عمل پیرا ہو کر حاصل ہو سکتا ہے۔ جو دین برحق نے بنی نوع انسان کو ہادیِ برحق صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ذریعے ساڑھے چودہ صدیاں قبل بتا دیا تھا اور زندگی کے ہر معاملے میں رہنمائی فرما دی تھی ساتھ ہی ساتھ زندگی گزارنے کے اصول و ضوابط بھی مقرر کر دیئے تھے۔ اگر انسان اور خصوصاً مسلمان ان حدود و قیود میں رہ کر اپنی زندگی بسر کریں تو خوشی و مسرت اور حقیقی اطمینان قلب حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم مسلمانوں کے لئے اللہ رب العزت نے ہمارے دین میں ہمارے دو تہوار (عیدین) شامل کر دیئے ہیں جو ہمارے لئے حقیقی خوشی کا پیغام لے کر آتے ہیں۔ جنہیں اگر اسلام کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق منایا جائے تو حقیقی خوشیاں بہت سادگی اور آسانی سے حاصل ہو جاتی ہیں۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ ہم مسلمانوں نے غیر مسلموں اور مغربی معاشروں کی نقالی کرتے ہوئے غیروں کے بے ہودہ طور طریقے اور تہوار اپنے ”معاشرے“ اور طرز زندگی میں داخل کر لئے ۔جس سے ملک و معاشرے میں بے راہ روی اور خرابیاں وبا کی طرح پھیل گئیں۔ ہم نے بنا تحقیق کئے ۔اپریل فول،ویلنٹائن ڈے ، بسنت، دیوالی اور کئی تہوار جوش و خروش اور شوق سے منانا شروع کر دیئے۔
تہوار بنیادی طور پر کسی بھی معاشرے کی ثقافت کے امین ہوتے ہیں ۔اور وہ اس کی سوچ اور عمل کی عکاسی کرتے ہیں۔ ویلنٹائین ڈے غیر اسلامی تہوار ہے جو ایک یہودی شخص ”مسٹر ویلنٹائن“ کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ یہ شخص بغیر شادی کیے عورت اور مرد کے ایک ساتھ رہنے اور نا جائز تعلقات قائم کرنے کو جائز سمجھتا تھا۔ جس پر اس کو 14فروری 1488ءکو سزائے موت دے دی گئی۔ اس کی پھانسی کے بعد اس کے نظریات درست ماننے والوں اور اس کی پیروی کرنے والوں نے اس کی یاد میں ہر سال 14فروری کو ”ویلنٹائن ڈے“ منانا شروع کر دیا اور اس بے ہودہ شخص کی طرح عورت اور مرد کے ناجائز طریقے سے ملنے اور بے حیائی پھیلانے کے اس عمل کو ”اظہار محبت“ کا نام دے دیا۔ افسوس صد افسوس کہ اب مسلمانوں نے بھی اور خاص طور پر پاکستان میں نوجوان نسل نے اس بے حیا، بیہودہ اور بے شرم یہودی نسل کی طرح اس دن کو باقاعدگی اور اہتمام سے منانا شروع کر دیا ہے اور اس دن لڑکیاں، لڑکے،عورت اور مرد ایک دوسرے سے اظہار محبت کرتے ہیں اور پھولوں اور تحفوں کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ اور یوں اسلامی روایات اور اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ہم بغیر سوچے سمجھے کسی بھی چمکتی دمکتی چیز کو اپنی زندگی میں داخل کر لیتے ہیں اور نہیں سوچتے کہ اس کے کتنے منفی اثرات ہمیں اور ہماری نسلوں کو متاثر کریں گے اور معاشرے کی بربادی اور تباہی کا باعث بن جائیں گے۔
ٹیلی وژن چینل کی بھر مارنے بھی معاشرے کو بگاڑنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ غیر ممالک کی ڈرامہ سیریل اردو اور مقامی زبانوں میں ڈب کر کے چلائی گئیں اور نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستانی عورت کے سر سے دوپٹہ اور برقعہ فیشن کی آندھی میں اور غیروں کی اندھی تقلید میں یوں غائب ہو گیا کہ عورت کو احساس زیاں بھی باقی نہ رہا۔ پاکستانی لباس شلوار قمیض جو ہمارے ملک و ثقافت کی پہچان اور مسلمان عورت کے لئے باپردہ اور باحیا لباس تھا۔ اس طرح مفقود و متروک ہوتا جا رہا ہے کہ شلوار کی جگہ پاجامے کی شکل میں بے حیائی اور بے ہودگی نے خواتین لڑکیوں اور بچیوں کو تقریباً برہنہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی کو میرے الفاظ زیادہ سخت اور ناگوار محسوس ہوں اور وہ مجھے دقیانوسی اور آﺅٹ آف فیشن قرار دے دے لیکن تنگ پاجامے اور کمر سے اونچے چاکوں والے کرتے پہن کر بازاروں ، دفتروں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آتی جاتی بچیوں اور خواتین کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ یہ مسلمان گھرانوں کی صوم و صلاة کے پابند ماں باپ کی بیٹیاں ہو سکتی ہیں۔ سڑکوں پر دوڑتی ہوئی موٹر سائیکلوں کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی بچیوں کو دیکھ کر نظریں شرم سے جھک جاتی ہیں ۔ پاجامہ جو ایک وبا کی طرح معاشرے میں پھیلا ہے اس نے میرے وطن کی بیٹیوں کو اس قدر بے پردہ کر دیا ہے کہ غیرت سے ڈوب مرنے کا مقام ہے ۔ مجھے اکبر الہ آبادی بے طرح یاد آ رہے ہیں۔
بے پردہ نظر آئیں جو کل چند بی بی یاں
اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو میں نے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
کہنے لگیں ، عقل پہ مردوں کی پڑگیا
اس میں نوجوان نسل کا اتنا قصور نہیں جتنا والدین کی تربیت اور لاڈ پیار کے نام پر بے مہار اور مادر پدر آزدی دینے کی انتہائی نقصان دے روش کا ہے۔ جسے بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔
سوچنے کی بات ہے آج ہم یہودیوں کا دن ”ویلنٹائن ڈے“ منا رہے اور جواز یہ فراہم کیا جاتا ہے کہ ”اظہار محبت“ میں کیا خرابی ہے؟ لیکن اسلامی نقظہ نظر سے اسلام میں غیر مردوں غیر عورتوں کا ایک دوسرے سے ملنا اور اظہار محبت کرنا منع ہے۔ پاکستان میں گزشتہ چند سالوں سے اس دن کو جشن کے طور پر منانے کا جذبہ نوجوانوں میں جوش پکڑتا جا رہا ہے۔ اور اس سلسلے میں لبرل طبقہ پیش پیش ہے۔ ویلنٹائن کا تصور 90ءکی دہائی کے آخر میں ریڈیو اور ٹی وی کی خصوصی نشریات کی وجہ سے زیادہ مقبول ہوا اور یہ وبا ہمارے شہروں میں تیزی سے پھیلتی چلی گئی ۔ اس میں کاروباری حضرات بھی ایک دو دن میں زیادہ سے زیادہ روپیہ کمانے کی ہوس میں اسے نت نئے انداز سے پروموٹ کرنے لگ گئے۔ دکانوں پر سرخ گلاب کے پھول، سرخ غبارے اور دل کی شکل کے بنے ہوئے کارڈ فروخت ہونے لگے۔ پاکستان میں اس پر کسی طرح کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ لڑکیاں ، لڑکے اور عورتیں مرد، دھڑلے سے اور کھلے عام یہ چیزیں خریدتے ہیں اور اپنے دوستوں کو تحفہ دیتے ہیں۔ ہوٹلوں، پارکوں اور دیگر جگہوں پر تنہائی میں ملنے اور ”اظہار محبت“ کرنے کا بندوبست کیا جاتا ہے۔یہیں سے ”ڈیٹنگ“ کا تصور جو یورپ میں عام ہے اسلامی معاشرے میں رواج پانے لگا ہے۔رہی سہی کسر دور جدید کے تیز ترین مواصلاتی ذرائع نے پوری کر دی ہے اور انٹرنیٹ نے نوجوان نسل کو خصوصاً ایک ایسی دنیا تک رسائی فراہم کر دی ہے کہ اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے اور رشتوں کا تقدس تک فنا ہو گیا ہے۔
موسم بہار کی آمد پر پاکستان، ہندوستان اور اس خطے کے دیگر ممالک میں بسنت کا تہوار منایا جاتا ہے ۔ شکر ہے اب پاکستان میں بسنت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ حکومت کا ایک اچھا اور احسن اقدام ہے۔ لیکن منچلے ہلہ گلہ کرنے ناچ گانے اور ناﺅ نوش کا شوق پورا کرنے کے لئے ”ویلنٹائن ڈے “ کی طرف متوجہ ہو گئے ہیں۔ ویلنٹائن ڈے جیسے تہوار منانے کی اسلامی میں کتنی گنجائش ہے اور ان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اس سلسلے میں بنیادی طور پر دو نقطہ ہائے نظر ہیں۔ ایک مذہبی ہے اور دوسرا سیکولر ۔ سیکولر طبقہ کی حقیقت ہلڑ بازوں اور لفنگوں کے کردار سے واضح ہو جاتی ہے۔ بسنت اور ویلنٹائن ڈے اوباش طبقہ کی سیکولر سوچ اور کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ کیونکہ یہ تہوار دراصل اسی طبقہ کے لوگ مناتے ہیں جب کہ ان من چلوں کی تائید کے لئے سیکولر طبقہ کے نام نہاد، دانشوری بگارنے پر اتر آتے ہیں۔ یہ مغربی تہذیب کے دلدادہ، مختلف ”این جی اوز“ کا سہارا اور اشارہ پا کر تفریح، خوشی اور اظہار محبت کے نام پر لہو لعب، شورو غل ، ہلڑ بازی، بدتمیزی، بے شرمی اور بے حیائی کے ایجنڈے کو پروان چڑھانے کے مواقع پیداکرتے ہیں تاکہ اسلامی روایات اور کلچر پر جدیدیت اور آزاد خیالی کا لیبل لگا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کر سکیں۔ یہ طبقہ اس وقت خم ٹھونک کر کھڑا ہو جاتا ہے جب کوئی اس کی مادر پدر آزادی، تفریح اور عیاشی کی راہ میں حائل ہونے یا اسے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ کبھی نہیں چاہتا کہ کوئی اس کے تفریح کے لمحات کو پھیکا کرے۔
(کالم نگارسماجی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭

 

جب سمندر میں اونچے درجے کا طلاطم پیدا ہوتا


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved