تازہ تر ین

مسلم لیگ ن کا انکلوں سے نجات کا فیصلہ

عبد الودود قریشی
مسلم لیگ (ن) نے پارٹی میں تطہیر کا فیصلہ کر لیا ہے جس پر عمل تین مرحلوں میں کیا جائے گا مسلم لیگ (ن) میں پیپلزپارٹی سے وارد ہونے والے پیپلزپارٹی کو ہی ہر دلعزیز سمجھتے ہیں ان کے خیال میں مریم نواز کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کو پیپلزپارٹی کی طرز پر ہونا چاہئے اور مریم نواز شریف بے نظیر بھٹو کی طرز پر لیڈر بن کر ابھریں گی تو مسلم لیگ (ن) مزید 25 سے 30 سال اقتدار میں رہ سکتی ہے۔ اس طرح اقتدار میں 70 سال گزارنے کے بعد مسلم لیگ ن پاکستان میں ناقابل شکست پارٹی ہو گی ۔میاں نوازشریف کی قیادت میں مسلم لیگ 35 سال سے اقتدار میں ہے اور وہ اپنی طبعی زندگی پوری کر چکی ہے جس میں اَب عوام کی دلچسپی کم سے کم ہوتی جائے گی کیونکہ 35 سال سے عوام کے ساتھ جو وعدے انہی چہروں کے ذریعے کئے جاتے رہے ہیں جن میں غربت کا خاتمہ روزگار تعلیم اور ایشیا کا ٹائیگر بننا، صنعتی انقلاب وغیرہ شامل ہیں لہٰذا اَب ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم لیگ کا ایک نیا چہرہ سامنے لایا جائے جس کی قیادت میاں نوازشریف کی ہونہار صاحبزادی مریم نوازشریف کریں جبکہ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) میں شامل سینئر ارکان جنہوں نے سیاست میاں نواز سے پہلے یا ساتھ شروع کی تھی مریم نواز کو سر یا میڈم کہنے کو تیار نہیں ایک طرف تو یہ لوگ اپنے ہاتھوں میں پیدا ہونے والے بچوں کو قائد ماننے کو تیار نہیں دوسری طرف مستقبل کے لئے چہرے بدلنے ضروری ہیں لہٰذا بہتر ہے کہ پارٹی سے مریم نوازشریف انکلوں کو فارغ کر دیں پہلے مرحلے میں گزشتہ روز یہ اعلان کیا گیا کہ پارٹی میں ٹکٹ جاری کرنے کا اختیار مریم نوازشریف کو ہی حاصل ہے اس کا مطلب یہ تھا کہ سینٹ اور مستقبل میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں جو لوگ مریم نوازشریف کو قائد ماننے کو تیار نہیں خود بخود گھر بیٹھ جائیں۔ یہ اعلان میاں نوازشریف کو بریف کرنے کے بعد مشورے سے کیا گیا۔ اس کا چودھری نثار علی خان کو ذرائع نے ایک میٹنگ کی گفتگو سنوائی جس میں مستقل کے لئے 30 سالہ منصوبہ کی تفصیلات اور انکلوں سے جان چھڑانے کا معاملہ منظور کیا گیا۔ سردار مہتاب عباسی نے صوبہ کے پی کے کی گورنر شپ منصوبہ بندی اور حساب کتاب سے چھوڑی کہ جب سینٹ کے انتخابات ہوں ان کی گورنر شپ کو چھوڑے دو سال مکمل ہو جائیں انہیں سینٹ کا ٹکٹ دے کر چیئرمین سینٹ بنا دیا جائے مگر جب نئی منصوبہ بندی طے پا گئی تو چودھری نثار علی خان کے ساتھ مہتاب علی انکلوں کی فہرست میں آ گئے اور انہیں سینٹ کا ٹکٹ نہیں دیا گیا وہ صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ، گورنر، صوبائی اور مرکزی وزیر رہ کر ایڈمنسٹریشن کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور پی آئی اے کو منافع بخش بنانے کے لئے بے کار کے ڈائریکٹروں کی تعداد کو گیارہ سے سات پر لے آئے اگر انہیں وقت مل جاتا تو وہ دو سال میں پی آئی اے کو پھر سے اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کی منصوبہ بندی بنا چکے ہیں مگر پی آئی اے کے بیرون ملک ہوٹل جائیدادیں اور پاکستان کے ایئرپورٹ پر لوگوں کی رال ٹپک رہی ہے جنہیں اونے پونے داموں چالیس پچاس سفید حصے داری پر دے دیا جائے گا جبکہ ان پر حکومت پاکستان (عوام) کا اربوں روپیہ لگ چکا ہے دوسری جانب پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نے اسلام آباد سے چار صاحب حیثیت افراد کو سندھ اور بلوچستان سے سینٹ کے انتخابات میں اتارا ہے جن کے مال دولت سے مرعوب ہو کر ارکان صوبائی اسمبلی ان کو ضرور بہ ضرور ووٹ دیں گے اور وہ کامیاب ہو جائیں گے ایم کیو ایم کی بھی چار میں سے تین سیٹیں خطرے میں ہیں اس طرح پی پی پی سندھ سے 10 نشستیں اور بلوچستان سے پانچ نشستیں لے جائے گی پیپلزپارٹی نے اپنی سیاست کو مسلم لیگ کی طرز پر دولت اور ڈرائنگ روم کی سیاست میں تبدیل کر لیا ہے کہ وہ اسے بہتر سمجھتے ہیں مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی بننا چاہتی ہے اور بے نظیر بھٹو کی طرح پارٹی سے انکلوں کو فارغ کرنے کا پروگرام بنا چکی ہے جبکہ موجودہ پیپلزپارٹی 1968ءسے پہلے کی مسلم لیگ بننا چاہتی ہے اِن دونوں پارٹیوں کے کرتا دھرتا اپنی پارٹی کی تاریخ سے بھی نابلد ہیں کہ پیپلزپارٹی بائیں بازو کی اور مسلم لیگ (ن) دائیں بازو کی جماعت سمجھی جاتی ہے اور لوگوں کی ان پارٹیوں میں اکثریت اس نظریہ کی بنیاد پر شامل ہوئی تھی اور ابھی تک ہے مگر قیادت جن لوگوں کے ہاتھ میں آ گئی انہیں خدا، بھگوان، گرو میں نعوز باللہ فرق ہی معلوم نہیں وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر تقسیم کو ایک لکیر سمجھتے ہیں مگر یہ ان کا قصور نہیں کیونکہ اقتدار میں تو جب کلی طاقت ملتی ہے تو اکبر اعظم اپنا دین دین الٰہی جاری کر دیتا ہے وہ جودا بائی کو مسلمان کئے بغیر اپنی بیوی بناتا ہے جس سے پیدا ہونے والی اولاد برصغیر کے مسلمانوں کی حکمران اور قائد بنتی ہے۔ مسلم لیگ سے جن انکلوں کو فارغ کرنے کا فیصلہ ہوا ہے ان سے 65 سال سے زائد عمر کے وہ تمام افراد شامل ہیں جو وزارت، سفارت، وزارت اعلیٰ اور گورنری کے مزے لے چکے ہیں۔ جن لوگوں نے بے نظیر بھٹو کی طرز پر مسلم لیگ (ن) سے انکلوں کو فارغ کروانے کا فیصلہ کروایا ہے وہ تیسرے مرحلے میں خود اِس زد میں آ جائیں گے اور مستقبل میں راجہ ظفر الحق کو بھی سینٹ یا قومی اسمبلی کا ٹکٹ نہیں دیا جائے گا مگر میاں نوازشریف اور مریم نوازشریف کو کیپٹن صفدر اور اسحاق ڈار سمیت بدعنوانی ثابت ہونے پر سزا کے بعد اس منصوبے پر عملدرآمد ممکن ہو گا یا اس کی ضرورت پڑے گی یا پھر یہ انکل ہی مسلم لیگ کی چارپائی کو لے کر مزید پانچ سال تک چل سکیں گے مسلم لیگ (ن) سے فارغ کئے جانے والے انکلوں کو پی ٹی اے نے لینے کا منصوبہ بھی بنایا ہے بشرطیکہ کہ ان کی شہرت اچھی ہو اور ان کا حلقہ انتخاب پی ٹی آئی کی سینئر قیادت سے متصادم نہ ہو۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved