تازہ تر ین

بابارحمتے سے درخواست!

وجاہت علی خان….مکتوب لندن
جناب امیرمینائی نے شایدبابارحمتے جیسا دردِ دل رکھنے والوں کیلئے ہی کہا تھا کہ
خنجر چلے کسی پر تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
اس پیرانہ سالی میں بھی بابا جی اندرون ملک سمیت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کادرد بھی رکھتے ہیں۔ اگلے روز حکومت سے گویا ہوئے اوورسیز پاکستانیوں کوووٹ کا حق دینے کے فوری اقدامات کیے جائیں۔ بابا رحمت سے دست بستہ عرض ہے کہ آپ بڑے قاضی ہیں آپ کو تو بولنا ہی نہیں چاہئے بلکہ انصاف پرمبنی آپ کے فیصلوں کو بولنا چاہئے۔ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کاحق دینے کا مقدمہ بھی آپ کو ازسر نوپڑھنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کے فائدے اورنقصانات آپ کے سامنے آسکیں۔ درست ہے کہ ایک عرصہ سے اوورسیز پاکستانیوں کے ایک حلقہ کی طرف سے ووٹ کے حق کیلئے آوازیں اٹھ رہی ہیں لیکن برطانیہ میں کوئی تین دہائیوں سے مقیم ہونے کی وجہ سے میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستان میں ووٹ کاسٹ کرنے کا حق بالکل نہیں دیاجاناچاہئے‘ ماضی اورموجودہ حکومت پاکستان کا یہ استقلال بالکل درست ہے کہ یہ حق صرف پاکستان کی شہریت رکھنے والوں کو ہونا چاہئے۔ دہری شہریت کے حاملین کو نہیں‘ برطانیہ یا دیگر ملکوں میں مقیم وہ پاکستانی جو پاکستان کے علاوہ کسی دوسرے ملک کی شہریت بھی رکھتے ہیں اور انہوںنے اس ملک سے وفاداری کا حلف بھی اٹھا رکھاہے انہیں پاکستان کی سیاست میں حصہ لینے اورووٹ ڈالنے کا حق بالکل نہیں ہونا چاہئے انہیں ووٹ کاحق چاہئے تو دوسرے ملک کی شہریت ترک کریں‘ درست ہے کہ وہ جہاں رہتے ہیں اگر وہ ملک دوہری شہریت کے باوجود انہیں ووٹ کا حق دیتاہے تو ان کے آبائی ملک پاکستان کو بھی انہیں یہ حق دینا چاہئے‘ لیکن استدلال یہ ہے کہ مثال کے طورپر ہم برطانیہ میں مقیم ہیں اگر ہمیں سیاست کاشوق ہے تو مقامی سیاست میں حصہ لیں اورعوام کی خدمت کریں لیکن اگر انہیں پاکستان کی سیاست کرنی ہے تو برطانوی شہریت ترک کرکے پاکستان جائے اورشوق سے سیاست بھی کرے اورووٹ بھی کاسٹ کرے لیکن برطانیہ میں رہ کر پاکستان کی سیاست کرنے کا مطمع نظر سوائے کرپشن کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے کوئی دوسرا نہیں ہے۔ مثلاً کبھی کسی نے سنا ہے کہ بیرونی ممالک میں مقیم کوئی پاکستانی دوہری شہریت رکھتے ہوئے اپنے ہم وطنوں کی جذبہ خدمت سے سرشار ہو کر پاکستان چلا جائے۔ کوئی پروفیسر‘ وکیل‘ ڈاکٹر‘ انجینئر یا کوئی ملٹی میلنٹر سیاست کی بجائے اپنے شعبہ میں رہتے ہوئے اپنے آبائی ملک جا کر اپنے لوگوں کی خدمت کرے حالانکہ اس معاملہ میں تو انہیں نیشنلٹی چھوڑنے کی بھی ضرورت نہیں‘ ایسا ہرگزکوئی نہیں کرتا سوال یہ ہے کہ انسانیت کی خدمت کیا صرف سیاست میں آکر ہی کی جاسکتی ہے؟ چنانچہ عرض ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کاحق دے کر اوورسیز پاکستانیوں کابھلا نہیں بلکہ انہیں مزید سیاسی گروہوں میں تقسیم درتقسیم کردیا جائے گا دوسرا یہ کہ پاکستان کی پراگندا کرپٹ سیاست بیرونی ممالک میں بھی کی جائیگی یہاں پاکستان کی سیاسی جماعتیں جگہ جگہ اپنے دفاتر بناکر غیر ملکوں میں پاکستان کی بدنامی کا سبب بنیں گی۔
ایوسی ایشن آف پاکستان لائرز برطانیہ کے صدر بیرسٹرامجد ملک نے درست کہا کہ وکیل پوائنٹ پربولتا ہے اورجج فیصلے کے ذریعہ‘ بیرسٹرصاحب ٹھیک کہتے ہیں لیکن میں بابا رحمتے سے یہ درخواست بھی کرنا چاہتا ہوں کہ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ عدلیہ کسی بھی ملک کا پارلیمنٹ کے بعد دوسرا اہم ترین ادارہ ہوتا ہے۔ معروف جملہ ہے کہ جج نہیں بلکہ جج کے فیصلے بولتے ہیں‘ یہ روایت بالکل درست ہے لیکن اس میں تھوڑا سا اضافہ ہے کہ جج کاجہاں انصاف پر مبنی فیصلہ بولتا ہے وہاں اگر کسی فیصلے میں کوئی غلطی ہو جائے تو وہ بھی بولتی ہے اور ایسے فیصلوں بھی صدیوں یاد رکھے جاتے ہیں۔ بابا رحمتے جانتے ہیں کہ قیام پاکستان کے فوری بعد سے ہی ہماری عدلیہ کی کارکردگی کبھی قابل داد اورقابل فخر نہیں رہی۔ ماضی میں ہمارے بہت سے ججوں نے حاکمان وقت کو خوش کرنے کے لئے بعض ایسے فیصلے صادر کیے جن کے نتائج قوم آج تک بھگت رہی ہے اس ضمن میں1954ءمیں مولوی تمیز الدین کیس میں فیڈرل کورٹ اور جسٹس منیر کافیصلہ‘ زیڈ اے بھٹو‘ محمد خان جونیجو کی برطرفی‘ ضیاالحق کامارشل‘ بے نظیر بھٹو کیس‘1993ءمیں نواز شریف کیس‘1972ءمیں عاصمہ جیلانی کیس‘1977ءمیں نصرت بھٹو کیس‘1976ءمیں ولی خان کیس اور اس قسم کے بے شمار مقدمات ایسے ہیں جنہوں نے عدلیہ کی غیر جانبداری پرسوالات اٹھائے ہیں‘ پھر ابھی دو دہائیاں بھی نہیں گزریں‘ جنرل پرویزمشرف کے مارشل لاءکو‘ یہاں بھی عدلیہ نے نظریہ ضرورت کاسہارا لیتے ہوئے فیصلے کیے لہٰذا ایک عام تاثر پاکستان کی عدلیہ اور ججز کے بارے میں یہی ہے کہ اس ادارے کابابا رحمتے آج بھی1954ءوالا ہی ہے‘ یقینا پاکستان کی موجودہ عدلیہ انتہائی سرعت سے بعض سماجی وسیاسی معاملات پر فیصلے بھی کررہی ہے اورازخودنوٹس لینے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتی لیکن بات پھربھی وہیں آکر رکتی ہے کہ بابا رحمت کوخود نہیں ان کے انصاف پرمبنی فیصلوں کو بولنا چاہئے۔
اب توہین عدالت کے مقدمات کو ہی دیکھیں تو یوں محسوس ہوتاہے کہ عدالت کی تمام تر توجہ فقط اسی ایک مسئلہ پرٹکی ہے کہ کون کون توہین عدالت کررہا ہے حالانکہ عدلیہ تو ایک بااوقار اور ان چھوٹے موٹے معاملات سے مبرا ایک سپریم اداہ ہے اس کیلئے کرنے کے اوربہت سے کام ہیں مثال کے طورپر تقریباً18 لاکھ مقدمات ہیں جو ایک بڑے عرصہ سے پاکستانی عدالتوں میں زیرالتواءہیں‘ اوورسیز پاکستانیوں کی زمین جائیدادوں پر قبضوں کے ہزاروں مقدمات ہیں جن پر سالوں سے فیصلہ نہیں ہوسکا‘ ہوسکے تو بابا رحمتے انہیں حل کرانے کیلئے سوموٹو لیں چہ جائیکہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کاحق دلانے میں دلچسپی لیں‘ ہمہ وقت توڑ پھوڑ کرتے‘ سرپھٹول کرتے اور مجبور وبے کس غریب کلائنٹس کی جیبوں پر ایک ”خاص نظر“ رکھنے والے وکلاءکیلئے کوئی حدود وقیود اور کوئی ضابطہ اخلاق بنانے پر توجہ دیں تو یقینا بابا رحمتے کا ”اقبال“ مزید بلند تر ہوگا۔ بابا جی سے یہی چند درخواستیں ہیں جنہیں اپنے تئیں جان کی امان پاکر تحریر کرنے کی جرا¿ت رندانہ کر رہا ہوں انہیں منظور ونامنظور کرنے کا اختیار تو کلی طورپر جناب کے پاس ہے۔ اپنی درخواست کے آخر میں برطانیہ کی عدالتی تاریخ کاایک معروف واقعہ جس سے آپ جیسا تاریخ وقانون کاگراں پایہ یقینا آگا ہ ہوگا رقم کرتا ہوں۔یہ سولہویں صدی کاواقعہ ہے برطانیہ کے عظیم مصنف اور1529ءمیں برطانیہ کے ”بابا رحمتے“ سر تھامس مورتھے ان کی دوستی برطانیہ کے بادشاہ ہنری ہشتم کے ساتھ انتہائی گہری تھی بادشاہ نے انہیں عدلیہ کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز کیا۔1935ءمیں ملکہ این کی تاجپوشی تھی سرتھامس مورسمجھتے تھے این ایک بدکردار عورت ہے چنانچہ انہوں نے تاجپوشی کی تقریب میں شرکت سے انکارکردیا اورشاہی خاندان کی بالادستی کاحلف اٹھانے سے بھی انکار کردیا حالانکہ انہیں علم تھا کہ ان کے اس قدم سے ان کامنصب تو چھن ہی جائے گا بلکہ جان سے ہاتھ دھونے کاخطرہ بھی موجود ہے لیکن وہ اپنے اُصول پرقائم رہے آخر کار مقدمہ چلا اورسرتھامس مور کو سزائے موت سنادی گئی جب ان کاسرقلم کیاجانے لگا تو انہوں نے ایک تاریخی جملہ کہا جسے بڑی شہرت حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا ”ٹھہرو‘مجھے اپنی داڑھی سنوار لینے دو کیونکہ میری داڑھی نے تو کوئی جرم نہیں کیا۔“
عدلیہ کا پورا حترام ملحوظ رکھتے ہوئے گزارش ہے کہ ہم بھی اپنی عدلیہ میں سرتھامس مورجیسی قوت وجرا¿ت رندانہ دیکھنے کے خواہشمند ہیں ایسی جرا¿ت جو بے خوف بھی ہو بے لاگ بھی‘ باانصاف بھی‘ یقینا یہ اسی صورت ممکن ہے کہ بابا رحمتے صرف انصاف کرتا رہے اورماضی کی طرح کسی سوچ کسی ایجنڈے کا حصہ نہ بنے ہمیں بابا جی سے یہی اُمید ہے ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ فیض احمد فیض کایہ قطعہ بے ساختہ ذہن میں آتا ہے کہ
متاح لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خون دل میں ڈبو دی ہیں انگلیاں میں نے
زبان پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقہ زنجیر میں زباں میں نے
عدلیہ کے ہراقدام وفیصلے پر تاریخ ایک رائے رکھتی ہے اور دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ دو غلط مل کر بھی ایک صحیح نہیں بناسکتے لیکن تاریخ کا یہ بھی ایک سبق ہے کہ ہم تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتے۔
(معروف کالم نگار”خبریں“ کے لندن میں بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved