تازہ تر ین

سرائیکی کیلئے ضیاشاہدکانیابیانیہ (1)

ظہور احمد دھریجہ سرائیکی وسیب
خبریں کے چیف ایگزیکٹو جناب ضیا شاہد کا مورخہ 12 اور 13 فروری 2018ءکو سرائیکی لیڈروں سے گزارشات کے عنوان سے دو قسطوں میں خصوصی مضمون شائع ہوا ہے ۔ اس طویل مضمون کے مختلف پہلو ہیں ۔ مضمون کا لب لباب سرائیکی وسیب سے ہمدردی اور یہ خواہش ہے کہ سرائیکی صوبہ قائم ہونا چاہئے ‘ اس کا نام چاہے کوئی بھی ہو ۔ صوبے کے قیام کیلئے ان کی ہمدردی صرف سرائیکی وسیب ہی نہیں بلکہ وہ اسے پاکستان کی ضرورت بھی سمجھتے ہیں ۔ جناب ضیا شاہد نے اپنے طویل مضمون میں ملتان میں ہونے والی سرائیکی مشاورت کا ذکر کیا ‘ ریچھ کُتے لڑانے والے جاگیرداروں کی مذمت کی ‘ زکریا یونیورسٹی کے سرائیکی شعبہ میں پیش آنے والے واقعے پر دکھ کا اظہار کیا ۔ انہوں نے بہاولنگر میں اپنے بزرگوں کی آمد اور بہاولنگر میں اپنے بچپن کا ذکر کیا اور یہ بھی کہا کہ ہمارے آنے سے پہلے وہاں جو زبان بولی جاتی تھی ‘ اس کا نام سرائیکی نہ تھا ، ریاستی تھا ۔ جناب ضیا شاہد نے چھٹی سے دسویں تک ملتان میں اپنی تعلیم کا ذکر کیا اوربچپن کی یادوں کو تازہ کیا اور کہا کہ مقامی لوگوں نے جس قدر پیار دیا ‘ وہ ناقابلِ فراموش ہے اور میں آج بھی اسی پیار کا صلہ اُتارنے کی کوشش میں ہوں ۔ اسی طرح انہوں نے سرائیکی وسیب میں ناجائز الاٹمنٹوں کے بارے میں بھی کہا کہ ہمارے بزرگوں نے اپنا کلیم حاصل کیا جبکہ 1947ءسے احتساب کیا جائے تو بہت سی نا انصافیاں سامنے آئیں گی ۔ جناب ضیا شاہد نے یہ بھی کہا کہ میں سن آف سائل کی تھیوری سے متفق نہیں ۔ صوبے کا نام پنجند ہو تو غیر سرائیکیوں کا خوف ختم ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے نام سے صوبہ بنوا لیں بعد میں تبدیل کروا لیں ۔
جناب ضیا شاہد نے سرائیکی کے نام کے علاوہ میرے بارے میں بھی لکھا ‘ میں اس بارے آگے چل کر گزارش کروں گا ۔ سرِ دست یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ محترم ضیا شاہد فرما رہے ہیں کہ صوبے کا نام جنوبی پنجاب رکھوا لیں ، بعد میں تبدیل کروا لینا ۔ میں کہتا ہوں کہ جنوبی پنجاب تو کیا بھلے صوبے کا نام شریف آباد رکھ لیں صوبہ تو بنائیں ۔ جہاں تک نام کا تعلق ہے تو صوبے کے نام اور حدود کا فیصلہ صوبہ کمیشن نے کرنا ہے‘ہم نے نہیں۔کیا پارلیمانی صوبہ کمیشن ظہور دھریجہ یا کسی دوسرے سرائیکی لیڈر کا پابند ہے کہ اس کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق کام کرے۔ تاہم ن لیگ کے حکمرانوں سے پوچھنا چاہئے کہ انہوں نے اب تک صوبہ کمیشن کیوں نہیں بنایا ؟ اگر صوبہ کمیشن نہیں بنانا تھا تو پنجاب اسمبلی سے قرارداد پاس کیوں کرائی اور اپنے انتخابی منشور میں یہ کیوں لکھا کہ ہم صوبہ کمیشن بنائیں گے۔ اس بارے سپریم کورٹ کو از خود نوٹس لینا چاہئے کہ ن لیگ نے اپنے منشور کے مطابق صوبہ کیلئے اقدامات کیوں نہیں کئے ؟ پنجاب اسمبلی کی قرارداد کا کیا بنا اور سب سے اہم یہ کہ آئین ساز ادارے سینیٹ نے دو تہائی اکثریت کے ساتھ سرائیکی صوبے کا بل پاس کیا ہوا ہے ۔ ایک لحاظ سے سرائیکی صوبہ جزوی طور پر آئین کا حصہ بنا ہوا ہے اس کے باوجود اس مسئلے پر خاموشی کیوں ہے ؟
جناب ضیا شاہد صاحب! اصل مسئلہ نام کا نہیں اور یہ بھی نہیں کہ مسئلہ صرف نام پر رُکا ہوا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مقتدر طبقے صوبہ نہیں بنانا چاہتے ۔ ان کی ریاست میں کمی آتی ہے ۔ نواز شریف اور عمران خان یا پشتون و پنجابی ایک دوسرے کے سخت ترین مخالف ہونے کے باوجود اس بات پر متفق ہیں کہ سرائیکی صوبہ نہ بنے اور خیبرپختونخواہ اور پنجاب سرائیکی خطے پر قابض رہیں ۔ بات چلی ہے تو میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ پیپلز پارٹی کی سندھی قیادت بھی مہاجر صوبے کے خوف سے سرائیکی صوبے کے ایجنڈے سے شاید پیچھے ہٹ چکی ہے اور دوسرے صوبوں کی قوم پرست جماعتیں بھی سرائیکی صوبے کے قیام سے نالاں نظر آتی ہیں کہ سرائیکی چاروں صوبوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے ‘سرائیکی کی وسعت سے سب نالاں ہیں ‘ سرائیکی صوبے کےلئے جو کچھ کرنا ہوگا وہ سرائیکی وسیب میں رہنے والے لوگوں کو خود کرنا ہوگا۔ سرائیکی وسیب کے سیاستدان ذہنی طور پرغلام اور پست ہیں ‘ وہ قیادت کیلئے لاہور ‘ لاڑکانہ اور بنی گالہ کی طرف دیکھتے ہیں ۔ میں واضح کہتا ہوں کہ لودھراں کی نشست ن لیگ نہیں عبدالرحمن کانجو نے جیتی ہے ‘ یہ سب جاگیردار دوسروں کی گود میں بیٹھنے کے عادی ہیں ۔
جناب ضیا شاہد نے سکھوں کے مظالم کا ذکر فرمایا ۔ لیکن یہ سوال انہیں ان لوگوں سے کرنا چاہئے جو اس کے باوجود بھی سکھوں سے ہمدردی رکھتے ہیں ۔ ضیا شاہد فرماتے ہیں کہ سن آف سائل کی تھیوری سے متفق نہیں ۔ وہ متفق نہ بھی ہوں تو یہ تھیوری اپنی جگہ ایک اٹل حقیقت ہے ۔ سرائیکی صوبے کیلئے وہ اسمبلیوں میں پہنچنے اور آئین میں ترمیم کروانے کی بات کرتے ہیں ۔ اچھی بات ہے ‘ اسمبلی میں پہنچا جائے اور جمہوری طریقے سے آئین میں ترمیم کروائی جائے لیکن ایک سوال ہے کہ جب پنجاب اور خیبرپختونخواہ والوں نے ملتان صوبہ یا سابق ریاست بہاولپور کے علاقے پنجاب اور صوبہ سرحد میں شامل کئے ‘تو کیا اس کےلئے آئین میں ترمیم ہوئی ؟ کوئی ریفرنڈم یا الیکشن ہوایا خطے میں بسنے والے لوگوں سے ان کی رضا مندی حاصل کی گئی ؟ اگر ان باتوں کا جواب نفی میں ہے تو پھر حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ آئین میں ترمیم کریںیا جو لائحہ عمل اختیار کریں‘ صوبہ بنوائیں ۔ سوال یہ ہے کہ حکمران اپنے ذاتی مفاد کیلئے کتنی ترمیم کرا چکے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ نا اہل کو پارٹی سربراہ بنوانے کیلئے آئین میں ترمیم ہو سکتی ہے تو سرائیکی صوبے کیلئے کیوں نہیں؟ لیکن یہ ترمیم نہیں کروائیں گے کہ صوبہ بننے سے ریونیو بورڈ ‘ این ایف سی ایوارڈ ‘ سی ایس ایس کوٹہ جاتا رہے گا اور آج ان کے دربار میں ایک سینیٹر شپ کی خیرات کیلئے جاگیرداروں کی لمبی قطاریں ہیں ، صوبہ بن گیا تو سرائیکی وسیب کو سینیٹ سے پورا حصہ مل جائے گا ، پھر کشکول لیکر کون آئے گا؟
ضیا شاہد نے لکھا کہ لاہور کے ایک سینئر اخبارنویس جن کے ساتھ میںنے نو دس سال کاکام کیا ، نے مجھے کہا کہ تم سرائیکی لوگوں کی خبریں چھاپ کر ان کو اٹھا رہے ہو ، تمہیں نہیں معلوم یہ سانپ ہیں ، تمہیں ڈس لیں گے۔ جس بزرگ نے یہ بات کی وہ در اصل پنجابی قوم پرست تھے۔ سرائیکی نہ جانے کب ڈسیں ‘ انہوں نے اپنی زبان سے پہلے ڈس لیا اور اپنے اندر کا زہر بھی انڈیل دیا ۔ در اصل جناب ضیا شاہد کے ساتھ وہ نہیں بولے، ان کی پنجابی قوم پرستی بول رہی تھی اور قوم پرستی بھی نظر نہ آنے والی ۔ جس طرح ہمارے مولانا فضل الرحمن اور سینیٹر سراج الحق کے ہاتھ میں جھنڈا کوئی اور ہے اور اندر سے وہ قوم پرست ہیں ۔
جناب ضیا شاہد صاحب! خاموش قوم پرستی کو ہم سلام پیش کرتے ہیں ۔ یہ بھی پنجابی قوم پرستی کی ایک خاموش شکل ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عدالت میں پیش ہونے والے ایک ملزم کو فرما رہے ہیں کہ قوم آپ کو وزیراعظم دیکھنا چاہتی ہے ۔ یہ بھی خاموش پنجابی قوم پرستی کی ایک شکل ہے کہ میاں نواز شریف نے بظاہر جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ ترک بھی کر دیا اور جاگ پنجابی جاگ کے فلسفے پر سختی سے عمل پیرا بھی ہیں ۔ یہ بھی خاموش قوم پرستی ہی ہے کہ بھارت دشمن بھی ہے مگر اس کے جاتی امرا سے پیار ہے۔ بھارت سے نفرت بھی ہے مگر اس کی زبان ‘ ثقافت سے محبت۔ یہ بھی خاموش قوم پرستی ہے کہ عہدے ، مراعات اور ترقی صرف اپنوں کے لئے ہے۔ آج اگر ہم ریاست کے با اختیار عہدوں پر بھی نظر دوڑائیں تو کونسا عہدہ ہے جو غیر پنجابی کے پاس ہے ؟ صوبے تو اور بھی ہیں ‘ ان کے وزیراعلیٰ بھی ہیں ۔ کیا وہ خادم اعلیٰ کا مقابلہ کر سکتے ہیں ؟ کیا کوئی اس خاموش پنجابی قوم پرستی کا مقابلہ کر سکتا ہے کہ ججوں ، جرنیلوں سے لڑائیاں جھگڑے بھی ہوتے ہیں ‘ پھر بھی شک کا فائدہ کی مثل پنجابی کا فائدہ دیکر بری بھی کر دیا جاتا ہے ۔ کیا کوئی سرائیکی سندھی بلوچ یا پشتون ججوں اور جرنیلوں سے اس طرح کی جنگ بارے سوچ سکتا ہے؟
میں نے چند دن پہلے کالم لکھا تھا ” خادم پنجاب سے خادم پاکستان تک “ لودھراں سے جہانگیر ترین کی شکست کے بعد یہ بات صاف واضح ہو گئی ہے کہ اب خادم پاکستان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔ رزلٹ آنے پر سب کہہ رہے ہیں کہ کھرب پتی ترین بھی تاب نہ لا سکا تو باقی کس کی مجال ہے۔ سرائیکی کہاوت ہے کہ ” ڈاڈھیں دے ڈو بھانگے ہوندن “ ۔ پنجاب ”ڈاڈھا “ تو کیا زیادہ ڈاڈھا ہے ۔ اس لئے اس کے دو تو کیا چار ” بھانگے “ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اگر اس کا خادم بھی ہے تو ” اعلیٰ “ ہے ۔ یہ بھی برتری جتانے کا ایک انداز ہے۔ ( جاری ہے )
(سرائیکی دانشور‘سرائیکیوں کے مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved