تازہ تر ین

مجرم بنانے والوں کوبھی پکڑیں!

نگہت لغاری …. ….سچ
جب سمندر میں اونچے درجے کا طلاطم پیدا ہوتا ہے تو سمندر کی اونچی لہریں سمندر کے اندر کے تمام زندہ اور مُردہ موجودات کو ساحل سمندر پر پھینک دیتی ہیں۔ آج کل ملک کے اندر ہر قسم کے جرائم کو بے نقاب کرکے جس طرح عیاں کیا گیا ہے اس کے پیچھے بھی وہ طلاطم ہے جس نے لیڈروں‘ سیاستدانوں اور امیروں‘ کبیروں کے اثاثہ جات اور محلات کی تفصیل میڈیا کے ساحل پر ڈال دی ہے۔ جیسے ہی یہ تفصیل باہر آئی ہے غریب‘ امیر‘ لیڈر‘ سیاستدان‘ ڈاکٹر‘ وکلاءاور سرکاری افسر سب نے اپنا الگ الگ دین تشکیل دے کر لوٹ مار اور بے راہ روی شروع کردی ہے۔ امیروں نے یہ کہہ کر لوٹ مار شروع کردی ہے کہ اگر ہمارے لیڈر اس ساری کارروائی میں بچ بچ جاتے ہیں تو ہم کسی اصول‘ قانون کے بغیر زندگی کی عیش و عشرت کو مزید کیوں نہ بڑھائیں۔ غریب انتقاماً بے راہ روی اور جرائم میں پڑ گیا ہے کہ اتنی واضح طبقاتی اونچ نیچ نے اسے بوکھلا دیا ہے۔ ہماری اسلامی ریاست نے اسلام کے قانون‘ قاعدے اور اصولوں کو پیروں تلے روند کر اپنا الگ دین اپنی مرضی کے مطابق بنالیا ہے۔ ہمارے لیڈروں نے اسلامی ریاست کے کس قانون‘ ضابطے کو اختیار کیا ہے؟ کیا اس اسلامی ریاست کے وارث ہیں جہاں ایک خلیفہ وقت اپنے ذاتی مہمان سے ملاقات کے وقت دیا بجھا دیتا تھاکہ وہ تیل سرکاری خرچ سے آتا تھا یا اسلامی ریاست کا ایک گورنر جب خلیفہ وقت سے سٹیشنری کے اخراجات میں ایک معمولی رقم کے اضافے کی درخواست کرتا تھا تو اسے جواب میں لکھا جاتا تھاکہ کسی بھی حکم نامے کو لکھتے وقت سطور کو نزدیک نزدیک رکھیں اور الفاظ کو باریک کردیں۔ شاید قارئین کو یاد ہو نوازشریف نے اپنی پہلی وزارت عظمیٰ میں نیشنل اسمبلی سے ایک بل پاس کروایا تھاکہ انہیں فقیہہ کے اختیارات دیئے جائیں۔ ان کے لائف سٹائل اور اثاثہ جات کو جاننے والے لوگ حیرت میں ڈوب گئے۔ میں نے بھی “The News International” اخبار میں 24اکتوبر 1998ءکو اس ناقابل برداشت جرا¿ت پر کالم لکھا تھا “Easier Said Than Done Mr. Primer”۔ رشوت‘ بدعنوانی اور بے راہ روی نے پورے ملک کو اس طرح گرفت میں لے لیا ہے کہ دور دور تک کسی بہتری کی صورت نظر نہیں آتی۔ ایک شناختی کارڈ بنوانے سے لے کر کسی بھی فوری نوعیت کے کام کےلئے سرکاری افسران اتنی رشوت مانگتے ہیں کہ ضرورت مندوں کا کوئی کام نہیں ہورہا۔ بڑے بوڑھے بتاتے ہیں کہ انگریز سرکار کے دور میں رشوت یا بدعنوانی نام تک نہ تھی۔ انہوں نے اپنے دور میں مسلمان افسروں کی بھی اس طرح تربیت کی تھی کہ وہ رشوت یا بدعنوانی سے واقف بھی نہ تھے۔ میں قارئین کی دلچسپی کےلئے ایک چھوٹا سا واقعہ بیان کرتی ہوں۔ ایک دن میری بوڑھی ملازمہ نے بتایاکہ آپ اس وقت پیدا نہیں ہوئی تھیں آپ کے والد انگریز دور میں ایک اعلیٰ عہدے پر تھے مگر پاکستان کی تحریک میں خفیہ مدد کرنے کی وجہ سے انہیں ملازمت سے ہٹا دیا گیا تو معاشی حالت بہت بری ہوگئی۔ پاکستان بننے کے بعد انہیں پاکستانی حکومت نے Evecu Properly کا کسٹوڈین لگا دیا۔ وہ سارا دن ہندوﺅں کے چھوڑے ہوئے اثاثوں جن میں نقدی‘ سونا اور بہت سی قیمتی اشیاءہوتی تھیں قومی خزانے میں جمع کرواتے تھے۔ ایک دن آپ کا اکلوتا بھائی جو 10‘ 12سال کا تھا باپ کے ساتھ چلا گیا۔ جب ہندوﺅں کے گھروں سے جمع کیا ہوا مال متاع جمع کیا جارہا تھا تو آپ کے بھائی نے باپ کو بتائے بغیر ایک ٹیبل لیمپ اٹھا لیا اور گھر لے آیا۔ جب شام کو سردار صاحب گھر آئے اور بچے کے کمرے میں ایک خوبصورت نیا لیمپ دیکھا تو پوچھا یہ کہاں سے لائے ہو؟ اس نے ڈرتے ڈرتے بتایاکہ جب سامان لادا جارہا تھا اور قومی خزانہ میں جمع ہونے جارہا تھا تو میں نے یہ لیمپ اٹھالیا۔ ہماری بوڑھی ملازمہ نے بتایاکہ والد صاحب اتنے غضبناک ہوگئے کہ انہوں نے مار مار کر بیٹے کو ادھ موا کردیا۔ ہم ملازم بھی ڈر کے مارے آگے نہ بڑھتے تھے لیکن ہم سب رو رہے تھے۔ یہ کہانی میرے والد کی نہیں شاید اس وقت سب لوگ ہی اتنے ہی ایماندار اور فرض شناس تھے۔ آج وکلاءنے اپنی فیسیں اتنی بڑھا دی ہیں کہ غریب کی بیٹی اغواءہوجائے یا اس کی کچی چھت پر کوئی قبضہ گروپ قبضہ کرلے تو وہ وکیل کے پاس نہیں جاسکتا۔ ہمارے وکلاءاس لیڈر کے ملک بنانے والے بابائے قوم کے ملک میں رہتے ہیں جو ایک وکیل تھے اور جب ایک امیر ہندو ساہوکار نے ان کو اس کا مقدمہ لڑنے کےلئے کہا اور پوچھاکہ آپ کتنی فیس لیں گے تو انہوں نے کہا 500روپے روزانہ۔ جتنے دن مقدمہ چلے گا اس کے مطابق ہی رقم لوں گا۔ ہندو بزنس مین نے انہیں 5ہزار روپے دے کر کہا ابھی آپ یہ رکھیں اگر اس سے زیادہ آپ کی فیس بن گئی تو میں مقدمہ ختم ہونے کے بعد ادا کردوں گا۔ اتفاق سے قائداعظمؒ نے وہ مقدمہ دوسرے ہی دن جیت لیا اور جب وہ انعام کے طور پر مزید کچھ رقم لے کر آیا تو قائداعظمؒ نے پہلے دیئے پانچ ہزار میں باقی رقم اسے لوٹاتے سختی سے انعام کی رقم لوٹاتے ہوئے فرمایا ”انعام کی یہ رقم رشوت کے زمرے میں آتی ہے اور تم نے مجھے یہ رقم دینے کی جرا¿ت کیسے کی۔ آئندہ میں تمہارا کوئی کیس نہیں لڑوں گا“۔ میں کس کس کو ان کے پیشے سے متعلق شرمندہ کروں۔ میرے ملک کے ایک ڈاکٹرصاحب نے ایک غریب عورت کے آپریشن کے بعد اس کے ٹانکے ادھیڑ لئے کیونکہ طے شدہ فیس اس غریب نے آپریشن کے بعد کچھ کم ادا کرنے کی جسارت کرلی تھی۔ ہمارے ملک میں سب خرابی سیاستدانوں نے مچا رکھی ہے۔ میری کم علم عوام الیکشن کے دوران ان کے لمبے چوڑے وعدوں کے جھانسے میں آکر ان کو ووٹ دے کر حکومتی اختیارات دے دیتے ہیں اور وہ جیسے ہی اختیارات کی شاندار کرسی پر براجمان ہوتے ہیں تو اونچی کرسی کی پشت پر سر رکھ کر سوجاتے ہیں جیسے شرابی بہت زیادہ نشہ چڑھ جانے کے بعد سرور میں آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ ایک دفعہ ایوان بالا کی ایک کہانی Public ہوگئی تھی جس میں خاتون پارلیمنٹیرین کو ایک مرد پارلیمنٹیرین نے کوئی فحش بات کردی تھی۔ اسی افراتفری میں ایوان بالا کی کارروائی پورے دن کےلئے Adjurm ہوگئی تھی جس میں اہم ترین قومی معاملات پر Debate ہونی تھی۔ میں نے اپنے انگریزی کالم “Pandimonium in Parliment” میں سخت دکھ اور تنقید کا اظہار کیا۔ اس وقت کے وزیراعظم جناب جمالی صاحب نے مجھے کہا تمہارا کالم بہت خوب تھا تم جیسی Outspoke خاتون کو سیاست میں آنا چاہیے۔ میں نے عرض کیا سر میرے ملک کی سیاست اتنی میلی کچیلی ہے کہ میں اس میں داخل ہوکر اپنے کپڑے اور چہرہ میلا کچیلا نہیں کرسکتی۔ میں الگ تھلگ بیٹھ کر اپنے ملکی حالات کی بے آبروئی پر اپنے آنسوﺅں میں اپنا قلم ڈبوکر لکھتی رہتی ہوں۔ اﷲ نے اسی میں مجھے بہت توقیر دی ہے۔ میں اپنے قلم کا حوالہ دے کر بہت سے لوگوں کے بہت سے کام کرتی رہتی ہوں جو شاید ایک سیاستدان کے بھی بس کی بات نہ ہو۔ میں مطمئن ہوں۔ میں شاعرہ نہیں ہوں لیکن میرے ملکی حالات نے مجھے جنون کی حالت میں ڈال دیا ہے۔ اسی طرح کا شاید کوئی جنون انسان کو شاعر بنادیتا ہے۔ آج کل میں شعروں کی بساط پر آگئی ہوں۔ میں اپنے اس نئے رجحان پر خود حیران ہوں۔ صرف چند شعر آپ قارئین کی نذر کررہی ہوں:
کیوں دھرتی خونم خون ہوئی
اساں اﷲ سائیں روسا بیٹھے
آﺅ مل کے یار منائیے
متاں پکا پکا رُس باہوے
(کالم نگارسماجی ایشوزپر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved