تازہ تر ین

ویلنٹائن ڈے کی حقےقت

امیر افضل اعوان…. پیغام
دشمنانان ملک وملت کی سازشوں کی وجہ سے آج ہم اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوچکے ہیں اور مغرب کی اندھی تقلید ہمیں تباہی کے دھانے پر لے آئی ہے جس کے نتےجہ میں مسلم معاشرہ مسلسل ذوال کی طرف گامزن ہے، یہود ونصاریٰ مسلمانوں میں فحاشی و عرےانی پھےلا کر ان کی صفوں میں سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت انتشار و ابتری پھےلا رہے ہیںتاکہ ان کے مذموم مقاصد کی تکمیل ممکن ہوسکے ، دشمنانان اسلام اس مقصد کے لئے اربوں روپے کا بجٹ صرف کرتے ہیں کیوں کہ انہیں بخوبی علم ہے کہ اگر مسلمان ایمان پر قائم رہیں تو ان کا چراغ گل ہوجائے گااسی لئے شعائر اسلام سے خوفزدہ طاغوتی قوتےںآخری حد سے بھی آگئے نکل گئےں ہیں ، اسلام دشمن قوتوں کی طرف سے مسلم معاشرہ میں ویلنٹائن ڈے کے انعقاد کا اہتمام بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے کہ جہاں لڑکے ، لڑکیوں کے آذادانہ میل، میلاپ کی راہیں ہموار کی جاتی ہیں تا کہ ان میں بے حےائی، بے راہ روی اور دےگر اخلاق، مذہبی و معاشرتی خرابےاں پرورش پاسکیں، 14فروری کے روز مناےا جانے ولا ویلنٹائن ڈے بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے کہ جسے میڈےا پر پر ترغےب انداز میں پیش کرکے نوجوان لڑکے، لڑکیوں کے عشقیہ و جنسی جذبات کو ہوا دی جاتی ہے۔
ویلنٹائن ڈے دراصل ایک مشرکانہ عید ہے جس کی ابتداء1700سال قبل روم میں ہوئی ، اس حوالہ سے مختلف کہانیاں موجود ہیںجس کے مطابق قدیم روم میں14فروری شادی، بےاہ اور عورتوں کی دیوی کا دن تھا جس کو ” یونو “ ےا ” جیونو “ کہا جاتا تھا، اس موقع پر ایک تہوار کا اہتمام کیا جاتاتھا جس میں رومی لڑکیوں کے نام پرچےوں پر لکھے جاتے تھے اور قرعہ اندازی کے تحت یہ دوشےزائےں تہوار میں شامل مردوں میں تقسےم کردی جاتی تھےںجو تہوار کے دوران ہر طرح کے باہمی تعلقات وروابط کے لئے آزاد ہوتے تھے اور بعد از تہواریہ جوڑے اگر ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوجائےں تو آپس میں شادی کرلےتے تھے، ایک اور رواےت کے مطابق رومی بادشاہ کلاڈیس ثانی کو اپنے مخالفےن کے خلاف فوج کشی کی ضرورت پڑی اور اس نے بھرتےوںکا اعلان کیا مگر لوگوں نے اس سے بے زاری ظاہر کی ، وجہ معلوم کرنے پر بادشاہ کو علم ہوا کہ رعاےا تو عیش وعشرت اور عورتوں کی دلدادہ ہے تو اس نے عوارتوں سے آزادانہ وغےر ضروری تعلقات پر پانبدی لگادی اور فوج میں موجود غےر شادی شدہ افراد کی کارکردگی بہتربنانے کے لئے شادی پر بھی پابندی عائد کی گئی تاہم مقامی پادری سینٹ ویلنٹائن نے بادشاہ کی حکم عدولی کی اور چھپ کر شادےاں کرانے کا سلسلہ جاری رکھا ، اطلاع ملنے پر بادشاہ نے اس کو سزائے موت کاحکم دےا جس پر عملدرآمد 14فروری کو ہوا۔
اس کہانی میں ایک اور رواےت بھی پائی جاتی ہے کہ سینٹ ویلنٹائن نامی وہ پادی سزا پر عملدرآمد سے قبل جیل میں ڈال دےا گےا اور وہاں کسی چوکیدار یا جیلر کی بےٹی اس پر فریفتہ ہوگئی، یہاں تک کہ اس لڑکی نے اپنے 46رشتہ داروںکے ساتھ نصرانےت قبول کرلی اور اس کے بعد وہ سرخ گلاب لے کرپادری کے پاس آئی اسی لئے اس موقع پر سرخ گلاب پیش کرنے کی رواےت پروان چڑھی جو کہ تاحال برقرار ہے، ایک اور کہانی میں ویلنٹائن کو رومن بادشاہ کلاڈیس کا سپاہی یا سپہ سالار بتاےا جاتا ہے جس نے بادشاہ کے حکم کے خلاف شادی کرلی تو اسے حکم عدولی پر جیل میں ڈال دےا گےا ، اس سے آگے کی کہا نی وہ ہی جیلر کی بےٹی سے عشق و محبت کی پینگھیں بڑھانے کی ہے، یہ واقعہ 279ءکا بتاےا جاتا ہے اور اس کہانی میں بھی اس پادری کو 14فروری کے روز ہی سولی چڑھائے جانے کا بےان ملتا ہے، مگر نصاریٰ اس دن کو باقاعدہ ایک خاندان کے نصرانےت قبول کرنے کی ےاد میں مناتے ہیں جس کا ان کے مذہب میں اور کوئی تصور موجود نہ ہے مگر یہ دنےا میں کرسمس کے بعدمناےا جانے والا عےسائےوں کا سب سے بڑا تہوار ہے جس میں آج وہ مسلمانوں کو بھی شامل کرچکے ہیں۔
ےوم عاشقاں ےاویلنٹائن ڈے کے حوالہ سے ایک اور کہانی بھی موجود ہے یہ بھی بہت ذےادہ شرم ناک ہے ،یہاں بتاےا جاتا ہے کہ سنیٹ پال ویلنٹائن نامی پادری اپنے چرچ میں موجود ایک راہبہ پر مر مٹا اور دونوںکے درمیاں ناجائز تعلقات پرورش پانے لگے، جب ان جسمانی تعلقات کا علم ذمہ داران کو ہوا تو انہوں نے کلیساءکا قانون توڑنے پر دونوںکو سولی چڑھادےا، چونکہ رومی قوم شروع سے ہی تفرےخ ، کھےل کود کی دلدادہ رہی ہے اسی لئے
انہوں نے ان دونوں کے جسمانی تعلقات کو محبت کا نام دے کر اظہار عقےدت کے طور پرہر سال پھول چڑھانا شروع کردئےے یہ سلسلہ بتدرےج جشن کی صورت اختےار کرگےا، اسی طرح جےسے ڈےانا اور اس کے محبوب کی ےاد میں ہر سال اہل لندن ملکہ کے محل کے باہر پھولوں کے ڈھےر لگادےتے ہیں ےا 9/11کے خود ساختہ ڈارمہ میں ہلاک ہونے والوں کے لئے پھول چڑھائے جاتے ہیں، دلچسپ امر یہ ہے کہ تارےخی دستاوےزات میں ایسے کسی واقعہ کی کوئی سند نہیں ملتی ، تارےخی حوالوں میں ویلنٹائن نامی 3پادریوں کا ذکر ملتا ہے تاہم ان کے حالات زندگی میں اس کے سوا اور کوئی ذکر نہیں ملتا کہ ان کو سزائے موت ہوئی تھی۔
پاکستان میں وےلنٹائن ڈے کاپھرپور آغاز مشرف دور میں ہوا کہ جب انہوں نے پاکستان کو عالمی سطح پر ترقی پسند رےاست متعارف کروانے کی پالیسی اپنائی تو اس جیسی اور بہت سی خرافات ہمارے معاشرہ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئےں،دلچسپ امر یہ ہے کہ دشمنانان اسلام نے یہ نقب اسلام کے قلعہ یعنی پاکستان میں لگائی اور اس غےر اسلامی دن کا معاشرہ کا حصہ بنادےا گےا جب کہ ہمسایہ ملک بھارت میں اس تہوار کو انتہائی برا سمجھا جاتا ہے اور سخت گےر ہندو مذہبی تنظےمیں ویلنٹائےن ڈے منانے والوں پر حملے کرتی ہیں اور اس حوالہ سے پھول و تحائف بےچنے والوں کی دکانےں توڑ پھوڑ دی جاتی ہیںاور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ دن ایسے مناےا جاتا ہے گوےا یہ ہمارا ہی کوئی تہوار ہو، ایک سروے کے مطابق دنےا میں پھولوں کا 40فےصد حصہ جو کہ 50ملین پر محیط ہے 14فروری کے روز کے لئے مخصوص ہوچکا ہے جس میں سے 110ملین صرف امریکہ میں استعمال اور اس موقع پر ایک بلین کارڈز فروخت ہوتے ہیں، پھولوں کے خرےداروں میں73فےصد مرد ہوتے ہیں جب کہ اس روز کے لئے ہونے والی اربوں ڈالز کی خریداری میں خواتےن کا حصہ85فےصد ہے، 14فروری کو ویلنٹائن ڈے کے نام پر جو اجتماع منعقد ہوتا ہے اس کو ” عےد الحب “ بھی کہا جاتا ہے اس موقع پر شادی شدہ وغےر شادی شدہ جوڑے اسلامی تعلیمات کے منافی ایک دوسرے کو پیغام محبت دےتے ہیں،جس سے اخلاقی و مذہبی ذوال اور پستےوں کی راہ ہموار ہوتی ہے اور مزید برائےاں پرورش پاتی ہیں۔
(کالم نگار سماجی اوردینی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved