تازہ تر ین

بھارت کی لائن آف کنٹرول پر جارحیت

فرخند اقبال….خصوصی کالم
خطّے کے امن اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ، بھارت کی لائن آف کنٹرول پر جارحےّت میں شدت ہے،جس کے نتیجے میں سرحد پر وطن کی حفاظت کی ذمہ داریاں نبھانے والے ہمارے بہادر فوجی جوانوں اور سرحدی علاقے کے شہریوں کی شہادتوں اور زخمی ہونے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ دسمبر میں وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا ”بھارت نے 2017میں 1300مرتبہ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کی جس میں 52پاکستانی شہری ہلاک اور 175زخمی ہوچکے ہیں۔”اس سے قبل 19جون 2017کو ڈائریکٹر جنرل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ظہیرالدین قریشی نے قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے کشمیر امور کو آگاہ کیا تھا”اب تک لائن آف کنٹرول پر بھارت کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 832 افراد جان بحق اور 3000زخمی ہوچکے ہیں ،جبکہ 3300مکانات کو نقصانات پہنچا ہے۔ علاقے میں رہائش پذیر 425,000شہری خطرے کی زد میں ہیں۔”
بھارت کے اس امن دشمن رویے کی وجہ سے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کی کشیدگ میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ اس سے خطّے کے امن و ترقی کا سفر بھی منجمد ہوچکا ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے فرار کی پالیسی اور سرحدی جارحیت کے باعث خطّے میں عدم تعاون کی فضا ہے،جس کی سب سے بڑی مثال کا تقریباً غیر فعال ہونا ہے۔ اقتصادی ترقی اور خطے کے ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کے لئے قائم تنظیم’ سارک’ میں پاکستان اور بھارت دو بڑے ملک ہیںاور اس تنظیم کی کامیابی اور اس کے مقاصد کے حصول کی بنیادی شرط ان دو ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات ہیں، لیکن بھارت کے غیرسنجیدہ رویے نے یہاں عدم تعاون اور بے یقینی کی فضا قائم کررکھی ہے۔ نتیجے میں تنظیم کے رکن ممالک پاکستان، بھارت، افغانستان، نیپال، بھوٹان ،بنگلہ دیش، مالدیپ اور سری لنکا کے درمیان تنظیمی تعلقات عنقاءہیں۔ یہ ممالک اپنے اقتصادی مفادات کے لئے انفرادی پالیسیوں کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کے درمیان گروپ کی سطح پر باہمی ہم آہنگی موجود نہیں ہے جو خطے کی اجتماعی ترقی اور خوشحالی کے لئے لازمی ہوتی ہے۔ خطّے کے امن کی راہ میں اس وقت دو سب سے بڑی رکاوٹیں کشمیر اور افغانستان کے تنازعات ہیںجہاں پاکستان اور بھارت دونوں ممالک سٹیک رکھتے ہیں۔ ان تنازعات کا حل ان دونوں ممالک کے تعلقات کی نوعیت پر منحصر ہے۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر ہونے کی صورت میں ہی ان تنازعات کے حل کی جانب سنجیدہ کوشش کی جاسکتی ہے، لیکن جب تک ان کی سرحد پر بنیادی امن قائم نہیں ہوگا ،نہ صرف ان تنازعات میں شدت آئے گی بلکہ اس سے ایک بڑی جنگ کے خطرات بھی ہر وقت منڈ لاتے رہیںگے۔بھارتی جارحیت کی وجہ سے سرحد پر شورش کے باعث خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ اس وقت بھارت دنیا میں اسلحے کی درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جبکہ اس فہرست میں پاکستان 9ویں پوزیشن رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ رہنے کی وجہ سے دونوں جانب اقتصادی ترقی کی رفتار بھی سست روی کا شکار ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ان دونوں ممالک بلکہ خطے کے دیگر ملکوں کے لئے بھی پریشانی کا باعث ہے کیونکہ وہ ان کی طاقتور حیثیت کے باعث اپنے آزادانہ تعلقات قائم نہیں کرسکتے،وہ گروپ بندی قسم کے تعلقات استوار کرنے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے خطے میں باہمی ہم آہنگی اور تعمیری ماحول کا فقدان ہے۔
بھارت کی خارجہ پالیسی خطّے میں عدم استحکام اور انتشار کا باعث بن رہی ہے۔ وہ اگر ایک طرف پاکستانی سرحد پر اشتعال انگیز کارروائیاں کرتا ہے تو دوسری طرف چین کے ساتھ بھی سرحد ی کشمکش میں مبتلا ہے۔ اس کشمکش میں اسے حال ہی میں ڈوکلام کے تنازعے میںس±بکی کا سامنا کرنا پڑا تھا جب اس نے تبت کے علاقے میں چین کی جانب سے سڑک کی تعمیر کا بہانہ بناکر اپنے فوجی دستے سرحد پر تعینات کئے تھے، بعد ازاں وہ چین کے آگے گھٹنے ٹیک کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگیا تھا۔ بھارت ایک اور پڑوسی ملک نیپال کی اندرونی سیاست میں بھی بے جا مداخلت کرتا ہے۔ وہ نیپالی حکومت کے خلاف برسرپیکار مادھیشیوں کو شہہ دے کر ان کے ذریعے نیپال کی حکومت کمزور کرکے اسے اپنی مٹھی میں رکھنے کی تگ ودو میں مصروف رہتا ہے جس کی وجہ سے اس گروپ کی حکومتی فورسز سے جھڑپیں ہوتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف نیپال کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیںبلکہ بھارت نے 2015میں اس ملک کی ناکہ بندی کرکے شدید اقتصادی اور انسانی بحران کو جنم دیا تھا۔ یاد رہے کہ اس ناکہ بندی کے دوران ادویات اور زلزلہ ریلیف مواد کی ترسیل بھی روک دی گئی تھی،جس پر عالمی سطح پر بھارت پر شدید تنقید کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ بھارت اس خطّے کی ترقی و خوشحالی کے لئے اہم کردار اداکرنے کی اہلیت رکھنے والی پاک چین اقتصادی راہداری کو بھی سبوتاژ کرنے پر تلا ہوا ہے، اور اس کے لئے پاکستان کے صوبے بلوچستان میں اس کی دہشت گرد کارروائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ایک ایسے وقت میں جب پاکستان ملک کے اندر اور خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں میں مصروف ہے، خود کو جمہوریت کا چمپئن کہلانے والے بھارت کی امن دشمن پالیسیاں ان کوششوں کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔وہ نہ صرف لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باو¿نڈری پر اشتعال انگیزی کے ذریعے پاکستانی فورسز کی توجہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز سے ہٹانے کی مذموم کوشش کر رہا ہے بلکہ پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیاں کرنے کے لئے افغانستان کی سرزمین بھی ا ستعمال کرتا ہے۔
باوجود اس کے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحد پر سیزفائر کے تحت ایکarrangementموجود ہے جس کے تحت سرحد کی دونوں جانب دس کلومیٹر تک ایسی کسی فوجی چال(Action)کی تدبیر نہیں کی جاسکتی جس کے ذریعے دوسرے ملک کا دفاع خطرے میں پڑ سکتا ہو، بھارت ایل او سی کے قریب جاسوس ڈرونز استعمال کرتا ہے۔ علاوہ ازیں گزشتہ جون میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بھارت کو جدید ترین جاسوس ڈرونز کی فراہمی کا معاہدہ ہواتھا، جس کی ڈونلڈ ٹرمپ نے اکتوبر میں منظوری بھی دے دی ہے۔ بھارت ان ڈرونز میں نصب کیمروں کی مدد سے سرحد کے قریب پاکستان کے ایسے علاقوں پر نظر رکھنا چاہتا ہے جہاں پر ہماری دفاع یا دشمن کے حملے کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت کمزور ہوگی اوراسی طرح وہ وہاں سے مستقبل میں پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائیک کر سکے گا۔ واضح رہے کہ بھارت کا ایسا کوئی بھی اقدام دونوں ممالک کے درمیان براہ راست جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہے کیونکہ جب بھارت نے گزشتہ سال مقبوضہ جموں و کشمیر میں اوڑی حملے کے بعد پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائیک کرنے کا جھوٹا دعویٰ کیا تو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ بھارت اگر اگلی بار ڈرامے کے بجائے حقیقی سرجیکل سٹرائیک کرنے کی جرا¿ت کرتا ہے تو پاکستان کسی بھی قسم کی جوابی کارروائی کرنے میں دریغ نہیں کرے گااور یوں ایک تباہ کن جنگ شروع ہونے کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر پر قبضے کی وجہ سے اسے خطے میں ایٹمی جنگ کے لئے ایک فلیش پوائنٹ میں تبدیل کرنے والے بھارت کی اپنی سرحدوں کی پالیسی پورے ایشیا کے لئے نہایت خطرناک ہے۔اس کی جارحانہ خارجہ پالیسی سے خطے کے نہ تو مضبوط ممالک محفوظ ہیں اور نہ ہی کمزور۔ وہ اگر ایک طرف پاکستان اور چین جیسے طاقتور ممالک کی دشمنی کا بہانہ بناکر جدید اسلحے کے ڈھیر لگا رہا ہے تو دوسری جانب لالچ اور دھونس پر مبنی پالیسی کے ذریعے افغانستان، نیپال اور بنگلہ دیش جیسے کمزور ممالک کو بھی نہیں بخش رہا۔ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو اس خطے پر جنگوں کے بادل ہمیشہ منڈلاتے رہیں گے اور یہاں خوشحالی ،امن اور ترقی کے خواب کبھی پورے نہیں ہوں گے۔ یہ اس وقت اقوام متحدہ اور بڑے ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کی خطرناک خارجہ پالیسی پر توجہ مرکوز کریں اور اس پر دباو¿ ڈالیں کہ وہ منفی پالیسیاں چھوڑ کر خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے دیگر ممالک کا ساتھ دے۔
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved