تازہ تر ین

اپنی تلاش، قلم چہرے

قیوم نظامی……..مہمان کالم
حضرت عمرؓ خود شناسی اور خدا شناسی کے مقام پر فائز تھے جب انکے زیرنگرانی اسلامی ریاست وسعت پذیر ہونے لگی تو انکے دل میں وسوسہ پیدا ہوا کہ وہ بڑی ریاست کے خلفیہ بن گئے ہیں چوں کہ خود شناس تھے لہذا نفس کی انا کو مارنے کیلئے مسجد نبوی میں لوگوں کو جمع کرکے خطبے میں فرمایا ”میں اپنے عزیزوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا“۔ علامہ اقبال کے فلسفہ خودی کا مرکزی نکتہ خودشناسی ہے۔ ان کا پیغام ہے جو خود شناس نہیں وہ خدا شناس نہیں۔ مغربی مفکر ایڈیسن نے کہا ”جس کو اپنے ٹیلنٹ کا پتا چل جاتا ہے وہ غلامی برداشت نہیں کرسکتا“۔ پاکستان کے عوام اگر خود شناس ہوتے تو کرپٹ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے محکوم اور یرغمال کبھی نہ بنتے۔ بھارت کے عظیم بزنس مین پریم جی نے کہا ”میں اور میری کمپنی کبھی پیسے کے پیچھے نہیں بھاگتے ہم ہمیشہ ساکھ کے پیچھے بھاگتے ہیں جس کی وجہ سے پیسہ ہمارے پیچھے بھاگتا ہے“۔ ”چھوٹے انسانوں کی تقدیر دوسرے کے ہاتھوں پر لکھی ہوتی ہے جبکہ بڑے انسان کے ہاتھ پر زمانے کی تقدیر لکھی ہوتی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح کی وجہ سے کتنے ہی انسانوں کی زندگی بدل گئی کیوں کہ انکے ہاتھ پر زمانے کی تقدیر لکھی ہوئی تھی جبکہ تمام جہانوں کی تقدیر ہمارے آقا حضور اکرم کے ہاتھ پر لکھی ہوئی ہے یعنی آپ جہانوں کیلئے رحمت ہیں“۔ اپنی تلاش کے بعد اس سوال پر غور کریں کہ ”میں اپنی صلاحیتوں کے ذریعے انسانیت کو کیا فائدہ پہنچا سکتا ہوں“۔ جو انسان دنیا میں کامیاب ہونا چاہتا ہے اور خوشی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہے اس کیلئے لازم ہے وہ خود کو تلاش کرے۔ قدیم یونانی دانش اور اولیائے کرام کی تعلیمات میں یہی پیغام ہے کہ اپنی تلاش سے ہی دنیا اور آخرت سنور سکتی ہے۔
”ہم پہ گلہ کرتے رہتے ہیں کہ نیکی کا زمانہ نہیں ہے لیکن یاد رکھئے کہ کسی زمانے میں نہ نیکی مرتی ہے نہ بدی ختم ہوتی ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ ہم کس صف میں کھڑے ہیں ہمارے عمل سے کتنے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ ہماری نصیحتیں دوسروں کو متاثر نہیں کرتیں معاملہ فہمی یا حسن اخلاق دوسروں کو تبدیل کرتا ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ مومن کے نامہ اعمال میں قیامت کے روز سب سے وزنی شے اسکے حسن اخلاق ہونگے“۔ کامیاب زندگی کیلئے ترجیحات کا تعین لازم ہے۔ راقم نے یہ جواہر پارے معروف روحانی اور سماجی رہنما قاسم علی شاہ کی نئی کتاب ”اپنی تلاش“ سے اخذ کئے ہیں وہ اپنی کتب کی عوامی مقبولیت کی بناء پر پاکستان کے معروف اور عظیم مصنف بھی بن چکے ہیں۔ انکی کتب اونچی ا±ڑان، بڑی منزل کا مسافر، ذرا نم ہو، کامیابی کا پیغام، سوچ کا ہمالیہ کے بیسیوں ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ علامہ اقبال نے کہا تھا :۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
محترم قاسم علی شاہ سے خوشگوار ملاقاتوں، ان کی پ±رمغز کتب کے مطالعہ اور موٹیویٹ کرنیوالی ویڈیوز دیکھنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ وہ دور حاضر کے دیدہ ور ہیں انہوں نے خود شناسی سے خدا شناسی کا سفر محنت شاقہ اور دانشمندی سے طے کیا ہے۔ انکا پاکستان کے سماج کا مطالعہ اور مشاہدہ درست ہے اور انکی سمت و نصب العین کامیابی کے امکانات لیے ہوئے ہے۔ محترم قاسم علی شاہ مغربی اور مشرقی مفکرین کی دانش کا حسین امتزاج کرتے ہیں وہ اگر قرآن اور سیرت کو مرکز اور محور بنا لیں تو ایک مثالی اخلاقی مسلم معاشرہ کے قیام کے امکانات بڑھ جائینگے۔ انکے وڑن سے اتفاق کرتا ہوں وہ انسان سازی اور کردار سازی کے ذریعے قومی مقصد حاصل کرنے کی پرخلوص کاوش کررہے ہیں۔ اگر وہ اگلے پانچ سال میں پچاس ہزار نوجوانوں کی ذہنی فکری اور اخلاقی تربیت کرنے میں کامیاب ہوگئے تو پاکستان انشاء اللہ امن سکون اور اجتماعی ترقی کا گہوارہ بن جائے گا کیونکہ معیاری افراد ہی ریاست کے اداروں اور شعبوں کو مثالی بنا سکتے ہیں۔ پاکستان کے جو نوجوان اپنی تلاش کرکے دنیا اور آخرت سنوارنا چاہتے ہیں وہ محترم قاسم علی شاہ سے فیض حاصل کریں کیونکہ ہم بدلیں گے تو پاکستان بدلے گا۔
پاکستان کے سیلف میڈ، انتھک اور دلیر صحافی جناب ضیا شاہد پر آجکل کتب نازل ہورہی ہیں انہوں نے پاکستان کی سیاسی، سماجی، مذہبی، ادبی ، ثقافتی اور فلمی تاریخ کو اپنی مختلف کتب میں محفوظ کردیا ہے۔ انکی کتب کی منفرد خوبی یہ ہے کہ انہوں نے جو دیکھا اور جو سنا اسے کسی ملاوٹ اور زیب داستان کے بغیر کتابوں میں رقم کردیا ہے۔ ضیا شاہد کے جذبے اور جنون پر یہ شعر صادق آتا ہے۔
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاں
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
انکی تازہ کتاب ”قلم چہرے“ نے صحافی اور ادبی دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ اس کتاب کی منفرد نوعیت کی تقریب گورنر ہاﺅس میں ہوئی جس میں کم و بیش پچاس قلم کاروں نے اپنے اپنے انداز میں ضیا شاہد کو خراج عقیدت پیش کیا اور انکی کتاب کو سراہتے رہے۔ گورنر پنجاب جناب رفیق رجوانہ صدر محفل کی حیثیت میں تین گھنٹے تک بڑے صبر کے ساتھ تلخ و شیریں باتیں سنتے رہے جس سے انکی کتاب دوستی کا اندازہ ہوتا ہے۔ ”قلم چہرے“ میں بیس ممتاز قلمی شخصیات کے دلچسپ خاکے شامل ہیں جن میں شورش کاشمیری، مولانا کوثر نیازی، ڈاکٹر مجید نظامی، فیض احمد فیض، ارشاد احمد حقانی، نسیم حجازی، مختار مسعود، ڈاکٹر سید عبداللہ اور شفیق الرحمن قابل ذکر ہیں۔ جناب ضیا شاہد وطن پرست ہیں اور آخری سانس تک مادر وطن کی خدمت میں مصروف رہنا چاہتے ہیں اپنی زندگی میں جس قدر انہوں نے کام کیا وہ کوئی انسان نہیں جن ہی کرسکتا ہے۔ پاکستان کی ممتاز شخصیات کے ساتھ انکے ذاتی نوعیت کے تعلقات رہے ہر سیاسی جماعت اور تحریک کے پیچھے ضیا شاہد کا دماغ اور قلم نظر آتا ہے۔ انکی کتب میں ایسے تاریخی انکشافات ملتے ہیں جو کسی اور مصنف کی اور کتاب کا حصہ نہ بن سکے۔ ”قلم چہرے“ کا انتساب ملاحظہ فرمائیے ”قلم کی حرمت کے نام جس کیلئے ہر دور میں آج بھی اور آنیوالے وقتوں میں بھی کچھ باضمیر لکھنے والے قربانیاں پیش کرتے رہے آج بھی کرتے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ انہی کے قلم سے سچ اور حق کی آواز ہمیشہ نکلتی رہی ہے اور انشاءاللہ قیامت کے دن تک نکلتی رہے گی“۔
”قلم چہرے“ ابھی زیر مطالعہ تھی کہ ضیا شاہد کی ایک اور کتاب ”گاندھی کے چیلے“ موصول ہوئی۔ یہ کتاب گاندھی کے پاﺅں دھونے والے سرخ پوش غفار خان ان کے بھائی ڈاکٹر خان صاحب اور بیٹے ولی خان کی پاکستان دشمنی اور انگریز اور ہندو کے ایجنٹ ہونے کی خوفناک اندرونی داستان ہے۔ اس کتاب میں برادرم ضیا شاہد پاکستان کے سچے اور کھرے وکیل کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ وہ پاکستانی قوم کو آگاہ کرتے ہیں کہ سرحدی گاندھی عبدالغفار خان اور بلوچی گاندھی عبدالصمد اچکزئی کی اولادوں نے بھی پاکستان کو دل سے قبول نہیں کیا۔ ان کو جب بھی موقع ملا وہ پاکستان کو توڑنے سے گریز نہیں کرینگے۔ کاش پاکستان کے عوام بزرگ وطن دوست صحافی کے اس تجزیے پر سنجیدگی سے غور کریں۔ انتہائی دکھ اور کرب کا مقام ہے کہ جن سیاستدانوں نے قائداعظم اور تحریک پاکستان کی ڈٹ کر مخالفت کی انکی اولادیں اسفند یار ولی اور محمود خان اچکزئی جو خود کو افغانی کہتے ہیں اور کبھی پاکستانی نہیں کہتے وہ مسلم لیگ(ن) کے اتحادی ہیں۔ میاں نواز شریف بڑے فخر سے ان کو اپنا نظریاتی ساتھی کہتے ہیں مگر انہوں نے کبھی اپنے نظریے کی وضاحت نہیں کی۔ علامہ عبدالستار عاصم اور محمد فاروق چوہان ہر حوالے سے معیاری کتب شائع کرنے کیلئے خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ برادرم ضیاشاہد کو صحت کاملہ عطاءفرمائے اور وہ پاکستانیات کے قلمی سلسلے کو مکمل کرسکیں جو آنیوالی نسلوں کیلئے قیمتی تحقیقی سرمایہ ثابت ہوگا۔
(بشکریہ:نوائے وقت)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved