تازہ تر ین

سرائیکی کیلئے ضیاشاہدکانیابیانیہ (2)

ظہور احمد دھریجہ\ سرائیکی وسیبظہور احمد دھریجہ\ سرائیکی وسیبجناب ضیا شاہد نے اپنے خصوصی مضمون کا عنوان سرائیکی لیڈروں سے چند گزارشات لکھا ہے ۔ میں نے اس پر سوالیہ نشان لگایا ہے کہ گزارشات تو ہماری طرف سے ہیں اور جہاں تک لیڈری کی بات ہے تو تمام سرائیکی رہنماو¿ں کو کسی طرح کا کوئی زعم نہیں کہ وہ کوئی لیڈر ہیں ۔ میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ ضیا شاہد کا زیر بحث مضمون سرائیکی تحریک کیلئے آج کا نیا بیانیہ ہے ۔ اسے ہم نیا ورشن اور وسیب کے حقوق کے حوالے سے سوچ کا نیا درشن بھی قرار دے سکتے ہیں ۔ اگر مباحث کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو ایک ضخیم کتاب بھی سامنے آ سکتی ہے ۔ آپ نے مختلف موضوعات پر اظہار ِ خیال فرمایا ہے ۔ ابھی مزید جوابات سامنے آنی ہیں ۔ جناب ضیا شاہد نے زکریا یونیورسٹی کے مسئلے کا ذکر کیا ہے کہ وہاں کسی نے بات نہیں کی ۔ حالانکہ سرائیکی مشاورت میں باقاعدہ قرارداد منظور ہوئی ۔ اس کے علاوہ ہر آئے روز جلوس بھی نکل رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں روزنامہ خبریں میں مضامین بھی شائع ہو رہے ہیں اور تصویر کا دوسرا رخ بھی پڑھنے کو ملا ہے ۔ جس میں اس حد تک غلط بیانی سے کام لیا گیا کہ سرائیکی شعبہ یا اس کی عمارت بنوانے سے ظہور دھریجہ کا کوئی تعلق نہیں ۔ حالانکہ سرائیکی شعبے کیلئے مسلسل عدالتی جنگ اور عدالت کے ذریعے صوبائی محتسب پنجاب کی عدالت میں ظہور دھریجہ بنام حکومت پنجاب کمپلینٹ نمبر 444 کا تمام ریکارڈ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ وہی ڈاکٹر انوار اور اس کا چہیتا شاگرد اجمل مہار سرائیکی شعبے کی مخالفت بھی کی اور شعبہ بننے پر اس کے کرتا دھرتا بھی بن گئے اور آج شعبے کو بدنام کر کے رکھ دیا ۔جناب ضیا شاہد نے میرے بارے میں لکھا کہ پانچ پانچ جگہوں سے پریس ریلیز جاری کرتے ہیں ۔ اس بارے میں ادب سے گزارش کروں گا کہ پانچ پانچ جگہوں سے پریس ریلیز جاری کرنے کی کہانی خبریں ملتان آفس سے گھڑی ہوئی ہے ۔ کون ایسا بےوقوف ہے یا کس کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ ایک دن میں پانچ پانچ پریس ریلیز جاری کرے۔ پریس ریلیز کو شائع کرنا یا نہ کرنا ایڈیٹر کا اختیار ہے ۔ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہماری خبر لازمی طور پر شائع ہونی چاہئے اور میں یہ بھی واضح طورپر کہتا ہوں کہ ہماری تنظیم کسی جماعت کے لوازمات کو پورا نہیں کرتی اور یہ ایک چھوٹا سا پلیٹ فارم ہے جس سے ہم وسیب کے مسائل کا اظہار کرتے رہتے ہیں ۔ ہمیں اپنی حیثیت اور اپنی اوقات کا بھی علم ہے کہ ہم ایم پی اے یا ایم این اے تو کیا ایک کونسلر بھی نہیں بن سکتے اور اس بات کا بھی علم ہے کہ صوبہ بننے پر بھی بر سر اقتدار یہی وڈیرے اور جاگیردار ہونگے ۔ یہ جاننے کے باوجود کہ یہ مسلسل کانٹوں کا سفر ہے اور اس میں اقتدار کی باریوں والا معاملہ نہیں ، پھر بھی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہیں کہ اپنے لئے جینا کوئی جینا نہیں‘ دو صدیاں غلامی میں بیت گئیں ، وسیب کی آٹھ نسلیں تباہ ہو گئیں ، ہم چاہتے ہیں کہ صوبہ بن جائے تاکہ پیارے پاکستان کے اندر وسیب کی آنے والی نسلیں تو سکھ کا سانس لے سکیں۔۔ اسی بناءپر ہم نے کوشش کر کے آٹھ جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع بھی کیا ہے تاکہ اس وسیب کی دکھوں کی بات چلتی رہے ۔ میری درخواست اتنی ہے کہ جو آپ ملتان آفس کو ہدایت فرمائیں کہ وہ خبر لگائیں یا نہ لگائیں ، ہم شکوہ نہیں کریں گے لیکن میرے خلاف خدا کے لئے غصہ کم کریں اورایسی باتیں نہ کریں جن سے میرا دور کا بھی واسطہ نہیں ۔آخر میں صرف ایک مسئلے پر عرض کر وں گا ، وہ مسئلہ محترمہ ڈاکٹر نخبہ لنگاہ کی بات کے حوالے سے ہے کہ سرائیکی کا نام 1971ءمیں پیدا ہوا ۔ حالانکہ یہ نام صدیوں پرانا ہے۔ گزشتہ صدی میں اس نام پر محض اتفاق ہوا ۔ چونکہ یہ تاریخی بحث ہے ، اس لئے تاریخ کے ریکارڈ کی درستگی کیلئے معروضات پیش کر رہا ہوں۔اس سلسلے میں ایک تاریخی کتاب کا حوالہ نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرائیکی لفظ چند سال پہلے کا نہیں بلکہ بہت عرصہ پہلے سے موجود ہے ۔ ہندوستان کی زبانوں کے بارے میں جارج گریسن کی کتاب ” لینگویج سروے آف انڈیا “ ( مطبوعہ گورنمنٹ پریس کلکتہ 1919ء) کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ کتاب کے والیم VIII حصہ اول صفحہ نمبر 359پر وہ لکھتے ہیں :Dr. Trump on page 11 of sindhi grammar states that the modern dialect of sindhi is called siraiki and adds that this is the purest form of the language. This is also the opinion of the inhabitants of the country who have a proverb that the learnmed man of the lar (or lower sindhi) is abut an ass is the siro.ترجمہ: اپنی سندھی گرائمر کے صفحہ 11 پر ڈاکٹر ٹرمپ لکھتے ہیں کہ سندھی کی شمالی بولی کا نام سرائیکی ہے اور یہ سندھی کی خالص ترین شکل ہے۔ اس علاقے کے باشندوں کی رائے بھی یہی ہے کیونکہ ان کے ہاں ایک محاورہ ہے کہ ” لاڑ یعنی سندھ کے عالم شمالی سندھ میں محض حیوان ہے ۔ ( لاڑ جو پڑھیو سرے جوڈھگو )۔“اسی صفحے پر وہ مزید لکھتے ہیں:۔From every district of sindh (except Thar and Parker) specimens have been received of the language locally known as Siraiki. on Examination it turns out that in every case this language is not Sindhi at all but is form of Lahnda closely allied to the hindki of Dera Ghazi Khan.ترجمہ : ” سندھ کے ہر ضلع سے ( سوائے تھر و پارکر ) ایک ایسی زبان کے نمونے ملے ہیں جسے مقامی طور پر سرائیکی کہتے ہیں ۔ لیکن معائنہ کرنے پر ہر ایک نمونہ ایک ایسی زبان کا نکلا جو سندھی ہر گز نہیں ہے بلکہ ” لہندا “ کی ایک صورت سے متشابہ ہے اور ضلع دیرہ غازی خان کی ہندکی سے قریبی مناسبت رکھتا ہے۔ “جیسا کہ میں نے لکھا کہ جناب ضیا شاہد کا کالم سرائیکی تحریک کا نیا بیانیہ ہے ۔ ان کے کالم سے بہت سی باتیں کھل کر سامنے آئی ہیں ۔ جن پر بحث کی ضرورت ہے ۔ سرائیکی زبان کے نام کا مسئلہ بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ سرائیکی وسیب کے مسائل بھی اس میں شامل ہیں ۔ جناب ضیا شاہد لکھتے ہیں کہ ”بقول نخبہ لنگاہ کے پنجاب کے زیریں علاقوں میں ریاستی ڈیروی ، ملتانی‘ جھنگوچی اور ہندکو وغیرہ کی جگہ لفظ سرائیکی منتخب کیا گیا اور بیرون ملک تاج لنگاہ کی اسی تعلیم یافتہ بیٹی نے اپنے لیکچر میں یہ تسلیم کیا ہے کہ سرائیکی کا لفظ 1971ءکے بعد کی پیداوار ہے۔“محترمہ نخبہ لنگاہ میرے لئے بہت محترم ہیں لیکن میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ سرائیکی نیا نام نہیں ہے اور 1971ءمیں نہیں 1962ءمیں اس نام پر اتفاق کیا گیا ۔ اس سلسلے میں پروفیسر شوکت مغل کی کتاب ” سرائیکی دیاں خاص آوازاں دی کہانی “ کے صفحہ نمبر 71 اور 72 سے اقتباس پیش کرتا ہوں ۔ وہ لکھتے ہیں :” 1962ءمیں سمرہ پبلک ہائی سکول ملتان میں دانشوروں کا ایک اجلاس ہوا ۔ صدارت غلام قاسم خان خاکوانی نے کی، ریاض انور ایڈوکیٹ، اختر علی خان، مولانا نور احمد فریدی ، ڈاکٹر مہر عبدالحق، سیٹھ عبید الرحمن بہاولپوری، علامہ نسیم طالوت ، میر حسان الحیدری اور ارشد ملتانی اس میں شریک ہوئے ۔ اجلاس کے دو ایجنڈے تھے ۔ سرائیکی زبان کے نام کا مسئلہ اور سرائیکی رسم الخط کا مسئلہ ۔ کہا جاتا ہے کہ ریاض انور ایڈوکیٹ نے سرائیکی کے مختلف نام ( ملتانی ‘ بہاولپوری ‘ ریاستی ‘ جھنگوچی ‘ دیرے وال‘ لہندا ‘ جٹکی وغیرہ ) کی بجائے ایک نام ” سرائیکی “ پر اتفاق کی تجویز پیش کی ۔ میر حسان الحیدری نے تائید کی اور پھر اس نام پر اتفاق ہوا۔ “اس کے بعد آج تک اس نام پر اتفاق ہے اور آج سرائیکی میں پی ایچ ڈی ‘ ایم فل ‘ ایم اے ‘ بی اے ہو رہی ہے اور میٹرک سطح پر بھی سرائیکی آ گئی ہے ۔ اسی نام سے ریڈیو ٹیلیویژن سے پروگرام ہو رہے ہیں اور حکومت پاکستان کا ادارہ اکادمی ادبیات سرائیکی کے نام پر سرائیکی میں لکھی گئی کتاب کو ہر سال ایوارڈ بھی دیتا ہے ۔ ( ختم شد) (سرائیکی دانشور‘سرائیکیوں کے مسائل پرلکھتے ہیں)٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved