تازہ تر ین

سعودی عرب‘روشن خیالی کی جانب

سجادوریاہ……..گمان
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سے آنے والی نئی خبریں مسلسل تبدیلی کا پتہ دیتی ہیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ریاض جو حکومتی مرکز ہے دراصل تبدیلی مرکز بنا ہوا ہے۔ سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد جو تبدیلی کا عمل شروع ہوا تھا وہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ شاہ سلمان نے اقتدار سنبھالا اور حکومتی تبدیلی کا عمل شروع کر دیا اپنے بھتیجے محمد بن نائف کو پرنس مقرن کی جگہ ولی عہد مقرر کر دیا اور اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد اور وزیر دفاع بنا دیا۔اس کے بعد تبدیلی کے اس عمل کی کمان شہزادہ محمد بن سلمان سنبھال لی اور پھر کوئی بھی شعبہ خواہ سرکاری ہو یا غیر سرکاری تبدیلی کی زد میں ضرور آیا۔محمد بن سلمان نے سیاسی، خاندانی،علاقائی، انتظامی اور معاشی غرضیکہ ہر میدان میں اکھاڑ پچھاڑ کا عمل ایسا شروع کیا کہ برس ہا برس سے قائم نظام کو تلپٹ کر کے رکھ دیا. تبدیلی کے اس عمل کی تیز رفتاری نے معیشت اور سیاست کے میدان میں حادثات کو بھی جنم دیا ہے۔ بعض تبدیلیاں اور سختیاں ایسی ہیں کہ کئی کمپنیاں اپنے مالی نقصان کو برداشت نہ کر سکیں اور بند ہو گئی ہیں اور غیرملکی افراد پر ایسے بے رحمانہ اور ظالمانہ ٹیکس لگائے گئے ہیں کہ وہ مملکت چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اسلامی نظام کے علمبردار اور مساوات کے دعویدار ایسی تفریق کا مظاہرہ کر رہے ہیں کہ عالمی انسانی حقوق کے طے شدہ قوانین کو بھی خاطر میں نہیں لایا جا رہا ۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں مسلسل کمی کی وجہ سے سعودی عرب کی معیشت سکڑ گئی ہے اور مالی خسارے مسلسل بڑھتے بڑھتے جا رہے ہیں‘جن کو پورا کرنے کے لیے غیر ملکی ملازمین پر اقامہ فیس کی مد میں جگا ٹیکس لگا دیا گیا ہے اور ان کے فیملی کے افراد پر بھی ٹیکس لگ چکا ہے۔
ولی عہد محمد بن سلمان بھر پور کوشش کر رہے ہیں کہ ملکی معیشت کا انحصار تیل کی سپلائی سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ پر کم سے کم رکھا جائے اور اندرونی طور ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جائے‘ انہوں نے عالمی برادری سے بھی سرمایہ کاری کی اپیل کی ہے کہ مملکت کے اندر منصوبے شروع کریں اور کاروباری مراکز میں غیر ملکی ملازمین کی بجائے سعودی ملازمین کو رکھنے کی اجازت ہو گی۔
ان تمام اقدامات کے لئے سعودی عرب کے سیاسی حالات کو روشن خیال بنانا پڑے گا اور مذہبی آزادی کے لئے قوانین کو ختم کرنا پڑے گا اور انسانی بنیادی حقوق کی بحالی کے لئے بالعموم اور خواتین کے حقوق کے لیے بلخصوص انقلابی تبدیلیاں کرنا پڑیں گی۔اس حوالے سے ولی عہد بن سلمان نے ایک کاروباری مراکز نمونے کے طور نیوم قائم کیا ہے ‘جس میں تمام سیاسی و سماجی آزادی ہو گی وہاں مذہبی پولیس ایکشن نہیں لے پائے گی۔اسی طرح خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے اور جون سے خواتین ڈرائیونگ کر سکیں گی‘ اسی طرح مملکت کی تاریخ میں پہلی بار سینما گھر کھول رہے ہیں اور خواتین فٹ بال میچ دیکھنے کے لئے اسٹیڈیم جا سکتی ہیں۔ یہ اعلان کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کو سیاحت اور تفریحی مقامات کے حوالے سے دنیا بھر کے لئے پرکشش بنایا جائے گا‘ اس کے لئے سعودی قوانین کی تبدیلی لازمی ہو گی۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کو اس وقت بجا طور پر تبدیلی کا مرکز کہا جا سکتا ہے کیونکہ شہزادہ محمد بن سلمان مملکت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ اپنی سعودی عوام کی تعلیمی قابلیت اور ٹیکنیکل استعداد کار بڑھانے کے لئے ادارے قائم کئے گئے ہیں اور کمپنیز کو مجبور کیا گیا ہے کہ ان سعودی افراد کو جاب دی جائے۔
سعودی عرب کی روشن خیالی کی طرف ایک اور بنیادی اعلان سامنے آیا ہے مذہبی شوری کونسل کے ممبر ڈاکٹر عبداللہ المطلق نے تجویز نما فتویٰ جاری کیا ہے کہ عورتوں کے لیے پردہ لازمی ہے لیکن اس کے لیے عبایا کی پابندی لازمی نہیں ہے‘یعنی اب عورتوں کو حکومتی سطح پر پابندی نہیں لگائی جائے گی‘ایک مسئلہ کفیل سسٹم ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے‘اس کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے‘کفیل کا نظام شتر بے مہار کی طرح من مانی کرنے اور ملازمین کو لوٹنے کا نظام ہے۔
سعودی عرب میں شاہی حکم کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ڈبل کر دی گئی ہیں ۔ ایک لٹر پیٹرول کی قیمت 75 حلالے سے بڑھا کر 1.35 ریال کر دی گئی ہے‘ اسی طرح 5 فیصد جی ایس ٹی مملکت میں پہلی بار نافذ کیا گیا ہے۔ غیر ملکی ملازمین کے اہل خانہ پر ٹیکس لگانے سے لاکھوں خاندان واپس اپنے ممالک جا چکے ہیں‘ اس سے چھوٹے کاروبار بند ہو گئے ہیں اور کئی ہوٹل اور دکانیں بند ہو گئی ہیں‘ ان تمام اقدامات سے بظاہر یہی تاثر ملتا ہے کہ سعودی عرب کی معیشت سکڑ گئی ہے اور اپنی معیشت کے بحران پر قابو پانے کے لئے اب حکومت دبئی کی طرز پر روشن خیال سماجی نظام تشکیل دینا چاہتی ہے۔سعودی عرب گھٹن کے ماحول سے نکل رہا ہے اور روشن خیالی کو اپنا رہا ہے‘ جو بھی مجبوریاں یا حالات ہوں یہ بہت ہی یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب اب ماڈرن اور روشن خیال ہو رہا ہے۔
(کالم نگارسماجی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved