تازہ تر ین

لودھراں کے سبق

جاوید کاہلوں….اندازِفکر
حالیہ برسوں میں آنے والے عام انتخابات سے قبل لودھراں کے حلقہ 154سے یہ آخری ضمنی انتخاب ہے جو کہ ہو چکا ہے۔ فقط چند ماہ کے دورانئے کے ایسے انتخاب میں امیدواروں کے ساتھ ساتھ عام ووٹر بھی کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتا‘ مگر لودھراں کے اس الیکشن میں اس لحاظ سے ووٹرز کا ٹرن اوور کافی غیرمعمولی رہا ہے‘ کیا واقعتا ہی اتنے لوگ باہر نکلے اور ووٹ ڈالا یا پھر یہ بھی کسی قوت کا ویسا ہی چسکار ہے جو کہ ہمارے ہاں کی جمہوریت کا وطیرہ ہے؟ آنے والے دو ایک روز میں اس پر کافی آراءسامنے آ جائیں گی۔ یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی کیونکہ ہماری جمہوریت میں یہ کلچر دور دور تک ابھی ظاہر نہیں ہوا کہ جس میں ہارنے والا اپنی ہار تسلیم کر کے جیتنے والے کو مبارکباد پیش کرے‘ حالانکہ یہ بھی جمہوریت کا ازحد ضروری ”حسن“ ہے کیونکہ معاشرہ اس طرح اپنے اداروں اور ان کے ذریعے ہوتے انتخابات پر بھروسہ کرنا سیکھ لیتا ہے‘ مگر یہ تب ہی ہو گا جبکہ معاشرہ پاکستان کے الیکشن کمیشن کو ایسا کرتا دیکھ لے گا اور محسوس بھی کرے گا۔ ہمارے ہاں کی جمہوریت میں تو یہ دستور بن چکا ہے کہ ہارنے والے تو کجا‘ جیتنے والے بھی دھاندلی دھاندلی کا شور مچانا اپنا پیدائشی حق گردانتے ہیں۔ اور جب جمہوری کلچر ایسا ہو گا تو پھر کسی بھی قوم کو سوائے جگ ہنسائی کے اور کیا مل سکتا ہے؟ یہ ابھی پچھلے الیکشن 2013ءہی کو دیکھ لیں۔ سندھ میں حکومت کرنے والے آصف علی زرداری نے اس کو ”آر اوز“ کا الیکشن کہا تو صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت کرنے والے عمران خان بھی باآواز بلند دھاندلی دھاندلی کی مالا آج تک جپتے چلے آ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ مرکز‘ پنجاب اور بلوچستان میں کرسیاں سنبھالنے والے مسلم لیگ ن والوں نے بھی ان انتخابات میں ”ہیرا پھیری“ کا واویلا بلند کیا۔ گو کہ انہوں نے ایسی ہیراپھیری اور دھاندلی کو فقط سندھ اور خیبر پختونخوا تک ہی محدود رکھا کیونکہ وہاں اپوزیشن پارٹیوں نے حکومتیں بنا رکھی تھیں۔ ظاہر ہے کہ جب آپ کے اپنے قومی سطح کے رہنما اپنے وطن کے انتخابات کے متعلق اور اس کو کروانے کے ذمہ دار ادارے کے متعلق ایسی بولیاں بولیں گے تو پھر دنیا آپ کی جاری جمہوریت کو کس آنکھ سے دیکھے گی؟ لہٰذا یہ کوئی ”مسئلہ فیثا غورث“ نہیں رہتا۔ ہمارے ہاں تو بلکہ ان بولیوں سے کہیں بڑھ کر مختلف اپوزیشن جماعتوں کے جلسے اور دھرنے بھی ہوئے جو کہ دنوں نہیں‘ ہفتوں نہیں بلکہ مہینوں جاری بھی رہے۔ اب یہاں ہر کسی کو اپنے اپنے انداز سے رائے رکھنے کا حق ہے مگر خدا لگی سے الگ کہا جائے تو یہ درست ہو گا کہ 1971ءکے یحییٰ خان انتخابات کے بعد شاید ہی ہمارا الیکشن کمیشن آج تک کوئی مناسب حد تک ہی سہی‘ ٹھیک انتخابات کروانے میں کامیاب ہوا ہے۔ ہمارے انتخابات میں عام طور پر ”ووٹ ڈالنے“ والوں سے زیادہ صرف ”ووٹ گننے“ والوں کی اہمیت رہی ہے اور جب آصف علی زرداری 2013ءکے جنرل الیکشن کو آر اوز الیکشن کہتے ہیں تو مقصود یہی ہوتا ہے کہ ووٹ ڈالنے والوں کی بجائے ووٹ گننے والوں کی پسند سے نتائج مرتب ہوئے ہیں‘ لہٰذا اگر عمران خان اس پر دہائی دے تو وہ بات تو حق سچ ہی کی کر رہا ہوتا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے۔ عمران خان کی ”بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔“
اب آیئے دیکھیں کہ کیا آج دنیا بھر کی نیک نام جمہوریتوں میں حالات کیسے ہیں۔ آپ ان ممالک میں اور باتوں کے علاوہ دو اقدار کو مشترک پائیں گے اور ان کا اظہار معاشرے کا تقریباً ہر فرد کرے گا۔ پہلی قدر یہ کہ دستوری مدت کے اختتام پر وہاں ہر صورت انتخابات ویسے ہی ہوں گے‘ جیسے کہ متعلقہ ممالک نے اپنے اپنے دساتیر میں لکھ رکھا ہے۔ دوم یہ کہ ہارنے والا اپنی ہار تسلیم کر کے برسرعام جیتنے والے کو مبارکباد پیش کرے گا۔ اسی دوسری قدر میں یہ حقیقت بھی پنہاں ہوتی ہے کہ ہر کامیاب و ناکام شخص کو اپنے نظام پر اس کی کمی بیشی کے باوجود مکمل بھروسہ ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کسی ملک کے جمہوری نظام میں یہ دو اقدار موجود ہیں تو ہی اس نظام کو نیک نامی بھی ملے گی اور اس کو اندرونی کے علاوہ بیرونی دنیا بھی تسلیم کرے گی۔ جن جمہوریتوں کو آج ہم نیک نام گردانتے ہیں‘ ان میں یہی دو قدریں مشترک ملیں گی۔ اب وطن عزیز میں اگر یہ دو اقدار‘ ہماری جمہوریت میں موجود ہیں تو یہ حسین بھی کہلائے گی اور خوبصورت بھی تسلیم ہو گی۔ اور اگر یہ موجود نہیں تو پھر ہماری جمہوریت صرف جیتنے والوں کی حد تک ہی ”حسین“ ہو گی۔ اس کے حسن سے بیرونی دنیا تو کجا‘ پاکستانی معاشرہ بھی کبھی متاثر ہو نہیں پائے گا۔ یہاں پر‘ لہٰذا‘ یہ سوال ابھرتا ہے کہ اگر ہم یہ دونوں اقدار‘ پاکستانی جمہوریت میں رواں دواں کرنا چاہیں تو اس کے لئے ہمیں کیا کرنا ہو گا؟ اس سوال کے جواب کے اوپر ایک لمبی بحث کی گنجائش ہے۔ مگر ایک فقرے سے اس کا جواب یہی ہے کہ جمہوریت ہر حال میں جاری رہے۔ اس کے آگے مارشل لاءیا ایمرجنسی ٹائپ کا کوئی سپیڈ بریکر حائل نہیں ہونا چاہئے۔ اگر نظام چلتا رہے تو سیاستدان اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کو خود ہی دور کرتے رہےں گے اور جمہوری نظام بھی اپنی اندرونی اصلاح بذاتِ خود کرتا رہے گا۔ اگر ہم اس سلسلے میں دنیا کی دو بڑی نیک نام جمہوریتوں، یعنی کہ بھارت اور امریکہ پر نظر کریں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ بھارت، جو کہ ہم سے بھی تعلیمی، اخلاقی اور دیگر جہتوں میں ایک گیا گزرا ملک ہے، وہاں کی جمہوریت بہت طاقتور ہے۔ وزیراعظم اندرا گاندھی نے جب قومی ایمرجنسی لگا کر اپنی جمہوریت پر وار کیا تو ہندوستانی عوام نے آنے والے الیکشن میں اس کو نکال باہر کیا اور امریکہ میں بھی گوکہ موجودہ صدر ٹرمپ ایک نامقبول صدر میں مگر نظام انہیں ہر حال میں سیدھا رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہاں مگر‘ اگر وہ نہ سدھرے تو پھر ان کا جمہوری نظام ہی اگلی دفعہ ان سے پیچھا چھڑا لے گا۔ وہاں کی افواج‘ عدلیہ یا کوئی بھی دوسرا ادارہ جمہوری فیصلے کو پاﺅں تلے دبانے کی قطعاً کوئی کوشش نہیں کرے گا۔ جیسا کہ شاید پاکستان میں رواج چل رہا ہے۔
اب اگر ہم لودھراں کی طرف مڑ کر نظر کریں تو ان میں جمہوری قوتوں اور بالخصوص سیاسی پارٹیوں کے لئے بے بہا جمہوری سبق موجود ہیں۔ اگر ہم ملک کی اپوزیشن پارٹی یعنی کہ تحریک انصاف کی بات کریں تو ان کے لئے سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ ان کا پاکستان میں کوئی سونامی وغیرہ نہیں ہے۔ مقابلہ سخت ہے اور رائے عامہ تقسیم در تقسیم ہے۔ لہٰذا ان کے جیتنے یا ہارنے کے قطع نظر ان کو آنے والے انتخابات میں مناسب اور موزوں امیدواروں کو میدان میں اتارنے کےلئے میرٹ پر سخت کاوش اور محنت کرنا ہو گی۔ امیدواروں کو زمینی حقائق کی موجودگی میں ان کے صحیح ”سیاسی وزن“ کی پرکھ کرنا ہوگی۔ مبادا کہ کوئی ڈیڑھ بالشت زبان رکھنے والا چرب زبان دھوکہ دے کر پارٹی ٹکٹ اچک لے جیسا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ 2013ءکے انتخابات میں کثرت سے ہو گیا تھا اور ایسے سارے ڈیڑھ بالشیئے بری طرح ہار گئے تھے۔ تحریک انصاف کو ذہن میں لکھنا ہو گا کہ ریس کا میدان جیتنے کی صلاحیت صرف گھوڑے میں ہوتی ہے‘ کسی گدھے پر آپ چاہے سونے چاندی کی کاٹھی (پارٹی ٹکٹ) ہی کیوں نہ سجادیں‘ گدھا کبھی ریس جیت نہیں سکتا۔ ہمیں خوشی ہے کہ جیتنے یا ہارنے سے قطع نظر تحریک انصاف میں اب ٹکٹ دینے کی حد تک کافی میچورٹی آچکی ہے۔ مثال کے لئے ہم علیم خان، حامد ناصر چٹھہ یا پھر ابھی لودھراں کو سامنے رکھ سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ پارٹی ٹکٹنگ موزوں ترین اور بہترین تھی اور 2013ءکے بعد ادھر مکمل میرٹ بحال دکھائی دیتا ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ کسی ایک آدھے حلقے کے علاوہ عام طور کسی بھی انتخابی حلقے میں صرف اور صرف ایک امیدوار ہی ہوتا ہے۔ درخواست تو ہر کوئی دے سکتا ہے مگر جینوئن امیدوار فقط ”واحد“ ہی ہوتا ہے، جس کی سمجھ پارلیمانی بورڈ کو بہرحال ہوتی ہے۔ اگر رائے بک نہ چکی ہو یا پھر لیڈر اپنی سطح پر ویٹو نہ کرے اور میرٹ تک براہ راست پہنچ رکھے۔
اسی طرح لودھراں ہی کے حوالے سے اگر ہم حکومتی پارٹی کو دیکھیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ جیت کے بعد کوئی بھی بڑھک ہانک سکتے ہیں۔ مگر ان کو یاد رکھنا ہو گا کہ یہ ایک ضمنی انتخاب ہے جو کہ ان کی مسلسل دس برسوں سے جاری حکومتی صوبے میں ہوا ہے اور دوسرے یہ کہ ”عوامی رائے“ قطعاً ”عدالتی رائے“ سے متعلق نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ یہ فقط ایک پریشر تکنیک تو ہو سکتی ہے اس کو عوامی عدالتی فیصلہ کہنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہو گا ۔ سب جانتے ہیں کہ تین دفعہ کا وزیراعظم ایسے حقائق سے قطعاً بے بہرہ تو نہیں ہو سکتا۔ مگر گاڈ فادر اور سسلین مافیا جیسے خونخوار بددیانتی کے القابات کی گہرائیوں میں ڈوبتے ہوئے کو یہ تنکے کا ایک آخری سہارا بھی شاید ثابت نہ ہو سکے اور قانون ختم نبوت کے ساتھ ناجائز اور ناروا کھلواڑ کرنے والے کو تو ایسی قطعاً امید بھی رکھنی چاہئے۔
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved