تازہ تر ین

میں اس عمران خان کو جانتا ہوں ، جس نے ہمیشہ میرٹ اور میرٹ کی بات کی

امتنان شاہد
میری چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے اور پاکستان کرکٹ ٹیم آسٹریلیشیا کپ (Austral-asia Cup) جیت کر وطن واپس لوٹی تھی اور میں سپورٹس رپورٹر کے طور پر پاکستان کرکٹ ٹیم کو کور کیا کرتا تھا۔ اس کے بعد ان ہی کی قیادت میں 1992ءکا ورلڈ کپ پاکستان نے جیتا۔ عمران خان کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ سے قبل لاہور میں مجوزہ کینسر ہسپتال کی تعمیر اور اس کے سلسلے میں کی جانے والی پلاننگ کے دوران چندہ مہم سے لے کر شوکت خانم ہسپتال کے سنگ بنیاد کی تقریب‘ شوکت خانم ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کا افتتاح‘ اور بعد ازاں مکمل ہسپتال کا افتتاح‘ پاکستان تحریک انصاف کو جنم دینے والی تحریک احتساب اور عمران خان کی ضد کہ جس میں وہ ایک سیاسی جماعت کی جگہ ایک پریشر گروپ بنانا چاہتے تھے‘ پاکستان تحریک انصاف کا پہلا منشور‘ عمران خان کی پہلی پریس کانفرنس اور اس کے سلسلے میں ہونے والی تیاری‘ پاکستان تحریک انصاف کا پہلا دفتر‘ جوکہ مال روڈ پر جم خانہ کلب لاہور سے پہلے اپر مال سکاچ کارنر (Scotch Corner) پر کھولا گیا۔ عمران خان کی شادی‘ جمائمہ خان کی پاکستان آمد اور عمران خان کے ساتھ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا‘ اردو سیکھنا‘ زمان پارک لاہور سے بنی گالہ اسلام آباد شفٹ ہونا‘ ان کی جمائمہ خان سے علیحدگی‘ پاکستان تحریک انصاف کا پہلا الیکشن (جس میں پاکستان تحریک انصاف کو شکست ہوئی)‘ عمران خان کا پہلی بار ممبر قومی اسمبلی منتخب ہونا‘ شوکت خانم ہسپتال کے لئے عطیات اور ڈونیشنز اکٹھی کرنے کی پلاننگ اور اس کے سلسلے میں کئے جانے والے اقدامات‘ نمل یونیورسٹی کی بنیاد اور اس کا افتتاح۔ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کیخلاف تحریک چلانا اور اپوزیشن کا حصہ بننا‘ ایم کیو ایم کے سابق قائد الطاف حسین کے خلاف آواز اٹھانا‘ 30اکتوبر 2011ءکا جلسہ اور اس کے بعد تحریک انصاف کی نئی شروعات‘ 2013ءکا جنرل الیکشن اور عمران خان کی جلسے میں ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ اور ہسپتال داخل ہونا‘ 2013ءکے الیکشن کے بعد دھرنے اوراب 2018ءتک کے نئے انتخابات کی تیاری ، یہ تمام واقعات کا میں چشم دید گواہ رہا۔ اوراس دوران میں نے عمران خان کو بہت قریب سے دیکھا۔ ان کی قائدانہ صلاحیتوں اور حب الوطنی پر شک نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ کئی بار ان کے فیصلوں پر ایک سوالیہ نشان ضرور اٹھ جاتا ہے۔ ٹیم کی کپتانی کرنے سے لے کر پاکستان تحریک انصاف کی کپتانی کرنے تک میں نے عمران خان کو ایک ہی بات کرتے اور اس پر زور دیتے دیکھا ہے کہ ”ملک‘ نظام‘ ادارے‘ ٹیمیں‘ صرف ایک ہی بنیاد پر چلتی ہیں اور وہ ہے میرٹ۔ جس جگہ میرٹ نہیں ہوگا وہاں کرپشن کی بنیاد پڑے گی اور جس جگہ کرپشن ہوگی وہاں کا نظام مفلوج ہوگا “۔
یہ وہ جملے تھے جنہوں نے عمران خان کو آج کا عمران خان بنایا۔ بلاشبہ اپنے کرکٹ کے کیرئیر کے دوران ان کا طوطی بولتا تھا۔ وہ صف اول کے کرکٹر تھے اور جب وہ ریٹائر ہوئے تو وہ ایک سٹار کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے اور وہ تاحیات سٹار ہی رہیں گے۔ البتہ بہت سارے پاکستانی خصوصاً تحریک انصاف کے بنیادی‘ بانی کارکنوں اور خاص کر عمران خان کی ذات سے امید لگائے کروڑوں ہم وطنوں اور بنیادی بانیوں کی طرح ایک عام پاکستانی کی حیثیت سے میرا عمران خان سے ایک سوال ہے کہ عمران خان کی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف اپنے فیصلوں میں میرٹ کا خیال رکھ رہی ہے؟ کیا آپ کے بقول میرٹ نہ ہونے سے بہت سارے ادارے اوران کی اپنی جماعت کے بہت سارے ونگ (Wing) کرپشن کی زد میں تو نہیں؟ اور جس کی وجہ سے پورا نظام اپ سیٹ ہورہا ہو اور جماعت کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے؟
یہ ہے وہ سوال جو آج لاہور‘ جہلم‘ چکوال‘ لودھراں کے الیکشن کے بعد عمران خان کو خود اپنے آپ سے کرنا ہوگا۔ عمران خان ذاتی طور پر میرٹ اور صرف میرٹ پر یقین رکھنے والا انسان ہے اور اس حد تک یقین رکھنے والا انسان کہ اس کے لئے وہ کوئی بھی قربانی دیدے چاہے اس کے بعد اس کو خود تکلیف ہو‘ میں اس کا چشم دید گواہ ہوں۔ سیاسی جماعتوں میں افراد کی آراءمختلف ہوتی ہیں البتہ یہ فیصلہ ٹیم کے کپتان یا جماعت کے کپتان اور قائد کا ہوتا ہے کہ اس کی نظر میں کیا ٹھیک ہے اور کیا غلط۔ عمران خان نے گزشتہ پانچ سال میں جو بیانیہ دیا بالعموم پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد نے اسے قبول کیا‘ ان کی ہر کال (Call) پر عوام سڑکوں پر آئے اور دھرنے دیے لیکن آخر وہ کون سی مصلحت ہے اور کون سا گروپ ہے جس کی وجہ سے عمران خان کی شخصیت مصلحتوں کا شکار ہوتی نظر آرہی ہے اور اب ان کے فیصلوں میں وہ ٹھہراﺅ اور میرٹ کی وہ سخت پالیسی بھی نظر نہیں آرہی جس کی وجہ سے نہ صرف پاکستانی سیاسی افق پر عمران خان پہنچا بلکہ پاکستانیوں نے ‘ اس کو لیڈر مانا‘ اس کی بات کا پاس رکھا اور اس کے کھڑے کئے گئے نمائندوں کو ووٹ دے کر اسمبلیوں تک پہنچایا اور پی ٹی آئی کو پاکستان کی پارلیمنٹ کی تیسری بڑی قوت بنایا جس کی ایک صوبے کے پی کے میں حکومت بنی۔
لاہور‘ چکوال‘ جہلم‘ پشاور‘ لودھراں کے الیکشن میں پانچ میں سے ایک سیٹ پاکستان تحریک انصاف کو ملی۔ پی ٹی آئی کی 2013ءکی مہم میں دیگر جماعتوں سے سب سے منفرد‘ الگ اور واضح تھی ‘ وہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کا ایم این اے اور ایم پی اے کی نشستوں پر ٹکٹ کا حصول تھا اور 25 فیصد ایسے نوجوانوں‘ پارٹی کے ورکرز اور بانی کارکنان کو ٹکٹ دئےے گئے جو حقیقتاً اور خاص کر عمران خان کے ویژن کو آگے لے کر جانا چاہتے تھے اور اس کی سکت رکھتے تھے۔ 2013ءکے الیکشن کے بعد ایک ملاقات میں عمران خان نے مجھے خود یہ کہا کہ وہ اس بات پر بہت خوش ہیں کہ نئی اور نوجوان قیادت آگے آرہی ہے اور اگر ان کو صحیح سمت دی جائے تو وہ اس ملک کی تقدیر بدل دیں گے اور یہ بات صرف نعروں تک محدود نہیں رہے گی۔ البتہ لودھراں میں ہونے والے الیکشن نے پاکستان تحریک انصاف اور خاص کرعمران خان کے لئے بہت سے سوالیہ نشان کھڑے کردئےے اور بظاہر ان کو اس کا احساس بھی ہے۔ سب سے بڑھ کر جس سپریم کورٹ کی خان صاحب خود تعریف کرتے ہیں اور اس کے ہر فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں‘ اسی سپریم کورٹ کے کئے گئے جہانگیر ترین نااہلی کیس کے فیصلے کی اپیل کرنے اور اس کے بارے محتاط رویہ رکھنے پر کیوں زور دے رہے ہیں؟ بلاشبہ جہانگیر ترین کے صاحبزادے علی ترین نوجوان ہیں لیکن وہ پاکستان تحریک انصاف کے بنیادی رکن یا کارکنوں میں سے نہیں۔ بلاشبہ جہانگیر ترین ایک اچھے سیاستدان ہوسکتے ہیں لیکن آج بھی پاکستان تحریک انصاف کے بہت سارے لوگ فون کر کے اور وٹس ایپ پیغامات کے ذریعے یہ پوچھتے ہیں کہ آخر لودھراں کے بائی الیکشن میں علی ترین کو ہی کیوں منتخب کیا گیا ؟ کیا اس کی جگہ پارٹی میں کوئی ایک بھی نام نہ تھا جس کو اس حلقے سے الیکشن لڑوایا جاتا؟۔ آپ کسی بھی بات پر پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف پر تنقید کریں لیکن ایک کریڈٹ ان کو دینا پڑے گا کہ لاہور کے میئر کرنل (ر)مبشر جاوید کا انتخاب ہو یا اسلام آباد کے میئر شیخ عنصر عزیز کا‘ لودھراں کے پیر اقبال شاہ یا چکوال کے چوہدری حیدر سلطان علی۔ مسلم لیگ ن نے ٹکٹ اس کو دیا جو ورکرز تھے‘ جن کی کسی نہ کسی صورت میں مسلم لیگ (ن) سے رفاقت‘ قربت رہی۔ جب کسی پارٹی نے اپنے بنیادی ورکرز اور نوجوانوں کو آگے لانا شروع کیا تو پوری پارٹی اور خاص کر ورکنگ کلاس ان کے پیچھے کھڑی نظر آئی۔ بلاشبہ کے پی کے میں اب تک عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی پوزیشن بہت مضبوط ہے۔ اس صوبے میں کئی نئے منصوبے اور ترقیاتی کام ہوئے ہیں البتہ عمران خان جن سے میرا ایک بڑا پرانا اور پیار کا تعلق ہے کو یہ سوچنا ہو گا کہ آخر کس طرح ان کی پارٹی کے فیصلے ان کے دل کے فیصلوں پر غالب آرہے ہیں۔ میرٹ کی بات اور موروثی سیاست کو ختم کرنے والا انسان آخر کیوں کر مصلحتوں کا شکار ہوتا نظرآرہا ہے جس عمران خان کو میں جانتا ہوں وہ سب کی سن کر کرتا اپنی تھا۔ اس کے فیصلوں میں ضد ضرور تھی البتہ اسی ضد نے اسے کامیاب ترین کپتان بنایا‘ اسی ضد نے شوکت خانم بنوایا‘ اسی ضد نے نمل یونیورسٹی بنوائی اور اسی ضد نے پاکستان تحریک انصاف کو پاکستان کی ایک سیاسی قوت بنادیا۔
لودھراں کے حالیہ الیکشن میں شکست کے بعد تحریک انصاف کو شدید نقصان ہوا ہے اور اندیشہ ہے کہ اس کا اثر اگلے الیکشن پر پڑے۔ جنرل الیکشن کی فضاءبلاشبہ یکسر مختلف ہوتی ہے لیکن بہرحال چاہے کسی بھی امیدوار نے 90 ہزار ووٹ لئے ہوں‘ ہار ہار ہوتی ہے اور ہار کو جیت میں بدلنے کے لئے اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا آئندہ جیتنے کے لئے ضروری ہوجاتا ہے۔
عمران خان کے ایک بیان جس میں انہوں نے 350 نوجوانوں سے ملک کی تقدیر بدلنے کا ارادہ کیا‘ میں بہت جان ہے۔ خاص کر ایسے ملک میں جہاں 60 فیصد سے زیادہ آبادی‘ 20 سے 40 سال کی عمر کے درمیان ہو۔ اس میں تبدیل ہونے اور تبدیلی قبول کرنے کے بہت امکانات ہوتے ہیں۔ 2018ءکے الیکشن سے قبل تحریک انصاف کو اپنی حکمت عملی پر ازسرنو غور کرنا ہوگا کیونکہ عمران خان اور تحریک انصاف کے لئے 2018ءکا الیکشن ایک ٹرننگ پوائنٹ (Turning Point) سے کم نہیں ہے۔ اگر 2018ءکے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف اپنی حکومت بنانے اور عمران خان کو وزیراعظم بنوانے میں ناکام ہوجاتی ہے تو پھر اس جماعت میں بھی ٹوٹ پھوٹ کا عمل بالکل ویسے ہی شروع ہو گا جس طرح ماضی میں مسلم لیگ ق‘ مسلم لیگ ن‘ پیپلز پارٹی اور حالیہ دنوں میں ایم کیو ایم میں ہورہا ہے۔ عمران خان کی ذات کو پسند کرنے والے اور ان سے امید لگائے بیٹھے اس جماعت میں سینکڑوں ہونگے البتہ مائنس عمران خان پاکستان تحریک انصاف میں شاید ایک آدمی بھی نہ رہے اور نہ ہی اس جماعت کی پیروی (Following) کرنے والے ووٹرز رہیں جوکہ عمران خان کی ذات کی وجہ سے اندھا دھند اس جماعت کے ووٹرز اور سپورٹرز ہیں۔
اس لئے آنے والے الیکشن میں چاہے وہ اگست میں ہوں یا نومبر ‘ دسمبر میں‘ اس بات کی ضرورت ہے کہ پی ٹی آئی دیگر جماعتوں سے آئے ہوئے لوگوں کی بجائے اپنے بنیادی کارکنوں اور نئے لوگوں کو موقع دے۔ کیونکہ یہ جماعت عمران خان کے میرٹ اور نوجوان نسل تک دارومدار (Concentrate)کرنے کے ویژن پر کھڑی ہے اور نہ صرف جماعت کھڑی ہے بلکہ اس کا ووٹ بینک بھی میرٹ‘ نئی قیادت اور کرپشن سے پاک نظام کی بنیاد رکھنے پر ہی قائم ہے۔
٭٭٭

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved