تازہ تر ین

علی ترین کوبدترین شکست کیوں؟

خضر کلاسرا….ادھوری ملاقات
تحریک انصاف کے سپریم کورٹ سے نااہل رکن قومی اسمبلی جہانگیر خان ترین کے فرزندعلی ترین کیساتھ جو سلوک لودھراں کے عوام نے حلقہ این اے 154 کے ضمنی الیکشن میں اپنے ووٹوں کی طاقت سے کیاہے ،یہ سمجھداروں کی پیش گوائی کے برعکس نہیں ہے۔ترین کی سیاست کا باب بند ہوچکا۔اب وہ سیاست نہیں بلکہ کاروبار ہی کریں گے ۔جہانگیر ترین سپریم کورٹ میں عوام کے سامنے بے نقاب ہوچکے ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے پاس بھی ترین کے دفاع کیلئے کچھ بہترین نہیں تھا۔ترین مالی اور باورچی کے نام پر وہ دھندہ کرچکے ہیں جوکہ قابل شرم نہیں کہاجاسکتا لیکن اس کو قابل تعریف کسی طور پربھی نہیں ہوسکتاہے ۔ سیاست دھندہ ہے، پر گندہ ہے کے مصداق یہاں دوسروں کی طرف انگلی اٹھانے سے قبل یہ دھیان رکھنا از حد ضروری ہوتاہے کہ آپ نے اپنی چارپائی کے نیچے ڈانگ پھیر لیں ،وگرنہ یہی ہوگا جوکہ جہانگیر ترین کیساتھ ایک طرف سپریم کورٹ کے فیصلہ میں ہوا ہے، دوسری طرف عوام کی عدالت میں فرزند علی ترین کیساتھ ہوا ہے۔فرض کریں عوام بیووقوف ہوتے ہیں ،ان کو بکاﺅ مال سمجھ کر منڈی سجائی جاسکتی ہے ،اپنے،ہیلی کاپٹر کیساتھ تاثردیاجاسکتاہے کہ جو چاہیں کرسکتے ہیں لیکن سمجھداروں کے خیال میں بار بار ایسانہیں ہوسکتاہے کہ عوام کو خرید لیاجائے ۔ اپنی با ری آتی ہے اور پھر اس کے اثرات دیر تک ذاتی وسیاسی زندگی پر پڑتے ہیں۔جہانگیر ترین کی سیاست دلچسپی سے خالی یوں نہیں ہے کہ موصوف جلدی میں ہیں ، یوں لگتاہے کہ سیاست کو بھی وہ کاروبار ہی سمجھ بیٹھے ہیں ،زیادہ دیر نہیں ہوئی موصوف نوازشریف کے دوسرے دور حکومت میں شہبازشریف کیساتھ دیکھے جاتے تھے مطلب ان کے ہمدرد تھے اور انہی کیلئے کام کرتے تھے ۔پھر شریف برادارن سعودی عرب سدھار گئے تو موصوف نے جنرل پرویز مشرف کے حلقہ رفاقت میں آنے میں بھی ذرا دیر نہیں لگائی اور جنرل مشرف کے قریبی کیمپ میں اتنے چلے گئے کہ سیاست کے اصول ،قاعدے سب ان کی نظر میں بیکار ہوگئے۔ ادھر رحیم یار خان کے معروف سیاستدان احمد محمود کی کوششوں سے موصوف چھلانگ لگاکر قومی اسمبلی جاپہنچے ، مشرف حکومت میںوزرات پکڑ ی اور پھر وہ ہوا جس کا تذکرہ ن کے لیگی قائدین بالخصوص ترین کے دوست بیرسٹر ظفراللہ خان اکثراوقات اپنی لمبی پریس کانفرنسوں میں کرتے رہتے ہیں ۔ جنرل مشرف کا دور ختم ہواتو ایک دورایسا بھی چلاکہ ترین وزیراعظم بننے کیلئے اسلام آباد کی محفلوں میں اپنے آپ کو موزوں قراردے رہے تھے لیکن سمجھداروں کا کہناتھاکہ جہانگیر ترین جتنی جلدی میں ہیں، اتنے دیر میں تو سیاست کے بازار میں جیب ہی کٹ سکتی ہے۔جنرل مشرف کے دور کو انجوائے کرنے کے بعد ترین کو جمہوریت یاد آگئی اور وہی راگ الاپنے لگے جوکہ ایسے سیاستدانوں کا وطیرہ ہوتاہے۔ واقفان حال کا کہناتھا ایک وقت میں تو جہانگیر ترین اپنی پارٹی بنارہے تھے لیکن جب سیاست کی دلدل میں اترے تو پتہ چلاکہ یہ بچوں کا کھیل نہیں ہے ،صدمات سہنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہیں ،یوں بقول نواز لیگ کے کہ موصوف تحریک انصاف میں شامل ہوگئے اور عمران خان کیلئے اے ٹی ایم کا کردار نبھاناشروع کردیا۔موصوف نے تحریک انصاف کو بھی اسوقت شرمندہ کروایا جب عوام کو پتہ چلاکہ ترین مالی اور باورچی تک بھی واردات ڈال جاتے ہیں اور یہ بھی اسی دھندے میں ملوث ہیں جوکہ نااہلی کی طرف لے جاتاہے ۔رہے نام اللہ ۔ تحریک انصاف کو بھی شاید اقتدار کی جلدی ہوگی لیکن ترین سب سے آگے یوں تھے کہ انہوں نے تو دنوں میں سیاست کی کایا پلٹنی تھی ۔لیکن قدم بوجھل اسوقت ہوگئے جب موصوف کا کیس سپریم کورٹ میں چلا اور دوسروں سے حساب مانگنے والوں کو اپنی جائیدا د کا حساب دینا پڑا ،پھر جوہوا ہے وہ تاریخ کا سیاہ باب ہے ۔موصوف بھی اسی صف میں جاکھڑے ہوئے جہاں ایسے کردار اپنے انجام کے وقت شرمندہ ہوکر کھڑے ہوتے ہیں ۔ تحریک انصاف جوکہ صاف چلی، شفاف چلی کے نعرے کی دعویدار تھی ،عوام سے آنکھیں چرا رہی تھی ۔اسی طرح ترین نے سرائیکی دھرتی کی سیاست میں بھی انٹری روہی چینل لانچ کرکے دی تھی ا اور سرائیکی صوبہ کے بارے میں مشرف دور میں بلند وبانگ دعوے کرنے کا فریضہ بھی سرانجام دیاتھا لیکن جب ووٹ ڈالنے کا وقت آیا تو جو مشرف نے کہاتھا ،وہی کیا اور سرائیکی قوم کو چونا لگاکر موصوف پتلی گلی سے نکل گئے تھے ۔اسی طرح روہی چینل جوکہ سرائیکی زبان میں تھا ،اس کی اطلاعات ہیں کہ وہ ایک اور پارٹی کو دے کر موصوف دائیں بائیں ہو گئے ہیں اور اب چینل اردو میں چلتاہے۔جہانگیر ترین اسوقت بھی تحریک انصاف کو مشکل ڈال گئے جب اپنے نااہلی کے بعد اپنے ہی بیٹے علی ترین کو ضمنی الیکشن میں امیدوار بنالیا ۔عمران خان سے لیکر ساری تحریک انصاف کو اس بات پر وضاحتیں دینی پڑیں کہ موروثی سیاست کے تو آپ خلاف ہیں لیکن علی ترین پر آپ کو اعتراض نہیں ہے ۔لوگ ،تبصرہ نگا ر اور میڈیا جوکہتارہاہے لیکن جہانگیرنے علی ترین کو امیدوار بنوایا اور پارٹی گراف کو عوام میں نیچے گرایا۔اس فیصلہ کا نتیجہ پھر جہانگیر تیرین سمیت عمران خان نے دیکھ لیاکہ یہ سیاست بچوں کا کھیل نہیں ہے ۔بات لمبی ہوجائیگی لیکن اتنا عرض کرناہے کہ نوازشریف کو بھی بچوں کو ارب پتی بنانے کا جنون سیاست میں نااہل اور رسوا کرنے کا سبب بنا اور جہانگیر ترین بھی اسی راستہ پر گامز ن تھے اور آخر کا رارب پتی بیٹا نہ ادھر کا رہا اور اور نہ ہی ادھر کا رہا ۔ہمارے خیال میں نوازشریف اور جہانگیر ترین کے انجام سے یہی سبق ملتاہے کہ بچوں کو ارب پتی بنانے کا جنون عوام کی نظروں میں گرا دیتاہے اور ذلت اور رسوائی کے علاوہ ہاتھ کچھ نہیں آتاہے ۔
کسی شاعر نے شاید ایسے ہی کرداروں کے بارے میں کہاتھا ©۔
ہاتھ آیا نہیں کچھ رات کی دلد ل کے سوا
ہائے کس موڑ پر خوابوں کے پرستار گرے!
(کالم نگارسیاسی وسماجی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved