تازہ تر ین

ملک میں خرابی کی ذمہ دار بیوروکریسی ہے

عبدالودودقریشی
ملک میں روزانہ نت نئی کہانیاں سامنے آتی ہیں اور سارا ملبہ آنکھیں بند کرکے فوج یاسیاستدانوں پر ڈال دیا جاتا ہے ، مگر حالات و واقعات کے تدارک کے ذمہ داروں کے بارے سوچنے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کی جاتی اور نہ ہی اسکی اصلاح کا کوئی منصوبہ ہے اور نہ سوچ ، محض سیاستدان کو سیاستدان اور پشت پناہی نہ ملنے پر مقتدرہ حلقوں کو ذمہ دار گردان لیا جاتا ہے ۔
اس واردات میں بلواسطہ یا بلا واسطہ دشمن ملک اور بیرونی طاقتوں کا کتنا ہاتھ ہے اور بعض دانشورصحافی وکیل توطیش میں اپنے اداروں کو گالی دیکر مجاہد بنتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ اس سے واقعی وہ بڑے بن جائیں گے اور انکا یہ رویہ خلاف توقع تو نہیں ۔
بھارت میں برطانوی طرز پر برطانیہ نے انڈین سروس کا آغاز کیا جس میں 80فیصد میرٹ اور 20فیصد اقلیتوں او ر چھوٹی ذاتوں کیلئے کوٹہ رکھا ، مسلمان خال خال ہی میرٹ پر آتے تھے، زیادہ تر کوٹہ میں بھرتی ہو جاتے تھے جنہیں اکثر نالائق کی اصطلاح سے یاد کیا جاتا تھا، قیام پاکستان کے بعد یہ سارے پاکستان آگئے اور بعض کلرک بھی پاکستان میں آکر وفاقی سیکرٹری کے عہدے تک پہنچ گئے۔
اس طرح بیوروکریسی نے آتے ہی خوشحالی کی دوڑ میں دوڑنا شروع کردیا ، انکی پہلی چراہ گاہ محکمہ مال اور پٹواری تھی ، پھر بھارت چلے جانے والوں کی رہائشی اور کمرشل جائیدادیں ،پٹرول پمپ، دکانیں اور کاروبار تھے ، اس طرح ملک میں پٹواری بے تاج بادشاہ بن گیا ، پاکستان میں اسی بیوروکریسی نے نئی بیوروکریسی کا نظام وضع کیا ، اسکا پہیہ الٹا گھما دیا۔
صوبہ سرحد بلوچستان اور مشرقی پاکستان کے نام پر کوٹہ سسٹم اس طرح متعارف کروایا کہ میرٹ پر 20فیصد اور کوٹہ سسٹم میں 80فیصد لوگوں کو بھرتی کرنا شروع کیا ، جن میں انکے رشتہ دار اور برادری کے علاوہ سول سروس گروپ کے تعلق دار بھرتی کرائے گئے جو میرٹ پر ہرگز نہیں آتے تھے ، پھر سول سروس گروپ کا ایک مافیا بن گیا اور تمام قوانین اور ضابطے اسکے دفاع اور تحفظ کیلئے بنائے گئے ، اس طرح پبلک سروس کمیشن کا سربراہ اور اسکے ارکان بھی اپنے ہی قبیل سے لگوانے کا اہتمام کرلیا اور اس حوالے سے قانون سازی بھی کروالی گئی ، پھر اس میں ایک باضابطہ اجلاس کے بعد بیوروکریسی نے اپنا اپنا دائرہ کار طے کرلیا اور طے پایا کہ ہم ایک برادری ہیں اور ایک دوسرے کو تحفظ دینگے ۔
اس گروپنگ میں ڈی ایم جی ، فارن سروس، سیکرٹریٹ سروس، سوشل سروس، انفارمیشن سروس کی طرح کے گروپ بناکر بندر بانٹ کی گئی ، پھر اپنے مفاد کیلئے انٹرویو ٹیسٹ اور معیارات بنائے گئے اور یوں نالائق طبقہ مال بنانے کیلئے متحرک رہاہے ، یہ سیاستدانوں اور فوجی جرنیلوں کو اپنے دام میں پھانس لیتا ہے ، غلام محمد ، سکندر مرزا، ایوب خان وغیرہ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں،سکندر مرزا نے تو سول سرونٹ ہونے کے ساتھ اپنے آپ کو جرنیل بھی بنالیا اور وہ میجر جنرل بن گئے۔
یہ روایت آج بھی چل رہی ہے ، ہر بڑے بیوروکریٹ کا بھائی ، بیٹا ، بھتیجا بیوروکریٹ بنتا ہے ، ہمارے ایک دوست جوگیزئی پبلک سروس کمیشن کے ممبر بنے ، انکے تمام بیٹے بھتیجے بیٹیاں بیوروکریٹ بن گئے ، ان میںسے کوئی بھی نہ صحیح طرح سے اردو یا انگریزی لکھ پڑھ اور بول نہیں سکتا تھا۔
پھر وقت کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی کا گروپ حکمرانی کرتا ہے ، جب فاروق لغاری صدر بنے تو انکے گروپ کے تمام افراد اچھے عہدوں پر تھے، پھر لاہوری گروپ آیا ، اس سے پہلے بہاری گروپ بیس سال تک سیاہ و سفید کا مالک رہا ، آج کل فواد حسن فواد کے گروپ کو گریڈ بیس سے بائیس تک ترقی دیکر سیاہ و سفید کا مالک بنادیاگیا، ان میں سے ترقی پانے والے ہوشربا انکشافات کرتے ہیں ۔ پاکستان میں کوٹہ در کوٹہ کا نظام ذوالفقار علی بھٹو دور میں لیٹر انٹری کے نام سے چھوٹے صوبوں سے براہ راست گریڈ 18سے 19میں لوگوں کو لیا گیا۔
گجرات سے تعلق رکھنے والے تنویر احمد سرحد کے کوٹے سے بھرتی ہوکر سیکرٹری خارجہ اور اطلاعات بنے اس طرح سفارش پر کوٹے میں متعلقہ صوبے سے محض ایک فیصد لوگوں کو لیا گیا ، اگر ملک میں بیوروکریسی میرٹ پر آتی تو سیاستدانوں کو میرٹ کا راستہ دکھاتے اور فوجی طالع آزماو¿ں کو بھی سیدھا راستہ بتاتے ، شریف الدین پیرزادہ کے گھر لیکر جاتے ۔سیاستدانوں کو بدعنوان کرنے والی یہ ہی بیوروکریسی ہے ، جنرل مشرف جب صدر پاکستان بن گئے تو طارق عزیز نے انکم ٹیکس محکمہ کو حکم دیا کہ جنرل پرویز مشرف سے زندگی میں جہاں جہاں انکم ٹیکس یا کسٹم ڈیوٹی وصول کی گئی ہے تو جمع کیا جائے تاکہ انکو یہ رقم واپس کی جاسکے کیونکہ صدر انکم ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہے ، پھر فائل چھپادی گئی اور مجھے اسکے انجام کا پتہ نہیں لگ سکا ، قیاس ہے کہ انکی ساری تنخواہ سے انکم ٹیکس واپس کردیاگیا ہوگا۔
بھارت میں بیوروکریسی سیاست دانوں اور اسٹبلشمنٹ کو چلنے نہیں دیتی ، وہاں کی بیوروکریسی نہ ارب پتی ہے نہ انکے پاس دوران ملازمت دوسرے ممالک کی شہریت اور اقامے ، سپریم کورٹ میں اگر حقائق بیوروکریسی کی دوہری شہریت کے آگئے تو ایک بڑا زلزلہ ہوگا، انکی دوہری شہریت کے بعد انکے بیرون ملک اثاثے سیاستدانوں سے بھی زیادہ ہونگے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پبلک سروس کمیشن جو کہ ایک آئینی ادارہ بن گیا ہے بیوروکریسی سے پاک کیا جائے اور اس سروس اور صوبوں کی سروس میں ججوں کو تعینات کرتے ہوئے اسکے انٹرویو ٹیسٹ کو معیاری بنایاجائے ، این ٹی ایس جیسے ڈراموں او رغیر ممالک کی چربہ سازی کو فوری طور پر یکسر بند کردیا جائے اور سارے نظام کو پاکستانیت سے قومی زبان میں منتقل کیا جانا چاہئے ۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved