تازہ تر ین

تاریخ کا بدلتا ہوا دھارا……..(3)

الطاف حسن قریشی….مہمان کالم

 ہوا یہ کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر جناب سردار ایاز صادق جو گہری بصیرت کے مالک ہیں، انھوں نے چھ علاقائی ملکوں کی اسمبلیوں کے اسپیکرز کی کانفرنس کا اسلام آباد میں اہتمام کیا اور ان کی دعوت پر چین، روس، ایران ،افغانستان اور ترکی سے وفود آئے۔ دور روزہ کانفرنس میں علاقائی اور بین الاقوامی معاملات زیر بحث آئے اور ایک متفقہ اعلامیہ جاری ہوا۔ اس میں طے پایا کہ دہشت گردی اس علاقے کا سب سے سنگین مسئلہ ہے اور اس کے قلع قمع کے لیے مشترکہ کوششیں پوری قوت کے ساتھ کی جائیں گی۔ اس بات پر بھی سب نے اتفاق کیا کہ امریکا کو اس خطے میں کسی مہم جوئی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تیسرا متفقہ نکتہ یہ تھا کہ کشمیری عوام کو ان کا حق خودار ادیت ملنا چاہیے ۔ اس کے علاوہ پارلیمانی ڈپلومیسی کے ذریعے باہمی تنازعات طے کیے جائیں گے اور جغرافیائی قربتوں سے تاریخ کا دھارا تبدیل کیا جائے گا۔ چھ ملکی اسپیکرز کانفرنس نے امریکی جنگ جوئی کے آگے مضبوط بند باندھ دیا ہے جو دنیا کی ایک تہائی آبادی کی ترجمانی کر رہی تھی۔امریکا افغانستان کے ذریعے پاکستان پر دباﺅ بڑھانے کے عمل میں تیزی لا رہا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان اور افغانستان تاریخی، دینی اور ثقافتی رشتوں میں جڑے رہنے کے باوجود اچھے ہمسائے ثابت نہیں ہوئے ہیں اور بھارت افغانستان کے ذریعے تخریبی کارروائیوں میں ملوث پایا گیا ہے۔ چین جو پاکستان کا ایک آزمودہ دوست اور قابل اعتماد اقتصادی پارٹنر ہے، اس نے اس خطے میں امریکی مداخلت کی روک تھام اور پاکستان اور افغانستان کے کشیدہ تعلقات میں بہتری لانے کے لیے گزشتہ جون میں عملی اقدامات تیز کر دیے تھے۔ دراصل ۲۰۱۵ءمیں افغانستان اور افغان طالبان کے مابین امن مذاکرات میں ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا تھا اور افغانستان کے صوبہ بد خشاں سے دہشت گرد چین کے مغربی حصے میں سرگرم ہو گئے تھے۔ ۲۰۱۷ءکے وسط میں پاکستان اور افغانستان کے روابط نہایت کشیدہ تھے۔ ایسے میں چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی اسلام آباد اور کابل کے درمیان شٹل ڈپلومیسی کے ذریعے مفاہمت کی راہ ہموار کرتے رہے، چنانچہ اکتوبر ۲۰۱۷ءمیں پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کابل گئے اور افغان صدر اشرف غنی نے اس پر امر پر اتفاق کیا کہ دو طرفہ بات چیت کا ایک ہمہ جہتی ایجنڈا تیار کیا جائے گا۔ اس کے بعد پاکستان نے دونوں ملکوں کے لیے ایک ایکشن پلان تیار کر کے حکومت افغانستان کو بھیجا جس میں پانچ ورکنگ گروپس تجویز کیے گئے تھے۔ اسی اثنا میںامریکی وائس پریزیڈنٹ افغانستان آئے اور پاکستان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرتے رہے جس کے جواب میں چین نے فوری طور پر افغانستان، پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ کی سہ فریقی کانفرنس کا اہتمام کیا اور میزبانی کے فرائض سرانجام دیے۔ اس کانفرنس میں دورس فیصلے کیے گئے اور ایک ایسے راستے کا انتخاب ہوا جو اس خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن، سلامتی اور اقتصادی خوش حالی کے فروغ کا ضامن ثابت ہوگا۔ افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے چین کی مخلصانہ کوششوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم چین کی دیانت داری اور خلوص پر اعتماد کرتے ہیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مل جل کر کام کرنے کا عزم دہراتے ہیں۔ پاکستانی وزیر خارجہ جناب خواجہ آصف نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات معمول پر آجائیں گے اور انسداد دہشت گردی کی مفاہمتی یاد داشت پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔ تین ممالک کے وزرائے خارجہ نے افغان طالبان کو امن کے عمل میں شامل ہونے کی دعوت دی اور یہ عہد کیا کہ ان کی سر زمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہو گی۔ سہ فریقی کانفرنس میں سب سے اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ چین اور پاکستان نے سی پیک میں کابل کو شامل کرنے کی پیش کش کی ہے جس پر بتدریج اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا۔ زبردست منصوبہ ہے جس سے افریقی او یورپی براعظم بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اس طرح انسانی برادریاں ایک دوسرے کے قریب آئیں گی اور تعاون اور ہم آہنگی کے راستے کشادہ ہوتے جائیں گے۔ ہم کہ سکتے ہیں کہ بیجنگ میں اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرکے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی کی ہے اور سکیورٹی کونسل کی قرار دادوں کا مذاق اڑایا ہے۔ اسی طرح بھارت دنیا میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا کہ وہ محکوم کشمیریوں اور اپنی اقلیتوں کا قاتل ہے اور وہاں رواداری، برداشت اور انسانی قدروں کا گلا گھونٹا جارہا ہے۔گزشتہ سال28 جولائی سے پاکستان ایک بہت بڑی آزمائش سے دوچار ہے۔ عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بنچ کی طرف سے وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دینے پر ایک سیاسی طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ حکومت مسلم لیگ ن ہی کی ہے مگر اس کی قوت نافذہ میں بہت کمی واقع ہوئی۔ جناب نوازشریف کی جگہ جناب شاہد خاقان عباسی وزیراعظم بنے ہیں جو بڑی عمدگی اور فرض شناسی سے کارہائے منصبی سرانجام دے رہے ہیں، مگر انہیںکچھ ناگہانی واقعات کا سامنا ہے۔ انتخابی اصلاحات کا بل جب سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش ہوا تو سینیٹر جناب حمداللہ نے اس پہلو کی طرف توجہ دلوائی کہ ختم نبوت کے حلف نامے میں تبدیلی کردی گئی ہے، چنانچہ انہوں نے بل میں ترمیم پیش کی جس کی وزیرقانون نے حمایت مگر اپوزیشن جماعتوں نے اس سے اختلاف کیا۔ اس پر عوام کے اندر شدید ردعمل پیدا ہوا اور قانون میں ختم نبوت کا حلف نامہ دونوں ایوانوں کی منظوری سے بحال کردیاگیا۔ حکومت کے ذمے دار لوگوں نے کوتاہی پر معافی بھی مانگ لی، لیکن ایک مذہبی گروہ نے مطالبہ کیا کہ جن جن وزیروں سے غلطی سرزد ہوئی ہے، ان سے استعفیٰ لیا جائے اور ان پر مقدمات بنائے جائیں۔ حکومت لیت و لعل سے کام لیتی رہی۔ اس پر ایک مذہبی گروہ نے اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کردیا۔ خادم حسین رضوی صاحب کی قیادت میں چند ہزار لوگ فیض آباد انٹر چینج پر قابض ہوگئے اور حکمرانوں اور معزز جج صاحبان کو انتہائی غلیظ گالیوں سے نوازتے رہے۔ اس دھرنے سے اسلام آباد سے راولپنڈی کے جانے والے راستے میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں اور حکومت بے بس نظر آئی۔ تب اسلام آباد ہائیکورٹ نے انتظامیہ کو سرزنش کرتے ہوئے احکامات صادر کیے اس پابندی کے ساتھ کہ پولیس اسلحہ استعمال نہیں کرے گی۔ آپریشن کے دوران مظاہرین پولیس والوں کی وردیاں پھاڑتے اور انہیں تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔ پاکستان پر چند راتیں بہت بھاری گزریں۔ دنیا یہ تاثر لے رہی تھی کہ پاکستان کی ریاست ناکام ہوچکی ہے اور مذہبی جنونیوں نے حکومت کو شکستے دی ہے۔ خوفناک ڈیڈ لاک ختم کرنے کے لیے فوج کو درمیان میں آنا پڑا اور مظاہرین کی طرف سے تیار کردہ ایک ایسے معاہدے پر حکومت اور فوج کے نمائندوں کو دستخط کرنا پڑے جو انتہائی مضحکہ خیز اور قانونی تقاضوں کے یکسر منافی تھا۔اس المناک واقعے سے تمام ریاستی اداروں کو اصل خطرے کا شدید احساس ہوچلاہے۔ ایک غیر ذمے دار مذہبی گروہ ختم نبوت کی آڑ میں عوام کے اندر ہیجان پیدا کرکے بادشاہ گری کے منصب پر فائز ہوجانا چاہتا ہے۔ یہ پیر خطیب اور گدی نیشن کلمہ گو مسلمانوں کو طرح طرح کے مسائل میں الجھا کے رکھتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس دوست محمد نے ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے سیاست دان بھی ان پیروں کے مرید ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیالوی صاحب پنجاب کے وزیرقانون رانا ثناءاللہ کا استعفیٰ اور مسلمان ہونے کا حلف مانگ رہے ہیں جبکہ طاہر القادری نے وزیراعلیٰ شہبازشریف اور راناثناءاللہ کو مستعفی ہونے کی آخری تاریخ31 دسمبر کی دی۔ ختم نبوت کے نام پر بڑے بڑے اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں جن میں اراکین اسمبلی کے استعفے پیش کیے جاتے ہیں۔ اس خطرناک رحجان کی پیش بندی تمام ریاستی اداروں کی بہت بڑی ذمے داری ہے۔ سینیٹ میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے اپنے اہم ترین ساتھیوں کی معیت میں پوری صورت حال کا بڑی حقیقت پسندی اور ذمے داری سے جائزہ لیا ہے اور ا س امر کا واشگاف اعلان کیا ہے کہ حکومت چلانا فوج کا نہیں منتخب نمائندوں کا کام ہے اور ہم پارلیمان کی طے کردہ خارجی اور دفاعی پالیسی پر عمل درآمد کریں گے اور جمہوریت کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ انھوں نے اس پھیلتے ہوئے تاثر کا پوری قوت سے ازالہ کیا کہ فیض آباد دھرنے میں فوجی ادارے کا کوئی ہاتھ نہیں تھا اور اگر ثابت ہو جائے تو استعفا دے دیں گے۔ وہ یہ بھی یقین دلا رہے تھے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کے داخلی اور خارجی چیلنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ہمیں امریکا کی دھمکیوں سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ریٹائرڈ فوجی افسر جو ٹی وی پر آتے ہیں، وہ فوج کی نمائندگی نہیں کرتے اور ہم سب کو مل جل کر پاکستان کو آگے کی طرف لے جانا ہے۔ اس موقع پر سینیٹ کے چیئرمین جناب میاں رضا ربانی نے حالات کی گمبھیر تا پر کھل کر باتیں کیں اور قوم کا یہ عزم دہرایا کہ امریکا کو اس خطے میں کسی مہم جوئی کی اجازت نہیں دیں گے۔ سینیٹ میں سیاست دانوں اور فوج کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ جو مکالمہ ہوا، اسے ہماری قومی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے اور گزشتہ ڈائیلاگ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بھی یہ احساس پیدا ہوتا جا رہا ہے کہ مذہبی ہیجان انگیزی پر قابو پانا ملکی استحکام کے لیے اشد ضروری ہے۔ سیاسی قائدین کی آنکھیں کھل جانی چاہیں کہ مذہبی فرقہ پرستی کے مقابلے میں سیاسی رشتے کمزور پڑتے جا رہے ہیں اور عالمی برادری میں پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ فیض آباد کا دھرنا نہ ہوتا تو امریکا پاکستان کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے سے پہلے سو بار سوچتا۔ واثق امید ہے کہ جغرافیائی قربتوں سے پاکستان کے اندر بھی ایک عظیم تبدیلی طلوع ہو گی اور پر امن انتقال اقتدار کی روایت مستحکم ہوتی جائے گی۔ امیدوں اور نیک تمناﺅں کے اظہار کے ساتھ ساتھ افق پر گہرے بادل منڈ لاتے دکھائی دے رہے ہیں جن میں بجلیاں سی بھی کوند رہی ہیں۔ امریکا کے خطرناک عزائم کے برملا اظہار کے باوجود ہماری بعض سیاسی جماعتیں ہنگامہ آرائی پر تلی ہوئی ہیں جس سے جمہوری اور سیاسی عمل میں خلل پڑ سکتا ہے جس سے فائدہ اٹھا کر امریکا کوئی خطرناک قدم اٹھا سکتا ہے۔ اس کا کچھ اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب نے اچانک ایک جہاز بھیج کر شہباز شریف کو اپنے ہاں بلایا۔ اندریں حالات یہ بلاشبہ ایک غیر معمولی اہمیت کا واقعہ ہے۔ جو حالات میں تیز رفتار تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ دوست اور خیر خواہ پاکستان کی حمایت میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ حمایت اسی وقت کارگر ثابت ہو گی جب گھر کے اندر معاملات دانش مندی اور احساس ذمے داری سے چلائے جانے کے انتظامات مستحکم ہوں گے اور سبھی نظر آئیں گے۔ اس وقت ہمارے سیاست دان، ہمارے فوجی، عدالتی ادارے، ہمارے دانش ور اور میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا کے کار پرداز عرصہ امتحان میں ہیں اور ہمارے ارباب دولت اور مذہبی رہنما بھی۔ تاہم یہ خوشخبری بہت ڈھارس بند ھاتی ہے کہ دنیا امریکا سے بہت بڑی ہو گئی ہے اور اس کا عالمی نظام آخری ہچکیاں لے رہا ہے جبکہ ایشیا کے بطن سے ایک نیا عالمی نظام جلوہ گر ہونے والا ہے۔ (ختم شد)(معروف کالم نگار”اردوڈائجسٹ “کے بانی ایڈیٹر ہیں)٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved