تازہ تر ین

بین الاقوامی طاقتوںکا ذہن اورکشمیر

فتح محمد ملک….مہمان کالم
بین الاقوامی طاقت بھارت کے ذہن سے سوچتی ہے؟کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے باب میں امریکہ بھارت کے ذہن سے سوچنے لگا ہے۔ بالکل اسی انداز میں جس انداز میںمشرق وسطیٰ کی صورت حال کو اسرائیل کی آنکھ سے دیکھتا اور عربوں کے انسانی حقوق کو انتہائی سفاکی کے ساتھ ویٹو کے غیر اخلاقی حق استرداد کے مسلسل استعمال سے پامال کرتا چلا آ رہا ہے۔تنازعہ کشمیر کے باب میں بھی تمام تر امریکی سفارت کاری بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں درپیش ہولناک صورت حال سے نجات بخشنے پر مرتکز ہے۔ اس سفارت کاری سے اگر حق و انصاف کا خون ہوتا ہے تو ہوتا رہے، کشمیریوں کے انسانی حقوق پامال ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں، اقوام متحدہ کے چارٹر کی توہین ہوتی ہے تو ہوتی رہے۔ امریکہ کو اس کی قطعاً کوئی پروا نہیں۔ اسے اگر پروا ہے تو فقط اسرائیل بھارت کے سامراجی قلعوں کو مسلسل محفوظ سے محفوظ تر بناتے چلے جانے کی۔ وہ مسلمان دنیا کی ممکنہ بیداری اور امکانی اتحاد کے موہوم خوف میں مبتلا ہے۔ چنانچہ وہ دنیائے اسلام کے ایک سرے پر اسرائیل اور دوسرے سرے پر بھارت کی سامراجی چھاﺅنیوں کا استحکام اوردوام چاہتا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ کشمیری مسلمان ہندو انڈیا کے قفس میںقید بھی رہیں اور ان کے زنجیر و سلاسل کی کوئی جھنکار اور ان کی شورش ہاو¿ہو کی کوئی گونج بھی باہر کی دنیا کو سنائی نہ دے۔ امریکہ نے ستم دوستی کی یہ روش اس لئے اپنا رکھی ہے کہ وہ کشمیریوں کے پاکستان ،اور پاکستان کے مغرب میں پھیلی ہوئی دنیائے اسلام سے، مشترک دینی، تہذیبی اور سیاسی رشتوں کی جبلی نوعیت سے بخوبی آگاہ ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ تنازعہ کشمیر پر امریکہ کی براہِ راست اور بالواسطہ سفارت کاری کشمیریوں کو بھارت کی غلامی پر رضامند کرنے اور پاکستان کو راضی برضا رہنے کی تلقین سے عبارت ہے، جسے اس حقیقت کا ثبوت درکار ہو وہ یونائیٹڈ سٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس کی سپیشل رپورٹ بعنوان ”دی پولیٹیکل اکانومی آف دی کشمیر کانفلیکٹ” (جون 2004) پر ایک سرسری نظر ڈال لے۔
امریکی کانگرس نے امن کا یہ فیڈرل ادارہ1984ء میں قائم کیا تھا۔ اس انسٹی ٹیوٹ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ارکان کو امریکی صدر نامزد کرتے ہیں اور ان نامزدگیوں کی توثیق امریکی سینٹ کرتی ہے۔ زیرِ نظر رپورٹ اس انسٹی ٹیوٹ کی ایک سو چوبیسویں رپورٹ ہے جسے اس انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو وجاہت حبیب اللہ نے تیار کیا ہے۔ جناب وجاہت حبیب اللہ بھارتی حکومت کے ایک سابق سیکرٹری ہیں۔ انہوں نے اپنی ملازمت کے دوران اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے ساتھ بھی کام کیا ہے اور واشنگٹن میں بھارت کے سفیر کی نازک ذمہ داریاں بھی نبھائی ہیں۔ آج کل وہ متذکرہ بالا انسٹی ٹیوٹ میں تنازعہ کشمیر کی گتھیاں سلجھانے میں امریکی حکومت کی رہنمائی فرما رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں کشمیری حریت پسندوں کو دہشت پسند کہا گیا ہے اور بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف دادِ شجاعت دینے والے کشمیریوں کو تشدد پرست کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں ثابت کیا گیا ہے کہ پاک بھارت مذاکرات اس وقت تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکتے جب تک مقبوضہ کشمیر کے اندر ”سیاسی تشدد” میں کمی نہیں آ جاتی۔ گویا تحریک آزادی کو کچل دینے اور بغاوت کی آگ کو ٹھنڈا کردینے کے بعد ہی مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں۔ یہاں مذاکرات کی ”کامیابی” کا مفہوم یہ ہے کہ پھر مذاکرات کی سرے سے ضرورت ہی نہ رہے۔ وہی صورت حال لوٹ آئے جو آج سے پندرہ برس پیشتر شروع ہونے والی رواں تحریک حریت سے پہلے تھی۔ یہ ”کامیابی” مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے سامراجی تسلط کے استحکام سے عبارت ہے ”کچھ لو اور کچھ دو” کے ان کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں کشمیر بھارت کے حصے میں آئے گا اور امریکی خوشنودی کی سند پاکستان کے ہاتھ آ جائے گی۔ ہمارے حکمران طبقے کے لئے اتنی سی ”کامیابی” بھی ایک نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں۔
ہر چند اس رپورٹ کا بنیادی محرک ساﺅتھ ایشین فری ٹریڈ ایگریمنٹ(SAFTA) کے جلد از جلد برگ و بار لانے کی تمنا ہے تاہم تنازعہِ کشمیر کی تاریخ بیان کرتے وقت ذرا سی نظریاتی بحث بھی کی گئی ہے۔ پاکستا ن کے نقطہ نظر کو درج ذیل الفاظ میں پیش کیا گیا ہے:
Pakistan has argued that districts with Muslims majorities should have been assigned to the new state of Pakistan, implying that Kashmir should have become part of Pakistan For India, this argument militates against the concept on which India nationhood is foundedیہاں دو باتیں قابل غور ہیں۔ پہلی یہ کہ پاکستان نے کشمیر کے مسلمان اکثریت کے ضلعوں کو اپنے اندر ضم کرنے کی بات کبھی نہیں کی۔ پاکستان کا مطالبہ تو یہ رہا ہے کہ کشمیریوں کو خود ارادیت کا حق دینے کی خاطر رائے شماری کرائی جائے۔ یہ مطالبہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ اقوام متحدہ کا بھی ہے جس نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت میں متعدد قراردادیں منظور کر رکھی ہیں۔ پاکستان چاہتا ہے کہ ان قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے مسلمان اکثریت کے ساتھ ساتھ ہندو اور ب±دھ اقلیتوں کو بھی رائے شماری میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے اور پھر اکثریت جو بھی فیصلہ کرے ، اس پر اقوام متحدہ پاکستان اور بھارت ہر دو کو عمل کرنے پر مجبور کرے۔ یہ مذہبی نہیں انسانی حقوق کی سربلندی کا مطالبہ ہے۔ رپورٹ میں بنیادی انسانی حقوق کی جدوجہد کو مذہبی انتہا پسندی کا رنگ تک دے کر مغربی دنیا کی اسلام بیزاری کی بیماری سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ کشمیری مسلمانوں کو خودارادیت کا حق دینا بھارتی قومیت کے تصورسے متصادم ہے۔ ہمارے لئے سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کا قیام بھی متحدہ بھارتی قومیت کی نفی اور جداگانہ مسلمان قومیت کے اثبات کا کرشمہ ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ خود پاکستان کا وجود ہی بھارتی تصور قومیت سے متصادم ہے۔ پاکستانی قومیت کی اساس اسلام ہے (اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے) تو کیا بھارتی قومیت کی خام بنیاد کو پختگی بخشنے اور جنوبی ایشیا میں آزاد تجارت کے فروغ کی خاطر پاکستان کی اسلامی بنیاد کو مٹا دینا لازم ہے؟ یونائیٹڈ سٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس کی اس رپورٹ کا جواب اثبات میں ہے۔ چنانچہ ہمیںکشمیر پر اپنے اصولی موقف سے دستبرداری کے فوائد سمجھانے کے لئے نِت نئے استدلال کے فریب میں مبتلا کرنے کی بین الاقوامی سرگرمیاں روز بروز زور پکڑتی چلی جا رہی ہیں۔
زیر نظر رپورٹ کا استدلال ایک پنتھ دو کاج کے مصداق ہے۔ متحدہ بھارتی قومیت کے تقاضے کشمیریوں کو خود اختیاری کا حق دینے کی اجازت نہیںدیتے۔ اگر یہ بات مان لی جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ بھارتی قومیت کے یہی تقاضے پاکستان کو قائم رہنے کی اجازت بھی نہیں دیتے۔ جن طاقتوں کی سیاست روحانی اصول و اقدار کی دشمنی پر نازاں ہے ان کے لئے اپنی مادر پدر آزاد تجارتی اغراض کی خاطر قوموں کی فنا اور ملکوں کی تباہی گھاس کے ایک تنکے کے برابر بھی اہمیت نہیںرکھتی۔ اب یہ سوچنا ہمارا اپنا کام ہے کہ ہم نے اپنی قومی بقا اور اپنے ملکی استحکام کی خاطر اپنی اسلامی شناخت کی حفاظت کا سامان کیسے کرنا ہے؟ رپورٹ میں تحریکِ آزادی کو مذہبی دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہوئے آئی ایس آئی کو درج ذیل الفاظ میں مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے:
What had begun as an ethnic conflict was given a religious color by the ISI, Which promoted religiously oriented outfits.
بھارت کے سامراجی تسلط کے خلاف کشمیریوں کی تحریک مزاحمت کو نسلی تصادم قرار دینا حقائق سے فرار کی خطرناک مثال ہے۔ یہ تصادم نسلی نہیں نظریاتی ہے۔ یہ کشمیری عوام کی بھارتی افواج کی وحشت و سفاکیت کے خلاف جنگ ہے۔ یہ کہنا کہ تحریک مزاحمت کو ISIنے مذہبی رنگ دے دیا ہے تعجب انگیز ہے۔ آئی ایس آئی کیا کر رہی ہے اور کیا نہیں کررہی؟ مجھے اس کی مطلق کوئی خبر نہیں مگر میں اس حقیقت سے باخبر ہوں کہ کشمیری مسلمانوں کاخمیر اسلام سے اٹھا ہے۔ اسلام ہولی کے رنگوں میں سے کوئی ایسا رنگ نہیں ہے جسے بس اوپر سے چھڑک کر گھڑی دو گھڑی کے تماشے کا سامان کیا جاتا ہے۔ اسلام تو کشمیری مسلمانوں کے رگ وپے میں خون حیات بن کر گردش کر رہاہے۔ وہ تو ایک لاکھ شہداء کے گلستان سجا چکے ہیں۔ کیا یہ آئی ایس آئی تھی جس نے سات سو سال پہلے کشمیر کے راجا کو اسلام قبول کر کے سلطان صدرالدین کا نام اختیار کرنے کی دعوت دی تھی؟ کیا یہ آئی ایس آئی تھی جس نے چھ سو سال پہلے سید علی ہمدانی کو اپنے سیکڑوں مریدوں کے ساتھ سری نگرلا بٹھایا تھا؟ کیا خانقاہ معلی آئی ایس آئی نے قائم کی تھی؟ کیا شیخ نور الدین ولی کو آئی ایس آئی نے اسلامی طرزِ حیات اختیارکرنے پر مجبور کیا تھا؟ چرار شریف میں شیخ نور الدین کے مقبرے کو نذر آتش کرنے والی بھارتی مسلح افواج کو ان سب سوالوں کا درست جواب معلوم ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ آئی ایس آئی کے وجود میں آنے سے صدیوں پہلے بھارتی سامراج کا سب سے بڑا دشمن پیدا ہو چکا تھا۔ یہ ایسا دشمن ہے کہ جس کی قبر بھی بھارت کی تمام مسلح افواج سے زیادہ طاقتور ہے۔ اسلام کی اس طاقت سے نمٹنے کے لئے امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے تھنک ٹینک شبانہ روز محنت میں مصروف ہیں۔ مگر یقین واثق ہے کہ بالآخر حق اور سچ کی فتح ہو گی، بھارتی استعمار کا خاتمہ ہو گا اور کشمیری اپنی خواہشوں اور ا±منگوں کے مطابق آزادی کے امین ہوں گے۔ پاکستان کے عوام اپنے کشمیری بھائیوں کی اس عظیم جدوجہد میں ہمیشہ شانہ بشانہ رہیں گے۔ انشاءاللہ ملی وحدت ہی ہمارا مقدر اور مستقبل ہے۔
(مضمون نگار ایک ممتاز دانشور ہیں۔ آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے سابق ریکٹر ہیں۔ آپ کی تحاریر قومی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔)
٭….٭….٭

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved