تازہ تر ین

کیامیاں نواز شریف جواب دیں گے؟

اسرار ایوب….قوسِ قزح
پاکستان کے حالاتِ حاضرہ کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے کوئی خواب دیکھ رہا ہوں، آپ خود ہی فرمائیے کہ کیاکہیںاور بھی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ منی لانڈرنگ کے ایک بین الاقوامی سکینڈل میں کئی اور سربراہانِ مملکت اور بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ ہمارے وزیرِ اعظم کا نام بھی آئے لیکن موصوف کہیں کہ یہ کسی دوسرے کے نہیں بلکہ اُنکے خلاف کی گئی ایک بین الاقوامی سازش ہے۔ اُنکی اپنی خواہش پر ملک کی اعلی ترین عدالت کا5 رکنی بنچ کیس سنے، 2جج انہیں نااہل قرار دے دیں لیکن 3کہیں کہ مزید صفائی کا موقع دینا چاہیے جس کے لئے ایک ”جے آئی ٹی“تشکیل دی جائے تو موصوف یوں خوشی کے شادیانے بجائیں اوران کے ساتھی یوںمٹھائیاں تقسیم کریں جیسے کیس جیت لیا ہو لیکن پھر جے آئی ٹی کی تفصیلی تحقیقات کی روشنی میں پانچوں کے پانچوں جج متفقہ طور پر نااہلِ قراردے دیں توفیصلے کے خلاف باقاعدہ تحریک شروع کر دی جائے اور جلسوں میںہزاروںلوگوںکی موجودگی کو دلیل بنا کریہ عجیب و غریب بیان دیا جائے کہ عوامی عدالت نے عدالتِ عظمی کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے، یہی نہیں بلکہ عوام کو سپریم کورٹ کے خلاف سرِ عام یہ کہہ کر بغاوت پر اکسایا جائے کہ اس فیصلے کے ذریعے دراصل آپ کے ووٹ کی توہین کی گئی ہے؟ تو اس کا مطلب کیا یہ ہے کہ کسی بھی منتخب وزیرِ اعظم کو کچھ بھی کرنے کی کھلی چھٹی ہوتی ہے چاہے اس کے خلاف” کریمینل پروسیڈنگز“ ہی کیوں نہ ہوں لیکن اسے سزا نہیں دی جاسکتی ورنہ عوامی عدالت سے رجوع کر کے فیصلہ مسترد کروایا جا سکتا ہے؟
کہا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ نے میاں صاحب کی کرپشن پر تو کوئی فیصلہ سنایا نہیں، بس انکے ایک معمولی سے جھوٹ کی آڑ لے کر انہیں نااہل قرار دے دیا، کیس پانامہ کا تھا اور فیصلہ ہوا اقامہ پر، پھٹا پہاڑ نکلا چوہا ۔ اس حوالے سے یاد رکھنے والی باتیں چار ہیں؛ پہلی بات یہ کہ میاں صاحب ”منتخب“وزیرِ اعظم تھے، ان کے اور ایک عام آدمی کے جھوٹ بولنے میں بڑا فرق ہے، دنیا بھر کے دساتیر کی طرح آئینِ پاکستان کی رو سے بھی ایک اسمبلی ممبر اورریاست کے چیف ایگزیٹو کے لئے صادق اور امین ہونے کی شرط عائد شدہ ہے جبکہ میاں صاحب(اسمبلی کی تقریر سے لے کر جے آئی ٹی کو دئے گئے بیان تک) خود کو سرِ عام غیر صادق اور غیر امین ثابت کرچکے ہیں۔دوسری بات یہ کہ اقامہ والی کمپنی دراصل ایک ”شیل کمپنی “ ہے جو ”ایس ای سی پی“کے مطابق ایسی کمپنی ہوتی ہے جس کے اثاثہ جات نہیں ہوتے یا بہت واجبی ہوتے ہیں لیکن وہ بالعموم روپئے کی غیرقانونی ترسیل کے لئے استعمال کی جاتی ہے اور اس سے دیگر کمپنیوں کو چلایا جاتا ہے۔ آسان لفظوں میں یوں کہیے کہ نواز شریف صاحب نے اقامہ ڈیڑھ دو لاکھ کی تنخواہ کے لئے نہیں لیابلکہ اس لئے لیا کہ دوسرے ملک کی اپنی اس کمپنی کے ذریعے ان آف شور کمپنیوں (نیلسن ، نیسکول وغیرہ)کو چلایا جا سکے جن کی ملکیت میں لندن والے فلیٹس یا کوئی اور اثاثہ جات ہیں، تاکہ ان کمپنیوںسے میاں صاحب کا تعلق تو قائم رہے لیکن پاکستان کا تعلق ختم ہو جائے۔ تیسری بات یہ کہ نااہلی کسی نئی بنیاد پر نہیں کی گئی بلکہ پرانے فیصلے میں ان دو ججوں کی رائے کے تسلسل میں کی گئی جو میاں صاحب کو پہلے ہی نااہل قرار دے چکے ہیں البتہ اس میں اقامہ والے نکتے کا اضافہ کر دیا گیایعنی اگر یہ نیا مسئلہ نہ ہوتا تو بھی میاں صاحب برطرف کر دیے جاتے کیونکہ فیصلہ پانچوں ججوں نے (کسی اختلافی نوٹ کے بغیر)باہمی اتفاق سے صادر کیا۔ اور چوتھی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ ایک ”اپیلنٹ کورٹ“ ہے ”ٹرائل کورٹ“نہیں یعنی پانامہ لیکس کی کرپشن پر فیصلہ دینا سپریم کورٹ کے دائرہءکار میں ہے ہی نہیں،فیصلہ پہلے بھی میاں صاحب کی نااہلی ہی کے متعلق تھا ،تو جیسا پہلے کہا گیا کہ دو ججوں نے میاں صاحب کونااہل قرار دیاتھا کیونکہ وہ یہ ثابت نہیں کر سکے تھے کہ لندن والے فلیٹس کے لئے سرمایہ کہاں سے لایا گیالیکن تین ججوں نے کہاتھا کہ نہیں،انہیں ثبوت مہیا کرنے کے لئے مزید موقع دینا چاہیے لیکن وہ پھر بھی ثبوت مہیا کرنے میں ناکام رہے، لہذا انہیں نااہل قرار دے دیا گیا ، رہی بات کرپشن کی تو سپریم کورٹ نے اپنے دائرہءکار میں رہتے ہوئے اس پر فیصلہ سنانے کے بجائے ریفرنس( مزید تحقیقات کے بغیر) ”ٹرائل کورٹ“ یعنی احتساب عدالت میں دائر کرانے کے احکام صادر کر دیے کیونکہ میاں صاحب اور ان کے بچے خود کو بے گناہ ثابت نہیں کر سکے البتہ انہیں گنہگار ثابت کرنے کے لئے کافی ثبوت موجود ہیں۔
میاں صاحب کے بقول جمہوریت کا درد اُن سے زیادہ کسی کے دل میں نہیںلیکن کیا انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ جمہوریت کہتے کسے ہیں؟ جمہوریت کی بنیاد قانون کی بالادستی پر استوار ہوتی ہے جس پر حتمی فیصلے کاجمہوری و آئینی اختیار صرف اور صرف سپریم کورٹ کے پاس ہوتا ہے، میاں صاحب کا کیس تو بالکل سیدھا ہے لیکن اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط بھی ہو تو جمہور اورآئین کے مطابق اس کے خلاف اپیل سپریم کورٹ کے پاس ہی کی جا سکتی ہے جو میاں صاحب کر چکے ہیں اور اسے مسترد بھی کیا جا چکا ہے۔جس عوامی عدالت کا حوالہ میاں صاحب بار بار دیتے ہیں اگر اسے عدالتی فیصلوں کو مسترد کرنے کا اختیار دے دیا جائے تو اس سے کیا نتائج برآمد ہوں گے اس کا اندازہ تومیاں صاحب کو نہیں لیکن وہ کیا یہ بتانا پسند فرمائیں گے جو کچھ اُنکی جانب سے کیا جا رہا ہے، اس کی مثال دنیا کی کونسی جمہوریت میں ملتی ہے؟
( شعبہ قدرتی آفات کے ماہراور قومی امورپر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved