تازہ تر ین

جہانگیر ترین کے لئے چند مشورے

سارہ شمشاد …. تذکرہ
پاکستان تحریک انصاف این اے 154 کامقابلہ ہار گئی۔ تمام سیاسی پنڈت اس حوالے سے اپنے اپنے تجزیے پیش کررہے ہیں۔ اب ان تجزیوں سے پی ٹی آئی اور جہانگیر ترین کچھ اخذ کرتے ہیں یا نہیں‘ اس بارے کچھ لکھنا قبل از وقت ہوگا۔ تاہم پی ٹی آئی کو لاہور اور لودھراں میں شکست کے بعد اب نئی حکمت عملی پر غور کرنا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جن کی بنا پر جیت ان سے کوسوں دور ہے۔ این اے 154 کی سیٹ پاکستان تحریک انصاف نے چند برس قبل ہی جیتی تھی اور سب سے بڑھ کر یہ جہانگیر ترین کے آبائی حلقے کی سیٹ تھی لیکن اس شکست کے پیچھے اگر لودھراں جیسے دیہاتی علاقے کی تعلیمی پسماندگی اور پنجاب کی بیوروکریسی کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے تو دلیل وزن دار محسوس ہوتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت اب تک سب کچھ Manage ہی تو کرتی چلی آئی ہے اور جب ایک ایک حلقے میں 2‘ 2 گروپ سرگرم ہوں اور مخالفین پٹواریوں‘ تھانے کچہریوں سمیت دیگر ٹیکنیکل طریقے استعمال کرنے کے ماہر ہوں تو پھر نتیجہ زیادہ تر وہی آتا ہے جس کی مسلم لیگ (ن) توقع کرتی ہے اور یوں پرو عوام یعنی Pro-people پالیسی اختیار کرکے وہ اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرلیتی ہے جبکہ تحریک انصاف ان سیاسی ہتھکنڈوں سے ابھی تک لاعلم ہے یا ان سب کچھ پر ابھی اس کی گرفت نہیں۔ سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا دوسروں کو دوش دینے سے اپنی خامیاں چھپ جاتی ہیں تو اس کا جواب نفی میں ہے کیونکہ تحریک انصاف ہو یا شریف فیملی‘ انہیں حد سے زیادہ خوداعتمادی لے ڈوبی اوراس کا اعتراف علی ترین نے بھی کیا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین ایک زبردست فائٹر ہیں اسی لئے انہوں نے اپنے مایوس کارکنوں کوجذباتی پیغام دیتے ہوئے شکست سے سیکھنے کا راستہ دکھایا۔ تاہم جہاں تک جہانگیر ترین کا تعلق ہے تو سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد بظاہر تو ان کا عملی سیاست میں کردار تقریباً ختم نظر آتا ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے نااہلی کیس کی مدت کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ اگر اس میں یا نظرثانی اپیل پر جہانگیر ترین کو کوئی ریلیف ملے تو کچھ نہیںکہا جاسکتا۔ جہانگیر ترین پاکستان کی سیاست کا بڑا نام ہے ان کا راستہ روکنے کی جتنی کوششیں کی گئیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں لیکن آفرین ہے اس زندہ دل اور بہادر انسان پر جس نے ہارنا تو جیسے کبھی سیکھا ہی نہیں۔جہانگیر ترین سے نجانے نواز شریف اور پیپلزپارٹی والے کیوں خائف رہتے ہیں۔ اب یہ کوئی صیغہ راز نہیں۔ جہانگیر ترین کی نااہلی پر تو چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بڑا دلچسپ ٹوئٹ کیا کہ ATM Out of order جبکہ ترین صاحب کی نااہلی پر (ن) لیگ کے شادیانے بھی ہمیں آج تک یاد ہیں۔
جہانگیر ترین یوں تو قومی سطح کے لیڈر ہیں لیکن انہوں نے اپنے حلقے کے لوگوں کی جس طرح خدمت کی ہے اس کے باعث ان کو جنوبی پنجاب میں انتہائی احترام اور عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ میری دھرتی کی مٹی ہی ہے کہ ہم اچھے لوگوں سے بہت سی توقعات وابستہ کرلیتے ہیں۔ میں جہانگیر ترین سے کبھی نہیں ملی لیکن ان کی قدردان ہمیشہ سے ہوں۔ اللہ رب العزت نے انہیں جس عزت و احترام سے نوازا ہے اس کے سب معترف ہیں کہ جس طرح انہوں نے جدید زراعت کے طریقے کو اس خطے میں متعارف کروایا اور سرکاری ریٹ پر گنا خرید کیا اس کے باعث اس علاقے کے غریب کسان ان سے خوش ہیں۔ تعلیم اور صحت کے میدان میں بھی ترین صاحب نے نمایاں کام اپنے حلقے میں کروائے ہیں۔ جہانگیر ترین چونکہ عوامی سطح کے لیڈر ہیں۔ اسی لئے عوام ان سے قومی سطح کے کاموں کی توقع کرتے ہیں۔ اس لئے اگر جہانگیر ترین پاکستان بالخصوص جنوبی پنجاب کی پسماندگی اور محرومیوں کے ازالے کے لئے کام کریں تو اس سے ان کو جو نیک نامی اور شہرت ملے گی اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین بیرون ملک سے تعلیم یافتہ ہیں تو انہیں اس خطے میں بین الاقوامی معیار کی یونیورسٹیاں‘ کالجز اور سکول بنانے چاہئیں۔ جنوبی پنجاب کی تعلیمی پسماندگی کی ایک بہت طویل داستان ہے خاص طور پر بچوں اور خواتین کی تعلیم کے حوالے سے بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ ترین صاحب ایک ہائی پروفائل شخصیت ہیں اور عمران خان سے بہت زیادہ متاثر بھی تو انہیں بھی اس خطے کے لئے Nmal جیسے بین الاقوامی ادارے کی تعمیر کے لئے کام کرنا چاہیے جس سے یہاں کے تعلیم یافتہ لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آسکیں۔ جنوبی پنجاب اپنی تہذیب و ثقافت اور کلچر کے حوالے سے باقی علاقوں سے زیادہ زرخیز ہے اس لئے اگراس کے کلچر کو عالمی سطح پر پروموٹ کرنے کے لئے ترین صاحب کی پڑھی لکھی فیملی میدان میں آئے تو اس سے سمال انڈسٹریز کے کاروبار کو بھی وسعت ملے گی۔
جہانگیر ترین کے چاہنے والے بے شمار ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ سیاست میں رہ کر عوام کی خدمت کریں۔ عوام کی خدمت وہ دیگر طریقوں سے بھی کرسکتے ہیں۔ تحریک انصاف میں رہتے ہوئے وہ بازی گر بھی بن سکتے ہیں لیکن اس کےلئے انہیں ایک ایسی حکمت عملی اختیار کرنا پڑے گی جو جنوبی پنجاب کے موافق ہو۔ ترین صاحب جنوبی پنجاب کی ثقافت‘ مزاج اور رویوں سے بخوبی آگاہ ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ یہاں بدترین سیاسی حریف ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی قریبی رشتہ داریاں بھی رکھتے ہیں جیسے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما مخدوم احمد محمود علی ترین کے سگے ماموں ہیں۔ اسی طرح یوسف رضا گیلانی‘ شاہ محمود قریشی سمیت خطے کی دیگر اہم شخصیات کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس لئے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر جنوبی پنجاب کی ترقی کےلئے سب کو کام کرنا چاہیے۔ ضمنی انتخابات این اے 154 نے ثابت کیا ہے کہ جس کی عوام میں جڑیں ہونگی‘ عوام تک ان کی بآسانی رسائی ہوگی وہی ان کی اولین چوائس بنے گا۔ جہانگیر ترین نے علی ترین کے بڑا سیاستدان بننے کی پیشین گوئی کی ہے جو سوفیصد درست ہے کیونکہ علی ترین جیسا سلجھا‘ بااعتماد اور پڑھا لکھا نوجوان ہی اس ملک کا اصل مستقبل ہے جس سے قوم کو بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ اسی لئے جہانگیر ترین علی ترین کو آگے کرکے خود بازی گر بننے بارے سوچیں۔ کیا ہی بہترہو کہ وہ خود کو جنوبی پنجاب کا بیٹا ثابت کریں اور علیحدہ صوبے کی تحریک کو لیڈ کریں کیونکہ اس تحریک کو جہانگیر ترین‘ یوسف رضا گیلانی‘ شاہ محمود قریشی جیسے بڑے لیڈر کی تلاش ہے اور ترین صاحب سے بہتر چوائس کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی۔ اگر جہانگیر ترین علیحدہ صوبے کی تحریک کو لیڈ کریں اور کئی سمتوں میں بٹی ہوئی سرائیکی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھاکرکے انہیں اسمبلیوں تک پہنچانے کی کوشش کریں تو ایسا کرکے وہ ایک ایسا پریشر گروپ تشکیل دینے میں کامیاب ہوجائیں گے جوکہ سیاسی جماعت کی مجبوری ہوگا۔ یہی نہیں بلکہ جنوبی پنجاب میں جہاں تحریک انصاف بڑے بڑے نام ہونے کے باوجود عوام میں اس طرح پذیرائی حاصل نہیں کرسکی جس کی اس سے توقع کی جارہی تھی۔ اگر جہانگیر ترین علیحدہ صوبے کی تحریک کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لیتے ہیں تو وہ اپنی پارٹی کے لئے اس قدر کارآمد ثابت ہونگے کہ حکومتیں بنانا اور گرانا ان کے لئے دائیں ہاتھ کا کام ہوگا۔ جہانگیر ترین صاحب! اللہ رب العزت نے آپ کو بے پناہ عزت اور احترام کے ساتھ دولت سے بھی نوازا ہے۔ آیئے اس خطے کی دہائیوں سے بھوک سے ترسی ہوئی قوم کی قیادت کریں اور یہاں سکول‘ کالج‘ یونیورسٹیز‘ ہسپتال‘ سمال انڈسٹریز کے فروغ کو اس دھرتی کا قرض سمجھیں کیونکہ اس خطے کے غریب عوام عرصہ دراز سے کسی مسیحا کی تلاش میں ہیں۔ آپ سے چند گزارشات کی ہیں‘ اگر آپ ان پر توجہ دیں تو میں یقین دلاتی ہوں کہ مجھ سمیت لاکھوں پڑھے لکھے اس سفر میں آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہونگے۔ اب ہم اپنی قسمت کے فیصلے تخت لاہور سے کرانا نہیں چاہتے بلکہ خود اپنی مرضی کے مطابق چاہتے ہیں۔ آیئے اس خطے کو ترقی اور اس کا جائز حق دلوانے کے لئے ہمارا ساتھ دیں۔ وسیب کے لوگ آپ سے بے پناہ لگاﺅ رکھتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ آپ بھی باقی سیاستدانوں کی طرح مفاد پرستی کا راستہ اختیار نہیں کریں گے اور جنوبی پنجاب کی سیاست، ترقی‘ تعلیم‘ صحت‘ غرض یہ کہ ہر میدان میں آپ ترپ کا پتہ ثابت ہونگے۔ کاش کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات!
(کالم نگارقومی امور پر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved