تازہ تر ین

آئین اور قانون میں ترمیم کا خوفناک منصوبہ

عبد الودود قریشی
محترمہ مریم نواز شریف نے گزشتہ روز عوام سے خطاب کرتے ہوئے کچھ انکشافات کئے جو مسلم لیگی قیادت کے مستقبل کے منصوبوں کا پتہ دیتے ہیں، انہوں نے کہاکہ لوگ ہمیں اتنے ووٹ دیکر کامیاب کروائیں کہ ہم آئین اور قانون میں ترمیم کرکے ان لوگوں کے بارے جے آئی ٹی بنائیں، گزشتہ دو ہفتوں سے مسلم لیگ کے قانونی مشیرآئین اور قوانین میں ترامیم پر کام کررہے ہیں ، جن کو سینٹ انتخابات کے بعد فوری طور پر قومی اسمبلی اور سینٹ سے منظور کروانا مقصود ہے ، گوکہ سینٹ انتخابات کے بعد قومی اسمبلی کو تحلیل ہونے میں دو ماہ کے لگ بھگ کا وقت ہوگا جبکہ میاں نوازشریف فیملی کے پاس احتساب عدالتوں سے آنےوالے فیصلوں میں وقت بہت قلیل ہے ، قانونی مشیروں نے انہیں بتایا ہے کہ جب تک ہائیکورٹ میں احتسابی عدالتوں کے فیصلوں کو سند حاصل نہیں ہوجاتی ان سزاو¿ں کو انتخابی معاملات میں موثر نہیں ہونے دیا جائیگا۔
سوال یہ ہے کہ سینٹ انتخابات میں مسلم لیگ ن کو دوتہائی اکثریت حاصل ہوجائیگی ،اسکا جواب نفی میں ہے ، سینٹ میں مسلم لیگ ن سنگل پارٹی سب سے بڑی جماعت ہوگی مگر ساری اپوزیشن ایک یکجا ہوجاتی ہے تو پھر وہ متحد ہ بڑی جماعت ہونگے۔ پیپلزپارٹی، مولانا فضل الرحمن، ایم کیو ایم کو ملا کر مسلم لیگ ن دوتہائی اکثریت بناسکتی ہے ، مگر اسکی قیمت بھاری ہوگی، مسلم لیگ ن 13مارچ کے بعد پیپلزپارٹی کے ساتھ ایک اتحاد کی کوشش کریگی جس پر کام جاری ہے اور سید خورشید شاہ اس حوالے سے میاں نوازشریف ، شاہد خاقان عباسی اور آصف علی زرداری کے درمیان رابطے میں ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت کو آئین میں جوتین ترامیم تجویز کی گئی ہیں ان میں ایک یہ کہ عدالتوں کو پارلیمنٹ میں کسی بھی قسم کی قانون سازی کا جائزہ لینے اور اسے منسوخ کرنے کا اختیار نہیں ہوگا، دوم یہ کہ پارلیمنٹ میں عدلیہ پر بحث کی جائیگی اور پارلیمنٹ کو استحقاق حاصل ہوگا کہ اس میں کی جانےوالی بحث پر عدالت کوئی ایکشن نہیں لے سکے گی ، یہ آئینی ترامیم روز اول سے موثر یا موثر بہ ماضی ہونگی اور تیسری یہ کہ ان ترامیم سے قبل دیئے گئے تمام عدالتی فیصلے غیر موثر ہونگے، اس کے علاوہ قانون میں بھی بعض ترامیم تیار کی گئی ہیں جن میں عدلیہ کو پارلیمانی کمیٹیوں کے سامنے جواب دہ بنایا جاسکے گا، مگر اسطرح کی ترامیم تجویز کرنے والے نا تو مسلم لیگ ن کے خیر خواہیں اور نہ ہی آئین و قانون کے ، یہ الگ بات ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت تو اسطرح کے اقدامات زہر کا پیالہ سمجھ کر پی لینے اور کر گزرنے کا کہاجارہاہے ، اور اگر ان ترامیم کے ساتھ مسلم لیگ ن کے مخالف کوئی جماعت اقتدار میں آئیگی تو پھر کیا ہوگا،تو کیا اس صورت میں مسلم لیگ ن کا مستقبل کیا ہوگا اور وہ جماعت ان ترامیم کے بعد کیا گل کھلائیگی ، جب کوئی سیاسی جماعت تمام قانون اور جمہوری راستے بند کرکے خاندانی عصبیت میں مبتلا ہوکر بادشاہت قائم کرنے پر تل جائے گی ،عدلیہ اور فوج کو زیر کرنے لگے گی تو پھر اسکا ردِ عمل کیا ہوگا، کیا یہ صورت حال 1977کی نہیں ہوگی جب وزیر اعظم اور چاروں وزراءاعلیٰ بلا مقابلہ منتخب ہوجائیں گے ، چار کور کمانڈر گل حسن وغیرہ کو وزیراعظم ہاو¿س بلاکر وزراءاعلیٰ کی تحویل میں دیکر برطرف کردیاجائے گا مگر اس کے جواب میں ضیاءالحق کا ظہور ہواتھا،پیپلزپارٹی کے اکثر قائدین ضیاءالحق کی مجلس شوریٰ کے رکن تھے جن میں خواجہ آصف کے والد محترم اس مجلس شوریٰ کے چیئرمین تھے۔
جذبات کی رو اور محض ذاتی مفادات کیلئے کی جانے والی ترامیم کا ردِ عمل ہوتا ہے اور عوام بھی اسے پذیرائی نہیں بخشتی ، ختم نبوت کے حوالے سے ترامیم پر عوام نے جو رد ِ عمل دکھا یا وہ خوفناک تھا، پولیس ، ایف سی بے بس ہوگی ،سارے ملک میں شہر شہر دھرنے شروع ہونگے، لوگوں نے موثر اور اعلیٰ حکومتی وزراءکے گھروں پر حملے شروع کردیئے ، فوج نے اس معاملے کو خوش اسلوبی سے سنبھالا ،ورنہ معاملہ فوج کے ہاتھوں سے بھی نکل جاتا ، حیرت ہے جس شخص کو وزارت قانون سے اس ترمیم کے حوالے سے ایک تحریک کے ذریعے نکالاگیا میاں نوازشریف اپنے دائیں ہاتھ بٹھا کر یہ تاثر نہیں دے رہے کہ وہ کی جانے والی ترمیم انکی مرضی اورمنشاءکے مطابق تھیں اور کیا مستقبل میں بھی ایسی ترامیم پر عوامی رد ِ عمل کو روکنے کی حکومت میں سکت ہے جب ملک میں افراتفری کا عالم ہوگا اور ملکی سالمیت خطرے میں ہوگی۔
بھارت ، امریکہ اور افغانستان بھی سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ کرینگے ، ایران میں بھی بھارت متحرک ہوکر سی پیک کو ثبوتاژ کرنے کے درپے ہوگا، تو کیا عوام محض سیاستدانوں کے پیچھے جمہوریت کے نام پر کھڑے رہےں گے ، یہ ایک انتہائی خطرناک صورتحال ہوگی جس کا نقصان آئین اور قانون کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے والے طالع آزماو¿ں کو ہوگا۔
ٍسیاست کوئی پہلوانی اکھاڑا نہیں ہوتا جس میں جسمانی طور پر کسی کو گرانا فتح اور کامیابی ہوتی ہے ، سیاست تو اپنی ذات کی نفی اور ملک و قوم کی خدمت سے عبارت ہوتی ہے، جب سارا آئین و قانون ایک شخص اپنی ذات کیلئے مخصوص کرے خواہ وہ اسے کوئی بھی نام دے تو پھر نقصان بھی اس ایک ذات کا ہوتا ہے ، آئین و قانون میں ایسی ترامیم تجویز کرنےوالے کسی سے بھی مخلص نہیں ہیں، یہ کام چند روزہ تماشہ تو ہوسکتا ہے مثبت نتائج کا پیش خیمہ نہیں۔
حیرت ہے سیاست دان ملکی دولت کو ٹھکانے لگانے کے بعد اس بات پر بضد ہیں کہ انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں، اگر یہ اختیار سب کو دیدیا جائے تو پھر ان حکمرانوں کو جگہ کہاں ملے گی اور ہر جگہ وارلارڈ ہی نمودار نہیں ہونگے ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ آئین اور قانون کی پاسداری کی جائے اور بدعنوانی جس نے بھی کی ہے اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے اور تمام سیاستدان اپنے پاس جائیدادوں ، دولت اور بیرون ملک جائیدادوں کے جائز ہونے کے ثبوت دیں ، جس کے بارے میں جاننا قوم کا حق اورقانون کا منشاءہے اور اگر ان جائیدادوں اور دولت کے جائز ہونے کے ثبوت نہیں تو وہ یقینی قوم کی لوٹی ہوئی دولت ہے جو قومی خزانے میں آنی چاہئے اور مجرموں سے حق حکمرانی چھین کر انہیں سزائیں دینی چاہئیں۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved