تازہ تر ین

میاں صاحب !یہ 1971نہیں

حلیم عادل شیخ …. گردش دہر
پاکستان کو دولخت کرنے کی کوششوںکا انکشاف تو مولانا عبدالکلام نے بہت پہلے ہی کردیا تھا خود شیخ مجیب الرحمان کی بیٹی حسینہ واجد بھی کئی بار انکشاف کرچکی ہیں کہ ان کے والد شیخ مجیب ہی سانحہ مشرقی پاکستان کے ذمہ دار ہیں ، بنگلہ دیش کی وزیراعظم اور شیخ مجیب کی صاحبزادی حسینہ واجد نے بنگلہ دیش کے یوم آزادی پر واشگا ف الفاظ میں یہ کہہ کر سب کو حیران کردیا تھا کہ جب وہ لندن کے ایک فلیٹ میں اپنے باپ کے ساتھ مقیم تھی تو وہاں ہندوستانی “را” کے افسران ان کے والد سے ملنے آتے تھے ۔ شیخ مجیب الرحمان کے جس ا نداز میں ہندوستان سے مراسم تھے اور جو اقتدار کے ساتھ بھارتی حکمرانوں سے محض داد وصول کرنے کے لیے پاکستان کو دولخت کرنے میں مرکزی کردار بنارہا، بالکل اسی انداز میں شیخ مجیب الرحمان کو حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ دینے والے نوازشریف نے بھی ہندوستان کی محبت میں کئی عالمی ریکارڈ قائم کیے ہیں یہاں تک پاکستان کی سرزمین پر بھارتی دہشت گردی کا بھرپور اظہار و اقرارکرنے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن کے معاملے میں آج تک صرف اس لیے اپنی زبان نہ کھولی ہے کہ کہیں ان کے بیان سے ہندوستان کی عوام اور ان کے لیڈران ان سے ناراض نہ ہوجائیں ،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ آج ملکی اداروں کے خلاف محازآرائیاں کرکے اور انہیں بدنام کرکے کس خفیہ ایجنڈے کی تکمیل میں مصروف ہیں ؟۔ ان باتوں کا نچوڑ نکالنے کے لیے میں یہاں چند واقعات درج کرنا چاہونگا،نواز شریف کے آئیڈیل شیخ مجیب الرحمان قومی زبان سے نفرت کا احوال تو سب ہی جانتے ہونگے،تمام حقوق ملنے کے باوجود مسلم قومیت کی بجائے بنگالی قومیت کانعرہ لگاناان کا ایجنڈا تھا،بالکل اسی طرح جیسے سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد بھی پاکستان میں لسانیت کی آگ لگانے کے لیے جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگایا گیایا کبھی سندھ کارڈ کا نعرہ لگا کر قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، سانحہ مشرقی پاکستان سے پہلے شیخ مجیب الرحمان مسلم لیگ کے ساتھ صرف اس لیے کھڑے رہے کہ وہ اس کی بڑھتی ہوئی افرادی قوت سے اپنے سیاسی مفادات تک پہنچنا چاہتے تھے ، قومی زبان اردو سے نفرت کے فروغ میں ہونے والے جھگڑوں میں کئی انسانی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑے جس کے باعث اس دور میں شیخ مجیب پر بے شمار مقدمات درج ہوئے اور بیشتر انتہا پسندانہ رویوں کی وجہ سے وہ کئی کئی بار جیلوں اورحوالات کی سیر کرچکے تھے ۔ ان تمام تاریخی حقائق کے باوجودنوازشریف صاحب کہتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمان محب وطن تھا مگر اسے باغی بنادیا گیا،جب کہ شیخ مجیب الرحمان کی غداری کا سچ تو خود اس کی بیٹی اور وقت کے تاریخ دانوں نے کرہی دیا ہے 1972میں تو شیخ مجیب الرحمان نے خود برطانیہ کے ایک صحافی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھاکہ میں 1948سے بنگلہ دیشن کے لیے کام کررہاہوں ،موجودہ وقتوں میںنواز شریف اور ان کی جماعت جس انداز میں ملکی اداروں بالخصوص فوج اور عدلیہ کے خلاف زہر اگل رہی ہے وہ اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہاہے اس پر نوازشریف کی جانب سے شیخ مجیب الرحمان کومحب وطن لیڈر بناکر اور اس کی جانب سے مجبوری میں بغاوت کرنے کا لیبل لگانا اب کئی سوالات کو جنم دے چکا ہے یقینا ان تمام سوالوں کے جوابات لینا بہت ضروری ہیں کہیں ایسا تو نہیں کہ ایک بار پھر سے پاکستان کی عزت ونفس سے کھیل کر اسے آزمائشوں میں ڈالا جارہاہو؟۔ نوازشریف نے اپنی تقریر میں عدلیہ اور افواج پاکستان سے اپنی نفرت کااظہار کچھ ایسے حوالاجات سے کیا کہ شیخ مجیب الرحمان ایک محب وطن تھا جبکہ وہ بھی فوج اور عدلیہ کا ستایا ہوا تھا؟ اس لیے وہ باغی بنا ۔مطلب کیا ؟ آپ بھی اب ایسا ہی کچھ کرنے کارادہ رکھتے ہیں جو یہاں شیخ مجیب الرحمان کا حوالہ دینا مناسب سمجھا ؟۔نوازشریف اپنی تقریروں میں اکثر کہتے ہیں کہ وہ ملکی اداروں کے ستائے ہوئے ہیں ؟تو پھر قوم کو کھل کر بتایا جائے کہ اب آپ کا ایجنڈا کیا ہے ؟ ان تمام باتوں کے باوجود میں نوازشریف صاحب کو یہ کہناچاہونگا کہ میاں صاحب اب وقت بدل چکاہے وہ لمحات بیت چکے ہیںیہ 1971نہیںجب قوم کو صدموں سے دوچار کیا جاسکتا تھا لوگ آج بھی اس د ن کو نہیں بھولے ہیں کہ جب پاکستان کے دو ٹکڑے کردیے گئے تھے تاریخ دان بتاتے ہیں کہ ان وقتوں میںپاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ بھی اس سازش میںملوث تھا مگر اس کاذکر پھر کبھی تفصیل سے کرینگے۔ بھلے ہی نوازشریف اپنی ڈھنڈورچیوں کی فوج ظفر موج کے ساتھ شیخ مجیب الرحمان کو اپنا آئیڈیل بناتے ہوئے ان کی روش پر چل نکلیں ہوںجس نے پاکستان کو تاریخ ساز زخم دیا مگر اب ایسا کرنا ان کی بھول ہوگی جو کچھ ہوا سوا ہوا مگر اب اس ملک کی عوام ستو پی کر نہیں سورہی اب لوگ بہت باشعور ہوچکے ہیں جو کچھ آپ کرتے رہے اس کو عدالتوں میں عیاں صرف عمران خان نے نہیں کیا بلکہ ان کا ساتھ اس ملک کی عوام نے بھی دیاہے جو آج یہ دل ہلادینے والی کرپشن سامنے آئی ہے کہ جسے تاریخ کے سیاہ باب میں یوں لکھاجائے گا کہ ایک ایسا لیڈر بھی پاکستان کی قوم کو ملا جسے تین مرتبہ پاکستان کی تقدیر پر بٹھایا گیا اور بدلے میں اس نے ملکی اداروں کو اپنے گھر کے آنگن میں محدود کردیا اورملکی خزانے کو اپنے حواریوں میں تقسیم کیا اور پاکستان کی عوام بھوک اور بیماریوں سے لڑ لڑ کر مرتی رہی اور اس ملک کا حکمران تیس ہزار کروڑ یعنی تین سو ارب کی کرپشن کرکے بھی اپنی بھوک نہ مٹاسکا۔نوازشریف جس غدار وطن کو اپنا آئیڈیل تسلیم کربیٹھے ہیں اس کے لیے آخر میں یہ چند سطریں اپنے پڑھنے والوں کی نظر کرنا چاہوںنگا پھر فیصلہ کرنا عوام کا کام ہے کہ اس ملک کو کس کس ا نداز میں حکمرانوں نے زخم دیے ہیں اس کے باوجود بھی انہیں بار بار منتخب کیا جاتارہا واقعہ کچھ یوں ہے ” سانحہ مشرقی پاکستان 1971کے چند سال بعد 22فروری 1974کے روز اسلامی سربراہوں کی دوسری کانفرنس تھی۔ سعودی عرب کے شاہ فیصل لیبیا کے صدر معمر قذافی ،فلسطین کے صدریاسر عرفات جیسے بڑے نام اس کانفرنس میں تشریف فرما تھے اس روز پاکستان کے تقریبا ً تمام اداروں کو ہی لاہور کی نگرانی پرلگادیا گیا تھا پھر سب نے دیکھا کہ پاکستان کو دولخت کرنے والا شیخ مجیب الرحمان اور ذوالفقار علی بھٹو ہاتھوں میں ہاتھ لیے نہایت ہی خوشگوار موڈ میں تقریب میں شریک ہورہے تھے آنے والے دونوں ہی رہنماﺅں کے چہرے یہ بتا رہے تھے کہ شاید انہوں نے جو سوچا تھا وہ کرکے دکھادیاہے ۔
(سابق صوبائی وزیر ریلیف وکھیل سندھ ہیں)
٭….٭….٭

 


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved