تازہ تر ین

روہی اورجیپ ریلی

خدا یار خان چنڑ ….بہاولپور سے

قلعہ ڈیراورجیپ ریلی تیرویں تھی ۔مجھے بھی تیرہ سال ہو گئے ہیں ہر سال ریلی دیکھنے جاتا ہوں۔اب تو روہی کی کشش نے پورے پاکستان کے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے ان لوگوں کا روہی میں داخل ہونے کا انداز بھی کچھ نرالہ ہوتا ہے۔ہر شخص قافلوں کی صورت میں مختلف انداز میں انٹری ڈالتا ہے ۔روہی تو خود ایک عاشق مزاج سلطنت ہے اُس کو جس نے قریب سے پایاپھر یہ روہی اُس کی روح میں اُتر جاتی ہے ۔کوئی خاص بات تو اِس روہی میںتھی؟جو خواجہ غلام فرید مٹھن کوٹ والی سرکار نے اٹھارہ سال زندگی کے روہی میں گزارے ہیںانھوں نے اپنے کلام میںایک جگہ فرمایا ہے مجھے جب تک بارش کے پانی کا ایک قطرہ بھی میسر ہے تب تک میں روہی میں رہنا پسندکرونگا۔آپ کو روہی کے ساتھ اتنا عشق تھا کہ تین تین ماہ تک چار،پانچ سو لوگوں کا قافلہ لے کر چلتے رہتے تھے آپ کے قافلہ میںدودھ ددینے والی سو گائیںبھی ساتھ چلتی تھیں لنگر خانہ کا نظام پورا ساتھ چلتا تھا ۔ جتنا عرصہ خواجہ صاحب روہی کے اندر رہتے تھے اُس وقت تک شہر کے لوگوں سے نہیں ملتے تھے‘ صرف روہی کے لوگوں سے ملتے تھے انہی سے گفتگو کرکے خوش ہوتے تھے‘ خواجہ صاحب نے زیادہ تر کلام بھی روہی کے اوپرلکھ کر روہی کے کلچر کو اجاگر کیا ہے ۔جو خواجہ صاحب کا کلام پڑھ لے تو پھر روہی کی سیراُس کی مجبوری بن جاتی ہے۔خواجہ صاحب نے روہی کے اوپر اتنی ریسرچ کی کہ مجاہد خان جتوئی بتا رہے تھے کہ خواجہ صاحب کے اوپرباقاعدہ کچھ دوستوںنے تو پی ایچ ڈی کی ہے۔انہوں نے ایک جگہ پراپنے کلام میں اس روہی کو شادآبادہونے کا عندیہ بھی دیا ہے ایک جگہ پہ خوا جہ صاحب نے (روہی یار ملاوڑی )یعنی روہی پیار کرنے والوں کے ملاپ کی جگہ ہوتی ہے۔ خواجہ صاحب اکثرقلعہ ڈیراوررہنا پسند کرتے تھے۔روہی سے گھوم گھوماکر مرکزقلعہ ڈیراورہوتا تھا۔آج اُن کا عندیہ مجھے جیپ ریلی کی شکل میں پورا ہوتا ہوا نظر آرہاہے ۔تین چار دن پوری روہی دلہن کا روپ دھار لیتی ہے۔ پورے پاکستان سے آنے والے لوگ مروٹ سے لیکر قلعہ ڈیراورتک کیمپ ہی کیمپ ہوتے ہیں۔اور ان کے اوپر بڑی خوبصورت لائٹنگ کردی جاتی ہے جس طرح آسمان ستاروں کے ساتھ سجا ہو ا نظر آتا ہے اسی طرح پوری روہی روشنیوں سے جگ مگا اٹھتی۔ ہے روہی کے اندر رات کو جس طرف بھی نگاہ ڈالو اس طرف لگتا ہے کہ شہرآج خالی ہو گئے ہونگے۔پوری کائنات ہی روہی میں آباد ہو گئی ہے ۔ہر طرف گاڑیاں ہی گاڑیاں پوری دنیا کا ہر طرح کا ماڈل، ہر قسم کی گاڑی اس جیپ ریلی میں دیکھنے کو ملتی ہے ۔ہر کیمپ کے اندرساﺅنڈ پر لوگ گیت بھی روہی کے چلا رہے ہوتے ہیں ۔لاہور ، پشاوراورکراچی سے جو لوگ آتے ہیں ان کی توکیا بات ہے گاڑیوں کے اوپر بڑے بڑے بوفر لگائے ہوتے ہیں ایسا لگتاہے کہ روہی خود مست ہوگئی ہے ۔پھر اس روہی کے اندر شہزادے خوب مستیاں کرتے ہیںاور بہاولپور کی دھرتی کے مقامی لوگ چاروں صوبوں سے آنے والے معزز مہمانوں سے بڑی محبت کے ساتھ پیش آتے ہیںمہمانوں کے ہر دکھ درد کا پورا خیا ل رکھتے ہیں تا کہ دور سے آنے والے مہمانوں کی دل آزاری نہ ہو۔آج تک کوئی ایسا وقوعہ پیش نہ آیا ہے جسکی وجہ سے مہمانوں کو پریشانی کا سامنا ہوا ہو۔سابق ریاست بہاولپور کی دھرتی کے لوگ بڑے مہمان نواز اور پیار کرنے والے ہیں۔ میںنے دیکھا ہے کہ ہر طبقہ فکر کے لوگ اس جیپ ریلی میں شریک ہوتے ہیں اب تو بہاولپور جیپ ریلی انٹرنیشنل بن چکی ہے ۔مجھے کمشنر بہاولپور ظفر ثاقب بتا رہے تھے اس دفعہ2018کی جیپ ریلی میں کئی ممالک سے بھی لوگ آئے ہیں۔ تھائی لینڈ ،انگلینڈاور کینیڈا سے آئے ہوئے ڈرائیورز نے بھی حصہ لیا خواتین نے بھی جیپ ریلی میں حصہ لیا ۔نادر مگسی ہر سال کی طرح پھر پہلے نمبر پر آئے ،صاحبزادہ سلطان دوسرے نمبرپراور جعفرمگسی تیسرے نمبر پررہے ۔ضلع بہاولپور کی انتظامیہ ڈپٹی کمشنررانا محمد سلیم افضل ،ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مستنصر فیروز‘آر‘پی‘ او‘ رفعت مختار ،کمشنر ثاقب ظفر اور ایم‘ ڈی‘ٹی‘ڈی‘سی ‘پی احمد ملک سمیت اسسٹنٹ کمشنر شیخ طاہرحسین اور محکموں کے ضلع و تحصیل کے آفیسران نے بہاولپور جیپ ریلی کو کامیاب کرانے کی بھرپور کوشش کی ۔پولیس کی کثیر تعداد میں نفری ، لیڈیز پولیس سمیت موجود تھی ۔بلکہ ڈولفن فورس نے بھی اپنی ڈیوٹی کے فرائض انجام دیئے۔قلعہ ڈیراورکے صدردروازہ کے سامنے ایک بڑی خوبصورت کلچرل اینڈمیوزیکل نائٹ منعقد ہوئی جس میں علاقہ کے سرائیکی فنکار ،آڈو بھگت ،پاکستان کے مشہور شہنائی نواز ملک حسین،سپیشل نغارا پر مُرید حسین نے خوب ماحول بنایا۔ مشتاق چھینہ، ارم شہزادی اور ارم سیال سمیت مقامی و علاقائی فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ شرکت کرکے محظوظ ہوئے۔ اس پروگرام میں صوبائی وزیر انفارمیشن اینڈ کلچر مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بھی شرکت کی۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے ترقیاتی منصوبوں کا رخ جنوبی پنجاب کی طرف کیا ہوا ہے چولستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے انقلابی اقدام کئے ہیں۔مجھے سمجھ نہیں آتی حکومت پنجاب نے چولستان کے لوگوں کیلئے کیا کیا ہے؟وہ بیچارے تو پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ۔شہباز شریف کو کیا پتہ چولستان کے مسائل کیا ہیں جس دن چولستان ریلی تھی اسی دن نوازشریف سمیت پورے خاندان کو لے کر بہاولپور ایئرپورٹ پر اتر کر لودھراں جیت کا جشن منانے چلے گئے اللہ پاک نے انھیں عزت دی ہے جشن ضرور منانا چاہیئے۔کاش کہ ایک گھنٹہ کیلئے بہاولپور سے سارا خاندان قلعہ ڈیراور جیپ ریلی میں شامل ہوجاتا تو ریلی میں شریک لوگ اورچولستانی بھی خوش ہوجاتے ۔شہبازشریف اپنی آنکھوں سے خود دیکھ لیتے جو چولستانی لوگوںکیلئے دودھ کی نہریں چل رہی ہیں۔کبھی کبھی بڑا افسوس ہوتاہے ضلع بہاولپور میں وزراءکی لین لگی ہوئی تھی ان میں سے کوئی وزیر نوازشریف اور شہبازشریف کو جیپ ریلی کی دعوت دینا تو دور کی بات کوئی حکومتی ،مقامی وزیرشامل بھی نہیں ہوا۔جیپ ریلی کیلئے کوئی خصوصی فنڈکا اہتمام کرتے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات میسر ہوتی ۔یہ مہربانی کمشنر بہاولپور ظفر ثاقب کی ہے کہ جب سے تعینات ہواہے وہ بہاولپور کی پرانی املاک کو اصل حالت میں لانے کی پوری کوشش کررہاہے۔ سابق ریاست بہاولپور شہر کے جتنے بھی پرانے گیٹ تھے سب کو )رینویٹRenovate )کرکے ان کو اصل حالت میں لانا ان کی بڑی کامیابی ہے۔ آج کی نسل سینکڑوں سال پرانے نقش نگار آج بھی دیکھ سکتے ہیں۔ کمشنر صاحب نے دس کروڑکا فنڈ منظور کروا کر قلعہ ڈیر اور کی بھی مرمتی کا کام شروع کروایا ہے۔ یہ ساراکام مقامی قیادت کاتھاجوحکومت پنجاب سے فنڈمنظور کرواکر اپنے قیمتی اثاثہ جات کا تحفظ کرتے پرمقامی قیادت سے تو عوام مایوس ہو چکی ہے آخری امید کی کرن کمشنر ظفر ثاقب صاحب ہیں ۔جس طرح آپ نے پہلے بہاولپور کیلئے رات دن کام کیاہے اسی طرح میں بہاولپور جیپ ریلی کی طرف سے شائقین اور مقامی لوگوں کے مسائل پر توجہ دلوانا چاہوںگااس جیپ ریلی میں لاکھوں لوگ شریک ہوتے ہیںاور دو تین دن کے اندر کروڑوں خرچ کرتے ہیں۔میں پوچھتا ہوں مقامی لوگوں کو اس ریلی کا کیا فائدہ ہے؟چولستانیوں کو صرف شور شرابہ ،مٹی اور دھوڑ خاکہ کے علاوہ اور کیا بچتا ہے ۔لوگ اپنے اپنے کیمپوں میں ہرن،بکرے اور شتر مرغ کا گوشت کھارہے ہوتے ہیں بیچارے چولستانی ان کا منہ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ خدارا اس Event کا فائدہ مقامی لوگوں کوبھی ہونا چایئے تاکہ ا ن کی روٹی روزی کا سلسلہ ہو سکے۔اس Eventکے ساتھ وابستہ روزگار ہونا چاہیے ۔جیپ ریلی میں جو لوگ شریک ہوتے ہیں ان کو ساراسامان مقامی سٹال سے خریدنا چاہیئے اور وہ سٹال لگانے کا حق مقامی لوگوں کو دینا چاہیئے۔ بلکہ چار دن کیلئے بکرمنڈی اونٹ اورگائے کا اہتمام کرنا چاہئے تاکہ مقامی روہی کے لوگوں کو فائدہ حاصل ہو۔ چولستانی کلچرکو اجاگر کرنے کیلئے چولستانی اشیاءکے سٹال لگنے چاہئیں جتنے روہی میں کیمپ لگتے ہیںاور ہزاروںکی تعداد میں گاڑیاں جاتی ہیں ان کی تھوڑی بہت انٹری فیس ہونی چاہیئے۔ اس پیسہ کو شائقین پر سہولیات کیلئے استعمال کرنا چاہیئے مستقل طور پر ہسپتال بنانی چاہیے کھانے پینے کے سٹال کی الگ جگہ ہونے چاہیئے تاکہ مٹی خاکہ سے محفوظ ہوں۔ہر سال لوگوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ گورنمنٹ اس کی طرف بھرپور توجہ دے ۔پوری دنیا سے لوگ بہاولپورجیپ ریلی دیکھنے آئیں گے اس کو انٹرنیشنل لیول پر پروموٹ کیا جائے ۔اس جیپ ریلی پر باہر کے لوگوں کوآسان شرط پر ویزے جاری کیئے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ باہر سے لوگ آئیںاس میں پاکستان کو فائدہ ہوگا۔( تحریک بحالی صوبہ بہاولپور کے چیئرمین ہیں)٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved